سالے پنجابی —— آصف محمود

0
  • 37
    Shares

آئیے آج ایک کام کرتے ہیں۔ ہم سب مل کر پنجابیوں کو گالی دیتے ہیں۔ سارے مسئلے کم بخت پنجابیوں ہی کے تو پیدا کر دہ ہیں۔

پہلا مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر ایوب خان بھی تو پنجابی تھا۔ پنجاب کے علاقے ’’ہزارہ سے‘‘۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے تینوں بڑے کردار یعنی یحی خان، بھٹو، اور مجیب تینوں ہی تو پنجاب کے رہنے والے تھے۔جنرل ٹکا خان کا تعلق بھی پنجاب سے تھا۔پاکستان کو امریکہ کی گود میں ڈالنے والے وزیر اعظم لیاقت علی خان کا تعلق بھی پنجاب کے گاؤں چک جھمرہ سے تھا۔جنرل ضیاء الحق بھی پنجاب کے گاؤں ’’ جالندھر‘‘ کے تھے۔جنرل مشرف بھی آپ کو معلوم ہے پنجاب کی تحصیل ’’دلی‘‘ کے رہنے والے تھے۔یعنی اگر آج ملک میں جمہوریت قدم نہیں جما سکی تو سالے پنجابی ہی تو اس کے ذمہ دار ہیں۔

اب آئیے انتہا پسندی کی طرف۔ پشتون بھائی آج کل برہم ہیں۔ان کی برہمی بجا مگر پنجاب کو گالی بھی دیتے ہیں۔ ٹھیک ہی دیتے ہوں گے۔دیکھیے نا۔پنجابی ضیاء الحق نے امریکہ کے ساتھ ملکر جہاد افغانستان کیا۔ پھر دوسرے پنجابی مشرف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی۔ طالبان بھی ایک پنجابی رہنما بے نظیر بھٹو کے دور میں بنائے گئے۔ جنرل نصیراللہ بابر جو انہیں اپنے بچے کہا کرتے تھے وہ بھی پنجاب کی تحصیل ’’نو شہرہ‘‘ سے تعلق رکھتے تھے۔ میجر عامر بھی چیچیوں کی ملیاں سے تعلق رکھتے ہیں۔پنجاب ہی کے ضلع اکوڑہ خٹک میں مولانا سمیع الحق صاحب قیام پزیر ہیں جنہیں فادر آف طالبان کہا جاتا ہے۔ بیت اللہ محسود اور فضل اللہ بھی پنجاب کے تھے۔جن سیاسی رہنماؤں نے اسلام کے نام پر خطے میں مہم جوئی کی کسی نہ کسی طرح سرپرستی یا تائید فرمائی ان میں ایک نمایاں نام قاضی حسین احمد مرحوم کا ہے وہ بھی پنجاب کے اسی ضلع کے تھے جہاں کے نصیر اللہ خان بابر تھے۔ اس لیے ثابت ہوا کہ ملک میں آج انتہا پسندی ہے تو اس کا ذمہ دار بھی پنجاب ہے۔

پنجاب تنگ نظر بھی ہے۔ پنجابی اگر بلوچستان یا کے پی کے چلا جائے اور کاروبار کرنا چاہے تو بلوچ اور پشتون بھائی تو اس قدر ایثار کرتے ہیں کہ دیدہ و دل ہی فرش راہ نہیں کرتے آدھی جائیداد بھی پنجابی بھائی کے نام کرا دیتے ہیں لیکن پنجاب میں کسی پشتون یا بلوچ کے لیے آ کر رہنا یا کاروبار کرنا ممکن ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے کسی شہر میں آپ کو کوئی پشتون بھائی کاروبار کرتا نظر نہیں آ ئے گا۔

پشتونستان کی تحریک چلانے والے جتنے بھی رہنما تھے، سب کا تعلق پنجاب سے تھا۔ کراچی کو لہو کا غسل دینے والے الطاف حسین بھی پنڈی بھٹیاں میں پیدا ہوئے تھے۔ بلوچ علحدگی پسند مسلح گروہ بھی ضلع سرگودھا کے ’’پنڈ مکو‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس لیے غیرت اور حمیت کا تقاضا یہی ہے کہ پنجابی کا گالی دی جائے۔ آئیے جملہ اعضائے رئیسہ کی طاقت استعمال کر کے چلائیں: سالے پنجابی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: