ریڈیو کی ہمہ گیریت اور ہم کا استعا رہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ منیب حسن

0
  • 75
    Shares

نطق کی بخیہ گری نے ہی ابلاغ کو وہ اہمیت بخشی ہے کہ اب اسکے بغیر انسانی زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ اظہاریے کے تمام بیانیوں پر قادر ہوئے بغیر انسان کو صاحب طرز نہیں قرار دیا جا سکتا۔ انسانی آوازیں جہاں زندگی کی علامت تصور کی جاتی ہیں، وہیں آواز کے ذریعے تصویر کے نیچے کے عمل کو ابلاغ کی دنیا میں ہر عمل پر فوقیت حاصل ہے۔ ریڈیو کے میڈیم نے سامعین پر راج کرنے کے لئے زیادہ وقت نہیں لیا۔ جادو کے ڈبے سے ہر طرح کی آواز کا برآمد ہونا جہاں قدیم ذہن کے لئے حیرت کا باعث بنا، وہیں طرح طرح کے پروگرامات اور سامعین کی پسند ناپسند کا خیال رکھنا رِیِڈیو کا ہی خاصہ بن گیا لیکن ریڈیو کی ایجاد کو بھی اذہان کے توسیع پسند منصوبے کو تقویت دینے کے لئے استعمال کیا گیا اور دوسری جنگ عظیم میں ریڈیو کا کار آمد ہونا کسی سے پوشیدہ نہیں۔ برصغیر میں سائنسی ایجادات کی آمد کا سہرا انگریزوں کی کلی مرہون منت تو قرار نہیں دیا جاسکتا، لیکن بہر حال سرسید کی تحریک اور مسلم جدیدیت پسندی میں بھی ریڈیو کا عمل دخل رہا ہے۔ مرتی ہوئی آوازوں کو زندہ کرنا آل انڈیا ریڈیو کا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔

بخا ری برادرز کار پوریشن کے طعنے سنتے سنتے بڑا ہونے والا ریڈیو یاور مہدی کے دور تک کس حال میں موجود تھا، اسکا احوال سید عون عباس کی تصنیف ہم کا استعارہ میں مو جو د ہے، جو کراچی سے چھپی ہے۔

دور جدید میں سوانح کی کتابوں کو ایک طرف تو اقربا پروری کا نعرہ مستانہ لگا کر مسترد کیا جاتا رہا تو دوسری طرف تخیلاتی دنیا میں رچا بسا قاری اس میں دلچسپی کے متنوع عناصر نہ پا کر ناول اور افسانے کے پیچھے بھاگتا رہا لیکن عون عباس کی اس کتاب میں افسانے کا پلا ٹ بھی ہے اور داستان کی طوالت بھی۔ یہ کتاب محض ایک فرد کی خدمات کا احاطہ نہیں، بلکہ ریڈیو کے ساتھ پرورش پانے والی ایک پوری نسل کا بیانیہ اس میں موجود ہے۔ سوانحی خاکہ تو غیر منقسم ہندوستان کی فضا میں سانس لیتا محسوس ہوتا ہے، جس میں یاور مہدی کی ذہنی و فکری پرداخت کا پورا احوال موجود ہے۔

کتاب کے مواد کو دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ تخلیقیت کا تحقیق سے ملاپ کیا خوبصورت نتائج کو جنم دیتا ہے۔ یاور مہدی کے شروع کر دہ پروگرامات تا انکی انتظامی صلا حیتوں کا بیان، قدیم و جدید کے ایسے سنگم کی یاد دلاتا ہے جہاں ایک شخص کھڑا نئے آنے والوں کو صدا دے رہا ہے کہ آئو نئی روشنی سے اپنا حصہ وصول کر لو۔

ریڈیو کی عمارت جہاں ایک حیرت کدہ نظر آتی تھی وہیں اس میں داخلہ کم از کم عامتہ الناس کے لئے چنداں آسا ں نہ تھا۔ یاور مہدی نے ریڈیو کے بت توڑنے کے لئے ہر ہتکنڈے سے کام لیا۔ ہفتہ طلباء ہو یا ادبی عدالت، یاور مہدی کا شروع کیا گیا ہر کام انفرادیت سے بھر پور اور اجتما عیت سے جڑا نظر آتا ہے۔ آر ٹس کو نسل کے بارے میں یا ور مہدی کی خدمات کا بیان ایک خوشگوار احساس دلاتا ہے کہ آج آرٹس کونسل جس طرح عالمی کانفرنسز کا انعقاد کرنے میں یدطولیٰ رکھتی ہے، اس کی داغ بیل یاور مہدی نے ہی ڈالی۔

جشن یاور مہدی کا انعقاد اور اسکا تذکرہ اہل کراچی کے وژن کا عکا س ہے لیکن کتاب کی اہم بات ان اہم تصاویر اور آٹوگرافس کا مجموعہ ہے جو یاور مہدی کی متا ع جاں محسوس ہوتا ہے اور یقین کریں مجھے یاور مہدی سے محبت ہو گئی ہے، کیا آپ کو بھی؟

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: