ام قرفہ کے قتل کا مختصر جائزہ ۔۔۔۔۔۔۔ راجہ قاسم محمود

0
  • 46
    Shares

آپﷺ کی سیرت مقدسہ تاریخ انسانی کا سب سے روشن اور قابل فخر باب ہے۔ نیز آپﷺ کی زندگی کا ہر ہر لمحہ جو کہ کتب میں نقل ہو چکا ہے وہ بے داغ اور پوری انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے۔ دو اڑھائی سال قبل ایک فیس بک کے ایک نیچ پیج سے آپﷺ کی سیرت مقدسہ کے ایک واقعے کو غلط رنگ میں پیش کیا گیا جس پر آپﷺ اور آپﷺ کے پیارے صحابی حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ پر الزام تراشی کی گئی۔ اس وقت جب میں نے جب یہ الزام پڑھا تو اس پیج کے پست معیار کو مد نظر رکھتے ہوئے اس قابل ہی نا سمجھا کہ اس کو اہمیت دی جائے۔ مگر کچھ دن قبل جب سیرتﷺ کی ایک کتاب پڑھ رہا تھا تو یہ واقعہ ملا۔ سوچا کہ اس کی حقیقت کا کھوج لگایا جائے۔ وہ واقعہ ہے ایک خاتون ام قرفہ کا جس کو حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہ نے ایک سریہ میں شکست دی تھی اور اس جھڑپ میں وہ ماری گئی۔ مگر ام قرفہ کے قتل کو کچھ لوگوں نے ایسے طریقے سے بیان کیا اور اس میں مبالغہ آرائی سے کام لیا جس سے شان رسالت ﷺ کی نفی ہوتی ہے اور حضرت زید بن حارث کی شخصیت پر حرف آتا ہے۔ جب میں نے یہ روایت پڑھی تو اپنے کچھ اہل علم دوستوں سے پوچھا اور کچھ دستیاب اردو کی کتب سیرت سے کھوج لگائی تو کافی حد تک معاملہ صاف ہو گیا۔

ام قرفہ کا مختصر تعارف
ام قرفہ جس کا نام فاطمہ بنت ربعیہ بن بدر فزاریہ تھا یہ ام القریٰ کے نواح میں وادی کی حکمران اور بنی فزارہ کی سردار تھی۔ حکیم محمود احمد ظفر اپنی کتاب “پیغمبر اسلامﷺ اور غزوات و سرایا” اور پیر کرم شاہ ازہری نے ضیاء النبیﷺ میں اس کے تعارف میں لکھا کہ یہ عورت اپنی قوت اور حفاظتی انتظامات کے طور پر ایک “ضرب المثل” مانی جاتی تھی۔ اس کے گھر میں پچاس تلواریں ہر وقت آویزں رہتی تھیں اور پچاس شہسوار ہر وقت وہاں شمشیر زن موجود ہوتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ام قرفہ ایک طاقتوار اور صاحب اقتدار عورت تھی۔

اب اس عورت کی سرکوبی کے لیے آپﷺ نے حضرت زید بن حارث کو کیوں بھیجا؟
اس کی سرکوبی کی ایک بڑی وجہ یہ بنی کہ حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہ تجارت کے غرض سے شام کی طرف روانہ ہوئے ان کے پاس دیگر صحابہ کرام کے اموال تجارت تھے جب وہ وادی القریٰ پہنچے تو قبیلہ بنی فزارہ کی شاخ بنی بدر کے لوگوں نے اس کے حکم سے حضرت زید بن حارث پر حملہ کیا جس میں آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو سخت مارا پیٹا اور آپ کا سارا سامان بھی لوٹ لیا۔ حضرت زید وہاں سے جان بچا کر مدینہ منورہ جو کہ وہاں سے سات راتوں کی مسافت پر تھا آپﷺ کی بارگاہ میں پہنچے اور ان لٹیروں کی شکایت کی یوں آپﷺ نے اس کی گو شمالی کے لیے حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا۔

اس کی سرکوبی کی دوسری وجہ کے بارے مولانا صفی الرحمن مبارکپوری نے ”الرحیق المختوم“ میں لکھا ہے کہ یہ آپﷺ کو قتل کرنے کی تدبیریں کرتی تھی اور اس مقصد کے لیے اس نے اپنے خاندان کے تیس شہسوار بھی تیار کیے تھے جو کہ اس لڑائی میں مارے گئے۔

یہ بات تو بالکل واضح ہو گئی کہ ام قرفہ بے گناہ یا معصوم ہرگز نا تھی اس کو روکنا ضروری تھا اور تصادم کا آغاز بھی اس کی طرف سے ہوا تھا۔ تجارتی قافلے کو لوٹنا اس کے لیے کسی بھی طرح اخلاقی طور پر درست نہیں تھا پھر اس نے مزید جارحیت کا مظارہ کرتے ہوئے آپﷺ پر براہ راست حملہ کرنے کی تدبیر اور اس کی مکمل تیاری کر لی تھی اس لیے اب وہ اپنے خون کی حرمت بھی کھو چکی تھی

ام قرفہ کیسے قتل ہوئی اور اس کا ماخذ؟
اب اس واقعے کا یہ پہلو بدقسمتی سے کئی مورخین نے نقل کرتے ہوئے مبالغہ آرائی کا سہارا لیا جس سے مخالفین اسلام کے ساتھ ساتھ کئی سادہ لوح لوگوں کو مغالطہ لاحق ہوا، جس کی وجہ سے بد طنیت لوگوں نے آپﷺ اور آپﷺ کے ایک جلیل القدر صحابی پر ہزرہ رسائی کی۔ مشہور مورخ علامہ طبری نے اپنی تاریخ میں ام قرفہ کے قتل کے بارے میں لکھا کہ ’’ام قرفہ نہایت بے دردی سے قتل کی گئی۔ پہلے اس کے دونوں پیروں میں رسی باندھی گئی اور پھر اسے دو اونٹوں کے درمیان باندھ کر ان اونٹوں کو ہانکا گیا۔ جس سے اس کے دو ٹکڑے ہو گئے، یہ ایک بہت بوڑھی عورت تھی” (تاریخ طبری جلد اول اردو ترجمہ)

جس طریقے سے علامہ طبری نے اس قتل کی صورتحال کو نقل کیا وہ باقی عام لوگوں کے لیے تو ممکن ہو گی مگر حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہ جو کہ آپﷺ کے تربیت یافتہ تھے کے لیے بہت معیوب ہے جس کو آنکھیں بند کر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ سب سے پہلے تو تاریخ کے بارے میں بھی یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیے کہ اس کو نقل کرتے ہوئے روایوں کے بارے میں وہ احتیاط نہیں برتی جاتی جو کہ احادیث کو نقل کرتے ہوئے کی جاتی تھی، اور پھر احادیث کو لکھنے میں بھی تمام تر احتیاط کے باوجود غلطی ممکن ہے اور کئی احادیث ایسی ہیں جن پر محدثین نے جرح کی ہے۔ تاریخ کی نقل میں جب حدیث جیسے سخت معیار بھی نہیں تو اس بات کا قوی امکان قائم ہو جاتا ہے کہ اس کو نقل کرتے ہوئے کوئی خلاف واقعہ یا کمزور بات نقل ہو جائے۔ علامہ طبری کی تاریخ میں کئی ایسی باتیں ہیں جو کہ کمزور اور من گھڑت ثابت ہوئی ہیں اور ان کو رد کیا گیا ہے۔ ام قرفہ کے قتل کی مذکورہ تفصیل بھی کمزور ہے۔ جب مزید میں نے کھوج لگائی تو پتا چلا کہ طبری نے یہ روایت واقدی سے نقل کی ہے۔ واقدی کو تاریخ اور سیر کا امام کہا جاتا ہے جن کے تفصیلی حالات اردو میں ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر صاحبہ نے اپنی کتاب “سیرت نگاری: آغاز و ارتقاء” میں قلمبند کر دئیے ہیں۔ میں اختصار کو مد نظر رکھ کر کچھ عرض کرنے کی کوشش کروں۔ ڈاکٹر نگار لکھتیں ہیں۔

”محمد بن عمر الواقدی بظاہر متنازعہ نظر آتے ہیں۔ علما ٕ میں سے ایک جماعت ان پر کذب کا الزام لگاتی ہے۔ تمام تر الزامات کے باوجود مورخین ان سے بے نیاز نہیں رہ سکتے، بعد میں آنے والے مورخین نے ان کی معلومات سے خوب فائدہ اٹھایا“ (صفحہ ١٨٣)

مزید واقدی کے بارے میں علما ٕ جرح و تعدیل کے اقوال نقل کرتے ہوئے لکھتیں ہیں ”واقدی اس کے باوجود کہ حدیث، فقہ، تفسیر، سیر و مغازی، تاریخ، اخبار و رجال و طبقات کے جامع عالم تھے ان کے بارے میں موافقانہ اور مخالفانہ دونوں طرح کے بیانات ملتے ہیں“ (صفحہ ١٨٩)

ڈاکٹر نگار نے واقدی کے موافقین میں محمد ابن سعد، ابن خطیب بغدادی، علامہ ذہبی، ابراہیم بن اسحاق حربی اور حافظ ابن کثیر جیسے بڑے علما ٕ کو شمار کیا ہے اور جن ائمہ نے ان کو ثقہ نہیں مانا ان میں امام بخاری، امام احمد بن حنبل، امام شافعی اور امام نسائی شامل ہیں۔

ڈاکٹر نگار دونوں آراء کو سامنے رکھ کر درج ذیل نتیجہ نکالتی ہیں۔
”دونوں طرح کی آرا کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا کہ واقدی حدیث میں ضعیف اور تاریخ میں مستند ہیں“ (صفحہ ١٩١)
ایسے ہی ڈاکٹر نگار نے برصغیر کے معروف عالم و سیرت نگار مولانا شبلی نعمانی کے بارے میں لکھا ہے کہ انھوں نے واقدی کو اس لائق بھی نا سمجھا کہ اپنی ”سیرت النبیﷺ“ کے مقدمے میں ان کا جائزہ لیں وہ واقدی کو ناقابل اعتبار اور ناقابل ذکر گردان کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔(صفحہ ٢٠٢)

ان عبارات سے یہ بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ واقدی کے بارے میں ضعیف کا امکان موجود ہے اور ان کی ثقات بھی مختلف فیہ ہے۔ اس لیے ان کی ہر روایت قبول نہیں کی جا سکتی اور ان کی روایات میں مورخانہ اسلوب پایا جاتا ہے نا کہ محدثانہ تو اس بات کا امکان اور بڑھ جاتا ہے ان کی روایت میں رطب و یابس پایا جا سکتا ہے اور جب معاملہ آپﷺ کی ذات بابرکات کا ہو تو احتیاط کا دامن مزید سخت ہو جاتا ہے لہٰذا ایسی کمزور بات آپﷺ کی طرف کسی صورت میں منسوب نہیں کی جا سکتی۔

مذکورہ واقعہ کتب سیرت کی روشنی میں
اب جب میں نے چند کتب سیرت جن میں یہ واقعہ لکھا ہے دیکھا تو نظر آتا ہے کہ اکثر سیرت نگاروں نے قتل کی مذکورہ صورتحال کا ذکر نہیں کیا جس سے اس سے یہ خیال اور پختہ ہو جاتا ہے کہ اس طرح کی تفصیل مبالغہ آرائی پر مبنی ہے۔

سب سے پہلے شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے “مدارج النبوت” میں اس واقعے کی مذکورہ تفصیلات کا ذکر ہے، سیرت نبیﷺ کی یہ کتاب اصل میں فارسی میں لکھی گئی اس کا اردو ترجمہ مفتی غلام معین الدین نعیمی نے کیا ہے۔ اس کتاب کا سب سے بڑا ماخذ ملا کاشفی کی “معارج النبوت” ہے جس کے اردو ترجمے میں یہ بات مجھے نہیں مل سکی۔ لیکن اگر وہاں پائی بھی جائے تو بھی اس کا ماخذ تاریخ طبری اور امام واقدی کی “کتاب المغازی” ہے جس کی حیثیت ہم پہلے ہی واضح کر چکے ہیں۔

ایسے ہی ایک اور سیرت نگار عبدالصمد رحمانی نے اپنی کتاب “سیرت پیغمبر عالمﷺ” میں اس واقعے کو لکھا ہے مگر ام قرفہ کو اس طرح سے قتل کرنے کا ذکر نہیں کیا بلکہ مصنف نے تو یہ بھی لکھا کہ تجارتی قافلے پر حملے کے دوران چند صحابہ رضی اللہ عنہم بھی شہید ہوئے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ام قرفہ کا قتل قصاص کے تحت بھی درست تھا۔

حکیم محمود احمد ظفر نے “پیغمبر اسلامﷺ اور غزوات و سرایا” میں آپﷺ کے غزوات و سرایا کو بہت عمدہ جائزہ لیا ہے، اس سرایا میں بھی ام قرفہ کو گرفتار کیے جانے کا ذکر ہے قتل کا ذکر نہیں۔

معروف عالم مولانا ادریس کاندھلوی جنہوں نے آپﷺ کی سیرت مقدسہ پر “سیرت مصطفی ﷺ ” جیسی عالی کتاب لکھی ہے نے بھی اس واقعے کا ذکر کیا ہے مگر کسی طرح کے قتال کا ذکر ہی نہیں۔

مولانا صفی الرحمان مبارکپوری جن کی کتاب “الرحیق المختوم” کافی شہرت رکھتی ہے میں بھی یہ واقعہ درج ہے شیخ مبارک پوری کی فراہم کردہ معلومات سے تو یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ ام قرفہ قتل ہوئی اس کی گرفتاری کا پتا چلتا ہے صرف اس کے تیس شہسواروں کے قتل کا ذکر ہے جو کہ مکروہ مقصد کے حامل تھے۔

بھارت کے مشہور عالم مولانا وحیدالدین خان صاحب نے بھی اپنی کتاب “سیرت رسولﷺ” میں اس واقعے کا ذکر ہے جس سے صرف اتنا پتہ چلتا ہے کہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اس مہم سے کامیاب لوٹے۔ اس میں بھی ام قرفہ کے قتل تک کا بھی ذکر نہیں۔

پیر کرم شاہ ازہری آف بھیرہ شریف جن کی لکھی گئی “ضیاء النبیﷺ” سیرت کی نمایاں ترین کتب میں شمار ہوتی ہے اور یہ آپﷺ کی سیرت پر لکھی گئی مفصل کتابوں میں سے ایک ہے۔ پیر صاحب نے اس واقعے کو اپنی کتاب میں جگہ دی ہے اور ان کے مطابق اس سریہ میں ام قرفہ پہلے تو گرفتار ہوئی مگر یہ آپﷺ کی شان میں بدترین گستاخ ثابت ہوئی تو صحابہ کرام نے اس کو کیفر کردار تک پہنچا دیا گیا مگر اس طرح سے اس کے قتل کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس کے علاوہ پیر صاحب نے یہ بھی لکھا کہ اس کے لشکر کے باقی گرفتار لوگوں کا بھی ذکر ہے جن کو قتل کرنے کی بھی کوئی تفصیل نہیں سو اگر ام قرفہ کو یہ درد (قتل کا) سہنا پڑا تو اس کا اپنا کردار اس میں واضح ہے۔ اگر وہ آپﷺ کی شان میں گستاخ نا ہوتی تو اس کو قتل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

شیخ محمد رضا مصری سابق شیخ جامعہ قاہرہ نے اپنی کتاب “محمد رسول اللہﷺ” نے اپنی کتاب میں اس واقعے کا بہترین طریقے سے جائزہ لیا ہے اور واقدی کی روایت (ام قرفہ کا مثلہ ہونا) بھی نقل کرنے کے بعد اس پر نقد کیا ہے کیونکہ اسلام مثلہ کرنے کو پسند نہیں کرتا اور یہ ممکن ہی نہیں کہ ام قرفہ کے اس بری طرح قتل کرنے کی خبر آپﷺ کو پہنچے اور آپ اس کی مذمت کئے بغیر  رہ سکیں۔ سو شیخ محمد رضا مصری نے لکھا کہ ام قرفہ کے مثلہ کرنے والی روایت ناقابل قبول ہے۔ اس کو ایک اور طریقے سے بھی شیخ رضا نے مسترد کیا ہے وہ یہ کہ اس سریہ کے ایک ماہ بعد آپﷺ نے حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں ایک دستہ دومتہ الجندل کی جانب بنی کعب کی طرف بھیجا جس میں حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کو خصوصی ہدایت دی گئی کہ بچوں اور عورتوں کو قتل مت کرنا اور کسی کا مثلہ مت کرنا تو کیسے ممکن ہے کہ آپﷺ ام قرفہ کو مثلہ کیے جانے کی اجازت اور اس پر رضا مندی ظاہر فرماتے اور یا پھر اس کا علم ہونے کے بعد حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی سرزنش نا کرتے، لہٰذا یہ اس بات کا وافر ثبوت ہے کہ ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں۔ اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی جنہوں نے مثلہ کیے جانے کی روایت کی ہے نے بھی حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کے سریہ میں آپﷺ کی ان ہدایات کا ذکر ٹھیک اس سے اگلے صفحہ پر کیا ہے جہاں ام قرفہ کے قتل کا ذکر کیا ہے۔ شاید شیخ محقق کی نظر اس تضاد کی طرف نہیں گئی ورنہ وہ ام قرفہ کے واقعے پر نظر ثانی ضرور کرتے اور قابل اعتراض بات حذف کرتے۔

ان تمام سیرت نگاروں کی باتوں سے باسانی یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ واقدی نے اس واقعے کو نقل کرتے ہوئے مبالغہ آرائی سے کام لیا جس کو بعد میں علامہ طبری اور شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی نے اپنی کتابوں میں لکھ دیا۔ بلکہ کچھ سیرت نگاروں کے مطابق تو ام قرفہ کا قتل کیا جانا بھی ثابت نہیں لیکن اگر ہم اس کے قتل کو تسلیم بھی کر لیں تو بھی اس کا مثلہ کیا جانا ثابت نہیں ہوتا۔

سریہ زید سے حاصل ہونے والا مال غنیمت
آخر میں، میں نے سوچا کہ اس الزام کا بھی جواب دے دیا جائے جو “بھیسنا” کی وڈیو میں اس واقعے کے ضمن میں آپﷺ پر عائد کیا گیا کہ معاذ اللہ اس سریہ کا مقصد مال غنیمت کا حصول تھا۔ سب سے پہلے تو یہ بات واضح ہو چکی کہ اس سریہ کا مقصد کیا تھا اور مال تو پہلے ہی مسلمانوں کا لوٹا گیا تھا تو یہ الزام یہاں پر ہی لغو ثابت ہوتا ہے۔ پھر بھی اس سریہ سے حاصل ہونے والے مال غنیمت کی تفصیل ڈاکٹر یٰسین مظہر صدیقی ندوی جو کہ سیرت نگاری میں مستند حیثیت رکھتے ہیں نے اپنی کتاب ”غزوات نبویﷺ کی اقتصادی جہات“ میں کچھ یوں دی ہیں۔

”اس کی کل غنیمت ایک باندی تھی مگر ان سے بھی عام مسلمانوں کو کوئی مالی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ وہ باندی ایک صحابی (حضرت حزن بن ابی وہب رضی اللہ عنہ جو کہ آپﷺ کے ماموں اور اہم مکی سردار بھی تھے) کی زوجیت میں دے دی گئی “( ص٧١،٧٢ مطبوعہ مشتاق بک کارنر)

اس سے تو صاف پتا چلتے ہیں کہ ایسا بہتان کوئی صحت مند ذہن ہرگز نہیں لگا سکتا وہ شخص جس کے دل پر مہر لگی ہوئی ہو اس کا کوئی علاج کرنے سے ہم تو کیا بڑے بڑے اصحاب قاصر ہیں۔

باقی شیخ عبدالحق محدث دہلوی یا دیگر اصحاب علم جن کے قلم سے یہ واقعہ نقل ہوا بے شک ان کی دینی و علمی خدمات قابل تحسین ہیں اور وہ قابل احترام ہیں مگر ان سے غلطی ممکن ہے جبکہ آپﷺ کا احترام اور مرتبہ سب سے بلند ہے اور کسی خطا کا احتمال بھی آپﷺ کی ذات سے تصور بھی نہیں ہو سکتا۔

اس تحریر میں اگر کوئی خوبی یا مضبوطی ہے تو یہ اللہ تعالی اور آپﷺ کی خصوصی عنایت ہے اور اگر کمزوری ہے تو میں اپنی کم علمی کا اعتراف کرتا ہوں۔ رب کریم سے التجا ہے کہ میری اس کاوش کو قبول فرمائے اور بارگاہ رسالت مآب میں مقبول فرمائے ۔۔۔ آمین

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: