پویلئین اینڈ سے ۔۔۔۔ اک سفر اونچے نیچے راستوں کا — قسط 6

0
  • 53
    Shares

ان دنوں ایک اور بھی بخار تھا جو کرکٹ سے ہرگز کم نہ تھا اور وہ تھا ہمارا قومی کھیل، ہاکی۔

آزادی کے فوراً ہی بعد ہم نے اس کھیل میں دنیا سے اپنا لوہا منوالیا تھا۔ نوزائیدہ مملکت ابھی کم سنی میں ہی تھی یعی صرف تیرہ سال کی، کہ روم میں اولمپک کا فائنل جیت کر دنیا کو بتایا کہ دیکھو، یہ ہم ہیں۔ ہاکی بھی ہمارے جنون کا حصہ تھی۔ مجھے یاد ہے کہ جب کبھی ہمارا اولمپک یا عالمی کپ میں فائنل یا سیمی فائنل مقابلہ ہوتا، تو ہم جمعہ کی نماز میں مسجد کے امام صاحب کے ہاتھ میں ایک پرچی پکڑاتے کہ آج پاکستان کی کامیابی کے لئے دعا کی جائے۔

اولمپک گولڈ میڈل ان دنوں عالمی چیمپئن بننے کے مترادف تھا۔ سن چونسٹھ میں ہم فائنل میں ہندوستان سے ہار گئے تھے لیکن 1968 میں ہم نے آسٹریلیا کو فائنل میں ہرا کر ثابت کیا کہ اس کھیل پر ہمارا راج ہے۔

لیکن یہ سب بہت بعد میں ہونا تھا ۔۔۔ سن اڑسٹھ کی ابتداءً تھی صدر ایوب کو یاد آیا کہ دس سال قبل اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے اب تک ان کی ذات بابرکات سے جو فیوض مملکت پاکستان اور ان کی رعایا کو حاصل ہوئے ہیں ان کا جشن منایا جائے۔ سرکاری مشینری اب دن رات ایوب حکومت کے کارنامے گنواتی، جگہ جگہ تقریبات، میلہ مویشیاں، کھیلوں کے مقابلے، موسیقی کی محفلیں ، مشاعرے اور طرح طرح کی تفریحات اور تقریبات ہوتیں۔ کراچی میں ان دنوں، جہاں اب ایکسپو سنٹر ہے، ایک بڑی نمائش ” ڈیکاراما” کے نام سے لگائی گئی۔

لیکن ہم ناشکرے عوام ایوب صاحب کی مہربانیوں سے کچھ زیادہ خوش نہیں دکھائی دیتے تھے۔ ایبڈو زدہ سیاستدان جن کی پابندی اب ختم ہوگئی تھی،ان کا اثر رسوخ عوام میں بڑھ رہا تھا۔ بھٹو صاحب اپنی تاشقند والی کہانی لئے موجود تھے اور عوام میں دن بدن مقبول ہوتے جارہے تھے۔ انہی دنوں طلباء کی تحریک بھی زوروں پر تھی۔ مجھے نہیں یاد کہ مسئلہ کیا تھا لیکن علی مختار رضوی، معراج محمد خان اور فتحیاب وغیرہ کے نام اخبارات کی زینت بنے رہتے۔

اور اس عوامی بے چینی پر آخری کیل ، چینی کی قیمت میں فی سیر چار آنے کے اضافے نے ٹھونک دی۔ ان دنوں عوام اتنی آسانی سے ظلم برداشت کرنے کے عادی نہیں تھے۔ مہنگائی کے خلاف ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ بھٹو صاحب نے اس احتجاج کی باگ دوڑ سنبھال لی تھی اور عوامی رہنما بنتے جارہے تھے۔

اور یہ پر آشوب دن تھے کہ انگلستان کی ٹیم ہمارے ہاں آبراجی۔

کپتان کولن کاؤڈرے کی ٹیم میں اس دور کے بڑے نام شامل تھے ۔ سدا بہار ٹام گریونی، جانے کب سے کھیلتے آرہے تھے، جان ایڈرچ، باسل ڈی اولیویرا، جن کی وجہ سے جنوبی افریقہ پر پابندی لگی تھی، کیتھ فلیچر، ایلن ناٹ، ڈیرک انڈر ووڈ، پیٹ پوکاک اور جان اسنو جیسی مضبوط ٹیم کے سامنے ہماری ٹیم اندرونی خلفشار کا شکار تھی۔ سعید احمد ، جو ہمیشہ ڈسپلن کے لئے چیلنج بنے رہتے تھے، اور حنیف محمد کی چپقلش کے نتیجے میں سعید احمد کپتان بن گئے لیکن ٹیم میں واضح گروہ بندیاں نظر آرہی تھیں۔

اور یہ حالات تھے کہ فروری کے تیسرے ہفتے میں لاہور میں پہلا ٹسٹ کھیلا گیا۔ کاؤڈرے کی سنچری کی بدولت انگلستان نے پہلی اننگز میں تین سو کے قریب رنز بنالئے۔ ہم اس کے جواب میں صرف دو سونو رنز بنا سکے۔ دوسری اننگ میں انگلستان نے نو وکٹوں پر ڈھائی سو رنز بنا کر ہمیں میچ جیتنے کا موقع دیا لیکن ہم پانچ وکٹوں پر صرف 203 رنز ہی بنا پائے اور میچ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوگیا۔

ڈھاکہ ٹسٹ بھی کوئی اتنا یادگار اور دلچسپ نہیں تھا۔ باسل ڈولیویرا نے یہاں سنچری بنائی۔ اور یہ میچ بھی بنا کسی نتیجے کے ختم ہوا۔
ملک میں ہنگامے اپنے عروج پر تھے کہ کراچی ٹسٹ شروع ہوا۔ میں نے شاید اپنی زندگی میں اس سے برا اور منحوس میچ کوئی نہیں دیکھا۔ ایک طرف ملکی حالات اور دوسری جانب حنیف اور سعید کی مناقشت۔ میدان میں کراچی اور لاہور کے حق میں اور خلاف نعرے لگتے۔ تماشائی بھی بٹے ہوئے تھے۔ سعید احمد کوئی بہت زیادہ مقبول نظر نہیں آرہے تھے۔ بار بار تماشائیوں کی بدنظمی کے باعث کھیل رک جاتا۔

انگریز لیکن اپنے کام سے لگے رہے اور نئے کھلاڑی کولن ملبرن نے ہمارے گیند بازوں کی جی بھر کے ٹھکائی کی اور اپنے پہلے ہی میچ میں سنچری بنا ڈالی۔ بھاری جسم کے گول مٹول سے ملبرن بعد میں انگلستان میں ایک حادثے میں اپنی ایک آنکھ گنوا بیٹھے اور کرکٹ کی دنیا ایک جارحانہ بلے باز سے محروم ہوگئی۔

میدان میں کھیل بار بار رکتا لیکن ملبرن کے بعد ٹام گریونی نے بھی سینکڑہ بنا ڈالا۔ انگلستان کے پانچ سو سات پر سات کھلاڑی آؤٹ تھے اور ایلن ناٹ پچانوے رنز پر سنچری کے قریب تھے کے بلوائیوں کا ایک ریلا اسیڈیم میں در آیا۔

آفتاب گل جو ہمارے اوپننگ بیٹسمین تھے، ایک طالبعلم رہنما بھی تھے۔ انہوں نے اپنی سی کوشش کی تماشائیوں کو منانے کی لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی۔ بالآخر میچ کو تیسرے دن ہی ختم کرنا پڑا۔

ارے، میں آپ کو بتانا بھول ہی گیا کہ اس میں ایک طویل القامت فاسٹ بولر نے پاکستان کے لئے اپنا پہلا میچ کھیلا۔ اس میچ میں جس میں شر ہر ہی شر تھا، سرفراز نواز کی شکل میں ایک خیر برآمد ہوا۔

سرفراز نواز جس نے پاکستان کی بولنگ ایک نیا رخ دیا، سرفراز نے سوئنگ اور ریورس سوئنگ کی جس روایت کا آغاز کیا ، اسے لیکر، عمران خان، وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر سے لے کر محمد عامر، حسن علی تک یہ سفر جاری ہے اور پاکستان کو بالنگ کے شعبے میں ہمیشہ ایک بہترین ٹیم مانا جاتا ہے، جس کا سہرا بلاشبہ سرفراز کے سر جاتا ہے۔

ہائے ہائے، مردہ باد، زندہ باد کے نعرے، گرفتاریاں، نظر بندیاں، ہنگامے، توڑ پھوڑ، جلاؤگھیراؤ ، بھلاان سب کے ہوتے ہوئے کرکٹ ، وِرکٹ کی کون سوچتا، ملک ایک ہیجان میں مبتلا تھا، ہوش سنبھالنے سے اب تک نسبتاً پرسکون حالات دیکھے تھے، اب نئے حالات نے ہمارے نوجوان خون میں ایک ہلچل سی مچارکھی تھی اور ہم حالات کے دھارے کے ساتھ بہتے چلے جارہے تھے۔ اسی شورشرابے میں ایک دن فیلڈ مارشل ایوب خان نے راج سنگھاسن اپنے پیٹی بھائی جنرل یحٰیی خان کے حوالے کیا اور اپنے گاؤں ریحانہ کی راہ لی اور بقیہ زندگی اللہ اللہ کرنے یا جانے کیا کرنے میں گذار دی۔

حالات ذرا پرسکون ہوئے اور سال کے آخر میں نیوزی لینڈ کی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا۔ اس دورے کی یاد اس لحاظ سے ہرگز خوشگوار نہیں کہ نیوزی لینڈ جسے ہم کسی خاطر میں نہ لاتے تھے، اس ٹیم نے پہلی بار ہمارے ملک میں ہم سے سیریز جیتی اور یہ اعزاز شہر لاہور کے حصے میں آیا۔

آج کی کہانی کچھ زیادہ طویل ہوگئی۔ کیویز کے دورے کی موٹی موٹی باتیں یاد کرکے آج کی کہانی تمام کرتے ہیں۔

حنیف اور سعید کے مچیٹے کے بعد بورڈ نے خاموش طبیعت ، شریف النفس اور غیر متنازعہ آل راؤنڈر انتخاب عالم کو کپتان مقرر کرکے اس فتنے کا سدباب کیا۔

لاہور کے بعد ڈھاکہ میچ ہار جیت کے نتیجے کے بغیر ختم ہوا اور یہ شاید مشرقی پاکستان میں مشترکہ پاکستان کا آخری ٹسٹ میچ تھا۔۔

آخری میچ کراچی میں ہوا، جس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں آیا لیکن یہ میچ کئی لحاظ سے ہماری کرکٹ کی تاریخ میں اہمیت رکھتا ہے۔
اس میچ میں تین نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا جن میں سے ایک محمد گھرانے کے سب سے چھوٹے فرزند صادق ممحمد بھی تھے۔ حنیف اور مشتاق پہلے ہی ٹیم میں شامل تھے۔ یہ تاریخ میں پہلی بار ہواکہ تین سگے بھائیوں نے ایک ساتھ کسی ملک کی نمائندگی کی۔

اسی میچ میں ریلوے کے ایک ہنرمند، نذیر جونئیر نے بھی اپنا پہلا میچ کھیلا اور اپنی آف اسپین بالنگ سے پہلی اننگز میں سات وکٹ لےڈالے۔

تیسرا نیا کھلاڑی ، کراچی سے تعلق رکھنے والا، ایک معنک سیالکوٹی منڈا تھا۔ جس نے اس میچ میں تو کوئی خاص کارنامہ انجام نہیں دیا لیکن اپنے دوسرے میچ میں اور انگلستان کی سرزمین پر اپنے پہلے میچ میں دوسو چوہتر رنز کی یادگار اننگز کھیل کر دنیا کو بتادیا کہ اب ‘ ظہیر عباس کا دور شروع ہوگیا۔ وہ ظہیر عباس جسے ‘ایشین بریڈمین اور رنز بنانے کی مشین جیسے خطابات ملنے والے تھے۔

اس کے ساتھ ہی حنیف محمد نے ٹسٹ کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا.. پاکستان کو ٹسٹ کا سرکاری درجہ ملنے کے بعد سے اب تک، پاکستان کی بیٹنگ کی آبرو،کرکٹ کے ایک دور کا خاتمہ ہوا۔

قصہ مختصر یہ کہ ہم تین میچوں کی سیریز ایک صفر سے ہار گئے۔ اگلی قسط میں دیکھتے ہیں آگے کیا ہوا۔ یار زندہ صحبت باقی۔

اس سلسلہ کی پچھلی قسط اس لنک پر ملاحظہ کیجئے

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: