اب اسے سفر سے نفرت ہے‎ : محمد عمیر 

0
  • 39
    Shares

یوں تو زندگی خود ہی اک سفر ہے یہ الگ بات ہے کہ بعض بخت والوں کا یہ سفر حسین ہوتا ہے جبکہ بعض آشفتہ سر اس سفر کی رنگینی سے محروم ہوتے ہیں لیکن زندگی کے سفر میں بھی کچھ سفر درپیش ہوتے ہیں کچھ اسفار بوجہ مجبوری جبکہ کچھ شوقیہ ہوتے ہیں۔ ماہین کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جو شوقیہ اسفار کے دلدادہ ہوتے ہیں آج سے تین سال پہلے وہ ایک شوقیہ سفر پر ہمارے شہر آئی ہوئی تھی یہ بہار کا دلکش موسم تھا ٹھنڈی ٹھنڈی دُھوپ کا موسم جب گھنی بیری تلے کھڑی گھنی پلکوں والی خوب رو لڑکی پر پہلی نظر پڑتے ہی مَیں نے اسے اپنی روح سونپ دی تھی۔۔!!

وہ بھی میری شوخ مزاجی کے سحر میں مبتلا ہوئے بنا نہ رہ سکی اور ہم دونوں نے قلیل مدت میں ہی اپنی ڈورِ حیات ایک دوسرے کے ہاتھوں میں سونپ دی۔ کچھ عرصہ ایک دوسرے کی تلخی بھی میٹھی لگتی تھی پھر یوں ہوا کہ محبت پرانی ہو گئی بات اصولوں تک پہنچ گئی میری مردانگی کا درندہ جاگ اٹھا تھا وہ اب بھی زنانی محبت کا پیکر تھی لیکن میری حیوانیت غرغرانے لگی تھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ڈانٹ ڈپٹ کرنا میرا شیوہ بن چکا تھا ہماری شادی کے تین سال بعد آج پھر وہی بہار کا دلکش موسم تھا اس نے اپنے سپنوں کی حسین عمارت میرے سامنے لا کھڑی کر دی۔

سنئیے جی۔۔ !! میں چاہ رہی تھی کہ کیوں نا اس بہار میں ہم مری گھومنے چلیں؟

بہت سہہ چکا ہوں تمہاری یہ نوٹنکیاں، ہر دن اک نئی فرمائش لے کر پہنچ جاتی ہو، اب مزید برداشت نہیں ہوتے مجھ سے تمہارے یہ نخرے۔ میں نے بڑی بے رحمی سے اپنی اندر کی غلاظت انڈیل دی لیکن وہ اسفار سے عشق کرنے والی اتنی آسانی سے ہار ماننے والی نہیں تھی اب کی بار اس نے اک نیا داؤ آزمایا۔

سکندر!! تمہیں یاد ہے ہماری پہلی ملاقات بھی اک سفر میں ہوئی تھی اور وہی سے ہماری پریم کتھا کا آغاز ہوا تھا؟ ہاں تو اب کسی نئے عاشق کی تلاش ہے کیا؟ گھر میں دل نہیں لگتا تمہارا؟ کسی اور پریمی سے چکر لڑانے کا ارادہ ہے؟ مجھ میں کیا کمی ہے؟ کیا میں کافی نہیں تمہارے لئے؟ اس دفعہ میری درندگی چیخ چیخ کر اپنا وجود بیان کر چکی تھی۔

یہ باتیں سن کر وہ خاموشی سے اپنے کمرے چلی گئی ساری رات تکیہ اس کے اشکوں کو اپنے دامن میں قبول کرتا رہا، اس نے اپنی زبان سے اس بارے میں کچھ نہیں کہا البتہ پچھلے بیس سالوں سے کبھی اس نے اپنے گھر دہلیز پار نہیں کی، نہ تب جب اسکی ماں کا انتقال ہوا، اور نہ ہی تب جب اسکا باپ زندگی کی آخری سانسیں کسی ہسپتال کے بیڈ پر تڑپ تڑپ کر لے رہا تھا البتہ ہماری محبت پر اس نے کسی قسم کی آنچ نہ آنے دی اور نہ اس نے اپنی زندگی میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی لائی، اسے ہر چیز سے محبت ہے۔ اگر آج اسے کسی چیز سے نفرت ہے تو وہ سفر ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: