عورت اور یوم خواتین: تلخ حقایق ۔۔۔۔۔۔۔۔ اے وسیم خٹک  

0
  • 14
    Shares

وہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد نوکری کی تلاش میں تھی کیونکہ اسے اپنے گھر والوں کو سپورٹ کرنا تھا اس کے ماں باپ نے اسے پڑھانے کے لئے بہت پاپڑ بیلے شائمہ بھی بلا کی ذہین تھی اس نے ہر کلاس میں اچھی پوزیشن حاصل کی، یونیورسٹی میں اپنے آپ کو بھیڑیوں سے بچاتی رہی وہ بلا کی خوبصورت اور مشرقی حسن و حیا کی پیکر تھی۔ یونیورسٹی میں لڑکے کوشش میں ہوتے کہ شائمہ سے تعلق قائم کرتے مگر وہ اپنے لیکچر سے کام رکھتی اور یوں یونیورسٹی کا دور گزر گیا۔ اس کے والد پر فالج کا اٹیک ہوا تو لازمی تھی کہ اسے اب اپنے خاندان والوں کا سہار ا بننا تھا ورنہ اس کے والد نے اس کی ملازمت کی پہلی بھی مخالفت کی تھی اور اب بھی وہ اس کے مخالف تھے۔ مگر شائمہ نے اپنے والد کو راضی کر ہی لیا اور یوں وہ نوکری کی تلاش میں نکلی۔ بہت جگہ اپلائی کی مگر کوئی رابطہ ہی نہیں آتا تھا۔ ایک دن اس کے والد کے نمبر پر گھنٹی بجی کہ شائمہ کا انٹرویو ہے فلاں جگہ آجائے، شائمہ مقررہ دن اس دفتر پہنچ گئی جہاں اور بھی لڑکیاں موجود تھیں جو اسی ملازمت کی امیدوار تھیں۔ شائمہ کے آنے سے ایک رونق لگ گئی لڑکیاں اور مرد اس کی جانب ہی دیکھ رہے تھے۔ کیونکہ وہ سادگی اور حیا کا پیکر تھی، بغیر میک اپ کے اتنی خوبصورت لگ رہی تھی کہ سب کی آنکھیں چندھیا گئیں، لڑکیوں نے جب اسے دیکھا تو یہی سوچا کہ اگر خوبصورتی معیار بنا تو شائمہ ہی کو یہ جاب ملے گی۔ جب اس کی باری آئی تو اس کا نام پکارا گیا دھڑکتے دل کے ساتھ اندر داخل ہوئی تو سب ہکا بکا رہ گئے۔ اس سے سوال کئے گئے مگر الٹے سیدھے اور اسے کہا گیا کہ آپ جاؤ ہم رابطہ کرلیں گے، وہ جب نکل رہی تھی تو ایک ممبر نے اسے اچٹتی نگاہوں سے دیکھا اور اس کے پیچھے نکل آیا اور کہا کہ مس شائمہ آپ تھوڑی سی نروس تھی مگر خیر ہے کوئی بات نہیں، آپ مجھے اپنا پتا اور فون نمبر دیں، بلکہ کل مجھے کسی وقت فون کرلیں، میں آپ کو مکمل معلومات دے دوں گا۔ ملازمت کے لیے پریشان شائمہ کئی دن یونہی فون کرتی رہی۔ پھر ایک دن اس ہی افسر نے شائمہ کو بتایا کہ وہ جاب تو آپ کو نہیں مل سکی مگر میں آپ کے لئے ایک سیٹ نکلوا سکتا ہو ں آپ مجھے کل کال کر لیں یا شام کو کہیں باہر مل لیں۔ اس نے شائمہ کو پچیس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ کی بھی پیشکش کی، اب اس کے پیچھے کیا منطق تھی یہ آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی جانتا ہوں۔

—————-

وہ ایک پرائیویٹ فرم میں جاب کرتی تھی جب اس کے لئے ہاشم کا رشتہ آیا، خاندان والوں نے کافی چھان بین کے بعد اس کے رشتے کے لئے ہاں کی۔ ہاشم کے گھر والے بھی بہت خوش تھے کیونکہ اس کی ساس کہہ رہی تھی کہ ہمیں چاند سی دلہن چاہیئے اور سگھڑ بھی اور اس سے بہتر رشتہ میرے بیٹے کے لئے مل ہی نہیں سکتا۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ میری بہو جاب بھی کرتی ہے اور ہم اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے، آج کل کے دور میں گھر کا چولہا مرد کے اکیلے پیسوں سے کہاں چلتا ہے اور یوں وہ بیاہ کر ہاشم کی دلہن بن گئی گھر والے بھی خوش تھے اور ہاشم بھی خوش تھا۔ وقت گزرتا رہا، وہ صبح سارے گھر کے کام کاج کرکے جاب کے لئے چلی جاتی اور دوپہر کے وقت آکر پھر کامو ں میں جت جاتی اس کی ساس اور گھر کے دیگر افراد نے لیٹ کھانا ملنے پر شور مچانا شروع کردیا حالانکہ انہیں پتہ تھا کہ وہ جاب کرتی ہے اور کچھ کام وہ نہیں کرسکتی۔ مگر اس کے سسرال والے کہتے تھے کہ ہم نے بہو اس لئے تو بیاہ کر لائے ہیں کہ گھر کے کام کاج کرے، اور یوں روز کی ہراسمنٹ ہونے لگی۔ ہاشم کا رویہ بھی بدلنے لگا اور ایک دن اس نے بھی تیور دکھائے کہ اگر یہاں رہنا ہے تو ان کے خاندان کے طور طریقے اپنانے ہوں گے۔ پھر اس نے جاب چھوڑنے کی دھمکی دی اور اس کے سسرال والوں کو چپ لگ گئی مگر روز کی تو تو میں میں اور ہراسمنٹ جاری رہی۔

یہ د و کہانیاں ہمارے معاشرے میں روز رونما ہونے والی کہانیاں ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں ہمارے معاشر ے میں ہر سال ہزاروں خواتین گھروں میں، تعلیمی اداروں میں،دفاتر میں کارکنوں کی طرف سے ہراساں کی جاتی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں 70 فیصد سے زائد خواتین روزمرہ زندگی کی جگہوں پر ہراساں کی جاتی ہیں۔ جبکہ گھروں میں 80 فیصد سے زیادہ خواتین پر تشدد کے واقعات رونما ہوئے ہیں اگرچہ سابقہ دور حکومت میں خواتین کے تحفظ کے بل پر دستخط کر ہوگئے تھے تاہم صورتِ حال میں کچھ خاص بہتری دکھائی نہیں دی۔ ہر چند ہمارا معاشرہ مردانہ غلبے کا معاشرہ ہے لیکن اس کے باوجود اس میں عورت کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ عورت کے وجود کی اہمیت تسلیم کئے بغیرسماج کی گاڑی کا توازن کسی طور برقرار رکھنا ممکن نہیں لیکن اس وقت ہمارے ہاں دو رجحانات نے عورت کی حیثیت میں واضح فرق پیدا کر دیا ہے۔

ایک حلقہ خاتون خانہ کو برتری دیتا ہے کہ وہ اسلام میں دی گئی ذمہ داریوں کے مطابق اپنا کردار ادا کرتی ہے، تو دوسری ملازمت پیشہ خواتین کو وکٹری سٹینڈ پر کھڑا کرتا ہے۔ اس رویے نے گھریلو خواتین کو کنفیوژن میں ڈال دیا ہے۔ اگر وہ ملازمت پیشہ خاتون نہیں ہے تو شوہر اکثر اسے سارا دن گھر میں بے کار پڑی رہنے کا طعنہ دیتا ہے اور اگر اس کے بچے سکول میں ہونے والے امتحانات میں اچھے نمبر حاصل نہ کر سکیں تو شوہر، بیوی کو ہی مورد الزام ٹھراتا ہے۔ ایسی صورت میں عورت بد دل ہو جاتی ہے اور اس کی ہمت پست ہو جاتی ہے بنیادی طور پر مرد اور عورت میں فرائض تقسیم شدہ ہیں۔ مردوں کا کام گھروں سے باہر روزی کمانا ہے اور عورت بچوں کی پرورش کی ذمہ دار ہے لیکن فی زمانہ خواتین مہنگائی، اقتصادی مسائل اور گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لئے دفاتر، فیکٹریوں، کاروباری مراکز، بوتیکس، سکولوں، کالجوں، ہسپتالوں اور دیگر جگہوں پر کام کرتی ہیں۔ پڑھی لکھی خواتین نے ٹیوشن سینٹر کھول رکھے ہیں۔ جو خواتین نا خواندہ ہیں وہ دوسروں کے گھروں میں کام کرتی ہیں۔ یہ صاحب ثروت افراد کے گھروں میں صفائی کرتی ہیں، برتن مانجھتی ہیں، کپڑے دھونے اور استری جیسے بہت سے امور سرانجام دیتی ہیں۔ اگر وہ ملازمت پیشہ ہے تو اسے باہر ایک عجیب ماحول کا سامنا ہوتا ہے۔ اس کے خاندان اور شوہر کو بھی پتہ ہوتا ہے کہ وہ کس اذیت سے روز گزرتی ہے مگر اسے اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی، وہ تو بس خاتون کو غلام ابن غلام ہی سمجھتے ہیں۔ باہر بھی وہ ایک خوف کا شکار ہوتی ہے اور گھر کے اندر بھی ایک خوف اس کے اندر ہوتا ہے کہ کوئی غلطی نہ ہوجائے جس سے سسرال یا گھر میں سبکی ہوجائے۔ اگر بیوی ہے تو خاوند اور ساس سے ڈرے گی اگر بہن ہے تو بھائی اور والد سے خوف لاحق ہو گا اور یوں ایک ڈر کے اندر رہ کر اسکی زندگی گزرتی رہتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب ایک مرد شام کو گھر لوٹتا ہے، تو سب اس کے آگے پیچھے ہوتے ہیں۔۔۔ بیوی کھانے اور چائے کا اہتمام کر رہی ہے کہ شوہر پورے دن کی مشقت کے بعد تھکا ہارا آیا ہے، جب کہ نوکری پیشہ لڑکیوں کو تنہا ہی دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے۔ ملازمت سے واپسی پر گھر کے مسائل منہ کھولے اس کے سامنے ہوتے ہیں اور وہ دَم لیے بنا ہی ان سے نمٹنے میں لگ جاتی ہے۔ ملازمت کے باوجود خواتین پر مکمل طور پر گھر کی ذمہ داریاں بھی ڈال دینا انتشار کا باعث ہے۔ بہت سے گھرانوں میں مردوں کو اونچے سنگھاسن پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ وہ گھر کے کسی بھی کام کو ہاتھ لگانا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ اس طرح سارا بوجھ بار اس گھر کی عورت پر آجاتا ہے۔ دو کشتیوں میں سوار وہ عورت جلد ہی تھک جاتی ہے اور کسی ایک محاذ سے فرار اختیار کرنے لگتی ہے۔ متوسط طبقے میں ایسی خواتین بھی ہیں، جو اپنے چھوٹے بچوں کو گھروں پر چھوڑ کر نوکری کے لیے مجبوراً نکلتی ہیں۔

اس طرح وہ اپنے خاندان کو ناکافی وقت دینے پر اپنے آپ کو قصوروار سمجھنے لگتی ہیں نوبیاہتا لڑکیوں کی اکثریت اس بات سے بھی پریشان ہو جاتی ہے کہ جب وہ دفتر سے تھکی ہاری لوٹتی ہیں، تو معمول کے مسائل کے ساتھ غیر منظم گھریلو امور ان کو کوفت سے دوچار کر دیتے ہیں۔ ایسے میں اگر وقت پر کھانا تیار نہ ہو سکے، تو تکرار اور تلخی ڈرانے لگتی ہے۔ ایک دوسرے کی چھوٹی چھوٹی باتیں بھی بری لگنے لگتی ہیں اور گھر کی فضا میں ایک کھنچاؤ آجاتا ہے۔ اس طرح بھی نئی شادی شدہ زندگی کا حْسن گہنانے لگتا ہے۔ ہمارے ہاں ملازمت پیشہ لڑکیوں کے لیے دْہرا معیار کوئی نئی بات نہیں ہے۔ بالخصوص جب وہ شادی کے بعد کسی ملازمت کا بار اٹھاتی ہیں، تو کئی گمبھیر مسائل ان کی راہ میں حائل ہوتے ہیں۔ یہ معاشرہ مردوں کا ہے۔ اس لیے اکثر باصلاحیت خواتین کو دوران ملازمت اپنے ساتھ کام کرنے والے مرد ساتھیوں کے مختلف رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات دفتری سیاست سہنا پڑتی ہے۔ پیشہ ورانہ دائرہ کار کو مردوں کا میدان سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مشکلات پیش آتی ہیں، کیوں کہ کوئی ان کے کام پر اعتماد کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔ نوکری کرنا کوئی پھولوں کی سیج نہیں۔ خاتون بھی پیشہ ورانہ دباؤ سے نبرد آزما ہوتی ہیں اور پھر گھریلو امور بھی دیکھتی ہیں کئی خواتین گھر کے مالی حالات سے تنگ آکر مجبوری کے تحت ملازمت کرتی ہیں جہاں ساتھیوں یا افسران کا رویہ ان کے لیے پریشانی کا باعث بنتا ہے اور ان کی مجبوری کا استحصال کیا جاتا ہے۔ بیشتر خواتین ان مسائل کو خاموشی سے جھیلتی ہیں کیونکہ اس پر آواز اٹھانے سے انہیں مزید مسائل آگھیرتے ہیں۔ اگر ایک خاتون اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے میں ناکام ہوجائے، تو اسے نہ صرف ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں بلکہ قصوروار بھی وہی ٹھہرائی جاتی ہے۔ دوسری طرف اس کے گھر والے ایسے حالات کے بارے میں جان کر اس کے گھر سے باہر نکلنے یا ملازمت کرنے پر بھی پابندی عائد کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسئلے میں گری عورت اپنے حالات سے سمجھوتہ کرلیتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ابھی بھی کھلے دل سے عورتوں کے حقوق کو تسلیم کرنے کی روایات کلی طور پر قائم نہیں ہوسکی ہیں۔

پاکستانی معاشرے میں عورت کو انسان نہیں بلکہ ’ایک چیز‘ سمجھا جاتا ہے۔ ’ہم خواتین کی ترقی کی بات تو کرتے ہیں لیکن ہم نے خواتین کی ویلفیئر منسٹری قائم کرکے ملک کی آدھی آبادی کے مسائل کو اس میں پھینک دیا ہے۔ ہم عورت کو ایک فرد کیوں نہیں تسلیم کرتے؟ اگر عورت کی سوچ میں تبدیلی کی ضرورت ہے تو مردوں کی سوچ کی تبدیلی کی ضرورت اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: