نئی حلقہ بندیاں اور ملکی سیاست میں ہلچل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سراج احمد تنولی

0
  • 1
    Share

2017 کی مردم شماری کے بعد ملک بھر کے لئے نئی حلقہ بندیوں کی لسٹ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کر دی گئیں ہیں۔ حلقہ بندیاں شمال سے کلاک وائز یعنی گھڑی کی سوئی کے مطابق کی گئیں ہیں۔ این اے ون پشاور کے بجائے چترال سے شروع ہو گا۔ الیکشن کمیشن میں حلقہ بندیوں کو یو این ڈی پی (اقوام متحدہ کا ادارہ برائے ترقیاتی پروگرام ) کے مشورے سے کلاک وائز کر کہ قوم کو الجھن میں ڈال دیا ہے۔ 1970 سے حلقہ بندیوں کاجو ڈھانچہ چلا آرہا تھا اسے زمین بوس کر دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو حلقہ بندیوں کی معاونت کے لیے لوکل گورنمنٹ کے عملے سے معاونت حاصل کرنی چاہئے تھی،جو صدیوں سے ریونیو کی سرحدوں اور ان کی باریک لکیروں سے واقف ہیں ۔ آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت جب الیکشن کمیشن آف پاکستان پولنگ کا عملہ صوبائی محکمہ جات سے حاصل کرتا ہے تو لوکل گورنمنٹ کے محکموں سے استفادہ کرنے میں کیا حرج تھا۔ یو این ڈی پی کے جن ماہرین نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی معاونت کی ہے ان کے سامنے یورپ اور امریکہ کے نقشے رکھے ہوئے تھے ۔جو پاکستان سے واقفیت نہیں رکھتے اور وہاں حلقہ بندیاں فارمولے کے تحت ہوتی ہیں۔

پورے پاکستان کے سیاسی حلقوں میں حلقہ بندیوں کے سلسلے میں کافی ابہام پائی جاتی ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق کے پی کے کی قومی اسمبلی کی نشستیں 35سے بڑھا کر 39 کر دی گئیں ہیں، پنجاب سے 7 نشستیں کم کی گئیں جو 148سے کم ہو کر 141 ہو گئیں۔ بلوچستان سے 2 اور اسلام آباد سے 1 نشست کا اضافہ کیا گیا جبکہ صوبہ سندھ اور فاٹا کی نشستوں نہ کمی اور نہ ہی اضافہ۔ انتخابی حلقوں کے نمبروں کی ترتیب کچھ یوں ہے خیبر پختونخوا کے قومی اسمبلی کے حلقے 1 سے 39، فاٹا میں حلقے این اے 40 سے 51، اسلام آباد کے قومی اسمبلی میں حلقے 52 سے 54 تک، پنجاب کے قومی اسمبلی کے حلقے 55سے 195تک ہوں گے سندھ کے حلقے 196سے 256 تک جبکہ بلوچستان کے حلقے 257 سے272 تک کئے گئے۔

ملک بھر میں نئی حلقہ بندیوں کی لسٹ جاری ہوتے ہی بہت سارے اعتراضات بھی جنم لے رہے ہیں۔ کہیں 11لاکھ ، کہیں 8، تو کہیں 4کی آبادی سے بھی کم پر حلقہ بنایا گیا جو واضح طور پر غیر معمولی فرق ہے۔

ملک بھر کی طرح مانسہرہ کے بھی قومی و صوبائی حلقوں میں نمبروں کے ساتھ ساتھ علاقوں میں بھی واضح ردوبدل کی گئی۔ حلقہ این اے 20، این اے21اب نمبرنگ کے لحاظ سے این اے 13,14ہوں گے۔نئی حلقہ بندیوں سے نئی لیڈر شپ کے لئے راستہ ہموار ہو گیا ہے۔ اب خدمت کے بجائے قومیت اور علاقائیت کی بنیاد پر عوام کو تقسیم کر کہ تین دہائیوں سے سیاست پر قابض بڑے بڑے سیاسی برج نئی مردم شماری میں ہیرو سے زیرو بننے کے امکانات ہیں ۔ خلقہ بندیوں میں بڑی ردوبدل اور اکھاڑ پچھاڑسے مانسہرہ کے سیاست دان ڈگمگا گئے ، اب خدمت کی سیاست کرنے والے نوجوانوں کے لئے راہ ہموار ہو گئی ہے اس بات کا قوی امکان ہے کہ اب خدمت کی سیاست کرنے والے نئے لوگ کامیاب نظر آئیں گے ۔ جبکہ چند اقوام کو علاقائیت اور قومیت کے بل بوتے پر یر غمال بنا کر ذاتی مفادات کی سیاست کرنے والے سیاسی لیڈروں کے ہاتھوں سے بہت کچھ پھسلنے کی صدائیں آنے لگیں۔ نئی حلقہ بندیوں نے ان کی پریشانیوں میں زبردست اضافہ کر دیا ہے۔ جو ان کے چہرے سے عیاں ہے۔ اب ہم امید کرتے ہیں کہ نئی حلقہ بندیاں ہزارہ کی عوام کے فلاح و بہبود کے لیئے اہم سنگ میل ثابت ہو اور نئی نوجوان نسل اور پڑھی لکھی قیادت حلقے کی بھاگ دوڑ سنبھالے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: