جماعت اسلامی کا مسقبل، جے یو آئی سے زیادہ روشن ۔۔۔ حمزہ صیاد

0
  • 21
    Shares

پاکستان میں دیوبندی، بریلوی، اور اہل حدیث تین بڑے دینی مکاتب فکر پائے جاتے ہیں۔ بریلوی مکتب فکر پاکستان کا سب سے بڑا مکتب فکر ہے لیکن بوجوہ دن بدن سکڑتا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ مکتب فکر اپنی روایات میں سب سے زیادہ قدامت پرست ہے۔ یہ مکتب فکر کسی بھی قسم کی ایسی سرگرمی کو سپورٹ نہیں کرتا جس میں جدیدیت کا رنگ ہو۔ پاکستان میں تمام دیہاتی اور پسماندہ علاقوں میں پر اس مکتب فکر کا راج ہے اور یہ حقیقت ہے کہ پاکستان پر حکومت کرنے والوں کا تعلق دیہاتی ایلیٹ سے ہے۔ تمام بڑے جاگیردار اور پیر حضرات دیہاتوں میں ہیں جہاں سے پیر حضرات اور ان کے حمایت یافتہ سیاستدان اقتدار میں پہنچتے ہیں اور یہ لوگ کسی ایسی مذہبی سرگرمی کو سپورٹ نہیں کرتے جو معروف بریلوی روایات سے ہٹ کر ہو۔ پیر حضرات کا پاکستانی سیاست پر غیر معمولی اثر ہے۔ پیر حضرات اور جاگیردار مل کر حکومت کرتے ہیں۔

دوسری طرف دیوبندی مکتب فکر ہے جو مذہبی بنیادوں پر اصرار کے ساتھ ساتھ بدلتے دور کے تقاضوں کے پیش نظر اپنے اندر تبدیلیاں لاتا رہتا ہے۔ اس مکتب فکر میں بہت تنوع ہے۔ یہ مکتب فکر جدید معاشی اور سیاسی معاملات میں گہری دلچسپی لیتا ہے یہی وجہ ہے نئی نسل میں یہ مقبول ہوتا جا رہا ہے۔ تمام جدید سوسائٹیوں اور شہری علاقوں میں یہ مکتب فکر جڑ پکڑ چکا ہے۔ اس مکتب فکر کے پاس بےشمار مدارس، تبلیغی جماعت کے نام سے دنیا کی سب سے بڑی جماعت اور جمعیت علماء اسلام کے نام سے ایک مضبوط سیاسی جماعت بھی ہے۔ جماعت اسلامی کو بھی مجموعی طور پر اسی مکتب فکر کی جماعت سمجھا جاتا ہے۔ اہل حدیث مکتب فکر اپنے مخصوص ذہنی پس منظر کی وجہ سے جدید معاشی اور سیاسی معاملات سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔

بریلوی مکتب فکر کی سیاست پر گرفت کی وجہ سے جمعیت علماء اسلام کے مرکز میں اقتدار میں آنے کی کوئی گنجائش نہیں اور نہ ہی JUI کے پاس ایسے افراد ہیں جو مستقبل کے مطابق اپنے لیے جگہ بنا سکیں، البتہ جماعت اسلامی ماڈرن طرز سیاست کی وجہ سے مستقبل میں اپنے لیے بڑی کامیابیاں سمیٹ سکتی ہے.

جوں جوں پاکستان میں شہری آبادی میں اضافہ ہوتا جائے گا توں توں دیوبندی مکتب فکر کی تعداد اور جماعت اسلامی کے سپورٹرز میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ فی الحال شہری آبادی بھی دیہاتی ایلیٹ سے جڑی ہوئی ہے اور وہیں سے کنٹرول ہوتی ہے اس لیے بہت جلد کسی تبدیلی کی توقع نہیں۔ انتہاپسندی کی حد تک جدیدیت سے بیزار بریلوی عوام کبھی بھی جماعت اسلامی جیسی ماڈرن اسلامی جماعت کو سپورٹ نہیں کرے گی۔ جماعت اسلامی کو ہر دور میں افراد دیوبندی مکتب فکر سے ملتے رہے ہیں اور مستقل میں بھی جب جدید معاشی اور سیاسی تبدیلیوں سے دیہاتی ایلیٹ کا زور ٹوٹے گا اور قوت دیہاتوں سے شہروں میں منتقل ہو گی تو جہاں دیوبندی مکتب فکر کی قوت میں اضافہ ہو گا وہیں جماعت اسلامی کو بھی شہروں میں بڑے پیمانے پر افراد میسر آئیں گے۔

جماعت اسلامی کو موجودہ حالات سے مایوس ہونے کے بجائے مستقبل کی تیاری کرنی چاہئیے اور ایسے رجال کار تیار کرنے چاہئیے جو ترکی کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی طرح جدید معاشی اور سیاسی معاملات پر گہری نظر رکھتے ہوں۔ مصر اور ترکی میں اسلامی جماعتیں کامیاب ہوئیں لیکن پاکستان میں کامیاب نہ ہو سکیں جس کی وجوہات وہی ہیں جو میں نے اوپر ذکر کی ہیں۔ فی الوقت پاکستانی سیاست پر بریلوی مکتب فکر کا کنٹرول ہے یہ الگ بات ہے کہ بریلوی مکتب فکر کے علماء کی کوئی مضبوط جماعت نہیں لیکن پاکستانی سیاست کی تینوں بڑی جماعتیں پیروں، گدی نشینوں اور دیہاتی ایلیٹ کی سپورٹ سے اقتدار میں آتی ہیں ۔ بریلوی مکتب فکر کی سیاست پر اس گرفت کی وجہ سے جمعیت علماء اسلام کے مرکز میں اقتدار میں آنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی جمعیت علماء اسلام کے پاس ایسے افراد ہیں جو مستقبل کے بدلتے حالات کے مطابق اپنے لیے جگہ بنا سکیں، البتہ دیوبندی مکتب فکر اپنی جدت پسند روایت کی وجہ سے اور جماعت اسلامی ماڈرن طرز سیاست کی وجہ سے مستقبل میں اپنے لیے بڑی کامیابیاں سمیٹ سکتی ہے بشرطیکہ کہ وہ رجال کار کی تیاری کی طرف توجہ دے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: