عورت، شناخت اور سماج : حبیبہ طلعت

0
  • 119
    Shares
 خواتین کے عالمی دن کے موقع  پر ایک اہم سلسلے کا آغاز

ایک کثیر الثقافتی سماج میں مذہبی اور مذہب بیزار طبقات کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کے تناظر میں خواتین کے حقوق پر بات کرنا بھی آسان نہیں ہے کہ فورا آپ کو قدامت پرست گردانا جائے گا یا فیمینزم کی تحریک سے متاثر فیشن زدہ لبرل تصور کیا جائے گا۔ نتیجے میں زد حقوق نسواں پر۔ ساتھ ساتھ سماج میں شعوری بیداری کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ اس پس منظر میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک باشعور اور ذمہ دار شہری کے طور پر اپنا فرض ادا کرتے ہوئے ان سطور کے ذریعے عورت، سماج اور مذہب سے جڑے ان اہم اور متعلقہ نکات کو زیر بحث لانے کی ایک سنجیدہ کاوش پیش کی جا رہی ہے جو کچھ اقساط میں جاری رہے گی۔ 


آج آٹھ مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ پہلا عالمی دن انیس مارچ 1911 کو منایا گیا۔ بعد ازاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1977میں یہ فیصلہ کیا کہ ہر سال آٹھ مارچ کی تاریخ پر خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا جائے گا۔ انیسویں صدی سے اب تک خواتین کے حقوق کی علمبردار فیمینزم ، نسائیت یا تانیثیت کی تحریک نے مختلف مراحل پر خواتین کے انسانی اور سماجی حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ اس تحریک کے کئی نظریاتی اور عملی پہلو ہیں جن کا اس مضمون میں جائزہ لینا مقصود نہیں۔ تاہم گلوبل ولیج کے دور میں اب اس تحریک نے مختلف جہات میں خواتین کے انسانی اور سماجی حقوق کی بحالی کے ضمن میں تقریبا سماجی شعبوں پر اپنے دیرپا اثرات چھوڑے ہیں۔  چنانچہ اس موقع پر دنیا کے طول و عرض میں تقریبا تمام ہی ممالک میں سرکاری اور نجی ادارے تقریبات، سیمینارز اور خصوصی سلوگن کے ساتھ آگاہی مہم اور سرگرمیوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے ارتقاء  اور ابلاغ عامہ کی ہمہ گیر دستیابی کے باعث اب سب ہی ممالک اس پہلو پر خاص توجہ دیتے ہیں اور سرکاری سطح پر یا نجی اداروں کے تعاون سے اس بات کی خصوصی تشہیر کرتے ہیں کہ اب ان کے مختلف معاشروں میں خواتین کے حقوق کی صورتحال کس قدر بہتر ہو سکی ہے؟ مزید یہ کہ حکومتیں کس طرح اپنے وسائل بروئے کار لا کر خواتین کے انسانی، سماجی اور سیاسی حقوق کی پاسداری کر رہی ہیں؟ چنانچہ پاکستان میں بھی خواتین کے حقوق سے متعلق تقریبات کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ نشر و اشاعت کے ادارے خصوصی پروگرام یا اشاعت کا بندوبست کرتے ہیں اور سرکار بھی اپنی تمام کارکردگی کی بھرپور تشہیر کرتی ہے۔ اجلاس اور سیمینارز منعقد ہوتے ہیں جن کے پاس رپورٹس بھی جاری ہوتی ہیں۔

اب دیکھا جاۓ تو سرکاری سرپرستی کے باوجود، ہمارے ملک میں حقوق کی آگاہی اور پاسداری کے ضمن میں سب سے بڑی مزاحمت یہاں کی روایتی جامد سوچ ہے۔ شدت پسند اور لبرل اپنے مخصوص کرائٹیریا میں خواتین کے عام انسانی حقوق اور ہمارے اپنے سماج میں ممکنہ سماجی حقوق کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ اسی بڑھتی ہوئی خلیج کے تناظر میں خواتین کے حقوق پر شدت آمیز رویے اور مزاحمت سے سماج میں شعوری بیداری کا عمل متاثر ہوتا ہے۔

سماج میں عورت کے حقوق سے متعلق آگاہی اور شعور کی بیداری وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ عورت کی ذات، شناخت کا تعین اس کو تفویض کیے گئے حقوق سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ ان حقوق کی اہمیت سے آشنا اور ذمہ دار سماج ہی شعوری  طور سے ترقی یافتہ معاشرہ کہلانے کا اہل ہے۔ ہم چونکہ ایک زندہ سماج کی بات کر رہے ہیں جو مرد اور عورت سے بنے ہوئے خاندانوں پر مشتمل ہے اس لیے عصری، مذہبی اورسماجی دائرہء فکر میں رہتے ہوئے ان حقوق کی بات کرنا ہوگی۔

جس طرح عورت کی خرابی خاندان اور معاشرے کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ویسے ہی اس کی بہتری، صرف اسی کی بہتری نہیں ہے۔ اس میں خاندان اور معاشرے کی بہتری بھی پنہاں ہے۔

اکیسویں صدی کے اس مقام پر کھڑے ہو کر جب اس صدی کا ساتواں حصّہ عالمی تناظر میں بھی، اور ملکی محل میں بھی، انسانی مسائل کو حل کرنے میں بغیر کسی نمایاں کامیابی کے گزر چکا ہے، جب ہم عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر موجودہ دور کی عورت کی حیثیت کا جائزہ لیتے ہیں تو ساری دنیا میں عورت ہمیں آج بھی مردوں سے زیادہ مسائل کا شکار نظر آتی ہے۔ جبکہ پاکستان میں تو ابھی یہ طے کرنا ہی باقی ہے کہ عورت انسان بھی ہے یا نہیں۔ انسانی مسائل تو ان گنت ہیں۔ بھوک، بیماری، بے گھری، جہالت، بد امنی، لاقانونیت اور شخصی تحفظ کے مسائل عالمگیر ہیں۔ مردوں کے لیے بھی اور عورتوں کے لیے بھی۔ مگر عورتوں کے لیے یہ مسائل مردوں کی بہ نسبت کافی زیادہ ہیں اور ان مسائل کی جڑ عورت کی طبعی کمزوری ہے۔ اس طبعی کمزوری نے ہی عورت کو نچلے درجے کی مخلوق گرداننے کے تہذیبی رجحان کو جنم دیا اور اس تہذیبی رجحان نے ہی فکری، دینی، قانونی، فقہی اور سماجی بنیادوں پر عورت کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا۔

عورت چاہے تسلیم  کرے یا نہ کرے، وہ ماں بننے کی فطری صلاحیت کے سبب جسمانی طور پر کمزور ہے۔ یہ عام مشاہدہ ہے کہ جانداروں کی اکثریت میں نر جسمانی طور پر مادہ سے برتر ہوتا ہے، اس لحاظ سے  انسان اس معاملے میں کوئی منفرد مخلوق نہیں۔ ہاں انسان کی ذہنی صلاحیتوں کی وجہ سے انسانی نسل میں طاقت کے علاوہ بھی شکل و شباہت کا  فرق زیادہ نمایاں ہے۔ اس معاملے میں ارتقاء کے عمل نے مختصر وقت نے بہت نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ماہرین بشریات کے مطابق مرد اور عورت کے جسم اور ذہنی ساخت اور صلاحیتوں میں فرق زندگی میں اس کے کردار کی مناسبت سے پیدا ہوا۔ انسان بنیادی طور پر شکاری تھا۔ شکاری ممالیوں میں بالعموم نر شکار کر کے لاتا ہے اور مادہ محفوظ جگہ پر رہ کر بچوں کو دودھ پلاتی ہے۔ انسان کے ساتھ بھی یہی ہے۔ اب اگر  فرض کریں کہ لاکھوں برس، اندازاً تیس لاکھ سال، پہلے کے  ایک شکاری گروہ میں عورتیں اور مرد جسمانی ساخت اور طاقت میں برابر رہے ہوں تو جو عورتیں محفوظ جگہ پر رہ کراپنے بچوں کی حفاظت  کریں گی اور ان کو دودھ پلائیں گی ان کے بچے زیادہ طاقتور ہوں گے اور  ان کی نسل زیادہ  چلے گی، مگر وہ عورتیں خود جسمانی اور نتیجتاً  نفسیاتی طور پر کمزور ہوتی جائیں گی۔ نیز جو عورتیں شکار پر جائیں گی وہ اپنے بچوں کی مناسب حفاظت  نہیں کر سکیں گی اور وہ خود تو جسمانی طور پر مضبوط رہیں گی مگر ان کی نسل باقی نہیں رہے گی۔ اسی طرح گھر پر رہنے والی عورت کو ہر وقت اپنے چاروں طرف چوکنّا نظریں رکھنے کی ضرورت ہوتی تھی، تاکہ وہ کسی بھی خطرے سے، جو بالعموم جنگلی درندے ہوتے تھے، اپنی، اپنے بچوں کی اور بچائی ہوئی غذا کی حفاظت کر سکیں۔ اس طرح عورت کی ہر طرف نظر رکھنے کی، سامان کی شکل و شباہت کو یاد رکھنے کی اور بچوں کی حفاظت کے خاطر، خطرے کو خاطر میں لائے بغیر، بھڑ جانے کی صلاحیتیں نمایاں تر ہوتی گئیں، جبکہ  مرد کی ایک نکتے پر ارتکاز، ماحول سے بے نیازی، سامان کی تفصیل سے بے نیازی اور خطرے کو جانچ کر اس کے مطابق رد ّعمل کی صلاحیتیں پیدا ہوئیں۔ یعنی مرد اور عورت کی جسمانی  اور ذہنی ساخت میں فرق کسی فطری برتری یا کمتری کا نتیجہ نہیں بلکہ تقسیمِ کار کے سبب ضرورت کے مطابق ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے۔

کیوں نہ ہم اس بات کا جائزہ لیں کہ یہ فرق کیسے ہمارے ناانصافی پر مبنی معاشرتی رویّوں کے پروان چڑھنے کا سبب بنا۔ کیونکہ جب تک ہم ان اسباب سے واقف نہیں ہوں گے ہمارے لیے مسائل کا  پائیدار حل ڈھونڈنا آسان نہیں ہو گا۔ اس سلسلے میں ہم کو دیکھنا ہوگا کہ انسانوں کے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہوتی ہے۔ جب بھی کبھی دو انسان ایک دوسرے کے ساتھ کوئی تعلق رکھتے ہیں تو یہ تعلق تقریباً ہمیشہ کسی مفاد کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک انسان دوسرے پر رحم بھی اپنے مفاد میں ہی کرتا ہے۔ باپ بیٹے کا تعلق ہو، بھائی بھائی کا، ماں بیٹے کا، حاکم اور ماتحت کا، یا آقا اور غلام کا، ہر تعلق میں مفاد کار فرما ہوتا ہے۔

یہی صورت مرد اور عورت کے تعلق کی ہے۔ مرد عورت کے ساتھ تعلق  بنیادی طور پر دو وجوہ سے رکھتا ہے۔ پہلی وجہ جنسی جبلت ہے جو کشش، لگاؤ، محبت سے لے کر جنون اور زبردستی تک پر محیط ہے۔ بچوں کی پیدائش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ دوسری وجہ اس کی ایک یا ایک سے زیادہ  مددگار /مددگاروں کی ضرورت ہے۔ جنسی جذبہ وقتی طور پر غالب ہوتا ہے مگر گھر کے انتظام کی ضرورت ہمہ وقتی ہوتی ہے۔ کوئی بھی انسان جسے دوسرے انسانوں سے کام لینا ہو، اپنا کام چلانے کے لیے لالچ، جزا، خوف اور ایذا سے کام لیتا ہے۔ ایسی صورت میں طاقتور جہاں موقع ملتا ہے طاقت بھی استعمال کرتا ہے، لیکن بالعموم  وہ ایسا نظام وضع کرتا ہے جہاں طاقت ایک بنیادی عامل ہوتی ہے، اور اسی کی بنیاد  پر عادات، رویے، رسم رواج، طریقے، ضابطے، اچھائی اور برائی کی کسوٹی اور قوانین بنتے ہیں۔ انسان ان چند جانداروں میں سے ہے جن پر جنسی جذبہ ہمہ وقت غالب رہتا ہے۔ اس کے لیے کوئی موسم متعین نہیں ہوتا، گو خوشگوار موسم اور وافر خوراک اس جذبے کو ابھارنے میں حصّہ ضرور لیتے ہیں۔

ایک عالمگیر مشاہدہ یہ بھی ہے کہ جسمانی طور پر طاقتور مردوں پر یہ جذبہ زیادہ اثر انداز ہوتا ہے ساتھ ہی وحشت کی کیفیت میں یہ جذبہ بے لگام ہو جاتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ عورتوں پر بھی یہ امر صادق آتا ہو مگر ہمارے پاس مشاہدے اور تاریخ کے مطالعے کی صورت میں جنگجو مردوں کی ہی نظیریں دستیاب ہیں، جو جنگوں، فسادات، افراتفری اور ہنگامہ آرائی کی صورت میں بے قابو ہو کر عورتوں کے ساتھ جبری قربت پر اتر آتے ہیں اور اس ضمن میں طاقت کا بے محابا استعمال کرتے ہیں۔ ساتھ ہی روایتی طور پر عورتوں کو جبراً  لونڈیاں بنا کر لے جانے کا سلسلہ بھی کثرت سے رائج رہا۔ جن پر بغیر کسی اجرت کے جنسی تصرف کا چلن عام تھا اور گھر، کھیت یا کارخانے کا کام بھی لیا جاتا تھا۔

انسانوں نے جب سے اکٹھا رہنا سیکھا، اسی وقت سے نظم و ضبط بھی درکار ہوا ۔  اس نظم کا بنیادی نکتہ گروہ کا ایک طاقتور مرد سربراہ بنا، جو خاندان کی صورت میں  باپ، برادری کی صورت میں چودھری، قبیلے کی صورت میں سردار  اور ریاست کی صورت میں بادشاہ ہوتا تھا۔ گروہ کو یکجا رکھنے اور افراتفری سے بچانے کے لیے سزا کا تصور ہر معاشرے میں موجود رہا ہے۔ اور کمزور کو ہمیشہ زیادہ سزا ملتی آئی ہے جبکہ طاقتور کی غلطیوں کو نظر انداز بھی کیا جاتا رہا ہے۔ لوٹ کر لائے جانے والے غلام مرد اور عورتیں جب معاشرے کا حصّہ بنائے جاتے تو ان کو وحشیانہ سزاؤں کے ذریعے ہی قابو میں رکھا جاتا تھا۔ یہی غلام عورت جب بیوی بنی تو اس کے ساتھ بھی یہ وحشیانہ  سلوک روا رہا۔ اور پھر یہ سلوک تمام عورتوں کے ساتھ کیا جانے لگا۔

بدقسمتی سے انسانی آبادی کا فیصلے کرنے کی طاقت رکھنے والا طبقہ تاریخی طور پر طاقت کے بے رحم استعمال کے ذریعے ہی وجود میں آتا رہا ہے، اس لیے آئین ، قانون، دستور اور رواج وغیرہ کتنے ہی مستحکم کیوں نہ ہوں، طاقت ان پر ہمیشہ غالب رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذاہب لاکھ اخلاق کا، بھائی چارے کا اور انصاف کا پرچار کرتے رہیں، رسوم و رواج اور قوانین ہمیشہ طاقتور طبقے  کے مفادات کے مطابق ہی بنتے ہیں۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ دنیا کے ہر معاشرے میں تاریخ کے ہر دور میں عورت کو کم عقل کہا گیا۔ ناپاک کہا گیا۔ گناہ کا راستہ کہا گیا۔ اسے تعلیم سے محروم رکھا گیا۔ اسے جائداد سے محروم کیا گیا۔ اسے جائداد رکھنے کے حق سے محروم کیا گیا۔ اسے ووٹ دینے اور رائے دینے کے حق سے محروم رکھا گیا۔ اس پر صحت اور علاج کے دروازے بند رکھے گئے۔ اس پر بے پناہ تشدد روا رکھا گیا۔ اس کے ساتھ زیادتی بھی ہوئی  ہو تو مطعون اسے کیا گیا۔ اسے طاقت سے بڑھ کر کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اس پر اس کی مرضی کے خلاف بے تحاشا بچوں کا بوجھ لادا گیا۔ شادی بیاہ طلاق کے قوانین میں اس کو  دبایا گیا۔ اسی کو ستی ہونے پر مجبور کیا گیا۔ اسی کو اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں کو چھوڑ کر دور دیس بھیجا گیا۔ اسی کو گھر کی چار دیواری میں بند رکھا گیا۔ اسی کو کھانے کو روکھا سوکھا دیا گیا۔ اسی کو زندہ دفن کیا گیا۔ اسی پر تیزاب پھینکا گیا۔ اسی کو ناچنے گانے پر مجبور کیا گیا۔ اسی کو ساقی گری کا کام دیا گیا۔ اسی کو طوائف بنایا گیا۔ اسی کو ونی کیا گیا۔  اسی کو بیوہ ہونے یا طلاق پانے کے بعد منحوس کہا گیا۔

اب ہمارے سامنے یہ سوال ہے کہ کیا ان نا انصافیوں کا ازالہ کرنا مذہب کے خلاف ہے؟ یا آئین کے یا عقل کے خلاف ہے؟ پھر ایسا کیوں ہے کہ عورت کے حقوق کی بات آتے ہی کچھ لوگ مشتعل ہو جاتے ہیں؟ ایسا صرف اسی لیے ہوتا ہے کہ ہم کو انسانیت کی تہذیب کی جگہ وحشیانہ تہذیب وراثت میں ملی ہے جس کو ہم نے مذہب کا لبادہ پہنا دیا ہے۔ جب کہ ہمارے مذہب نے پندرہ سو برس مدینہ میں جن درخشاں اور مثبت روایات پر مبنی نظام قائم کر دکھایا، اس کی اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ہماری گوناگوں تہذیبوں میں انسانوں کی عدم مساوات مشترک ہے۔ نسل کا فرق۔ ایک نسل برتر سمجھی جاتی ہے، دوسری کمین۔ نوکر مالک کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا۔ غریب امیر کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا۔ پیر صاحب کے ساتھ مرید نہیں بیٹھ سکتا۔ برادری کے باہر شادی نہیں ہو سکتی۔ اسی لیے ہمارے ذہنوں میں عورت کا خاکہ ایک کمتر مخلوق کا ہے۔ اب اگر اس کو سماج نے برابر کا تسلیم کیا، اس کو وہ حقوق دیے جو طاقتور جنس کو حاصل ہیں تو وہ نا انصافی کی دیواریں ٹوٹ جائیں گی جو مردانہ غرور کی پناہ گاہ ہیں۔

لیکن کم از کم اس موضوع پر غور تو کیا جا سکتا ہے کہ کیا کرنا مناسب ہے؟ اور کیا نامناسب؟ ہمارے پاکستانی اور اسلامی پس منظر میں ہم کم از کم عورت کو جائیداد میں حصّہ دینے پر تو غور کر ہی سکتے ہیں۔ اس کو اپنی پسند کی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دینے پر تو بات کر ہی سکتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ عورت جسمانی طور پر کمزور ہے اور رہے گی۔ مرد اس پر بری نظر ڈالتا ہے اور ڈالتا رہے گا۔ اس کو  گھر کی چاردیواری کا مضبوط تحفظ دینا باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے کا فرض ہے اور رہے گا۔ ہم ہرگز یہ نہیں چاہیں گے کہ عورت اپنے آپ کو نادانی سے نقصان پہنچائے۔ صرف اسی کی ذات کا مسئلہ نہیں، اس کی کوئی بھی نادانی یا غلط فیصلہ صرف اس کی ذات پر ہی اثر انداز نہیں ہوتا بلکہ اس کی بہنوں، بیٹیوں، بھائیوں، شوہر اور دوسرے  عزیزوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لیے اس کو خود کو اور اپنے اردگرد کے لوگوں کو تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، مگر جو حقوق اس کو دین نے دیے ہیں وہ تو دیے جا سکتے ہیں۔ اور روزمرہ کے معاملات میں اس کو عزت اور اہمیت تو دی جا سکتی ہے۔ فقہی معاملات میں آسانیاں  پیدا کرنے کی کوشش تو کی جا سکتی ہے۔ ملازمت یا کاروبار کی صورت میں گھریلو ذمہ داریوں میں اس کا بوجھ تو بانٹا جا سکتا ہے۔

اس ضمن میں ہم اس فضول بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ مغرب میں کیا ہوا اور کیا نہیں۔ ہم کو اپنے آپ کو دیکھنا ہے اور اپنے مسائل خود حل کرنے ہیں۔ موجودہ دور میں بھی ماں تو عورت کو ہی بننا ہے۔ بچے کو پالنا  ابھی بھی انتہائی حد تک، بہت معمولی استثناء کے ساتھ، ماں کا ہی کام ہے۔ خواہ وہ  گھر سے باہر کی دنیا میں کتنی ہی مصروف ہو۔ مسئلہ یہی ہے اس پس منظر میں قانونی  طور پر تو عورت کو تمام حقوق برابری کی بنیاد پر دیے جا سکتے ہیں مگر عملی طور پر وہ  قابلِ دید مستقبل میں بھی کمزور ہی رہے گی۔ ہمیں اس چیز کو بھی مدِّ نظر رکھنا چاہیے کہ جیسے عورت کی خرابی (اور بڑی حد تک مرد کی بھی)  خاندان اور معاشرے کو نقصان پہنچا سکتی ہے ویسے ہی اس کی بہتری، صرف اسی کی بہتری نہیں ہے۔  اس میں خاندان اور معاشرے کی بہتری بھی پنہاں ہے۔ اگر عورت جسمانی  اور ذہنی طور پر صحتمند ہے تو وہ بچوں کی تربیت اور بڑوں کی خدمت بہتر کر سکتی ہے۔ اگر عورت تعلیم یافتہ اور باشعور ہے  تو وہ اپنے بچوں کو اور معاشرے کو زیادہ مہذّب  اورباشعور بنانے میں حصّہ لے سکتی ہے۔ اگر عورت معاشی طور پر مستحکم ہے تو وہ خاندان کی معیشت کو بہت اونچائی تک لے جا سکتی ہے۔ اس لیے بات  صرف عورت کے حقوق کی نہیں معاشرے کی بہتری کی ہے۔اور معاشرے  کو بہتر بنانے کے لیے جہاں تمام طبقات کو انصاف اور  خوشگوار زندگی کی سہولتیں فراہم کرنے، وسائل کی معقول تقسیم  کرنے اور قانون کی بالا دستی  قائم کرنے کی ضرورت ہے وہیں پسے ہوئے طبقات کے لیے خصوصی کوشش کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے، جن میں عورت سرِ فہرست ہے.

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: