بھوکا کوا —— ببرک کارمل جمالی

0
  • 47
    Shares

دو کروڑ سے زائدانسانوں کے آبادی کے شہر کراچی میں سیکڑوں کووے بھوک سےببلبلاتے پھر رہے تھے۔ وہ پرانے زمانے گزر گئے جب کوا ہمیشہ پیاسا ہوتا تھا۔ آج کل اسے پانی کی تلاش نہیں ہوتی کیونکہ پانی انھیں کراچی کی نالیوں سے مل جایا کرتا تھا۔ کراچی میں کھانا ملنا بہت مشکل ہو گیا تھا۔ اسی لیےکوؤں نے سکول کے بچوں کے ہاتھ کا کھانا چھیننا شروع کر دیا۔ بچے بہت خوفزدہ ہوئے کیونکہ کوؤں کے پنجے ان کے ہاتھ زخمی کر دیا کرتے تھے۔ بہت سوچ بچار کے بعد بچوں نے منصوبہ بنایا کہ اب کھانا اسکول کے میدان کے بجائے جماعت میں ہی بیٹھ کر کھا لیا کریں گے تا کہ کوؤں کے حملے سے بچ سکیں۔ بچوں کے ایسا کرنے پر کوؤں کو بھوکا سونا پڑا۔ ٹیچرز حیران تھے کہ وہ بچے جو کھانے کے وقفے کا انتظار کرتے تھے اب جماعتوں میں ہی کیوں بیٹھے رہتے ہیں۔ بچوں سے پوچھنے پر حقیقت جان کر اساتذہ سوچ میں پڑ گیے کہ اس مسئلے کا کیا حل ہو۔

جب اسکول کے جونیئر اسٹاف کو مسئلہ معلوم ہوا تو انھوں نے تجویز دی کہ کوؤں سے دوستی کر لی جائے۔ “ہیں؟؟؟ کوؤں سے دوستی؟؟؟ ” بچے اور ٹیچر سب ہی حیران ہو گیے۔ جونیئر اسٹاف فرزانہ باجی نے بتایا کہ کسی بھی جانور کو دانا پانی دے کر اس سے دوستی کی جاسکتی ہے۔ “اس کے اگلے دن مس انیلا نے سارے بچوں کو کھانے کے وقفے میں زبردستی باہر بلایا۔ بچوں نے دیکھا کہ دو بڑے برتن میدان کے کونے پر رکھے تھے۔ ایک میں کووں کے من پسند چنے کی دال کا چورا اور دوسرے میں پانی تھا۔ بچوں نے بھی اس برتن میں اپنے اپنے کھانے سے تھوڑا تھوڑا ڈالا۔ کسی نے برگر کا گر جانے والا ٹکڑا ڈالا تو کسی نے چپس کے چند دانے۔ مانو کوؤں کی تو موج ہو گئی۔ اس دن کے بعد کسی کوے نے کسی بچے کے ہاتھ سے لنچ نہیں چھینا۔ ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔

((( نوٹ 2015 دسمبر میں بچوں کے لئے آخری کہانی لکھی تھی آج ایک تصویر دیکھ کر کہانی لکھنے کا سوچا تو یہ مختصر سی کہانی نے جنم لیا اس کہانی کا مقصد کروڑوں کے آبادی کے شہر کراچی میں چرند پرندوں کو کچھ اپنے حصے کا کھانا دیں تا کہ وہ بھوکے نہ سو سکیں ))

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: