عمران خان ہمیں کنفیوز کر رہا ہے ۔ محمودفیاض

0
  • 138
    Shares

عمران خان سیاست لائق ہی نہیں تھا، یہ وہ خود بھی جانتا ہے۔ نہ ہی وہ سیاست کے “گند” میں آنا چاہتا تھا۔ ایک لیجنڈ کی زندگی گذار رہا تھا، زندگی کے پہلے چالیس سال جس نے عوامی، جمہوری، سیاسی رویوں کے قریب سے ہو کر نہیں دیکھا۔.

میں بڑا ہو کر پائلٹ بنوں گا، کہنے والا بچہ بھی آئی ٹی ایکسپرٹ بن کر ملکوں ملکوں کی نوکری کے بہانے جہازوں کے چکر لگانے تک پہنچ ہی جاتا ہے۔ عمران خان نے بڑا ہو کر “پردھان منتری” بننے کے خواب بھی نہ دیکھے تھے۔ سچ یہ ہے کہ ماں کی موت (کینسر جیسے موذی اور دردناک مرض سے) نہ ہوئی ہوتی تو عمران خان کو شائد دوسروں کے دکھ درد کا اتنا شدت سے احساس تک نہ ہوا ہوتا۔ اور اس میں اسکا قصور بھی نہ ہوتا، کہ ہمارے ہاں ایف ایم پر شہرت پانے کے بعد بھی اکثر لوگ “گیسی غبارے” بن کر بادلوں کے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہیں۔

خیر ایسا لیجنڈری کرکٹر، شہرہ آفاق زندگی سے یکدم سڑکوں پر آگیا۔ اس نے ہر وہ کام کرنا شروع کردیا جو وہ زندگی میں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ جو لندن کے ایلیٹ کلب میں مغرور خان کے حوالے سے مشہور تھا، پاکستان کی سڑکوں پر ٹرک پر کھڑا “بھیک” مانگ رہا تھا۔ شوکت خانم کی مٹی مٹی میں مل کر پاکستانیوں کو پہلا کینسر ہسپتال دے گئی کہ جہاں غریب مریضوں کی آخری امید کا دیا جلتا ہے۔ وہ مسکراتا بہت کم تھا، مگر اب ہر دم ایک مسکراہٹ چہرے پر سجائے، ہر عامی سے سلام لینا اسکا معمول ہوگیا۔ وہ بات کم کرتا تھا، مگر اب ہر روز اسکو سینکڑوں لوگوں کے ساتھ ملنا پڑتا تھا۔ وہ گھلتا ملتا کم تھا، مگر ہسپتال بنانے کی خاطر اسکو اسکولوں، کالجوں، گلیوں، بازاروں میں میں رلنا کھلنا پڑا۔

بات یہاں تک رہتی تو ٹھیک تھی، مگر ایک کم گو، خود میں گم کرکٹر کو ماں کی موت نے انسانیت کے درد کی جانب کیا موڑا، اسکی زندگی کا رخ ہی تبدیل ہوگیا۔ ایک کے بعد دوسرے “انکشاف” نے عمران خان کی ذہنی کیفیت ہی بدل ڈالی۔ پہلا “انکشاف” اس پر تب ہوا تھا جب اس نے اپنی ماں کو کینسر سے مرتے دیکھا، کہ اس دنیا میں دکھ بھی ہوتا ہے اور درد بھی۔ دوسرا “انکشاف” اسکو تب ہوا جب وہ گلی محلے پھرا اور اپنے علاوہ دوسرے لوگوں کو دیکھا، تو اسے پتہ چلا کہ اس دنیا میں کتنا غم ہے، “میرا غم کتنا کم ہے”۔ تب اس نے وہ فیصلہ کیا، جو اسکو شائد نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اس نے اتنے لاکھوں کروڑوں رینگتے مرتے عوام کی دکھوں کے مداوے کا سوچا۔ وہ سیاسی میٹریل نہیں تھا، اس نے سیاست میں آنے کا سوچا۔ وہ لیڈر اور گائیڈ ضرور تھا، مگر وہ ایک نظریاتی یا عوامی شخصیت بھی نہیں تھا، مگر اس نے لیڈر بننے کا سوچا۔ اور اس سب سے بدتر بات یہ تھی کہ ایسا اس نے ایک ایسے خطے کے عوام کے لیے سوچا جو اپنے اوپر ظلم کرنے والوں کے گن گاتے ہیں۔ جن کی عاشقی کی روایات میں بھی خودشکنی ہو، وہ ظالم بادشاہوں کے لائق رعایا ہی بن سکتے ہیں۔

عمران خان نے اپنے کرکٹ کیرئیر کے دوران ہر ناممکن کو ممکن بنانے کی جو جدوجہد کی تھی، اس سے اسکا خیال تھا وہ یہ ناممکن کام بھی کر دکھائے گا۔ مگر اسکو شائد پتہ نہیں تھا کہ بالنگ ایکشن بدلنا، ورلڈ کپ جیتنا، یا ہارے میچ کو جیت میں بدل دینا اور بات ہے اور خود اپنی کایا کلپ کردینا اور بات۔ عمران خان نے سوچا کہ ایک لیجنڈری کرکٹر سے وہ ایک عوامی لیڈر بن جائے گا۔ ایک سلیبرٹی سے وہ ایک مصلح اور قائد بن جائے گا۔ وہ شائد جانتا نہیں تھا کہ قدرت نے اسکو ایک سلیبرٹی بنا کر بھیجا ہے۔ اسکی تمام عادات، سوچنے کا انداز اور کامیابی حاصل کرنے کا طریقہ سب ایک سلیبرٹی جیسا ہے۔ مگر اس نے سوچا کہ وہ عوام کی خاطر، اپنے ملک کے لوگوں کے دکھوں کے درماں کی خاطر وہ سب کچھ کر ڈالے گا۔ وہ اپنی کایا کلپ بھی کر سکتا ہے۔

ہوسکتا ہے اس نے شروع میں یہ نہ سوچا ہو۔ اس نے سوچا ہو کہ وہ سیاست میں آئے گا، اچھے لوگ جوق در جوق اس کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔ پاکستان کے لوگ اس کی ایمانداری اور محنت کو دیکھتے ہوئے اسکو ووٹ ڈالیں گے، اور وہ اپنے لوگوں کی زندگی تبدیل کر دے گا۔ اور ایسا چند سال ہی میں ہوجائیگا۔ مگر ایسا نہ ہوا اور چند سال سے بات تیسری دہائی تک چلی گئی۔ کیونکہ پاکستان کے عوام کو ایسے لیڈر نہیں چاہیں جن کے لیے انکو ووٹ ڈالنے جانا پڑے۔ انکو ایسے لیڈر ہی سوٹ کرتے ہیں جو ان سے ووٹ ڈلوا لیتے ہیں۔ قائد ڈے اور علامہ اقبال ڈے پر انڈین فلمیں دیکھ کر چھٹی گذارنے والی قوم سے تبدیلی کی امید شائد عمران کی سب سے بڑی غلطی تھی۔

تماش بینی اس قوم کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ مرغے لڑانے سے لے کر کرکٹر بھڑانے تک یہ ہر تماشے کو شوق سے دیکھتی ہے۔ جیسے ہی عمران نے سیاست میں آنے کا اعلان کیا، سیاست کے سارے “اصیل مرغوں” نے اپنی چونچوں سے عمران خان کے پر اکھاڑنے کا سلسلہ شروع کردیا۔ اور ہماری قوم کو ایک تماشہ مل گیا۔ دیکھو یہ عمران کیا کرتا ہے؟ بناؤ ٹیم، اب بناؤ ٹیم؟ شریف اور ایماندار سیاست دان عمران خان کہاں سے لاتا ہے؟ چلو دیکھتے ہیں۔ عمران خان اور اسکے خاندان پر الزامات کی سیاست شروع ہوئی، چلو دیکھتے ہیں کیسے اس میں سے نکلتا ہے؟ مزہ آئے گا۔ قوم کو یہ تماشا اتنا اچھا لگا کہ پچھلے بیس سال سے یہ تماشا دیکھتی چلی آرہی ہے۔ عمران خان پر الزام لگانے والے، اس کی ذات پر اسکے خاندان پر کیچڑ اچھالنے والے، اور اسکو ہر قیمت پر سیاست سے باہر کردینے والے وہ لوگ ہیں جو اس قوم کے بچوں کے مستقبل کی روٹی، انکی دوائیاں، انکی خوشیاں سب کھائے بیٹھے ہیں اور قرضوں کی شکل میں پوری قوم کو عالمی سودخوروں کے پاس رہن رکھے ہوئے ہیں۔ مگر قوم کو انکی ہر بات قبول ہے۔ البتہ وہ جب عمران خان پر کوئی الزام لگاتے ہیں تو پوری قوم یکسو ہو جاتی ہے، کہ دیکھو اب عمران خان اس میں سے کیسے نکلتا ہے؟ کیونکہ یہی تماشا تو ہمیں عزیز ہے۔

خیر، دو دہائیاں گذر گئیں، دونوں کام نہ ہو سکے۔ نہ عمران خان ایک سلیبرٹی سے ایک لیڈر کے روپ میں ڈھل سکا، اور نہ ہی اس قوم کا شوق تماشا کم ہوا۔ مجھے عمران خان ایک پرانی تاریخی روائیت کا وہ جرنیل لگتا ہے جس کو بادشاہ سر عام میدان میں اپنے نیزہ بازوں سے مرواتا جا رہا ہے، اور رعایا کا پورا ہجوم یہ جاننے کے باوجود کے بادشاہ اس جرنیل پر ظلم کر رہا ہے، اس تماشے سے لطف اندوز ہو رہی ہے، کیونکہ بادشاہ کے ظلم کے اندر رہتی وہ رعایا بادشاہ کے ظلم کی اسقدر عادی ہوچکی ہے کہ “شرابی کی بیوی” کی طرح اس ظلم کو “اپنا حق” سمجھتی ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ تماشے کی شوقین رعایا محض اس وجہ سے تماشے سے دستبردار نہیں ہونا چاہتی کہ جرنیل مظلوم اور بادشاہ ظالم ہے۔ ایک جوان جسم سے مٹیالی زمین پر گرتا سرخ خون، گھوڑوں پر بیٹھے نیزہ بازوں کی خوفناک دھاڑیں اور نیزوں کی چمکتی انیاں، سب اتنا “مدہوش” کر دینے والا عمل ہے کہ رعایا کا ضمیر مزید گہری نیند میں چلا جاتا ہے۔

خیر قوم کا معاملہ تو قوم بنانے والا جانے، کہ سندھ کے کنارے آباد یہ مخلوق ، انکے ایک “شاعر و فلاسفر” کے بقول زرا نم ہو تو بڑی زرخیز ہے ساقی ۔البتہ یہ نمی کتنی برساتوں کے بعد آئے گی یہ کوئی صبح کے چینل میں ستاروں کے حال والے ماموں سے پوچھ لے تو بہتر ہے۔

البتہ عمران خان نے اپنے رویے سے میرے جیسے ناتجربہ کاروں کو لاتجزیہ کار بنا چھوڑا ہے۔ جب جب ہم نے سوچا کہ کہ بندہ اب گیا تب گیا، تو یہ اڑ گیا۔ اسکی سیاست کے شروع کے سالوں میں جب ہم نے دن رات ایک کردیا کہ عمران خان ایک عوامی بندہ بن ہی نہیں سکتا۔ سیاست تو ہے ہی بہت گندی جگہ، یہ کتنے دن ٹکے گا۔ آج نہیں تو کل اپنی یہودی خاندان والی بیوی بچوں کو لے کر انگلینڈ چلا جائیگا۔ یہ سیاست ، اور پاکستانی سیاست اسکے بس کی بات نہیں۔ تب تب عمران خان نے ہم جیسوں کے تجزیوں کو ہمارے منہ پر مار دیا۔ وہ نہ صرف ٹکا بلکہ ٹھہر گیا۔ بیٹھ گیا۔ پارے کی طرح، جو متحرک بھی ہوتا ہے اور جوڑوں میں بھی بیٹھ جاتا ہے۔ وہ اپنے مخالفین کے جوڑوں میں بیٹھ گیا۔( پانامہ نہ بھی ہوتا، تو عمران خان نے نواز شریف کی حکومت کو اتنا ہی “خجل خوار” رکھنا تھا)۔ وہ ناکام ہوا، مگر سیاست نہ چھوڑی۔ الیکشن پر الیکشن ہارتا گیا، مگر سیاست نہ چھوڑی۔ اس کی پہلی بیوی چھوڑ کر چلی گئی، محض اسکی سیاسی زندگی کی مصروفیت کی وجہ سے، اس نے تب بھی سیاست نہ چھوڑی۔ بلکہ اور یکسوئی کے ساتھ سیاست میں مصروف ہوگیا۔

ہم جیسے تجزیہ کاروں نے کہا، عمران خان عوامی نہیں بن سکتا۔ اس نے پچھلے سات آٹھ سالوں میں درجنوں عوامی اجتماع، لاکھوں کی تعداد میں کارکنان کے ساتھ کرکے ہماری یہ پیشین گوئی بھی غلط ثابت کردی۔ وہ کنٹینر پر سو جاتا، وہ کھردری چارپائی پر ہاتھ میں روٹی اٹھا کر کھانا کھا لیتا، وہ پاکستان کی جون برساتی گرمی میں پسینے میں بھیگتے لوگوں کے درمیان اپنی دوپہریں گذارتا۔ عمران خان کو تقریر کرنا نہیں آتی تھی، اب وہ گھنٹوں بولتا اور لوگ سنتے۔

بالاخر ہم جیسے تجزیہ کاروں نے سوچا کہ اب اپنے “پانچ سالہ پرچوں” پر نظر ثانی کرتے ہیں کہ نصاب بدل گیا ہے۔ تب ہم نے راگ الاپنا شروع کردیا کہ عمران خان سیاستدان بن گیا ہے۔ سیاسی ہوگیا ہے۔ واقعی سیاسی ہوگیا ہے کہ اس نے پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی قوت تخلیق کردی ہے۔ دسیوں نئے سیاسی لیڈرز متعارف کرا دیے ہیں۔ پاکستان کا سیاسی منظر اب کبھی بھی عمران خان کے بغیر مکمل نظر نہیں آتا۔

تب عمران خان ایک بار پھر ہمیں جھوٹا ثابت کرنے کی ٹھان لیتا ہے۔ وہ اپنے ہر دوسرے قدم سے ثابت کرتا ہے کہ وہ سیاستدان تو کبھی بنا ہی نہیں۔ وہ تو ایک بھیس ہے جو اس نے “وٹایا” ہوا ہے۔ وہ آج بھی ایک سلیبرٹی ہے۔ ایک کرکٹ لیجنڈ، جو اپنے آپ میں مگن ایک ایسا شخص ہے، جس کی بلا سے، لوگ اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ وہ کنٹینر پر آئی ہوئی ایک ایسی اینکر سے شادی کر لیتا ہے جو ماضی میں کبھی اس کی کسی پارٹی پر زرا ڈھنگ کے لباس میں آئی ہوئی ہوگی۔ پھر وہ کسی کی پرواہ کیے بغیر اس کو دس ماہ بعد طلاق بھی دے دیتا ہے، اور اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کرتا کہ اس کے سیاسی قد پر اس سے کیا فرق پڑے گا۔ وہ بڑے مزے سے بنی گالہ سے نتھیا گلی، اپنے دوستوں کے ساتھ گھومتا اور ڈنٹ بیٹھکیں لگاتا پھرتا ہے (کونسا سیاستدان ایسا کرتا ہے؟ )۔ پھر وہ ایک ایسی عورت سے شادی کر لیتا ہے جو اسکی پیرنی کے طور پر شہرت رکھتی ہے۔ شادی کی وجہ بھی مشکوک سی ہوتی ہے۔

قصہ مختصر، تجزیہ کاروں کی “خادم رضوی” کر کے رکھ دی ہے عمران خان نے۔ میرے جیسے تو منہ چھپاتے پھرتے ہیں کہ عمران خان کے بارے میں کیا تجزیہ کریں۔ وہ تحریک سول نافرمانی چلانے کی بات کرتا ہے، دھرنے دیتا ہے، کنٹینر پر بیٹھ کر حاکم وقت کو للکارتا ہے، شہر بند کرنے کی دھمکی دیتا ہے تو ہم کہتے ہیں عمران خان جمہوری نہیں ہے۔ اگلے دن عمران خان عدالتوں میں چلا جاتا ہے۔ سارے قانونی تقاضے پورے کرتا ہے، دوسروں کی دولت کا حساب لیتے لیتے خود اپنی ساری زندگی کا حساب پیش کر دیتا ہے۔ الیکشن کمیشن میں درخواستیں دیتا پھرتا ہے۔ تو ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ عمران خان تو جمہوری ہو گیا ہے۔ وہ اداروں کا احترام کرتا ہے۔

اس سے اگلے دن عمران خان سینیٹ میں ووٹ ڈالنے کی بجائے، بنی گالہ میں مارچ کی روپہلی دھوپ میں اپنی نئی دلہن کے ساتھ موسم کے آخری سنگترے کالے نمک کے ساتھ انجوائے کرتا ہے اور بزبان حال کہتا ہے کہ “لعنت ہو ایسی پارلیمنٹ پر”

عمران خان ہمیں کنفیوز کر رہا ہے۔ ہم کدھر جائیں، ہم کیا لکھیں؟

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: