خواتین کے حقوق کی منصفانہ ادائیگی: مطربہ شیخ

1
  • 124
    Shares

حامد میر صاحب بے اپنے ایک کالم میں لکھا کہ ایک صحافی سے مملکت کے ناخدا ناراض ہو گئے تو انکو گرفتار کرنا چاہا لیکن وہ روپوش ہو گئے۔ ڈھونڈا گیا جب کامیابی نہ ہوئ تو انکی والدہ کو قانون نافذ کرنے والے لے گئے۔ وہاں ان پر تشدد کر کے انکی چیخیں ریکارڈ کی گئیں۔ صحافی صاحب تک یہ خبر اور چیخیں پہنچ گیئں وہ تڑپ کر آئے اور گرفتاری دے دی۔ کرپشن کے الزام میں شرمیلا قاروقی کے والد گرفتار ہوئے لیکن ساتھ ہی ساتھ شرمیلا کو بھی قیدوبند اور تشدد کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔ حالانکہ وہ کالج گرل تھیں۔ کراچی میں ایم کیو ایم کے فاروق دادا کو گرفتار کرنے کرنے کی ضرورت پیش آئ وہ ہاتھ نہ آسکے تو انکی بیگم کو قانون نافذ کرنے والے ادارے گرفتار کر کے لے گئے حالانکہ وہ حاملہ تھیں، انکو اڈیالہ جیل لے جایا گیا۔ جہاں ان پر دوران حمل تشدد بھی ہوا۔ بھوکا پیاسا بھی رکھا گیا شازیہ صاحبہ ثابت قدمی سے برداشت کرتی رہیں۔ فاروق دادا کو ایک پولیس مقابلے میں مار دیا گیا۔ شازیہ کو قانونی طور پر رہا کروایا گیا اور پھر علاج کے بعد خود سیاست میں آئیں اور اسمبلی تک پہنچ گیئں۔

پچھلے تین سالوں سے کراچی میں جاری آپریشن کے دوران بارہا ایسا ہوا کہ سیاسی کارکنان گرفتار نہ ہو سکے تو والدہ یا ہمشیرہ یا کو لاقانونیت سے گرفتار کر لیا گیا اور پھر کارکن کو گرفتاری دینی پڑی حتی کہ ایک کارکن گھر پر نہ ملے تو انکی پندرہ سالہ بیٹی کو اور بیٹے پر گھر کے سامنے ہی تشدد کیا گیا۔ بچی کے بال بے رحمانہ طریقے سے نوچے گئے۔ یہ منظر میڈیا کے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہو گیا اور ہمارے ملک میں طاقت کے غلط استعمال کا گواہ بن گیا۔ ان سارے واقعات کو لکھنے کا مقصد سیاسی ہر گز نہیں ہے۔ کیا ہمارا مذہب اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ایک صحافی، ایک وکیل اور سیاسی کارکن اگر کوئ جرم کر لے تو سزا اسی کو ملنی چاہیے نہ کہ اسکے گھر کی خواتین کو گرفتار کیا جائے یا سزا دی جائے۔ لیکن بہ حیثیت مجموعی یہ رویہ ہمارے معاشرے میں ایک گاوں سے لے کر بڑے شہر تک نظر آتا ہے مزارعے سے یا ہاری سے ناراضگی ہو گئ انکے گھر کی خواتین کو جبری مشقت پر رکھ لیا جاتا ہے۔

اب ستم یہ ہے کہ معاشرے کی پڑھی لکھی خواتین کو حقوق پر کام کرنے کے مواقع تو مل رہے ہیں لیکن وہ انکو ضائع کر رہی ہیں۔ بد قسمتی سے ہم دو گروہوںمیں تقسیم ہیں، روایتی اور روشن خیالی پر کنفیوز ہیں۔ روایتی خواتین کو ان فرسودہ اور جبری روایات کے خاف کام کرنا ہوگا جن کی وجہ سے معاشرے کی خواتین بے بس ہیں جیسے کاروکاری، ونی، غگ، قرآن سے شادی اور جائیداد کی تقسیم۔ جہیز کی لعنت سے نجات، غیرت کے نام پر قتل، روایتی خواتین کو ریپ کے خلاف ایک مستند اور مذہبی قانون سازی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اور روشن خیال اور ترقی پسند خواتین کو چاہیے کہ جو مذہبی روایات اور عقائدہیں ان پر حملہ کئے بغیر کام کرنا چاہیے۔ ہم کو قلم اور لکھنے کی صلاحیت اور اپنی بات مختلف فورم پر پہچانے کی سہولت میسر آگئ ہے تو اسکو درست طور پر استعمال کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

اگر حالات بہتر بنا نے ہیں تو قانون پر عمل درآمد کروانے کے لئے مستقل کام کرنا ہو گا۔ مر، بستر، سیکس کے موضوعات کو چھوڑ کر ساری پڑھی لکھی خواتین کو معاشرے میں بچیوں کی تعلیم اور صحت کے لئے لکھنا اور کام کرنا چاہیے۔ قانون پر عمل درآمد کے لئے کوشاں ہو جانا چاہیے۔ سب سے پہلے مجرم کو سزا دلوانے پر قانونی عمل ہو تب ہم بات کر سکتے ہیں کہ ہاں ہم روشن خیال ہیں۔ ہاں ہم اخلاقی طور پر بہترین ہیں۔ ترقی یافتہ ہونے کا مطلب غیر روایتی دن منانا، ہر خاتون کا گھر سے نکل کر کام کرنا، اور مرضی کا لباس پہننا نہیں ہے۔ ترقی یافتہ ہم جب کہلا سکتے ہیں جب عورت گھر سے نکلے اور کوئ مرد اسکو شای کی پیشکش کرے اور اگر خاتون انکار کر دے تو انکار کا مطلب نا ہی ہو۔ نہ کہ دوسرے دن خاتون کی لاش ملے اور مرد روپوش ہو جائے۔ اور مملکت کا قانون اسکو گرفتار ہی نہ کر سکے۔ اخلاقی و معاشرتی ترقی تب ہی ممکن ہوگی جب قانون پر عمل درآمد کے لئے ہم ایک پیج پر ہوں اور یکساں کام کریں۔ خاتون گھر سے باہر نکلے تو اسکو مکمل تحفظ حاصل ہو۔ اگر کوئ مرد زیادتی کر بھی جائے تو اسکو سزا مل جائے۔ اور مرد کے جرم کی سزا مرد کو ہی ملے نہ کہ اسکے گھر کی خواتین کو۔ بہت کم خواتین سیاست کے میدان میں بھی ایک پیج پر ہیں حالانکہ ایک خاتون ہونے کی حیثیت سے سیاست میں بھی حریفانہ طرز عمل کے بجائے منصفانہ ہونا چاہیے تب ہی ہم ایک خاتون ہونے کا حق ادا کر سکیں گے اور اپنی ذمہ داری درست طور پر نبھا سکیں گے۔ ذاتی طور پر اگر کسی خاتون کے ساتھ کوئی زیادتی ہو گئ تو آئندہ کسی کے ساتھ یہ زیادتی نہ ہو اسکے لئے کوششیں ہونی چاہیے۔ ہر وقت اپنے رونے رونا بزدلی ہے اور مسائل سے نظر چرانا ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. درست تجزیہ
    سوال یہ ہے کہ ان ناخدائوں کی پکڑ کب ہوگی اور انکو نکیل کون ڈالے گا ؟

Leave A Reply

%d bloggers like this: