گرے ایریا Gray Area کے امکانات کی دنیا : فرح دیبا

0
  • 198
    Shares

ہم بہت معصوم لوگ ہیں زندگی کو صرف سیاہ اور سفید لینز سے دیکھتے ہیں اس سفید اور سیاہ کے درمیان جو رنگین Spectrum موجود ہے جسے عام زبان میں Gray Area کہتے ہیں۔ اس تصور سے زیادہ تر لوگ ناآشنا ہیں اور جو لوگ اس سے واقفیت رکھتے ہی ہیں وہ صرف علمی سطح پر موجود ہے۔ عملی زندگی میں حتی الامکان ہم اس سے پرہیز ہی برتتے ہیں کیونکہ ہم ہونے نہ ہونے کے بیچ کی کہانی کے جھنجھٹ میں نہیں پڑتا چاہتے۔

اس Extreme Binary Position کو ہم مذہب، قومیت پرستی /محب وطن، سماجی اقدار نیز جہاں جہاں ہمیں ضرورت محسوس ہو، لاگو کرنے میں کوئی حجت محسوس نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص ہمارے فرقے سے تعلق رکھتا ہے مگر باقی مسالک کو بھی احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان کے ساتھ اچھے انسانی سلوک روا رکھتا ہے تو ہمارے مسلک کے طے کردہ دائرہ مذہب سے خارج۔ اور یوں اگر وہ اس دائرے سے خارج تو مسلمان کی شناخت سے بھی محروم کر کے کافر قرار دے دیا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح اگر میں ملک کی Dominant Force کے مطابق ملک سے محبت کا اظہار نہیں کرتا تو میں غدار ٹھہرتا ہوں۔

سماجی سطح پر بھی حالات ایسے ہی ہیں۔ اگر آپ معاشرے کی کسی بھی ایسی قدر کو نہیں مانتے یا چیلنج کرتے ہیں جو زیادہ تر لوگوں کے ہاں پریکٹس میں ہے تو آپ سماج کے خانے سے بھی اپنا اندراج خارج کروا بیٹھے ہیں۔

ہم نے ایک ایسا معاشرہ مل جل کر بنا دیا ہے جہاں برداشت، توازن، Diversity، میانہ روی اور سوال کی طبعی موت واقع ہو رہی ہے ایسے میں نئی نسل کیا پروان چڑھے گی۔ اس کو اس گھٹن سے بچانے کے لیے ہم نے کسی Ventilator کا بھی انتظام نہیں کیا۔ ایک ایسی ایمرجنسی آن پڑی ہے جس سے قومیں تخلیقی اور تہذیبی سطح پر بانجھ ہو جاتی ہیں اگر مناسب طریقے سے بروقت صحیح تشخیص اور مئوثر علاج نہ کیا جائے۔

بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود اور پھر معاشرہ ہوتا ہے جس طرح کمہار نے جو بھی نقش و نگار برتن پر کرنے ہوں وہ مٹی سوکھنے سے پہلے کر لیتا ہے۔ کیونکہ اسی صورت میں اس کے فن کے نشان زندہ رہ سکتے ہیں کہ وہ مٹی کے اندر کنندہ ہو جائیں۔ اسی طرح بچہ جب اپنے ماحول سے پہلا تعارف کرتا ہے تو اس کا ذہن کچا ہوتا ہے اور ماحول جو اس پر حرف لکھ دے وہ پکے ہو جاتے ہیں اور پھر ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔ اگر معاشرے کی اقدار ایسی ہو تو پھر سوچیے کیسے ذہن پیدا ہونگے۔ آپ بھلے گھر کی تربیت پر بہت محنت کریں جب تک گھر سے باہر حالات سازگار نہیں ہونگے اس کا تناور درخت میٹھے پھل نہیں دے سکے گا۔

ہم کالے اور سفید پر اس حد تک یقین رکھتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو ہیرو یا لیڈر مانتے ہیں تو اسے انسان کی سطح سے بلند کر کے فرشتہ بنا دیتے ہیں اور سوچ لیتے ہیں کہ اب اس سے کسی بھی انسانی خواہش یا گناہ کا صدور ناممکن ہے۔ مگر وہ شخص تو انسان ہی رہتا ہے اب اگر وہ کسی انسانی خواہش یا گناہ کا مرتکب پایا جائے تو ہم اسے فوراً شیطان کے خانے میں رکھ کر دیکھنے لگتے ہیں۔ اس لیے کہ ہمارا خود ساختہ بت ٹوٹ جاتا ہے اور ہم اس کی سزا اس آدمی کو دیتے ہیں۔ اس دورن میں ہم اسے انسان ہونے کا مارجن دینا ہی نہیں چاہتے۔ میں نے جب عاصمہ جہانگیر کی وفات کی خبر سوشل میڈیا پر پڑھی تو دل کو ایک ٹھیس پہنچی کہ کوئی بھی شخص انہیں انسان ہونے کا مارجن دینے کو تیار نہیں۔ معلوم نہیں ہم اب تک کیوں اتنے معصوم اور سادہ ہیں کہ اپنے ہی ہم جنسوں کو ایک آدم زاد اور انسان کے طور پر دیکھ کر قبول نہیں کر پاتے۔

یہاں تک تو بات ہوتی ہے ان گھمبیر مسائل کی جنکا ہر روز سامنا کرنا پڑتا ہے مگر اہم بات یہ ہے کہ کیا مسائل کسی مرض کی علامات ہیں یا بذات خود بیماری ہیں۔ یہ جاننا اس لیے ضروری ہے کہ اگر آپ علامت کا علاج کرتے رہیں گے تو اس سے وقتی چھٹکارہ تو مل جائے گا مگر چونکہ مرضی اپنی جگہ موجود ہے تو وہ کسی اور شکل میں آپ کے سامنے آ جائے گا۔ اس کے لیے میڈیکل میں ایک Term استعمال ہوتی ہے Palliative Medicine یعنی ایسی دوائی جو مرض کو چھیڑے بغیر اس سے پیدا ہونے والی تکلیف سے آپکو نجات دلائے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ علامت کو Treat کر کے وقتی خوشی حاصل کرنی ہے یا بیماری کا علاج کر کے مشتعل /طویل بنیادوں پر ان کی اچھی معیاد رکھنی ہے۔

خیر بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کے جن مسائل کا ذکر پیچھے کیا ہے وہ اصل مسئلہ نہیں بلکہ مسئلے کی علامتیں ہیں۔ ان کو ختم کرنے کی بجائے ان کی مدد سے اس ناسور تک پہنچنا اصل ہدف ہونا چاہیے جس سے اس خطے کے کلر درہ ہونے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں اور ہم اکٹھے ہو کر اتنا شور مچا رہے ہیں کہ وہ نقارہ سماعت سے ٹکرا نہیں پا رہا۔ اس لیے ابھی ساری آوازیں گلے میں دبا کر سانس روک کر خطرے کا الارم سنیں اور ہنگامی بنیادوں پر معاشرے کے پنڈولم کو درمیان میں لانے کے لیے مخلص اور طویلی بنیادی فکری اور عملی سرگرمیاں اچھے ذہنوں کے سپرد کر کے ان کے دروازے پر چوکیدار بن کر کھڑے ہو جائیں تا کہ انسان کو انسان سے بچا کر کائنات کو زندہ رکھا جا سکے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: