طاقت ور طبقات کی لڑائی اور عوامی حکمرانی: سلمان عابد

0
  • 1
    Share

پاکستان میں جو سیاسی اور ادارہ جاتی لڑائی ہے اس میں طاقت ور طبقات کا کھیل بالادست نظر آتا ہے۔ اگرچہ یہ لڑائی عوام کو بنیاد بنا کر پیش کی جاتی ہے، مگر حقیقت یہ ہی ہے کہ اس کھیل کے پیچھے اصل وجہ طاقت ور طبقات کی اس سیاسی، سماجی، معاشی، قانونی او رانتظامی نظام پر اپنی اپنی گرفت کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس کھیل میں عام آدمی یا کمزور طبقات کی حیثیت محض ایک ہتھیار کی ہے۔ اس ہتھیار کو بنیاد بنا کر عملی طور پر عام آدمی کا استحصال ہی کیا جاتا ہے۔ جمہوریت، قانون کی حکمرانی، شفافیت اور جوابدہی پر مبنی نظام، احتساب، وسائل کی منصفانہ تقسیم، انصاف، محروم طبقات کو بالادست بنانا جیسے نعروں میں عملی طور پر انسان سب سے زیادہ کمزور نظر آتا ہے۔

یہ جو اس وقت سیاسی نظام ہے وہ اپنی اہمیت کھوبیٹھا ہے۔ اس نظام میں اب وہ طاقت یا سکت نہیں جو وہ عام آدمی کے مفاد کو تقویت دے سکے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جمہوری معاشروں میں اس نظام کو مستحکم بنانے کے لیے اصلاحات کا سہارا لیا جاتا ہے۔ جمہوری نظام انقلاب کی مدد سے آگے بڑھنے کی بجائے اصلاحات کو اپنی منزل بناتا ہے۔ مگر جب جمہوری نظام میں اصلاحات کا عمل محض نمائشی بن کر رہ جائے تو پھر جمہوری نظام کی ساکھ بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان عمومی طور پر بہت زیادہ پالیسیاں اور قانون سازی پر مبنی معاشرہ ہے۔ لیکن ان پالیسیوں اور قانون سازی پر کیسے عملدرآمد ہوگا، اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔

سیاست اور جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کی سب سے زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ کیونکہ سیاسی جماعتیں چاہے ان کی حیثیت اقتدار کی جماعت کی ہو یا حزب اختلاف کی وہ ایک متبادل سیاسی نظام کو تقویت دیتی ہے۔ لیکن جب یہاں عملا سیاسی جماعتیں پروایٹ لمیٹیڈ کمپنیوں یا خاندان کی جاگیر کی بنیاد پر چلائی جارہی ہوں تو وہاں جمہوریت کا سوال اور زیادہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ داخلی جمہوریت کے مسائل کسی بھی صورت میں خارجی مسائل سے نمٹنے میں مدد فراہم نہیں کرتے۔ عملا صورتحال یہ ہے کہ عام آدمی کے تناظر میں وہ جمہوریت او راس کی حکمرانی کے نظام میں اپنے آ پ کو لاتعلق سمجھتا ہے۔ یہ لاتعلقی اسے جمہوریت کے قریب لانے کی بجائے دور لے جانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

جمہوریت کوئی مقدس نظام نہیں اس کا براہ راست تعلق سیاسی ڈلیوری سے ہوتا ہے۔ یعنی اگر جمہوری نظام لوگوں کی اہم اور بنیادی ضرورتوں کو پورا کررہا ہو تو وہ اپنی ساکھ موثر بناتا ہے، وگرنہ دوسری صورت میں لوگوں کو لگتا ہے کہ ہماری اس جمہوری نظام میں کوئی حیثیت نہیں۔ یہ جو ہمیں اس وقت طاقت کے مراکز میں لڑائی نظر آرہی ہے اس میں بھی وہی طبقہ زیادہ نمایاں ہے جس کے اپنے براہ راست مفادات وابستہ ہیں۔ عام آدمی تو اس طاقت ور طبقات کی لڑائی میں محض ایک تماشائی کی حیثیت سے کھڑا کر ہوکر سب دیکھ رہا ہے۔

اصل سوال جو اہل دانش کی سطح پر بحث طلب ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ اس طاقت ور طبقات کی لڑائی کو کیسے عوامی مفاد کی لڑائی کے ساتھ جوڑا جائے۔

اصل سوال جو اہل دانش کی سطح پر بحث طلب ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ اس طاقت ور طبقات کی لڑائی کو کیسے عوامی مفاد کی لڑائی کے ساتھ جوڑا جائے۔ کیونکہ اگر مقصد عوامی حاکمیت کو مضوط بنانا ہے تو اس میں عوام کی حکمرانی کی نظام میں موثر شمولیت درکار ہے۔ لوگوں میں یہ احساس اجاگر کرنا ہوگا کہ یہ جو لڑائی چل رہی ہے اس کا تعلق براہ راست ان کے اپنے نظام سے ہے۔ لیکن یہ سب کچھ محض سیاسی نعروں سے نہیں ہوگا۔ بلکہ اس کے لیے عملی طور پر طاقت ور طبقات کو اپنا حالیہ طرز عمل ترک کرنا ہوگا۔ کیونکہ ان کا موجودہ طرز عمل عوام دشمنی او راستحصال پر مبنی ہے۔

اہل دانش کا کردار ہی یہ بنتا ہے کہ وہ اس طاقت ور طبقات کی لڑائی کے تضادات کو نمایاں کرکے لوگوں میں اس شعور کو بیدار کرے کہ وہ کیسے اس لڑائی میں خود کو ایک طاقت ور فریق بناسکتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اہل دانش کا خود ایک بڑا طبقہ ان طاقت ور طبقات کا ترجمان بن کر عام آدمی کے مقابلے میں ان ہی طاقت ور طبقات کے مفادات کو تقویت فراہم کرتا ہے، جو عوامی حکمرانی کے نظام کو اور زیادہ کمزور کرنے کا سبب بنتا ہے۔ لوگوں میںاس شعور کو زیادہ شدت سے اجاگر کرنا ہوگا کہ جو بھی طاقت کے مراکز ہیں ان کے کھیل کو جذباتی انداز میں پرکھنے کی بجائے عقل و فہم کے ساتھ سمجھا جائے کہ یہ لڑائی ان کو طاقت ور بنائے گی یا اور زیادہ کمزور کردے گی۔

مسئلہ یہ ہے کہ جب تک اس ملک کا طاقت ور طبقہ خود اداروں کے سامنے جوابدہ نہیں ہوگا یا قانون کی حکمرانی کے تابع نہیں بنے گا ایک مربوط سیاسی اور سماجی انصاف پر مبنی نظام ممکن نہیں۔ طاقت ور طبقات کے اس گٹھ جوڑ کو توڑنا ہوگا جو محض اپنی ذات اور خاندان تک سوچ رکھتا ہے۔ اس دائرہ کار کو پھیلانا ہوگا کہ اصل مسئلہ عوام ہے او ران کو حکمرانی کے نظام میں جوڑے بغیرکوئی نظام آگے نہیں بڑھ سکتا۔ یہ جو ملک میں محرومی کی سیاست ہے اس کے خدوخال کو سمجھنا ہوگااو راس کے لیے ہمیں سرکاری اعدادو شمار دیکھنے ہونگے جو محرومی کی سیاست کو پیش کرتے ہیں جہاں طاقت ور او رکمزور کے درمیان خلیج بڑھتی جارہی ہے۔

یہ کام ایک بڑی سیاسی اور سماجی تحریک کی بنیاد پر آگے بڑھ سکتا ہے جس کے پیچھے علمی اور فکری طاقت ہو۔ اس لیے اس تحریک کو کیسے پیدا کیا جائے اس پر زیادہ غور وفکر کی ضرورت ہے۔ معاشرے میں سنجیدہ طبقات کو ایک نئے سرے سے خود کو منظم کرکے نئی سیاسی، سماجی حکمت عملیوں کو وضع کرنا چاہیے کہ نظام میں موثر انداز میں تبدیلی کے عمل کو کیسے آگے بڑھایا جائے، یہ ہی ہمارا بنیادی ایجنڈا اور ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے،جو معاشرے کو منصفانہ او رمہذہب بنانے میں کلیدی کردار ادا کرسکے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: