سینٹ انتخابات: خرید و فروخت کی روایت قائم ٭ ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

0
  • 29
    Shares

معروف شاعر بشیر بدر کی غزل کے ایک شعر کا مصرعہ کچھ اس طرح سے ہے ’سبھی چار دن کی ہیں، چاندنی یہ امارتیں یہ وزارتیں‘ مصرعہ پڑھ کر سینٹ کے حالیہ انتخابات میں اپنے ووٹ اور ضمیر فروخت کرنے والوں کا نقشہ نظروں میں گھوم گیا۔ ان دنوں اخبارات، ٹی وی اور سوشل میڈیا، کالم نگاروں اور تجزیہ کاروں کا اہم موضوع سینٹ کے انتخابات اور اس میں خرید و فروخت ہے۔ بشیر بدر بہت اچھے شاعرہیں، غزل ان کا خاص میدان ہے۔ ان کی غزل کا یہ شعر کچھ اس طرح سے ہے ؎

سبھی چار دن کی ہیں، چاندنی یہ امارتیں یہ وزارتیں
مجھے اس فقیر کی شان د ے کہ زمانہ جس کی مثال دے

اِسی غزل کا ایک اور شعر بھی دیکھئے ؎

مرے سامنے جو پہاڑ تھے سبھی سر جھوکا کے چلے گئے
جسے چاہے توعُروج دے جسے چاہے تو یہ زوال دے

یہ اشعار سینٹ کے انتخابات میں ان سینیٹروں کے لیے آئینہ ہیں جنہوں نے ووٹ کے عوض اپنا ضمیر بھاری رقم یا مراعات کی خاطر ووٹ بیچا، وہ سیاسی جماعتیں یا انفرادی خریدار جنہوں نے سینٹ کے ووٹرز جو پہلے ہی سے منتخب نمائندے تھے انہیں لالچ دے کر، ڈرا دھمکا کے، یا سہانے خواب دکھا کرووٹ اپنی مرضی کے امیدواروں کو ڈلوائے۔ شعر کا پہلا مصرعہ بکاؤ مال کی جانب اشارہ ہے کہ اگر تم نے اپنی منہ مانگی قیمت وصول کر بھی لی، بھاری رقم ملنے سے تمہاری چاندی بھی ہوگئی ہے، ہوسکتا ہے تمہیں اس کے عوض امارت، وزارت یا سفارت بھی مل جائے لیکن یاد رکھو یہ سب چیزیں عارضی ہیں اور صرف چاردن کی چاندنی ہے۔ شاعر تو وہ فقیری کی دعا کررہا ہے جس سے زمانہ اسے اچھے نام سے یاد کرے، لیکن وہ سینیٹر جو اپنا سودا کرکے سینیٹر بنے گا، کیا زمانہ اسے اچھے نام سے یاد کرے گا۔ زرا نام تو سامنے آجانے دیجئے پھردیکھئے ان کی کیسی درگرد بنتی ہے۔ خریدار وں اور بکنے والوں کو شرم و حیا نہیں، کہ وہ ایک عارضی شہ کے لیے کس قدر گھاٹے کا سودا کررہے ہیں۔ جو انہیں دنیا میں بھی رسوا اور بدنام کرے گا، آخرت میں ایسے لوگوں کا کیا انجام ہوگا اللہ کی پناہ۔ الیکشن کمیشن کو یہ سب اطلاعات ہوں گی، وہ اگر چاہے تو تحقیق اور سیاسی جماعتوں کے اتفاق سے ان انتخابات کو کالعدم بھی کر سکتا ہے۔ لیکن سیاسی جماعتیں کیوں ایسا چاہیں گی۔

میں ا س بحث میں نہیں جارہا کہ کس سیاسی جماعت نے ایسا کیا، کس جماعت کے ووٹر بکے، لوٹا بنے، کن جماعتوں نے انہیں خریدا، کتنے کا خریدا، لوٹا بنا یا، کیوں بنا یا، مقصد کیا تھا۔ بظاہر یہی مقصد سامنے نظر آرہا ہے جس کے لیے الیکشن کے نتیجے کے بعد جس چیز کے لیے سیاسی جماعتوں میں ہلچل شروع ہوچکی ہے یعنی ایوان بالا پر اس کے چیرٔ مین کے توسط سے حکمرانی کو قائم رکھا جائے۔ انفرادی طور پر اراکین ووٹر بکے، ان کا مقصد مفاد تھا وہ بھاری رقم، یا اقتدار میں مراعات اورسینیٹر بن جانے والے جنہوں نے بھاری رقم دے کر ووٹ خریدے، ان کے دل میں عوام کا درد ہے، عوام کی خدمت کا جذبہ ہے، ہر گز نہیں اگر انہوں نے 50کروڑ خرچ کیے تو وہ اس سے دس گنا زیادہ کمائیں گے۔ ایسے لوگ حکمراں ہوں گے، یہ عوام کی خدمت کریں گے۔ ایسی جماعتیں کئی ہیں جن کے منتخب نمائندوں کی تعداد اتنی کم ہے کہ وہ ایک سینیٹر بھی منتخب نہیں کر سکتے، ان کا سینیٹر کیسے منتخب ہوگیا، بعض جماعتوں کے سربراہوں نے اعلانیہ کہہ دیا کہ ان کے نمائندے بکے، کتنی کی بولی لگی یہ بھی بتا دیا، ایک مثال پنجاب سے چودھری سرور کی سامنے ہے، پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے اتنے ووٹ نہیں تھے کہ چودھری سرور سینیٹر منتخب ہوسکتے لیکن وقت نے ثابت کیا کہ انہیں 27زیادہ ملے، یہ ووٹ کس جماعت کے تھے، یقینا نون لیگ کے، کیوں کہ یہ جماعت سیاسی بحران کا شکار ہے، اس کی قیادت نا اہل ہوچکی، وہ مقدمات کا سامنا کر رہی ہے، سیاسی لوٹوں کو اپنی جماعت ڈوبتی نظر آنے لگتی ہے تو یہ ادھر ادھر چور دروازے سے نکلنے کی کوششیں میں ہیں۔ بعض بہت ذہین ہوتے ہیں وہ بہت پہلے سے ہوا کا رخ بھانپ لیتے ہیں، بیک ڈور رابطے رکھتے ہیں وقت آنے پر جماعت میں شامل، ٹکٹ کی بات پہلے ہی طے ہوتی ہے، بن جاتے ہیں پھرسے سینیٹر۔ نون لیگ کے 27اراکین نے اپنی وفاداریاں کس بنیاد پر تبدیل کیں انہیں کیا لالچ دیا گیا، یا وہ اپنی جماعت سے نا خوش تھے، انہیں اس کا مستقبل تاریک نظر آنے لگا تھا، یا پھر مالی منفعت۔ چودھری سرور ایسے لگتے تو نہیں کہ انہوں نے مال لگایا ہوگا لیکن کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ وقت فیصلہ کرے گا۔ بلوچستان میں جو کچھ ہوا اس کے آثار پہلے ہی نظر آرہے تھے، حکومت کی تبدیلی نے دیوار پر لکھ دیا تھا کہ اب یہاں زرداری صاحب کے احکامات کا دور دورہ ہونے والا ہے۔ خیبر پختونخواہ میں کپتان کے کچھ ساتھی بکے، کپتان نے از خود کہا، قیمت بھی بتا دی، سندھ میں صورت حال مختلف تھی، متحدہ پہلے ہی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی تین دھڑے ہوچکے تھے جو مضبوط دھڑا تھا وہ آپس میں گتھم گتھا رہا، متحدہ کے ووٹرز، عوام اپنی قیادت کی اس رسہ کشی سے بد دل و دل برداشتہ تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ زرداری صاحب نے گرم لوہے پر وار کیا، لوہا گرم تھا آسانی سے رام ہوگیا۔ نہیں معلوم قیمت لگی، مراعات کا وعدہ ہوا یا ڈر اور خوف کے ہاتھوں خواتین ووٹرز پاکستان پیپلز پارٹی کی جھولی میں جا گریں اس طرح متحدہ کا دھڑم تختہ ہوگیا۔ ایک سیٹ وہ بھی مشکل سے آسکی۔ سینٹ میں سیاسی جماعتوں پر یہ پابندی نہیں کہ وہ کس کو ٹکٹ دیں، ہوتا یہ ہے کہ صوبائی اور قومی اسمبلی میں تو پارٹی کے کارکنوں کو جو زیادہ قریب ہوتے ہیں ٹکٹ دے دیا جاتا ہے، ان انتخابات میں محنت زیادہ ہوتی ہے، جب مرحلہ سینٹ کے انتخابات کا آتا ہے تو ہر جماعت امیر کبیر شخص کا انتخاب کرتی ہے۔ اس میں جو مصلحت کارفرما ہے اسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ کسی تجزیہ کار کی یہ بات درست ہے کہ ہمارے ہاں سینٹ میں کھرب پتیوں کو ٹکٹ دینے کی روایت ہے جو کسی بھی طرح قابل ستائش نہیں۔ مقصد قانوں سازی میں ٹیلنٹ کو بھیجنا نہیں بلکہ مالی وسائل جمع کرنا ہوتاہے۔ جب ہی تو اکثر سیاسی جماعتوں میں بعض لوگوں کے لیے ATM مشین کی اصطلاع استعمال ہونے لگی ہے۔

بشیربدر کی اس غزل کا ایک اورشعر بھی بکاؤ سینیٹرز پر صادق آتاہے جس میں کہا گیا ہے کہ بڑی بڑی شخصیات، نامور سیاست داں، ان کی اپنی پارٹی کے جید سیاسی لیڈر کیسے خاموشی سے سر جھکا کے اس دنیا سے رخصت ہوگئے، دولت، جائیداد، بنک بیلس، جاہ و جلال، دب دبہ سب دنیا میں دھرا کا دھرا رہ گیا۔ ان میں سے آج ایسے بھی ہیں جن کے نام سے بھی لوگ واقف نہیں، وہ بے نشان ہوچکے، لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے، عُروج دیتا ہے اور جس جوکو چاہتا ہے ذ لیل و رسوا کردیتا ہے۔ سینٹ کے انتخابات میں خرید و فروخت کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہوئی، ہر بار جب بھی سینت کے انتخابات ہوئے اسی طرح عوامی نمائندے بکتے رہے ہیں ان کی بولیا لگتی رہی ہیں۔ وقتی طور پر واویلا مچایا جاتا ہے، یہی سیاسی جماعتیں جو اس کاروبار میں شریک ہوتی ہے نظام کو بدلنے کی، طریقہ کار کو تبدیل کرنے کی بات کرتی ہیں لیکن جب یہ غبار بیٹھ جاتا ہے، تمام سیاسی جماعتوں کی توجہ اس جانب سے ہٹ جاتی ہے۔ اب بھی سینٹ کے انتخابات کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کی باتیں ہورہی ہیں، کہا جارہا ہے کہ سینٹ کے انتخابات بھی برائے راست عوام کے ووٹوں سے ہونے چاہیں، موجودہ سیکرٹ بیلٹ کے طریقے کار میں منتخب نمائندوں کے فروخت ہونے، وفاداریاں تبدیل کرنے کے مواقع زیادہ آسان ہیں۔ اس طریقہ کار کو ہر صورت میں تبدیل ہونا چاہیے، اس نظام سے ملک میں غلط روایت تو قائم ہوتی ہی ہے پاکستان کا وقار بیرونی دنیا مجروح ہوتا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں سینٹ یعنی ایوان بالا موجود ہیں۔ سینیٹرہونا بڑی عزت و توقیر کا باعث ہے، ایک سینیٹر ریٹائر بھی ہوجاتا ہے تب بھی وہ سینیٹر ہی کہلاتا ہے۔ وہ ملک کی نماندگی کرتا ہے، ملک کے لیے قانون سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سینٹ ایک قانون ساز ادارہ ہے۔ صدر مملکت کی غیر موجودگی میں سینٹ کاچیرٔمین قائم مقام صدر کے فرائض انجام دیتا ہے۔ اس ادارے کا تقدس ہے، اس کے اراکین اگر اپنی قیمت وصول کر کے آئیں گے، تو وہ کس منہ سے انصاف کرسکیں گے۔ یقینا ایسے سینیٹرز کا ضمیر ہمیشہ ملامت کرتا رہتا ہوگا۔ بظاہر وہ سینٹ کے اجلاسوں میں شریک ہوتے ہوں گے، بعض وزیر بھی بن جاتے ہیں، مشیر بھی، مختلف کمیٹیوں کے چیرٔ مین بھی لیکن اندر سے گلٹی ہوتے ہوں گے۔ ایسے جینا کیا خاک جینا ہے۔ سینٹ اراکین کے انتخابات کے بعد چیر ٔمین ور وائس چیرٔ مین کے انتخاب کی تگ و دو شروع ہوچکی ہے، کوششیں شروع ہوچکی ہیں۔ میل ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ کل تک جو ایک دوسرے کو مغلظات بک رہے تھے، ان کے آج پشاور سے کراچی، کراچی سے کوئٹہ سینٹ کے چیٔر مین کے لیے حمایت طلب کرنے ایک دوسرے کی چوکھٹوں، عقیدت و احترام کے ساتھ، آواز نیچی، نظریں جھکی ہوئیں جیسے ایک دوسرے کے لیے بڑی چاہت رکھتے ہوں موجود نظر آرہے ہیں۔ یہ ہے سیاست، ڈرٹی سیاست، میاں نواز شریف نے پی پی کے سابق چیئر مین رضاربانی پر اپنے اعتماد کا اظہار کر کے اپنی کمزوری کا اظہار کردیا ہے۔ نون لیگ سینٹ میں اکثریت رکھنے والی جماعت ہے اس کے باوجود سیاست کا رنگ دیکھئے کہ میاں صاحب پی پی کے رضاربانی کوچیرٔ مین بنانے پر رضامندی اظہار کھلے عام کر رہے ہیں، زرداری صاحب نے دو ٹوک الفاظ میں میاں صاحب کی تجویز کو مسترد کردیا ہے۔ توڑ جوڑ شروع ہوچکا ہے، بڑے جماعتیں چھوٹی جماعتوں، اور آزاد اراکین کو اپنے ساتھ ملانے کی جدوجہد میں ہیں۔ کچھ ظاہری طور پر اور کچھ اندرونِ خانہ ملاقاتیں ہورہی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کون بازی لے جاتا ہے۔

جس قسم کے سیاسی حالات سے پاکستان اس وقت گزر رہا ہے، ان کے پیش نظر جمہوریت کی گاڑی کا پٹری پر چلتے رہنابڑی بات ہوگی، چند ماہ بعد 2018کے انتخابات ہونا ہیں، سینٹ کے الیکشن کا آئندہ ہونے والے انتخابات پر کوئی اثر ہوگا، اس وقت تک بعض سیاسی جماعتوں کی حالت کیسی ہوگی، میدان ایسا ہی ہوگا یا کچھ جماعتیں جیسے متحدہ ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہوئی اور جماعتیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائیںگی، ان کے لیڈروں کا مستقبل کیسا نظرآرہا ہے، بظاہر حالات بہترہوتے دکھائی نہیں دے رہے اس لیے کہ جب گھر کا سربراہ اپنے رویے میں ، اپنے انداز گفتگو میں، اپنی پالیسی میں اور اپنے بیانیے میں تبدیلی نہیں لائے گا، اس کے درباری اسی کے نقشہ قدم پر چلتے ہوئے، نہال ہاشمی کی طرح توہین عدالت کی سزا بھگتنے کے بعد پھر توہین عدالت کریں گے اور پھر عدالت کے سامنے بکری کی طرح مے مے کرتے دکھائی دیں گے۔ باہر اپنے آقاؤں کی خوشنودی کے لیے شیر اور عدالت کی توہین کریں جب عدالت بلائے تو تحریری معافی نامہ اور بکری کی طرح ہن ہناتے دکھائیں دیں۔ اس روش کو تبدیل ہونا چاہیے۔ اس بیانیے کو بدلنا ہوگا ورنہ نقصان در نقصان ہوگا۔ ملک پیچھے کی جانب جاتا جارہا ہے، عوام میں بے یقینی کی کیفیت پیدا ہورہی ہے۔ بڑی سیاسی جماعتوں اور ان کے سربراہوں پر کو سنجیدگی سے ملک و قوم کی بقا کی خاطر اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانا ہوگی۔ اسی میں ملک و قوم کی بھلائی مضمر ہے۔ سینٹ کے لیے اپنا ووٹ اور ضمیر فروخت کرنے اور خریدنے والوں کو اللہ نیک ہدایت دے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: