نفسیاتی علاج کے مراکز یا قید خانے؟ —- ڈاکٹر فرحان کامرانی

0
  • 75
    Shares

طبی نفسیات (Clinical Psychology) میں ایک معاملے میں بڑی الجھن پائی جاتی ہے اور وہ معاملہ ہے بعض ذہنی مسائل کے قابل علاج ہونے یا نہ ہونے کا۔ یہ سارا مخمصہ بہت سے مختلف اور متضاد نظریات کی’’مکس چاٹ‘‘ بنانے سے پیدا ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ذہنی مسائل کی تشخیص کا مینول (جس کو DSM کہتے ہیں اور جس کا پانچواں ایڈیشن 2013 میں شائع ہوا) حیاتیاتی- نفسیاتی- سماجی (Bio-Psycho-Social ) ماڈل پر مبنی ہے۔ لیکن یہ ماڈل ہے کیا؟ کہا جاتا ہے کہ یہ ماڈل ہر ذہنی مسئلے کو حیاتیاتی، نفسیاتی اورسماجی تناظر سے دیکھتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ تینوں تناظر اس قدر جدا ہیں کہ کبھی ان میں ایسا کوئی الحاق ممکن ہی نہیں۔ کچھ نفسیاتی علاج کے اداروں میں سوشل ورکر (کیس ورکر)، سائیکا ٹرسٹ اور نفسیات دان مل کر کام کرتے بھی ہیں۔ لیکن یہ ایک بڑی ہی مزاحیہ صورت حال ہوتی ہے کیونکہ تینوں کو ہی نہیں معلوم ہوتا کہ ان کے کام کی سرحدیں کہاں تک ہیں۔

سوال یہ ہے کہ آیا نفسیاتی مسائل قابل علاج ہوتے بھی ہیں یا نہیں؟ اگر حقیقت بیان کی جائے تو آج کے نفسیاتی معالجین کسی بھی نفسیاتی مسئلے کا علاج کرنا ہی نہیں جانتے۔ علاج کی جگہ مسائل کی صرف مینجمٹ (Management) ہی اس ماڈل کا مطمع نظر ہے۔ مسائل کے شکار افراد کو دوائوں کے ذریعہ سن کر دیا جایے، سوشل ورکر اُن کے معاشی اور دیگر معاملات میں ان کو کسی قابل بنا دیں یعنی وہ کسی قسم کی معاشی سرگرمی کا حصہ بن سکیں اور علم نفسیات کے ماہر ان کا دکھ سن لیں، اللہ اللہ خیر صلّا۔ یہ ہے جدید نفسیاتی علاج کا ماڈل! نفسیاتی الجھن اپنی جگہ قائم رہے لیکن آدمی بس دیکھنے میں ٹھیک لگے اور پیسہ کماتا رہے۔ اس دور میں آپ اور میں رابن ولیمز کی خودکشی پر حیران ہوتے ہیں کہ اتنا کامیاب اداکار کیونکر اچانک اتنا شدید مایوس ہوا کہ اپنی جان لے لی۔ آپ اور میں روحی بانو، راج کرن اور پروین بابی کے عجیب حال پر سوچتے ہیں کہ ان لوگوں کے ذہنی مسائل آخر کیوں ختم نہ ہو سکے۔ مذکورہ یہ سب افراد تو مشہور لوگ ہیں اور ایسے کروڑوں لوگ جن کو کوئی جانتا ہی نہیں، ان کا کیا؟

آج جس طور پر نفسیاتی علاج ہو رہا ہے، اس میں تو ہر ہر نفسیاتی مسئلہ ہی ناقابل علاج بن گیا ہے۔ نفساتی بیماریوں میں مبتلا ایسے افراد جن کا شعور مکمل طور پر بیماری سے متاثر نہیں ہوتا وہ تقریباً اپنی ساری عمر نفسیاتی علاج گاہوں کے چکر لگاتے گزار دیتے ہیں اور جن کا شعور زیادہ متاثر ہوجاتا ہے یعنی جو مکمل طور پر’’ بہک‘‘ جاتے ہیں ان کو نفسیاتی علاج گاہوں میں قید کر دیا جاتا ہے۔ بڑی حد تک ایسی نفسیاتی علاج گاہیں علاج کے لیے بنی ہی نہیں۔ یہاں لوگوں پر پاگل کا لیبل لگا کر ان کو تاحیات قید کر دیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا معاشی کھیل ہے جس میں اخلاقیات کا ہر ہر لمحہ قتل ہوتا ہے۔

بڑی حد تک ایسی نفسیاتی علاج گاہیں علاج کے لیے بنی ہی نہیں۔ یہاں لوگوں پر پاگل کا لیبل لگا کر ان کو تاحیات قید کر دیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا معاشی کھیل ہے جس میں اخلاقیات کا ہر ہر لمحہ قتل ہوتا ہے۔

2008 میں، میں نفسیاتی علاج کے ایک ادارے میں انٹرن شپ پر گیا۔ اس ادارے میں سارے ہی مریض مستقل طور پر تھے۔ ان سب افراد کو روز کئی کئی دوائیاں کھلائی جاتیں، ان کی گروپ تھراپی کی جاتی اور میوزک کی کلاس ہوتی۔ اکوپیشنل تھروپسٹ (Occupational Therapist) بھی ان سے مختلف کام کراتے۔ لیکن خدا گواہ ہے کسی کے دل میں یہ خیال نہ تھا کہ ان افراد کو یہاں سے آزاد کیا جائے۔ بہت سے پیسے ان افراد کے گھر والے دیتے اور بہت سے اخراجات شاید غیر ملکی امداد یا زکوٰۃ، خیرات اور فطرات سے پورے ہوتے۔ یوں نفسیاتی علاج کاشعبہ بغیر کچھ ڈیلیور کیے اب ایک پھلتا پھولتا بزنس ہے۔ اس میں دوائی بنانے والی کمپنیوں سمیت ہزاروں افراد کے مفادات وابستہ ہیں۔ نفسیاتی مسائل میں مبتلا لوگوں کے گھر والے بھی اکثر ان سے نجات چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے اس ’’آزاد‘‘ اور اپنی آزادی سے پیار کرنے والے معاشرے میں کون اپنے نفسیاتی مسائل کے شکار عزیز کو اپنے گھر میں رکھ کر اپنے آرام میں خلل ڈالے گا؟ میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ کوئی ایسا نفسیاتی مسئلہ نہیں جس کا علاج نہیں ہے۔ لیکن اس کے لیے ایک ایسے جہاد کی ضرورت ہو گی جس میں نفسیاتی علاج کے شعبے کو ہر ہر آلائش سے پاک کیا جائے۔ اس کے لیے حیاتیاتی- نفسیاتی- سماجی (Bio-Psycho-Social ) ماڈل نام کے ڈھکوسلے کو اکھاڑ پھینکنا ہو گا اور نفسیات کے صرف کسی ایک نکتۂ نظر اور اپروچ (Approach) جیسے سائکو انالاسز (Psychoanalysis) یا کوگنیٹو سائکولوجی Cognitive Psychology وغیرہ کا انتخاب کرنا ہو گا۔ اِس آپریشن کے بعد ہی ہمارے ملک میں نفسیاتی علاج صحیح طور ممکن ہو پائے گا۔

اب علم نفسیات کو اس’’مکس پلیٹ‘‘ سے نجات دلانا ہوگی تاکہ نفسیاتی مرکز کو ’’قید خانوں‘‘ سے ’’علاج گاہوں‘‘ میں تبدیل کیا جاسکے۔ مگرمعاشی مفادا ت کی ریل پیل اور نفسیات دانوں کی عمومی نا اہلی اور غیر تخلیقی رویے کے موجودہ منظر نامے میں ایسا کرے گا کون؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: