انقلابی نواز شریف اور سینیٹ چیئرمین کا انتخاب : سیّد عمار یاسر زیدی

0
  • 49
    Shares

سینیٹ کے انتخابات مکمل ہوئے، کچھ جماعتوں نے حصہ بقدر جثہ حاصل کیا تو کچھ جماعتوں نے اپنے حصے سے زیادہ بھی حاصل کیا، آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ ہوئی ہے۔

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے بھی ہارس ٹریڈنگ شکایت کی اور کہا کہ “ہم تو ہمیشہ سے ہی ہارس ٹریڈنگ کے خلاف ہیں”۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ سے آگاہ افراد کے چہروں پر نواز شریف کے ان الفاظ کو سن کر ضرور مسکراہٹ کو آئی ہو گی۔ آج کل میاں نواز شریف کو جمہوریت پسند، انقلابی، سسٹم کا باغی ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی، ان کوششوں میں تیزی اس وقت آگئی جب میاں صاحب نے پیپلز پارٹی کے رہ نما اور سبکدوش ہونے والے چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کا نام چیئرمین سینیٹ کے لیے تجویز کیا، اور آصف زرداری نے ان کی خواہش پوری کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ بات اپنی جگہ ٹھیک ہے کہ آصف زرداری، رضا ربانی سے خوش نہیں ہیں، مگر میاں صاحب کی طرف سے رضا ربانی کا نام چیئرمین کے لیے دیئے جانے کی وجہ کچھ اور ہے۔

مرحوم پیر صاحب پگارا فرمایا کرتے تھے کہ “نواز شریف مصیبت میں ہو تو پاؤں پکڑتا ہے، اور مصیبت میں نہ ہو تو گردن پکڑ لیتا ہے”۔ مرحوم نواب زادہ نصر اللہ خان نے نواز شریف کی خاندان سمیت مشرف حکومت سے جلاوطنی کے معاہدے پر کہا تھا “میں نے ساری زندگی سیاست دانوں سے معاملات کیے، کبھی دھوکا نہیں کھایا، ایک تاجر پر بھروسا کیا اور دھوکا ہو گیا”
کم از کم دو واقعات ایسے ہیں جو میاں صاحب کی جمہوریت پسندی اور انقلابی سوچ کو واضح کرتی ہے، اور ان دونوں واقعات سے منسلک افراد نے بذات خود اس کی تصدیق کی ہے۔

1997 کے آخری دنوں میں صدر فاروق لغاری کے استعفے کے بعد نئے صدر کے انتخاب کا مسئلہ تھا، میاں نواز شریف دو تہائی اکثریت کے ساتھ وزیر اعظم تھے۔ انہوں نے سیّد غوث علی شاہ کو طلب کر کے آگاہ کیا کہ مشاورت کے بعد شاہ صاحب کو صدر کے عہدے کے لیے مسلم لیگ ن کا امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، میاں صاحب نے غوث علی شاہ سے کہا کہ اس فیصلے کا اعلان اگلے روز کابینہ کے اجلاس میں کر دیا جائے گا۔ غوث علی شاہ نے ان کا شکریہ ادا کیا، واپس اپنے گھر آئے، شکرانے کے نوافل ادا کیے، ملازمین میں مٹھائی تقسیم کی۔ رات گئے انہیں وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے ٹیلی فون کال موصول ہوئی کہ کل کابینہ کے اجلاس سے کچھ دیر قبل تشریف لائیں ضروری صلح مشورہ کرنا ہے۔غوث علی شاہ کابینہ کے اجلاس سے قبل پہنچے، میاں صاحب نے انہیں بتایا کہ آپ کے نام پر کچھ اداروں کو اعتراض ہے، اس لیے جسٹس (ر) محمد رفیق تارڑ کا نام عہدہ صدارت کے لیے فائنل کیا گیا ہے، نواز شریف نے یہ نہیں بتایا کہ کن اداروں کوکیا اعتراض ہے بس اتنا کہا کہ مجبوری ہے۔ دوسرا واقعہ سعید الزماں صدیقی کے ساتھ پیش آیا، جب 2008میں آصف زرداری عہدہ صدارت کے امیدوار ہوئے اور سب جانتے تھے کہ انہیں مطلوبہ اکثریت حاصل ہے تو میاں صاحب نے جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی کو عہدہ صدارت کے لیے ن لیگ کا امیدوار بنا دیا، مگر جب 2013میں میاں صاحب کو یقین تھا کہ مسلم لیگ ن اپنا صدارتی امیدوار آسانی سے کامیاب کروا سکتی ہے تو انہوں نے ممنون حسین کو ترجیح دی۔ اس بات کا شکوہ مرحوم جج صاحب نے بھی کیا اور کہا کہ میاں صاحب انسانوں کو استعمال کرنا خوب جانتے ہیں۔ یہ ہے میرٹ اور یہ ہیں اصول۔

یہ تو ماضی کے دو واقعات تھے، جن کا احوال ان دونوں شخصیات نے ذاتی حیثیت میں راقم الحروف کو بذات خود بیان کیا، حقیقت یہ ہے کہ میاں صاحب کی نظر میں ذاتی وفاداری سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے، اور اگر اپنی ذات کی بات ہو، تو پھر میاں صاحب صرف اپنی بقا کو ترجیح دیتے ہیں۔ پوری جماعت کو بے یار و مدد گار چھوڑ کر معاہدہ کر کے جدہ چلے جاتے ہیں، جب دباؤ پڑے تو مشاہد اللہ خان کو وزارت سے فارغ کر دیتے ہیں، پرویز رشید کو کیوں نکالنے میں ایک لمحہ نہیں لگاتے، طارق فاطمی کو وجہ بتائے بغیر فارغ کر دیتے ہیں، اپنے حق میں تقریر کرنے والے نہال ہاشمی سے سینیٹ کی سیٹ بھی واپس لیتے ہیں اور پارٹی سے بھی نکال دیتے ہیں۔ یہ تمام واقعات گزشتہ پانچ سال کے ہیں، یہ اقدامات “بدلے ہوئے” انقلابی اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ میاں نواز شریف کے ہیں، کہاں تھی اُ س وقت میاں صاحب کی اصولی سیاست اور انقلابی سوچ؟ آج میاں صاحب رضا ربانی کو نام زد کر کے ایک تیر سے کئی شکار کھیلنا چاہتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کا عام جیالا خصوصاً پنجاب کا جیالا، میاں صاحب کے ساتھ پیپلز پارٹی کی قربت اور مفاہمت کو سخت نا پسند کرتا ہے، پیپلز پارٹی میاں صاحب کی یہ پیشکش قبول کر کے جیالے کو مزید متنفر نہیں کر سکتی۔ پیپلز پارٹی کی مفاہمانہ سیاست نے ویسے ہی پنجاب میں اسے بہت نقصان پہنچایا ہے۔آج میاں صاحب کے حمایتی اور کئی روشن خیال جمہوریت پسند دانشور، پیپلز پارٹی کو اسٹیبلشمنٹ کی جماعت اور ن لیگ کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ ثابت کرنے پر تلے بیٹھے ہیں، ان سے سوال ہے کہ اس وقت میاں صاحب کی انقلابی سوچ کہا ں تھی، جب زرداری نے اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کی تھی اور میاں صاحب نے طے شدہ ملاقات منسوخ کر دی تھی کہ اسٹیبلشمنٹ ناراض نہ ہو جائے۔ اس وقت جمہوری سوچ کہاں تھی جب زرداری صدر کی حیثیت سے عباس شریف کے انتقال پر تعزیت کے لیے جاتی امرا جانا چاہتے تھے مگر نواز شریف نے سیاسی نقصان سے بچنے کی خاطر ملک کے صدر کو اپنے بھائی کی تعزیت کے لیے آنے سے روک دیا کیوں کہ اس ملاقات کے منفی اثرات 2013کے انتخابات پر پڑ سکتے تھے۔

اب سوال یہ ہے کہ میاں صاحب نے رضا ربانی کا نام کیوں دیا؟ میاں صاحب کہتے ہیں کہ ان کی جماعت اکثریتی جماعت ہے تو اپنے امیدوار کا اعلان کرنے میں لیت و لعل سے کام لینے کی کیا وجہ ہے۔میاں صاحب کے پاس اپنی جماعت سے د ونام ہیں، ایک سینیٹر پرویز رشید اور دوسرے مشاہد حسین سید۔ اگر پرویز رشید کو نام زد کرتے ہیں تو مقتدر حلقوں کو منفی پیغام جائے گا جن کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے میاں صاحب نے پرویز رشید کو وزارت اطلاعات سے فارغ کیا تھا۔اگر مشاہد حسین سید کو نام زد کرتے ہیں تو ان کی اپنی جماعت میں اعتراضات ہوں گے اور ساتھ ہی میاں صاحب کا نام نہاد اینٹی اسٹیبلشمنٹ تاثر خراب ہوگا۔ اس صورت حال سے بچنے کے لیے میاں صاحب نے رضا ربانی کے نام کی گگلی پھینکی، جسے آصف زرداری نے نا منظور کردیا۔ آصف زرداری کا کہناہے کہ پیپلز پارٹی کا امیدوار کون ہوگا اس کا فیصلہ پیپلز پارٹی کی قیادت کرے گی، نہ کہ میاں نواز شریف۔

سینیٹ کا چیئرمین کون ہوگا؟ ابھی تک پیپلز پارٹی، ن لیگ یا تحریک انصاف میں سے کسی نے بھی نام کا اعلان نہیں کیا۔ قیاس آرائیاں عروج پر ہیں، میاں نواز شریف کو اکثریت کا دعویٰ ہے تو آصف زرداری کو اپنی جوڑ توڑ کی صلاحیتوں پر بھروسا ہے، دیکھیں کون کامیاب ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: