فیض کی حسرتِ تعمیر: فتح محمد ملک

0
  • 27
    Shares

سید مظہر جمیل نے فیض کی زندگی اور فیض کے کارہائے نمایاں پر اپنی تصنیف ’’ذکرِ فیض‘‘ میں پاکستانی تہذیب و ثقافت کے احیاء اور ارتقاء کے باب میں فیض کی مساعی کو بجا طور پر’’تعمیرِ پاکستان‘‘ کا عنوان بخشا ہے- اجتماعی دانش کی تلاش و جستجو میں جب فیض ٹیکسلا کے نواح میں جَولِیاں کے مقام پر بُدھسٹ یونیورسٹی کے کھنڈرات میں گھوم رہے تھے تو اُنھیں اچانک اِس خیال نے اپنی گرفت میں لے لیا تھا کہ ہمیں اسی نواح میں ایک نئی بُدھسٹ یونیورسٹی قائم کرنی چاہیے- یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ فیض کا محبوب ترین عمل درس و تدریس تھا – اُنھوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک کالج میں لیکچررشپ سے ہی کیا تھا- فوج سے مستعفی ہو کربھی اُنھوں نے کالج میں تدریسی عمل کا آغاز کرنا چاہا تھا- اُنھیں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کے سربراہوں نے یہ بات سمجھانے کی سرتوڑ کوشش کی تھی کہ فوج کی تنخواہ اور مراعات کی نسبت اِن تعلیمی اداروں میں کام کرنے والوں کو زبردست مالی دشواریوں کا سامنا ہے مگر وہ اِن مشکلات کے باوجود درس و تدریس کی زندگی ہی کو ترجیح دینے لگے تھے- ایسے میں میاں افتخار الدین نے ضِد کر کے اُنھیں تحریکِ پاکستان کے ترجمان روزنامہ ’’پاکستان ٹائمز‘‘ میں مدیر کی کرسی پر لا بٹھایا تھا- جب وہ راولپنڈی سازش کے مقدمے میں پسِ دیوارِ زنداں بھیج دیے گئے تو وہاں بھی انھوں نے قیدیوں کو قرآن کریم پڑھانا شروع کر دیا تھا- زنداں سے رہائی کے بعد جب ’’پروگریسو پیپرز‘‘ پر ایوب مارشل لاء نے جارحانہ قبضہ کر لیا تھا تب بھی وہ کراچی میں ہارون کالج میں ایک روشن خیال قائد کا کردار ادا کرنے لگے تھے- اب جب اُنھیں اجتماعی دانش کے سرچشموں کی تلاش و جستجو کا موقع نصیب ہوا اور وہ ٹیکسلا اور اُس کے مضافات میں پہنچے تو اُنھیں پرانی بنیادوں پر ایک نئی یونیورسٹی کے قیام کی سوجھی- جب اس نئی یونیورسٹی کا خاکہ مرتب ہو کر یونیسکو سے منظور کرا لیا گیا تب:

’’اُن کے ٹیکسلا یونیورسٹی کے منصوبے کی خبر سب سے پہلے ان کے دیرینہ اخبار پاکستان ٹائمز نے چھاپی- بعد میں ڈان نے نشر کی- اعتراضات کی بارش شروع ہو گئی کہ پاکستان کی اسلامی سرزمین پر بُدھ مت اور پالی یونیورسٹی کے ذریعے بُدھ مت کو فروغ ملے گا- لہٰذا یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اغراض و مقاصد کے خلاف ہے- گویا تنگ نظر مُلّانے اسے ایک کافرانہ قدم قرار دیا- یوں انتہائی عالمانہ، انسان پرور اور علم و عرفان کا اچھوتا بین الاقوامی منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا-۱ ‘‘

’’تنگ نظر مُلّا‘‘ اس تاریخی صداقت سے بے خبر ہے کہ برصغیر میںپہلی مسلمان حکومت کے قیام میں بُدھ مذہب کے پیروکاروں نے بڑی گرمجوشی کے ساتھ اپنا دستِ تعاون بڑھایا تھا- پہلے پہل خراسان میں بُدھ بکھشوؤں اور مسلمان صوفیوں کے مابین راہ و رسم سے بُدھ مت اور اسلام میں نکتہ ہائے اشتراک وتعاون نمایاں ہوئے تھے- یہ وہ زمانہ تھا جب مختلف ہندو راجاؤں نے وادیء سندھ میں بُدھ اکثریت کو جبر و استبداد کے ساتھ ہندو مت کے دائرے میں داخل کر کے سب سے نچلی ناپاک ذات بنا کر رکھ دیا تھا- یہی وجہ ہے کہ جب وادیء سندھ پر محمد بن قاسم نے یلغار کی تھی تویہاں کی مقامی آبادی کی اکثریت نے اسے اپنی نجات کا وسیلہ سمجھا تھا- ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے برصغیر کی ملتِ اسلامیہ کی تاریخ پر اپنی کتاب میں اِس صداقت کو نمایاں کر رکھا ہے کہ محمد بن قاسم کی فوج نے جن کشتیوں پر دریائے سندھ عبور کیا تھا وہ بُدھ مت کے پیروکار وں نے فراہم کی تھیں:

’’حملہ آوروں کے ساتھ بدھوں کی خفیہ سازش کے متعدد واقعات مذکور ہیں- مثلا ایک بھکشو آیا اور اس نے محمد بن قاسم کو یہ بتایا کہ دیبل میں جو مندر ہے اس کے کلس اور جھنڈے کو نشانہ بنانا چاہیے- ایک اور بھکشو نے دیبل کے عرب قیدیوں اور عرب سپہ سالار کے درمیان پیغام بر کے فرائض انجام دیے- یہ بھی غیر ممکن نہیں ہے کہ وہ پیش گوئی مسلمانوں کے فائدے کے لیے گھڑی گئی ہو جس میں کہا گیا تھا کہ اگر دیبل کے مندر کا جھنڈا گرا دیا گیا تو دیبل فتح ہو جائے گا- نیرون کا شہر ایک بدھ حاکم کے ماتحت تھا اور محمد بن قاسم کے سرزمین سندھ پر قدم رکھنے سے بھی بہت پہلے اس کی خط و کتابت عربوں کے ساتھ ہوتی رہی تھی- جب عرب اس کے دروازوں تک پہنچ گئے تو مقابلہ محض دکھاوے کے لیے کیا گیا، کیوں کہ اس وقت حاکم شہر سندھ کے راجہ داھر کے پاس گیا ہوا تھا، مگر جیسے ہی کہ وہ واپس آیا، اس نے معافی مانگ لی اور شہر کو حملہ آوروں کے حوالے کر دیا- اس کا ایک قریبی رشتے کا بھائی بجھرا تھا جو سیوستان پر حکومت کرتا تھا- یہ علاقہ موجودہ زمانے کے سیہوان اور سیبی کے چاروں طرف تھا- بدھوں نے بجھرا کو مشورہ دیا کہ وہ حملہ آوروں سے جنگ آزما نہ ہو اور کہا کہ ہم عربوں سے ’’جو کبھی اپنے وعدوں کو نہیں توڑتے، تمہاری سفارش کر سکتے ہیں‘‘- جب اس نے یہ تجویز مسترد کر دی، تو انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ کسی آویزش کی گڑ بڑ میں پڑنا نہیں چاہتے- بجھرا مقابلے سے مایوس ہو گیا اور عربوں نے بدھوں کی مدد سے قلعہ کو مسخر کر لیا- اسی طرح سیہوان کے قریب ایک بدھ سردار کاکا کوتک نے اپنے حامیوں اور جاٹوں کو یہ مشورہ دیا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف جنگ نہ کریں کیوں کہ بدھ پروھتوں نے اسے بتایا ہے کہ اس علاقے کا مسلمانوں کے قبضے میں چلا جانا پہلے سے مقدر ہے- اس بدھ سردار نے جنگ کا ارادہ رکھنے والوں کو یہ مشورہ دینے ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ وہ خود عربوں کے لشکر میں گیا اور قیمتی معلومات انہیں بہم پہنچا دیں- بدھوں کی طرف سے نہ صرف اس طرح کی خود سپردگی کی بلکہ عملی تعاون کی بھی متعدد مثالیں موجود ہیں- ان میں سے صرف ایک اور بیان کی جاتی ہے- محمد بن قاسم کو وہ کشتیاں ایک بدھ حاکم ہی نے مہیا کی تھیں جن کے ذریعے دریائے سندھ کو عبور کرنا ممکن ہو سکا-‘‘۲

بدھ مذہب کے وابستگان کے ’’عملی تعاون‘‘ اور ’’خود سپردگی‘‘ کی درج بالا تفصیلات اس حقیقت کی شاہد ہیں کہ برہمنیت کے پنجہء استبداد میں گرفتار بُدھ اکثریت نے وادیء سندھ میں طلوعِ اسلام کو اپنی نجات کا وسیلہ سمجھا تھا- مقامی آبادی کی محکوم اکثریت نے مسلمانوںکی آمد کا کھلے دل سے استقبال کیا تھا- جبرواستبداد سے نجات کی تمنّا برحق مگر اس کے ساتھ ساتھ اِس حقیقت کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے کہ مہاتما بُدھ کی تعلیمات ایک ایسے انسان دوست رُوحانی رہنما کی تعلیمات ہیں جسے علامہ اقبال نے پیغمبروں میں شمار کیا ہے- علامہ اقبال نے اپنی شہرہء آفاق تصنیف ’’جاوید نامہ‘‘ میں ’’آنسوئے افلاک‘‘ جو چار طاسین نبوت پیش کیے ہیں وہ ’’طاسین گوتم‘‘ سے شروع ہوتے ہیں- اِن ’’طاسین رُسل‘‘ میں اقبال گوتم بُدھ کے فلسفہء حیات پر یوں روشنی ڈالتے ہیں:

مئے دیرینہ و معشوق جواں چیزے نیست
پیشِ صاحب نظراں حورِ جناں چیزے نیست!
دانشِ مغربیاں، فلسفہء مشرقیاں
ہمہ بت خانہ و درطوفِ بتاں چیزے نیست
در طریقے کہ بنوکِ مژہ کاویدم من
منزل و قافلہ و ریگِ رواں چیزے نیست!
بگذر از غیب کہ ایں وہم و گماں چیزے نیست
در جہاں بودن و رستن زجہاں، چیزے ہست
راحتِ جاں طلبی؟ راحتِ جاں چیزے نیست
در غمِ ہم نفساں اشکِ رواں چیزے ہست
حسنِ رخسار دمے ہست و دمے دیگر نیست
حسنِ کردار و خیالاتِ خوشاں چیزے ہست!

’طاسین گوتم‘ میں سے درج بالاجستہ جستہ اشعار بُدھ مت اور اسلام کے بیشتر روحانی تصورات میں یکسانیت کی جانب ہماری توجہ منعطف کراتے ہیں- اس اعتبار سے غور کریں تونئی ٹیکسلا یونیورسٹی کا قیام ہمیں اسلام کی حقیقی روح سے ہی، بہ اندازِ دِگر، روشناس کرانے کا وسیلہ بن سکتا ہے- اسی جذب و جنوں کے ساتھ فیض احمد فیض نے اس نئی یونیورسٹی کی منصوبہ بندی کی- علم و ادب اور تاریخ و ثقافت کے ماہرین کا ایک حلقہء فکر و عمل وجود میں لائے جس میں پروفیسر احمد حسن دانی کے ساتھ ساتھ پروفیسر سیّد قدرت اللہ فاطمی، جوائنٹ ڈائریکٹر آر سی ڈی کلچرل انسٹی ٹیوٹ نمایاں ترین شخصیات تھیں- اس میںآثارِ قدیمہ، علم بشریات اور ادبیات و دینیات کے ماہرین شامل تھے- اُنھوں نے آغازِ کار کے طور پر ٹیکسلا میں پالی اور بُدھ مت کا ایک تحقیقی ادارہ قائم کرنے کی خاطر چند نکات پر مشتمل ایک مختصر مسودہ تیار کیا تھا- اِس تجویز کو پیش کرتے وقت اُنھوں نے اِس جانب اشارہ کرنا ضروری سمجھا تھا کہ مسلمانوں کی آمدسے پیشتر سرزمین پاکستان کی قدیم تاریخ اِس حقیقت کی شاہد ہے کہ یہ خطہء خاک ہمیشہ سے ہندو مت کی بجائے بُدھ مت کا گہوارہ رہا تھا-جب برہمنیت نے یہاں کے باسی بُدھ مت کے پیروکاروں کا جینا دوبھر کر دیا تھا تب اُنھوں نے وادیء سندھ کے اِن حقیقی باشندوں کو یا تو برصغیر سے باہر ….. سری لنکا، برما، تھائی لینڈ،کوریا، جاپان…. . کے سے ممالک میں جا آباد ہونے پر اور یا اپنے مغرب میں پھیلے ہوئے وسطِ ایشیا کا رُخ کرنے پر مجبور کر دیا تھا-فاطمی صاحب نے اپنے اِن نکات میں اِس حقیقت کا انکشاف بھی کیا تھا کہ :

“The pre-Islamic history of Pakistan is mainly its Buddhist history – and not Hindu as it is very wrongly presumed. The setting up of such an institute is an essential prerequisite for the discovery of Pakistan’s history before the coming of Islam. The foundation of such an Institute will put Taxila again on the Buddhist tourist and pilgrim map. It will prove an abiding cultural bridge between Pakistan and its south-eastern neighbours, viz. Sir Lanka, Burma, Thailand, Laos, Khmer, Vietnam, Korea and Japan.”۳

فیض صاحب نے انسٹی ٹیوٹ کے قیام کی اِس تجویز کو ٹیکسلا کے مقام پرایک بُدھسٹ یونیورسٹی کے قیام کے منصوبے کی صورت بخشی – اس بین الاقوامی یونیورسٹی کے نصابِ تعلیم میں بشریات، آثارِ قدیمہ اور بُدھ تہذیب سے آگے بڑھ کر عربی اور اسلامی تہذیب و ثقافت پر درج ذیل اشارات قابلِ غور ہیں:

ـ4. ISLAMIC STUDIES AND ARABIC:

(i)         Arabic language.

(ii)        Muslim civilization.

(iii)       special study of:

(a)   Early Arab references to Buddhism and its civilization and to Pakistan of the Buddhist period; and

(b)   Relationship between Buddhist Philosophy and some schools of Sufism.”۴

پاکستانیات کے اِس علمی اور تدریسی منصوبے کو فیض صاحب نے دسمبر ۱۹۷۳ء کے یونیسکو اجلاس )منعقدہ انڈونیشیا ( میں بذاتِ خود شرکت کر کے، اپنے اثر و رسوخ سے، منظور کرایا تھا- پاکستان کے ساتھ ساتھ بُدھ مت کے پیروکار پڑوسی ممالک کو بھارت میں برہمنیت کے احیا سے روزافزوں خطرات درپیش تھے اور ہیں- چنانچہ اِن ممالک کے تعاون سے اِس منصوبے کو یونیسکو کی مالی سرپرستی بھی میسر آ گئی تھی – بین الاقوامی سطح پر یونیسکو کی سپانسرشپ کی اِس خبر پر اخبارات نے تحسین و آفرین کے اداریے لکھے تھے- فیض صاحب نے۱۵جنوری ۱۹۷۴ء کومرکزی وزارتِ تعلیم کے نام اپنے خط میںتان اِس بات پر توڑی تھی کہ:

“I am aware that we have not handled any project of such dimensions in the past but I feel that it would be a pity if we permit this attractive proposition to go waste because of our subjective inhibitions.”۵

فیض کے اندیشہ ہائے دُور و دراز درست ثابت ہوئے-مُلّائیت کے ترجمانوں کے شور و غُل سے ڈر کر حکومت نے اِس کارِ خیر کو پسِ پشت ڈال دیا- اِس پرفیض اپنے دل میں حسرتِ تعمیر لیے اسلام آباد کو خیرباد کہہ کر لاہور جا بیٹھے!


حواشی

۱- فیض نامہ، ڈاکٹر ایوب مرزا، پٹنہ، ۲۰۰۲ء، صفحہ ۳۶۸ –

۲-برعظیم پاک و ہند کی ملتِ اسلامیہ،ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی، مترجم :ہلال احمد زبیری، کراچی، ۱۹۶۷ء، صفحات۳۹-۴۰ – یہ کتاب انگریزی میں لکھی گئی تھی – بعد ازاں اِس کا ترجمہ شائع ہوا تھا- اصل کتاب کا عنوان اور دیگر تفصیلات درج ذیل ہیں:

The Muslim Community of the Indo-Pak Sub-continent (610-1947): Dr. Ishtiaq Hussain Qureshi, The Hague, 1962,

۳- فیض نامہ، ڈاکٹر ایوب مرزا، پٹنہ، ۲۰۰۲ء، ضمیمہ :۱-

۴- ایضا، صفحہ ۹-۱۰-

۵- ایضا، ضمیمہ :۳-

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: