کھونٹے سے بندھے بیل: مبشر سلیم

0
  • 80
    Shares

خدا بخش کے کھونٹے سے بندھے بیل دیکھ کر میں سوچتا تھا کہ ان کی بھی کیا زندگی ہے۔ پیدا ہوئے، کھونٹے سے باندھ دیا گیا اور پھر ساری عمر انہی کھونٹوں کے ساتھ گزر گئی۔ ان کو کیا خبر انسان خلا میں چلا گیا ہے۔ روس کب کا سپرپاور کی کرسی سے دستبردار ہوچکا ہے۔ انہیں کیا خبر نائن الیون کے بعد دنیا کی سیاست تبدیل ہوگئی ہے۔ وہ تو یہ بھی نہیں جانتے پیزہ ہٹ کئی سالوں سے پاکستان میں اپنی برانچیں کھول چکا ہے۔ کے ایف سی اور میکڈونلڈ کھانے کیلئے یورپ جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ تو اس بات کی بھی خبر نہیں رکھتے ہونگے کہ دیوار برلن ڈھا دی گئی ہے اور اب فلسطین والوں کیلئے دیوار ممنوعہ کھڑی کر دی گئی ہے۔ وہ تو یہ بھی نہیں جانتے ہونگے کہ پاکستان بنانے پر اب لوگ اعتراض کرنے لگے ہیں۔ اور شائد اس بات سے بھی بے خبر ہونگے کہ کچھ لوگوں کو پاکستان کے نام کے ساتھ اسلامی لکھنے پر اعتراض ہوگیا ہے۔ لیکن وہ بھی کیا کریں کھونٹے سے جو بندھے ہوئے ہیں۔

سیتا سے صرف محبت کی ہوتی، تو اور بات تھی۔ میں نے تو اس سے عشق کیا تھا۔ عشق بھی ایسا کہ اپنے وجود کے در و بام پر صرف اس کی تصویریں سجا رکھی تھیں۔ اس کا وجود میرا خمار تھا۔ اس سے بات چیت کا خمار۔ اس کی موجودگی کا خمار، اس سے تعلق اور اس سے وابستگی کے احساس کا خمار۔ وہ انسانی جذبوں کا اظہار تھی۔ وہ مجھے زندگی کے اس نقطے پر دکھائی دیتی تھی جہاں پر میری سوچ ختم ہوتی تھی۔ یہ اس کی شخصیت کا بے ساختہ پن تھا یا زندگی کے متعلق اس کا غیر سنجیدہ طرز عمل کہ میرے لئے وہ ایک ماڈل کا روپ اختیار گئی۔ میں یقین سے نہیں کہ سکتا میں اس کے حصار میں کس دن اور کس طرح آگیا تھا لیکن مجھے اپنی بے خودی کا اندازہ اس دن ہوا تھا جب میں نے پہلی بار بات کرتے ہوئے غور سے اس کی آنکھوں میں جھانکا تھا۔ جب میں نے اس سے زندگی کے معنی پوچھے تھے۔

ہوئے تم دوست جس کے‘، ڈاکٹر حقی حق نے کس نظریے کے تحت لکھی تھی اس کا تو مجھے بہت بعد میں علم ہوا لیکن یونیورسٹی میں کتاب میلے میں اس کتاب کا صرف ایک ہی نسخہ بچا تھا۔ گرچہ کتاب پسند میں نے کی تھی لیکن میں اس کی قیمت ادا کرنے میں کچھ تذبذب کا شکار تھا اور اس نے کوئی بحث کئے بغیر اس کی قیمت ادا کردی۔ ایسی نایاب کتاب کو کھونے کے بعد جب میں نے اس سے درخواست کی کہ کیا یہ ممکن ہے کہ جب آپ اسے پڑھ لیں تو چند دنوں کیلئے مجھے مل سکے اور مجھے خوشگوار حیرت ہوئی جب اس نے مجھے ماس کمینیکیشن کا پتہ بتاتے ہوئے کہا آپ اپنے ڈیپارٹمنٹ کا بتا دیں میں پڑھنے کے بعد آپ تک پہنچا دوں گی۔ جب میں نے اسے بتایا کہ میں میڈیکل کالج سے آیا ہوں اسلئے آپ کو مشکل ہوگی، تو اس نے بے یقینی میں میری طرف دیکھا۔ اور دو ہفتے بعد ملنے کا وعدہ کرکے ہم اگلے سٹالوں کی طرف بڑھ گئے۔ کچھ ٹسٹ شروع ہو گئے اور پھر کچھ دوسری مصروفیات او ر ’ہوئے تم دوست جس کے‘ میرے ذہن سے مہو ہو گئی۔ اس دن اپنے کالج کے ڈاکخانے ایک پارسل بھیجنے کیلئے گیا تو معلوم ہوا کہ عارضی طور پر بند ہے اور مجھے یونیورسٹی کا رخ کرنا پڑا۔ ڈاکخانے سے نکلا ہوں تو ایک نسوانی آواز نے مجھے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ اسے دیکھ کر مجھے کتاب یاد آگئی۔ اس نے مجھے دیکھا تو پہچان کر بولی کتابیں جمع کرنے کا شوق ہے یا پڑھنے کا بھی؟ اور میں اس کی بات پر صرف مسکرا دیا۔ اور وضاحت میں اپنی تعلیمی مجبوریاں بتائیں تو کہنے لگی کوئی بات نہیں اگر آپ کو پڑھنے سے واقعی لگاؤ ہے تو میں آپ تک کتاب خود پہنچا دوں گی۔ اس کے اعتماد اور اس کے رویے میں موجود والہانہ پن نے مجھے اپنے سحر میں اسی لمحے گرفتار کرلیا تھا۔

اسے آپ محبت تو نہیں کہہ سکتے لیکن اسکا شخصی رعب ایسا ضرور تھا کہ جس کے حصار میں آگیا تھا۔ اور پھر جب وہ گلے دن کتاب دینے کالج کی لائبریری آئی تو اس کی خود اعتمادی نے اگر میرے اندر کوئی ہلچل پیدا نہیں کی تو اس سے تعلق قائم رکھنے کی امنگ ضرور بیدار کر دی تھی۔ کینٹین سے چائے پینے کے بعد جب دو گھنٹے بعد ہم باہر نکلے تو دونوں ایک ایسے رشتے میں بندھ چکے تھے جسے دوستی اور محبت کے بیچ کا رستہ قرار دے سکتے ہیں۔ اس میں خال وخد کا کوئی جمال تھا اور نہ ہی وہ کوئی ایسے درو دیوار پھلانگ کر آئی تھی جہاں دن کو عید اور راتوں کوجشن منائے جاتے ہوں۔ لیکن میں یہ بات یقین سے کہہ سکتا تھا کہ وہ ایک غیر معمولی لڑکی تھی۔ زندگی کے ولولوں اور امنگوں سے بھرپور، امید اور یاس کی پہلی کرن۔ وہ ذہنی اختراؤں پر یقین نہیں رکھتی تھی۔ جس طرح مجھے کتاب پہنچانے کالج چلی آئی تھی اس سے مجھے معلوم ہوا تھا کہ وہ زندگی کے ڈسپلن کو مصنوعی سمجھتی ہے۔ وہ خود اعتمادی کا پہلا لفظ تھی تو خود آگہی کا پہلا جملہ بھی۔ وہ جس طرح زندگی کے مصنوعی اصولوں اور اقدار کو روند جاتی تھی اس سے مجھے وہ ایک سرکش لڑکی دکھائی دیتی تھی لیکن اس کی حد سے بڑھی خود اعتمادی اور سرکشی نے میرے وجود کے گرد ایک ہیولہ کھڑا کر دیا تھا جس کی قید مجھے بھلی بھی لگتی تھی اور سرشاری بھی محسوس ہوتی تھی۔ کتاب کے بہانے شروع ہونے والی یہ ملاقاتیں ایک ایسے تعلق میں بدل گئیں جس کو توڑنا آسان نہیں رھا تھا۔ ایک دن گرمی اور حبس نے جب ذہن اور دماغ کو مفلوج بنا رکھا تھا تو تیز آندھی اور بارش نے ہر چیز جل تھل کر دی۔ میں اور سیتا بارش کے بعد کے نظارے دیکھنے باہر نکلے تو باتیں کرتے بہت دور تک نکل گئے۔ حالات حاضرہ، فلسفہ، تاریخ، منطق جیسے موضوعات تک محدود ہماری گفتگو نے اس دن پہلی بار اپنا رخ تبدیل کیا۔

میرے پوچھنے پر کیا وہ واقعی ہندو ہے؟ اس نے ہنس کر کہا، آپ کو کیا لگتا ہے۔ میرے ماتھے پر سندور اور جسم پر ساڑھی ہوتی تو پھر یقین کرتے؟

میں نے بھی بات کو مزاح میں ٹالتے ہوئے کہا ہاں جب اس حلئے میں دیکھوں گا تو یقین اسی دن کروں گا۔ کہنے کو تو میں کہہ دیا تھا لیکن میرے اندر جلتا دیا چند لمحوں کیلئے ڈبڈبایا لیکن پھر سنبھل گیا۔ ہماری اقدار مصنوعی صحیح، ہمارا سماج بھی شائد فطری نہیں ہے لیکن اس سے الگ ہو کر رہنے کی ہمت ابھی ہم میں نہیں ہے۔ ہمارے ہاں تو برادریاں اور فرقے رشتوں کے درمیان دیواریں کھڑی کر دیتے ہیں اور یہاں تو مذہبی وبستگیوں کے وسیع خلیج دکھائی دے رہی تھی۔ دیر تک اس کے خاندانی پس منظر کے بارے میں باتیں ہوتی رہیں اور کچھ میں اپنے بارے میں بتاتا رہا۔ لیکن مجھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ شائد میرے قدم منوں وزنی ہو گئے ہیں۔ میں لاکھ آزاد منش انسان سہی لیکن ایک مذہبی قیدی میرے اندر کہیں جکڑا ہوا تھا۔

میرے ذہن میں اللہ کا تصور مائی پھاتاں کے تنور جیسا تھا جہاں اگر کوئی سلیقے سے بیٹھے تو اس کیلئے روٹیاں اور جو کہنا نہ مانے اس کیلئے تنور کی آگ۔ بس اس سے زیادہ کبھی مذہب کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ میر ے اندر مذہب کا قیدی ہمیشہ سویا رہتا تھا۔ جب سیتا کا مذہبی پس منظر واضح ہوا تو میرے اندر کا قیدی ایک دم بیدار ہوگیا۔ میں نے بہت چاہا اسے سلا دوں لیکن اس نے مجھ سے میری نیندیں چھین لیں۔ میں لاکھ بہانے ڈھونڈتا لیکن وہ میری کسی بات پر راضی نہیں ہوتاتھا۔ کسی ضدی بچے کی طرح۔ میں نے بہت سمجھایا۔ مذہب کی تفریق صرف عبادت کیلئے ہے۔ اپنے رب کے سامنے حاضری کا ہمارا اپنا انداز ہے اور اور ان کا اپنا۔ اب جس کا دل جیسے چاہے، وہ ویسا ہی کرے، کوئی مجبور تھوڑی کر سکتا ہے۔ لیکن میری ساری منطق میری ساری دلیلیں اس مذہبی جنونی کے سامنے بے کار تھیں۔
اور بھر اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک دن اس سے پوچھ بیٹھا کیا تم مسلمان ہوسکتی ہو؟۔ اور اس نے وہی الفاط یہ کہہ کر میری طرف دھکیل دئیے کہ تم میرے مذہب میں آجاؤ اور میرے پاس کوئی دلیل نہیں تھی۔ میں نے بھاگنا شروع کردیا۔ اندھا دھند بولتا رہا لیکن کسی ایک ہی مرکز کے گرد، جہاں سے میں چلتا تھا وہیں آ کھڑا ہوتا۔ اس نے اپنے مذہب میں آنے کی دعوت دے کر میری جیب کاٹ ڈالی تھی اور میں سڑک پر کھڑا ہراساں، اس بات پر پریشان تھا کہ سفر جاری رکھوں یا واپس لوٹ جاؤں۔

میرا وجود تو مذہب کے معاملے میں کورا کاغذ تھا جو کسی نے اسلام کی الماری میں سجا دیا تھا۔ مذہب کی روح سے تو وہ بھی خالی تھی لیکن وہ ایک ایسا درخت تھی جس کی جڑوں نے زمین کو مضبوطی سے جکڑ رکھا ہو اور وہ ایک قدم بھی اپنی جگہ سے ہلنے کو تیار نہیں تھی۔ ۔ لیکن میرے اندر سیتا کے نام کی بیشمار فائلیں جمع ہوچکی تھیں جن کو میں اتنی آسانی سے ضائع کرنے کیلئے تیار نہیں تھا۔ میں تو بچپن سے ہی قیمتی قرار دی گئیں چیزوں کو سنبھال کر رکھنے کا عادی تھا، سیتا کی محبت سے اتنی آسانی سے دستبردار کیسے ہو سکتا تھا؟ اور میں نے اپنے مذہب کے کورے کاغذوں کو بھرنے کا ارادہ کر لیا۔ میرا سارا وقت شہر کی لائبریریریوں میں گزرنے لگا، میڈیکل کی تعلیم بھول کر مذہب اور اس کے تقابلی جائزوں میں مصروف رہتا۔ اور پہلی بار اسلام کی حقانیت سے روشناس ہوا۔ ابتدا میں باتیں میری سمجھ میں نہیں آتی تھیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ میرا ذوق، میرے عقائد اور افکار اس تیزی سے تغیرات کا شکار ہوئے کہ میں واضح طور پر اپنے اندر ایک تبدیلی محسوس کرنے لگا۔ میر ا مطالعہ، میری معلومات بڑھاتا رہا اور میں ایک مستقل ذاتی فکر اور رائے پر پہنچ چکا تھا۔ میں جو پھول چنتا، اس کی خوشبو سنگھانے سیتا کے پاس لے جاتا لیکن وہ تو نہ جانے کس دیس کی رہنے والی تھی؟ کس مٹی کو گوندھ کر اس کی مورتی کو سجایا گیا تھا؟ کہ نہ تو اس میں کوئی نفرت یا وحشت دکھائی دیتی تھی اور نہ ہی وہ اس حالت میں دکھائی دیتی تھی جسے میلان یا ہمدردی کہا جا سکے۔ میرا مطالعہ جہاں پر ہمارے تعلقات کیلئے ہلاکت خیز ثابت ہو رہا تھا۔ وہیں پر میرے لئے انقلاب آفریں بن رھاتھا۔ جہاں شعور کا اعتدال دل ودماغ کی قوتوں کو بیدار کر رہا تھا وہیں محبت میں بڑھے قدموں کی واپسی کا خوف ایک آسیب بن کر ڈرا رہا تھا۔

کبھی مجھے لگتا میری کوشش دریا میں بے بس تنکے سی ہے اور میں دریا کے بہاؤ کیسا تھ کہیں دور نکل جاؤں گا اور کبھی مجھے لگتا میں کسی مہیب غار میں بند ہوگیا ہوں جہاں صرف اندھیروں کا پہرہ ہے جہاں ہاتھ کو ہاتھ سجائی نہیں دیتا لیکن میری مسلسل جدوجہد ایک روشنی کی کرن بن مجھے رستہ دکھانے آگئی تھی۔ اسلام کے احساسات وخیالات اور اساس وبنیاد کو سمجھنے لگا۔ میں نے روح کی رفعت کو پا لیا تھا۔ زندگی اور مذہب کے درمیان ہم آہنگی کو ڈھوند نکالا تھا۔ میر ے ذہن کی بنجر زمین ایک سرسبز کھیتی میں تبدیل ہو گئی تھی۔

لیکن سیتا وہیں کھڑی رہی۔ وہ بہت دلیر تھی اپنے افکار میں بہت صاف تھی لیکن وہ کسی بند کمرے میں پڑی بے جان مورتیوں میں روح پھونکنے کیلئے قائل نہیں ہوئی۔ میں سمجھتا تھا محبت میں امید اور کامیابی کی سرشاری بہت سے کام آسان کر دیتی ہے لیکن زندگی کے حسین اور خوشگوار تجربات نے بھی اسے خواہشوں کی پرورش کیلئے مجبور نہیں کیا۔ میں کبھی نہیں جان سکا وہ کون سا وجدان تھا جو اسے مدافعت پر ابھارتا تھا۔ لیکن اس کی مزاحمت نے مجھے صداقتوں کی راہ پر ڈال دیا تھا۔

وہ ایک اداس شام تھی جس دن میں نے اس سے آخری ملاقات کی تھی۔ بہار کی آمد آمد تھی۔ میرے اندر بھی بہار کے پہلے پھولوں نے کھلنا شروع کر دیا تھا۔ طوفان نوح تھم چکاتھا۔ احمد شاہ ابدالی کی فوجیں تھک گئی تھیں، ایک خاموشی تھی ایک ٹھہراؤ تھا۔ میں نے دیوار گریہ ڈھا کر مسجد اقصی تک رسائی حاصل کر لی تھی لیکن اس کے سامنے کوہ طور پر آگ جلتی رہی لیکن وہ وہیں کھڑی اسے دیکھتی رہی۔ اور ہمارے درمیان تعلق کا سورج غروب ہوگیا۔ ہم دونوں ہی کھونٹے سے بندھے بیل تھے لیکن فرق یہ تھا کہ میں نے بیمار ہو کر شہر کی روشنیاں دیکھ لی تھیں۔ اور وہ وہیں کھونٹے پر کھڑی رہی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: