کہیں درمیاں کوئی راز ہے : ڈاکٹر محمد خورشید عبداللہ ـ ایک تأثر — عزیز ابن الحسن

0
  • 91
    Shares

گئے برس کی بات ہے، سوشلستان کی سیر کے دوران ایک منحنی اور من موہنی سی شخصیت سے سرراہے تعارف ہوا اور انکے اشواق جلیلہ اور فن و جمالیات سے عملی اشتغال کے بارے جان کر ترنت دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا۔ مرشدی سلیم احمد کا حوالہ میری زندگی میں ایسی کلید کی حیثیت رکھتا ہے کہ جوقفل چاہا کھل گیا، سو یہاں بھی کچھ ایسا ہی معاملہ رہا کہ ہمارے ممدوح جناب ڈاکٹر خورشید عبداللہ بھی مرشد کے قائل و گھائل نکلے۔

اپنی عادت کے ہاتھوں مجبور، اپنے بہت سے دوستوں، بشمول سجاد خالد اور عزیز ابن الحسن سے بھی اس نودریافت شدہ خورشید سے متعارف کروایا اور “شادم از زندگی خویش کہ کارے کردم” کا لطف لیا۔ جوں جوں انکے گن کھلتے رہے میری خوشی، تحیر سے رشک اور پھر اپنی نالائقی کے احساس سے خجالت میں بدلتی رہی۔ اس تعلق کی بڑھتی نابرابری کے خیال نے کچھ مرعوب کیا اور کچھ خاموش۔

گاہے خیال آیا کہ جناب کی شخصیت اور کارگزاریوں بارے ایک مضمون لکھ کر انکی کاوشوں کو متعارف کروایا جائے مگر خود کو اسکا اہل نہ پاکر مزید خاموش ہوتا رہا۔ آج جناب عزیز ابن الحسن کی یہ تحریر دیکھ کر لگا کہ ہماری مشکل آسان کرنے کو یہ بزرگ دوست خوب کام آیا۔ لیجئے، آپ بھی ہمارے ممدوح سے ملاقات کیجئے۔ شاہد اعوان


محترم ڈاکٹر خورشید عبداللہ کی کرم فرمائیوں اور نوازشوں کو ہم کس کس طرح یاد رکھیں گے سمجھ نہیں آتا۔ ان کے احسانات روز بروز بڑھتے جارہے ہیں اور ہمارے پاس امتنان و تشکر کے چند کلمات کے سوا لوٹانے کو اور کچھ نہیں ہوتا مگر ڈاکٹر صاحب ہیں کہ ستائش و صلے کی پروا کیے بغیر اپنی شدید ترین روزگارانہ مصروفیات اور گھریلو ذمہ داریوں کی بجا آوری سے بچ جانے والا ہر لمحہ گم گشتہ و تیزی سے نایاب ہوتی آوازوں کے تہذیبی ورثے کو فرض سمجھ کر محفوظ کرنے اور اسے کمیاب خزینوں کے شائقین تک پہنچانے میں، قرض لوٹانے جیسی تڑپ کے ساتھ، مگن رہتے ہیں۔ وہ اس بات سے بھی بےنیاز رہتے ہیں کہ کوئی ان پر توجہ دیتا ہے یا نہیں۔

کہنے کو آپ میڈیکل ڈاکٹر ہیں مگر طب اور قانون میں مہارت کے پانے کے ساتھ ساتھ مولانا حسن مثنیٰ ندوی سے آپ نے تحصیلِ ادب عربی کیا، نامور ماہر اقبالیات پروفیسر یوسف سلیم چشتی سے فلسفیانہ اسرار اور موسیقانہ رموز سیکھے اور مولانا امین احسن اصلاحی اور ڈاکٹر اسرار احمد سے جیسے مفسرین و داعیانِ دین سے قرآنیات و مذہبیات کے دروس لیے۔ فارسی اردو ادبیات اور شاعری کے نہ صرف پڑھنے سننے سے شغف ہے بلکہ نامور حاضر و قدیم شعرا کے صوتی و تصویری ذخیرے جمع کرنے اور دوستوں کو اس سے مستفید کرنے کو بھی ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔

ڈاکٹر خورشید عبداللہ، احمد جاوید صاحب کے ساتھ

آغان خان میڈیکل یونیورسٹی کراچی میں طبی و قانونی شعبے میں جان توڑ خدمات سر انجام دینے کے بعد، اپنے اسی شوق کی بدولت، دوچار گھنٹے کی نیند اور نماز و طعام کے سوا آجکل باقی تمام وقت، اور چھٹی کا سارا دن لطف اللہ خان کے آواز خزانے میں بیسیوں الماریوں میں کیسٹس اور اگلے زمانے کے اسپول ٹیپ کو الٹتے پلٹے گزارتے ہیں۔ ان آوازوں کو ڈیجیٹلائز کرتے ہیں، شوردار آوازوں کو مختلف چھلنیوں سے فلٹر کرتے اور مدھم آوازوں کو بلند کر کے وڈیو میں منتقل کر کے جب گھر لوٹتے ہیں تو انہیں شدت سے یہ خواہش ہوتی ہے کہ کاش یہ چوبیس گھنٹے کا رات دن کسی طرح کھینچ کر چھتیس گھنٹوں میں تبدیل کیا جاسکتا۔ وہ کہا کرتے ہیں موسمی اثرات سے پرانی چپکی ہوئی ٹیپوں کو صاف کرکے پلیئر پر چڑھانا اور آوازوں کو صاف کرکے mp3 میں منتقل کرنا آملیٹ کو پھر سے انڈہ اور انڈے کو دوبارہ آملیٹ بنانے جیسا صبر آزما کام ہے۔ ان کی عطا کردہ دس پندرہ منٹ کی جس آواز کو ہم فیسبک پہ بیٹھے لیٹے آسانی سے سن لیتے ہیں اسپر ڈاکٹر صاحب کی بلامبالغہ گھنٹوں کی محنت صرف ہوئی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر حمیداللہ کے معروف “خطباتِ بہاولپور” کی جو آڈیو انکی محنت شاقہ اور مشقتِ نافعہ کے بعد سامنے آئی ہے وہ دعوہ اکیڈمی اسلام آباد جیسے بڑے ادارے کی جاری کردہ CD سے بہتر ہے۔ یہ تو ایک پہلو ہے۔ علاوہ ازیں برِصغیر پاک وہند کے پچاسیوں علما، ادبا، شاعروں اور گائکوں کی نایاب ترین آوازوں اور تصویروں کو لطف اللہ خاں مرحوم کے ذخیرۂ صوت و صورت سے جس مختصر سی مدت میں خورشید عبداللہ صاحب نے اپنی جناتی کھوج اور کنج کاوی سے ڈھونڈ نکالا ہے وہ انہی کے شوقِ فراواں سے ممکن ہوا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ کام جناب لطف اللہ خاں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے مگر اول تو اس آواز خزانے کی کوئی ترتیب بندی (کیٹالاگنگ) نہیں ہوئی تھی یا ہوئی تھی تو اسے وہ مرحوم خود ہی کسی اشاراتی زبان میں سمجھتے تھے دوسرے یہ کہ ان کے اشارات پر چلتے ہمارے ڈاکٹر صاحب جب کسی اسپول ٹیپ تک پہنچتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ اسکا بقیہ حصہ کسی دوسری ناقابلِ رسائی جگہ پر پڑا ہے۔ لہذا انہیں یہ کام بھس میں سوئی تلاش کرنے جتنے جتن سے کرنا پڑ رہا ہے۔

صرف یہی نہیں بلکہ اس دوران وہ جب بھی کسی نایاب ترین آوازـــ جیسے علامہ عبد العزیز میمن قاری ایوب دہلوی یا مفتی محمد شفیعـــ کو دریافت کرنے کی بڑی مہم میں کامیاب ہوتے ہیں تو اس خوشی میں ہمیں بھی شریک کرنے کیلیے باقاعدہ وقت نکال کر فون بھی کرتے ہیں۔ ایسے میں ان کی آواز میں بچوں جیسی سرخوشی اور لہک ہوتی ہے۔

ایک روز کہنے لگے کہ جتنی محنت اور جان ماری آجکل میں اس کام کیلیے کررہا ہوں ویسی تو ایم بی بی ایس کے امتحانات کے دنوں میں بھی کبھی نہیں کی تھی۔ لیکن اس مشقت پر بھی میں نے کبھی انہیں شکستہ خاطر نہیں پایا۔ اگلے روز ایک نئ لگن اور امنگ کے ساتھ پھر اسی مہم پر جت جاتے ہیں۔

اپنے ان حاصلات کو ڈاکٹر صاحب روزانہ کے حساب سے فیس بک اور اپنے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کرتے ہیں۔ اور دوستوں کو انکی دلچسپی کے اعتبار سے ٹیگ بھی کرتے ہیں۔

ابھی جنوری کے وسط میں انہوں نے فون پہ بتایا کہ “آپ کی دلچسپی کی ایک خاص چیز دریافت ہوئی ہے میں بہت جلد آپ کی خدمت میں وہ بطور تحفہ پیش کرونگا”۔ میں نے چونکہ ان سے ہنوز نادریافتہ و ناشنیدہ ایک خاص آواز کی فرمائش بھی کر رکھی تھی جسکے بارے میں مجھے مشفق خواجہ نے بتایا تھا کہ وہ لطف اللہ خاں کے ہاں موجود ہے، اسلیے بے صبرے پن سے پوچھا کہ “کس کی آواز ہے؟” تو بولے “تحفے کا پتا ربن کھلنے کے بعد ہی چلے تو مزہ آتا ہے”۔

اسپر میں چپ ہوگیا اور انتظار کرتا رہا تاآنکہ کل انہیں نے مجھے میرے محب میرے کرم فرما میرے سراج منیر کی آواز میں ایک غزل فیسبک پہ لگا کر مجھے لکھا “آپ کیلیے خاص تحفہ”۔ یوں تو سراج بھائ کی آواز بیسیوں دفعہ سنی ہے لیکن کل انکی آواز میں وہ غزل سنکر جو انکی زبانی بھی بہت دفعہ سن چکا تھا نہ پوچھئے، ڈاکٹر صاحب کی اس عنایت بےپایاں کے طفیل، اس نے کس عالم میں پہنچا دیا۔

سلامت رہیے ڈاکٹر صاحب۔ سراج بھائی کی اسی غزل کا یہ شعر آپکی نذر ہے۔

یہ جو نیم رخ ہے سجا ہوا  یہ جو نیم لب ہے کِھلا ہوا
کسی اور حُسن کا ہے نشاں کہیں درمیاں کوئی راز ہے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: