’’مِینی‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عمر حیات ٹوانہ

0
  • 18
    Shares

تم اسے یہاں کیوں لائے ہو؟
اور کہاں لے جاتا اسے؟ یہ بیچاری جاتی بھی کہاں ایسے حال میں؟
ہمارا تو اس سے کوئی لینا دینا نہیں اور نہ ہی رابطہ تھا پھر یہ تجھے کہاں ملی؟۔۔۔۔۔۔تیرے ساتھ رابطہ تھا اس کا؟ ۔۔۔۔۔۔۔ تو فون کرتا تھا اسے یا یہ تجھے فون کرتی رہی ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔ کیا تو اس سے ملنے بھی جاتا رہا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔

وہ ہر سوال پہ خاموش رہا۔ تم اندر چلو انہیں میں دیکھ لونگا۔ وہ غصہ میں بڑبڑاتا اسے ساتھ لیے اپنے گھر کی دہلیز پار کرگیا۔ وہ جو باہر گلی میں کھڑا پہلے اس سے سوال جواب اور اب آنے والی کے متعلق ڈھکے چھپے لفظوں میں واویلا کررہا تھا اس کا بڑا بھائ تھا۔

وہ جو پہلے ہی اس قدم کو اٹھانے سے گھبرا رہی تھی اب پچھتائے جارہی تھی۔ ایسی دیہاتی عورتیں بچے تو بہت پالتی ہیں لیکن خوش فہمیاں نہیں پالتیں۔ گر پالتی بھی ہوں تو اپنے بچوں کی طرح انہیں بھی آزمائش کی سان پہ اپنے ہی ہاتھوں چڑھانے کو جیتے جی تیار نہیں ہوتیں۔ وہ نا جانے مِینی کی کتنی منت سماجت کے بعد یہ قدم اٹھانے پہ راضی ہوئی تھی۔ وہ قدم جو اسے اپنے ہی گھر کی دہلیز سے باہر لے آیا تھا۔ یوں تو کہتے ہیں کہ عورت کا کوئی گھر نہیں ہوتا ووں اس چشم فلک نے یہ بھی دیکھ رکھا ہے کہ یہ عورت ہی ہے جو دہلیز سے نکلتے ہی گھر ساتھ لے جاتی ہے۔ پیچھے چاردیواری کا پنجرہ اور ایک پَر کٹا پنچھی چھوڑ جاتی ہے۔

اس نے شاید یہی کہہ اسے ورغلایا ہوگا کہ جب گھر میں آگ لگ جائے، بجھائے نہ بجھے تو ساتھ جل مرنے سے بہتر ہے اپنی دہلیز سے نکل آؤ۔ اب وہ نکل آئی تھی۔ گھبراہٹ اور پچھتاوا، کہیں اندر ہی اندر، جیسے زمین کے سینے میں حرارت اور حرکت کے باہمی ملاپ سے مضبوط دھاتیں اور چٹانیں پگھلنے لگتی ہیں، گرم لاوے کی طرح بہنے لگتی ہیں۔ سینے میں ایک دباؤ جنم لیتا ہے جو شخصیت کے ہر پہلو پہ برابر زور ڈالتا ہے اور کمزور پہلو سے ابلتے لاوا کی طرح شخصی خاک کو پھاڑ بہنے لگتا ہے۔ وہ بھی عنقریب پھٹنے کو تھی۔ جیسے سینہء خاک کے بہت قریب رہنے والے جاندار سینہء خاک میں پنپ رہے طوفان کو وقت سے پہلے بھانپ لیتے ہیں۔ بھاگ اٹھتے ہیں۔ شاید مینی نے بھی بھانپ لیا تھا۔ بھاگ اٹھا تھا۔یہ دوڑ عزیز ترین کو بچانے کی دوڑ ہوتی ہے جسے ہم جان کہتے ہیں۔ نفسا نفسی کی دوڑ جیسے۔ یہ بظاہر غیرارادی سی لگتی ہے لیکن انسان اپنی اصل قوت کے ساتھ اپنی اصلِ نفس ہی کی طرف لپکتا ہے۔ بچانے کی آروز کرتا ہے۔ ایک خوف جیسا، انسان اپنی شخصیت کے اس پہلو کو لہجہ، لفظ و عمل کے غلاف میں لپیٹے چلتا ہے۔ شاید وقتی طنز و تنقید سے بچنا وجہ ہے کہ اسے بدلنا نہیں چاہتا۔ غفلت و کوتاہی کا بیاں نہیں جانتا کہ نظراندازی کو تگ و دو کرے، نظر کو دھوکہ دینا چاہتا ہے۔ یہ حادثہ ہے جو اس پہلو کو بصورت خوف ننگا کر سامنے لاتا ہے۔

وہ عمر کی پینتیس بہاریں دیکھ چکا کنوارہ تھا۔ رنگ قدرے سیاہ اور نین نقش و قد کاٹھ میں اپنے کردار کی طرح بھلا تھا۔ہنس مکھ نرم مزاج شخص۔ اسے ایکٹر بننے کا بہت شوق تھا۔ جو کام ملے کر لیتا، ویسے رنگ سازی کا استاد تھا۔ کم پڑھا لکھا تھا۔ اکثر و بیشتر تقاریر سننے و کتاب پڑھنے کے ساتھ ساتھ اسے شعر گوئی کا بھی شوق تھا۔حالات اور حقائق کو مزاحیہ نظم سا محلے کے لونڈوں کو گنگنا کے سنایا کرتا تھا۔ جیسے اپنی جوانی کے اولین سالوں میں اکثر محلے کے لونڈوں کو اکٹھا کر کے باہر کھیتوں میں فرضی فلم شوٹنگ کے لیے لے جاتا تھا۔ محلے کی کسی بارات یا دربار کے لیے اٹھی چادر کا اعزاز اس کے ناچ کے بنا ادھورا تصور ہوتا تھا۔ محلے کہ ان جاٹ گھروں میں بھی اس کا آنا جانا گھر کے فرد سا سمجھا جاتا تھا جو گھر آئے بہنوئی کی نظروں تک کا حساب رکھتے ہیں۔

اس نے ایک مقصد کی خاطر محلے کے ویلے لونڈوں کو گروپ بننا سکھایا، بنایا۔ ہر جمعہ محلے کی نالیوں اور گلیوں کی صفائی ہونے لگی۔ پانچ پانچ دس دس روپے ہر جمعہ گھروں سے جمع ہونے لگے۔ نالیوں کے اطراف میں چونا ڈالا جانے لگا۔جن دیواروں کی بگل میں نالیاں بہہ رہی تھیں ان پہ تین چار فٹ اونچائی تک چونا پھیرا جانا لگا۔ گھی کے خالی کنستر اکٹھے کیے گئے انہیں پورے گاؤں میں ہر خاص مقام پہ بجلی کے کھمبوں کے ساتھ باندھا گیا۔ اوپر جلی حروف میں لکھا ہوتا ”مقدس اوراق اس میں ڈالئیے“۔ ہر جمعہ محلے کی صفائی سے لے کر مقدس اوراق اکٹھے کرنے تک ہر چھوٹے بڑے کام میں باہمی مشاورت سے لونڈوں کی گروہ بندی کردی جاتی۔ ہر گروہ اپنا اپنا کام نمٹانے میں جُت جاتا۔

چلو جاٹوں کے کام تو ہوتے ہی نرالے ہیں کہ ساتھ والے محلے کے ایک جاٹ نے اپنی زمین پہ مسجد تو بنوا دی لیکن وہ بیچاری اکثر سنسان پڑی نمازیوں کی راہ ہی دیکھتی رہتی۔ لیکن اب تعمیر مسجد کی بنیاد وجہء حکم پہ نہیں رہی۔ ایک طرح سے اظہارِ تشخص کا ذریعہ سی بن گئی ہے۔ بات گاؤں کی ہو تو ہر محلے میں کم از کم دو مسجدیں اور بات شہروں کی ہو تو ہر دوسری گلی میں مسجد۔ کہیں کہیں تو ایک ہی گلی میں دو دو بھی مل جاتی ہیں۔

اسی نے اس مسجد کو آباد کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ بنا کسی مستقل امام کے پنج وقتی نماز باجماعت ادا ہونے لگی۔ محلے کے لونڈوں کو اذان و اقامت سے لے کر امامت تک کروانے کا حوصلہ دیا۔ پندرہ سولہ برس کے لونڈے بھی امامت کروانے لگے۔ رمضان آیا تو تروایح سے لے کر اعتکاف تک لوگوں کو قائل کرنا سب اسی کا حوصلہ تھا۔

اسے ایک ہی مرض تھا۔ ہر وہ رات جو نیند سے بیزاری کی بجائے نیند کی آغوش میں کٹی ہو اس کی صبح اس پہ غسل خانہ کا سفر فرض کردیتی تھی۔

پیٹو موٹرسائیکل سوار کو دور سے آتا دیکھ ہی مسکرانے لگا۔ جب اس موٹرسائیکل سوار نے پیٹو کے پاس پہنچ کر بریک لگائی تو پیٹو بہت بڑی خوشخبری سنانے والے انداز میں اسے بتانے لگا۔ یار وہ مینی کو دیکھنے والے آئے ہیں۔ میں اسے لینے کے لیے ہی جارہا تھا۔ چل جلدی کر موٹرسائیکل واپس موڑ وہ مغربی محلے میں دیہاڑی کررہا ہے۔ کچھ یہ لوگ جمعہ کا کہہ کے دو دن پہلے اچانک ہی آ ٹپکے ہیں اور اوپر سے لاٹ صاحب کے پاس موبائل بھی نہیں ہے۔

مینی اپنے حال میں مست کام میں مگن تھا۔ پیٹو نے وارد ہوتے ہی مسکراتے ہوئے اسے خوشخبری دی۔ لیکن مینی کے تاثرات سے لگتا تھا جیسے پیٹو نے اس کے سر پہ بم پھوڑ دیا ہو۔ یار ان کا تو جمعہ کا وعدہ تھا۔ یہ دو دن پہلے ہی۔۔۔۔۔۔۔!
پیٹو اسے جلدی مونہہ ہاتھ دھونے کا کہنے کے ساتھ شروع ہوا ہی چاہتا تھا کہ مینی خود ہی شروع ہو گیا۔ چلو ایک طرح سے اچھا ہی ہوا کہ دو دن پہلے آگئے۔ اب انکار سننے کے لیے دو دن مزید انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ اسکے لفظوں سے زیادہ اس کا لہجہ غضب ڈھاتا تھا۔ بندہ ناچاہتے ہوئے بھی بنا پیٹ بھر ہنسے نہ رہ سکتا تھا۔ وہ اس وقت بتیس سے اوپر جارہا تھا۔

یار کرنی تو انہوں نے نا ہی ہے لیکن وعدہ وفا کرکے ایک نیکی تو کردیتے۔ کم از کم جمعہ کے دن ہی آتے۔ اسی بہانے کو میں اپنے لیے، حجام کے ہاں جا کے اپنی خدمت کروانے کا جواز بنا لیتا۔

کون جانے اس کے دل میں کونسا خوف تھا اور زبان کس غم کا رونا رو رہی تھی۔ اسے اپنے ہی گاؤں میں جہاں کہ سب اسے اچھی طرح جانتے تھے، کسی اپنی ہی برادری والے نے لڑکی نہیں دی تھی۔ وہ برادری والے جو تقریباً سب کے سب ہی مالی لحاظ سے اسی کی طرح یا اس سے بھی بدتر تھے لیکن وہ کردار کے لحاظ سے برادری میں سب سے ممتاز تھا۔ ایسی کسی بات کو لے کر اس کے چہرے پہ ملال یا کسی کے لیے لہجہ میں درشتی کبھی کسی کو نظر نہیں آئی۔ یقیناً وہ بہت بڑا ایکٹر ہوتا ہے اگر مقدر کا سکندر ہوتا۔

آج میڈیکل سائینس کی ترقی دیکھ ہم کہہ سکتے ہیں بہت سے امراض جو ماضی میں لاعلاج تھے یا تصور کیےجاتے تھے اب وہ قابل علاج ہیں۔ لیکن غربت کی دنیا میں آج بھی بہت سے امراض لاعلاج ہی ہیں۔ ترقی کی دوڑ میں انسانی معاشرہ کی مثال اس بہت بڑے لشکر کی سی ہے جس کی راہ میں اچانک ایک غیر معمولی صحرا آ واقع ہوا تھا۔ جس باعث اس لشکر کے سوار و اعلی دستے اور پیدل و باربردار دستوں میں میلوں کا فاصلہ آ واقع ہوا۔ طویل مسافت کے بعد اچانک اس لشکر کے سوار و اعلی دستے کو ایک پہاڑی موڑ کے اس پار نعمت سا نخلستان مل گیا۔ وہ ان غیرمتوقع نعمتوں کی بارش میں ایسے بھیگے پاگل ہوئے کہ تھکاوٹ کی خماری میں پچھلوں کو بھول مدہوش پڑ رہے۔ باقی ماندہ لشکر اس موڑ سے چند قدم پیچھے امید ہار بیٹھا۔ ریت نگلتے نگلتے ریت ہی کا حصہ بن گیا۔۔۔

رانی بھی کسی ایسے ہی مرض سے مریضہ تھی۔ مینی کی بڑی بہن، جس کے خاوند نے اب اسے دھتکار دیا تھا۔وجوہات کچھ بھی رہی ہوں۔وہ اب مینی کے سر پر تھی۔بڑے بھائ نے پلو چھڑانے کو جواز تراشا، جو کہ کافی و شافی بھی تھا اس منافقانہ سوچ کے لیے جو تقریباً ہر سطح کے انسانی معاشرہ میں سر سے پیر تک خون کی طرح گردش کررہی ہے، میرے سالے کو مجھ سے بہتر کون جانتا ہے؟۔ میرے بھائ کو مجھ سے بہتر کون جانتا ہے؟۔ میرا سالا سچا ہے۔ سارا قصور میرے بھائ اور بہن کا ہی ہے۔ رانی کو اپنا گھر نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔ تین بچوں کے ساتھ یہ گھر سے نکل آئی ہے۔دوسرے بھائ نے بھی جسے کہ ماضی قریب میں ہی تقریباً پینتیس سال کی عمر میں بیوی ایسی نعمت عطا ہوئی تھی، جس کا کہ رہن مینی کے ساتھ تھا کہ وراثت میں ملے چھوٹے سے گھر کو دو حصوں میں ہی بانٹنا ممکن تھا، مینی کا بوجھ بانٹنے کی بجائے ”دو کمروں کے اس گھر میں اتنے لوگوں کا وہ بھی ایک مریضہ کے ساتھ رہنا ممکن نہیں، تم اپنی بہن کو کہیں اور رکھو “ حکم دینے لگا۔ یہ مینی کا پہلا جرم تھا۔ اب اس مزدور پہ تین افراد اور ایک مریضہ کی ذمہ داری آنا پڑی تھی۔

وقت کبھی بھی کسی کے لیے رُکتا نہیں۔ مینی کے لیے بھی نہیں رکا۔ اس نے اپنی بہن کو کرایہ کے کمرہ میں رکھا۔ وقت چلتے چلتے مینی کے لیے ایک اور امتحان لے آیا۔ مینی کی ماں کی وہ دوسری بیٹی جو اس کے دوسرے خاوند سے تھی۔ اس کی زندگی میں طوفان امڈ آیا۔ قریب تھا کہ وہ طوفان اس بھری جوانی کو تنکے کی طرح کسی دلدلی کھائی میں پٹخ دیتا مینی نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اپنی دہلیز پہ لے آیا۔ جیسے انجام شکار کو محفوظ ٹھکانے سے باہر کھینچ لاتا ہے۔

اس ہنس مکھ نرم مزاج بندہ کو محلے والوں نے پینتیس سال میں ایک دفعہ مونہہ سے جھاگ چھوڑتے، غصہ میں غراتے سنا تھا۔ کیونکہ سامنے والے نے اسے بہن کی گالی دی تھی۔

یہ صبح کتنی بدنصیب ہے۔ گھر کی دہلیز سے نکلتی ایک پھونک محلے کی عورتوں میں مکھیوں کی بھنبناہٹ کی طرح بھنبھنا رہی ہے۔ مینی اپنی سوتیلی بہن کو بھگا لایا ہے۔یہ اپنی بہن کے ساتھ برا ہے۔

محلے والوں نے اسے پینتیس سالہ عمر میں آج دوسری بار مونہہ سے جھاگ چھوڑتے، غصہ میں غراتے سنا ہے۔اس کے مونہہ سے گالی عجیب لگتی ہے۔ وہ روز کی طرح آج بھی گھر سے نکلا ہے کبھی نہ لوٹنے کے لیے۔۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: