زینب کا مجرم بھی ہمدردی چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ فاروق عادل

0
  • 1
    Share

زینب جیسی پھول سی کلی سے اول بدسلوکی پھر اسے موت کے گھاٹ اتار دینا، اتنے بڑے جرائم ہیں کہ بڑی سے بڑی سزا سنانے کے بعد بھی جی نہیں بھرتا۔ یہی سبب ہے کہ قاتل کو اول سر عام سزا دینے کا مطالبہ ہوا، اب خواہش ہے کہ اسی کچرے کے ڈھیر پر اسے کیفر کردار تک پہنچایا جائے جہاں اس نے قتل کے بعد مظلوم بچی کی لاش چھپائی۔ قاتل جب تک انجام کو پہنچ نہیں جاتا، یہ بحث جاری رہے گی لیکن کیا کبھی جزا اور سزا سے ہٹ کر محض انسان کے نقطہ نظر سے اس سوال پر بھی کبھی غور ہو گا کہ عمران یا اس جیسے دوسرے بد بخت اتنے قبیح جرائم کے مرتکب ہوتے کیوں ہیں؟

بہت برس گزر چکے، کم از کم تیس برس کہ سیالکوٹ کے نواح میں ایک جرم ہوا۔ زینب کے قاتل اور اس کے انجام سے متعلق عوام کی بے تابی کی طرح اس کے بارے میں بھی لوگ بہت جذباتی تھے۔ سیالکوٹ کا نوجوان جو ابھی نوخیزی( ٹین ایجز)کی عمر میں تھا، تازہ قبر کھود کر مردے کے ساتھ بدفعلی کا مرتکب ہوا کرتا تھا۔ عوام اسے زینب کے قاتل ہی کی طرح سرعام سزا دینے کے خواہش مند تھے۔ اس شخص کو مقبول عام خواہش کے مطابق سزا ہو پائی یا نہیں، آج کسی کو یاد نہیں لیکن ان سطور کے لکھنے والے کے ذہن میں یہ سوال آج بھی تازہ ہے کہ آخر کوئی انسان آخر کتنا گرسکتا ہے کہ پھول کی کلیوں تک کو مسل ڈالے یا کسی مردے جس کے احترام میں لوگ سرو قد کھڑے ہو جاتے ہیں، اس کی قبر میں اتر کر اپنی ہوس کی آگ بجھائے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ عمران یعنی زینب کے مجرم کا بھی ہے۔ ایسے لوگوں کو سزا دینا بہت اہم ہے لیکن اس سے زیادہ اہم یہ جاننا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس طرح کے لوگ کیوں اور کیسے پیدا ہو جاتے ہیں؟

ابھی چند ہفتے قبل جب قصور کا اندوہ ناک واقعہ ہوا تو ایک غیر ملکی صحافتی ادارے کے ایک کارکن نے اس معاملے کو ذرا گہرائی سے دیکھنے کی کوشش کی۔ اس نے بتایا کہ پاکستان میں گزشتہ دس برس کے دوران میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات رونما ہوئے۔ صحافی کی محنت قابل داد ہے لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ اعداد و شمار اس صورت حال کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔

ذرائع ابلاغ کے ذمہ دار ادارے جرائم کے معاملے میں پولیس رپورٹ یا اسپتال کے اعداد و شمار پر اعتماد کرتے ہیں، باقی اطلاعات کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ اس لیے تکلیف دہ سہی مگر حقیقت یہی ہے کہ معاملہ اس سے زیادہ سنگین ہے جتنا نظر آرہا ہے۔ کسی معاشرے میں اگر اس طرح قبیح جرائم کی تعداد تشویش ناک حد تک بڑھ جائے تو ضروری ہو جاتا ہے کہ اس معاملے کے معاشرتی پہلووں پر توجہ دی جائے کیونکہ عمران کے جیل کے احاطے یا کچرے کے ڈھیر پر سرعام پھانسی پا جانے کے بعد ممکن ہے کہ کچھ عرصے کے لیے اس نوعیت کے جرائم کچھ دنوں کے لیے رک جائیں یا ان کی شدت میں کمی واقع ہو جائے لیکن کچھ عرصے کے بعد مرض ایک بار پھر سر اٹھا سکتا ہے، بالکل ایسے ہی جیسے جنرل ضیا کے زمانے میں لاہور میں پپو کے قاتل کو سرعام سزا دینے کے بعد خوف کی لہر پیدا ہوئی پھر لوگ بھول بھال گئے اور معاشرے میں جرائم اپنے ” معمول” کے مطابق ہونے لگے۔

ماہرین سماجیات کے مطابق جرم کی بنیاد کسی نہ کسی ذہنی خلل سے پڑتی ہے۔ معمولی چوری چکاری سمیت بعض دوسرے چھوٹے موٹے جرائم کے مرتکبین کو متعلقہ ادارے قانون کے مطابق سزا یا مجرم کی اصلاح کے لیے ضروری اقدام کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں لیکن جرم جب حد سے بڑھ جائے یا قصور جیسے دل خراش واقعات رونما ہونے لگیں تو معاشرہ حساس ہو جاتا ہے۔ اس مرحلے پر ماہرین سماجیات آگے بڑھ کر جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کسی خاص مجرم نے ایک ہی طرح کے جرائم کی تکراد کیوں کی یا کسی خاص علاقے یا کسی خا عمر کے لوگوں جرائم کا ایک خاص رجحان (Pattern) کیوں پرورش پا رہا ہے۔ جامعہ پنجاب مبارک باد کی مستحق ہے کہ اس شعبہ سماجیات ( سوشیالوجی) نے قصور میں جنم لینے والے خوف ناک رجحان کے مطالعے کی کوشش کی۔ یہ درست سمت میں اچھی پیش رفت ہے لیکن معاملے کی سنگینی مربوط کوششوں کی متقاضی ہیں تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ قصور سمیت ملک کے دیگر حصوں بدفعلی سمیت اس طرح کے دیگر قبیح جرائم کا اصل سبب کیا ہے۔

پاکستانی معاشرے کے حسن و قبح پر نظر رکھنے والے دانش وروں کے خیال میں بچوں کے ساتھ بدفعلی اور زینت جیسی پیاری کلیوں کے مسل دیے جانے کے چند خاص اسباب ہیں جن پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کا پہلا سبب تو یقیناً تعلیمی اور خاص طور پر اخلاقی تربیت کی کمی ہے۔ اس کا دوسرا اور اہم ترین سبب نوجوانوں کی شادیوں میں تاخیر ہے (جس کی دیگر اسباب کے علاوہ ایک وجہ معاشی مدائل اور بے روزگاری بھی ہے)۔ ان وجوہات کو اجنبی تہذیبی یلغار دو آتشہ بنا دیتی ہے اور معاشرے کا توازن بگڑنے لگتا ہے۔ موجودہ حالات میں یہ تجزیہ محض ایک مفروضہ ہی رہے گا جب تک ایک منضبط اور سائنٹفک تحقیق کے ذریعے درست حقائق تک نہ پہنچا خائے۔ زینب کے مجرم کو سزائے موت سنانے کے بعد کیا یہ ضروری نہیں ہو گیا کہ یہ جاننے کی کوشش بھی کر لی جائے کہ اس جرم کا سبب کیا تھا۔ اس پس منظر میں یہ کہنا درست ہو گا کہ زینب کے خون کا حق صرف قاتل کی جان لے کر ادا نہیں ہو گا، اس کے لیے قاتل کے مسائل کو سمجھنا بھی ضروری ہوگا، اس عمل کو اگر قاتل کے ساتھ ہمدردی بھی تصور کر لی جائے تو اس میں بھی کوئی ہرج نہیں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: