سراج منیر: ایک یادگار انٹرویو ۔۔ـــــــ۔۔ ڈاکٹر طاہر مسعود (حصہ دوم)

0
  • 17
    Shares

اس مضمون کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے۔

سوال:۔ عسکری صاحب نے فرانس کے نو مسلم رینے گینوں کو متعارف کرایا۔ اس کے بعد پھر بڑی بحث چلی اور پھر اب آپ اور آپ کے حلقۂ خیال کے جو لوگ ہیں، انہوں نے باقاعدہ اس سارے مکتبِ فکر کے جو لوگ تھے ان کی Transformation شروع کی ہے۔ ان کی کتابیں شائع کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بہت سی بحثیں بھی ہمارے ہاں چل رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ تو آپ یہ بتائیں کہ وہ کون سی چیزیں تھیں جن ک بنا پر آپ نے یا آپ کے مکتبۂ خیال کے لوگوں نے ان نو مسلم مفکرین کو اہمیت دی اور ان پر مطلب یہ کہ اب آپ باقاعدہ ایک مکتبۂ خیال کو تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ کچھ اس کے پش منظر پر روشنی ڈالیں۔

سراج منیر: یہ بہت اہم بات ہے۔ خصوصاً آج کل جو بحثیں اس سلسلے میں ہو رہی ہیں۔ اصل میں اس کا ایک بڑا لمبا چوڑا قصہ ہے۔ اگر تو بات یہاں تک ہو کہ عسکری نے رینے گینوں کو متعارف کرایا تو عسکری نے تو جناب اردو ادب میں بود لیئر کو بھی متعارف کرایا اور عسکری نے راں بو کو بھی متعارف کریا اور West کی پوری موومنٹ کو متعارف کرایا اور عسکری کا ایک کمال یہ تھا کہ عسکری نے جس آدمی کا نام لے دیا عالمی ادب سے وہ ادمی اردو ادب میں متعارف ہو گیا۔ جیمز جوئس کو متعارف کرایا عسکری نے تو اس پر کبھی شور و غوغا نہیں ہوا لیکن رینے گینوں کو متعارف کرانے سے بہت شور پڑا اس مسئلے پر۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ بود لیئر اور راں بو اور جوئس اور لارنس وہ لوگ جنہیں عسکری نے اردو میں متعارف کرایا وہ ہماری روح کے ان زخموں کو اس طرح نہیں چھیڑتے کہ جس سے کوئی بڑی تکلیف ہو بلکہ شاید ان کا رول اس میں۔۔۔۔۔۔۔ کارہا ہے اور انہوں نے ایک رول کسی درجے میں سکوں آور چیزوں کا ادا کیا ہے۔ لہٰذا عسکری کی Popularity میں اس کا بھی ایک حصہ رہا ہے مگر جب رینے گینوں تک معاملہ آیا تو رینے گینوں کے بارے میں عسکری نے خود لکھا ہے اور لوگوں کے علم میں بھی یہ بات ہے کہ اس زمانے میں جو مغرب کا سب سے بڑا آدمی سمجھا جاتا تھا ژید، اس نے یہ کہا تھا کہ گینوں جو باتیں کہہ رہے ہیں وہ حئاق ہیں اور سچائیاں ہیں لیکن جس طرح میرا بوڑھا جسم یوگا کے آسنوں کو قبول نہیں کر سکتا اسی طرح میری بوڑھی روح ان حقائق کو قبول کرنے سے قاصر ہے، یہ جانتے ہوئے کہ یہ حقائق ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ تو جناب رینے گینوں کا معاملہ اس لیے بہت زیادہ متنازع بنا کہ کچھ ایسی باتیں رینے گینوں کے حوالے سے عسکری صاحب نے بیان کیں جو عہدِ جدید کے اس معاشرے میں قابلِ قبول نہیں بن سکتیں۔ جہاں تک عسکری صاحب کا تعلق ہے، ان کی کوئی بڑی دینی اہمیت نہیں ہے۔ وہ ایک ادیب تھے۔ دانش ور تھے لیکن دینی سند وہ نہیں تھے مگر مشرق کی ان سندوں میں بھی ایک بہت بڑی دینی سند رینے گینوں کے بارے میں ہے اور وہ ہے شیخ عبد الحلیم شیخ الازہر۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ہمیں عام طور پر یہ بات جاننی چاہیے کہ الازہر کے شیخ کی عالمِ اسلام میں دینی حیثیت عموماً کیا ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ تو وہ لوگ جو مفتی عبدہ پر بہت جان دیتے ہیں، وہ یہاں آ کر عبد الحلیم محمود پر بدک جاتے ہیں، جب عبد الحلیم محمود یہ کہتے ہیں کہ رینے گینوں کی فکری حیثیت غیر مسلموں کے درمیان افلاطون کے برابر اور مسلمان کے درمیان غزالی کے برابر ہے اور ان کی کتاب موجود ہے۔

عرب کی جاہلیت کی شدت کا تقاضا یہ تھا کہ وہاں دنیا کا سب سے بڑا رسولﷺ مبعوث ہو، یعنی عرب کی جاہلیت کی شدت جو تھی وہ اتنی بڑی پرابلم تھی کہ اس کے لیے ایک بڑی قوت درکار تھی۔

نمبر دو یہ کہ اگر آپ دیکھیں بیروت کا وہ ایڈیشن۔۔۔۔۔۔۔۔ جو غزالی کی کتاب ہے بہت مشہور اور بنیادی تو اس کی جو شرح کی ہے اور کو جس طرح ایڈٹ کیا ہے، شیخ عبد الحلیم محمود نے رینے گینوں کی تحریروں پر روشنی میں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ فکری طور پر رینے گینوں کی حیثیت جدید مسلم فکریات میں کیا ہے۔ جہاں تک اعتراضات کا وقوع ہے تو اعتراضات کا وقوع رینے گینوں پر جتنا ہوتا ہے اس سے دس ہزار گنا زیادہ امامِ اعظم ابو حنیفہ پر ہوتا ہے اور اس سے ایک لاکھ گنا زیادہ حضرت ابن العربی پہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اعتراضات کے وقوع سے کسی آدمی کی عظمت میں کمی واقع نہیں ہوتی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عسکری یا پھر ان سے روشنی پا کر دوسرے لوگ مغرب کی طرف کیوں جا رہے ہیں؟ کیا مسلمانوں کی اتنی بڑی اسلامی دنیا میں انہیں فکر کی کوئی روشنی نہیں ملتی؟ اہم سوال یہ ہے نا! تو آپ کو یاد ہے کہ عسکری نے رینے گینوں کے ساتھ ایک اور نام بھی بہت لکھا ہے، جس پر ہر حلقے میں ان کی بڑی تضحیک کی گئی ہے اور وہ ہے مولانا اشرف علی تھانوی۔۔۔۔۔۔۔۔ تو یہ اعتراض بھی ساقط ہوا اس اعتبار سے کہ عسکری کے Sources میں مغرب کے ساتھ انتہائی Authentic مشرق میں بھی موجود ہے۔ کیوں کہ مولانا اشرف علی تھانوی پر ہزار طرح کے اعتراضات کیے جا سکتے ہیں لیکن ان کی Authenticity کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔۔۔ تو جب لوگوں نے، میں آپ کو تحریریں دکھا سکتا ہوں جن میں لوگوں نے عسکری کا مذاق اُڑایا ہے اس بات پر کہ وہ مولانا اشرف علی تھانوی سے استناد کرتے ہیں تو ایک طرف ان لوگوں کی اخلاقی دیانت کا عالم یہ ہے کہ بنا پڑھے لکھے سوچے سمجھے، صرف اس بنیاد پر کہ اشرف علی تھانوی ایک مولوی کا نام ہے اور ایک ادیب اور دانش ور اور محقق کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی مولوی سے استناد کرے اور دوسرے طرف رینے گینوں۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، پہلی بات یہ ہے کہ ایک طرف اگر ہم اسلام کی آفاقیت کا نام لیں اور دوسری بات یہ کہیں کہ کسی آدمی کے افکار اس لیے قابلِ قبول نہیں ہیں کہ وہ مغرب میں پیدا ہوا تھا تو یہ کتنا بڑا تضاد ہے آپ کی فکر کا۔ تیسری بات اور کہ ایک تو اسلام کے اپنے حقائق ہیں اور ایک وہ انسانی نفسیات ہے جو زمانی اور مکانی عنصر سے تشکیل پاتی ہے اور زمانی اور مکانی عنصر سے تشکیل پاتی ہوئی نفسیات اور اسلام کے حقائق ملنے سے تہذیبی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے جن جگہوں پر ۔۔۔۔۔۔۔۔کا Source ہو گا، جن جگہوں پر ۔۔۔۔۔۔۔۔ پیدا ہو گا ان ہی جگہوں سے زوال بھی پیدا ہو گا۔

عرب کی جاہلیت کی شدت کا تقاضا یہ تھا کہ وہاں دنیا کا سب سے بڑا رسولﷺ مبعوث ہو، یعنی عرب کی جاہلیت کی شدت جو تھی وہ اتنی بڑی پرابلم تھی کہ اس کے لیے ایک بڑی قوت درکار تھی۔ اسی طرح اسلام جب عرب کے دائرے سے باہر نکلا تو عجمی نفسیات سے جو مسائل پیدا ہوئے ان کا حل عرب کے پیدا کیے ہوئے علوم نے نہیں دیا بلکہ علم الکلام کی بنیادیں جو ہیں وہ زیادہ تر دائرۂ عجم میں استوار ہیں۔ اسی طرح جب ہندوستان میں آیا تو آپ دیکھیے حضرت مجدّد الف ثانی کی شکل میں ایک نئی معرفت وحدت الشہود کی ہندوستان میں پیدا ہوئی۔ کیوں کہ وہ متعلق ہے اس خاص نفسیات سے جو ہندوستان میں پیدا ہوئی۔ کیوں کہ متعلق ہے اس خاص نفسیات کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں اور اس کے پورے تجربے سے گزرے ہیں وہ اور ان کے ساتھ کے ایسے لوگ جو ان حقائق کو جانتے ہیں جو اس نفسیات کے مسائل کو حل کر سکیں اور اس کے ڈیڈ لاک کو توڑ سکیں، ان دونوں کا اجتماع ہو۔ چناں چہ رینے گینوں اور مغرب کی پوری مسلم موومنٹ جس کے بارے میں ڈاکٹر حمید اللہ نے اپنی سیرت کی کتاب میں لکھا ہے کہ میرا یقین ہے کہ مغرب کے ذہنِ جدید کو کوئی رازی متاثر نہیں کر سکتا بلکہ اس کے لیے ایک ابن العربی چاہیے۔ اگر Crisis روحانی ہے، اگر بحران روحانی ہے تو بحران کا حل بھی تو روحانی ہو گا۔ اگر بحران عقلی ہوتا اور کلامی ہوتا تو اس بحران کا حل عقلی اور کلامی ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔ تو مغربِ جدید کی نفسیات سے پیدا ہونے والی پیچیدہ صورتوں کو سمجھنے کے اہل وہ لوگ زیادہ ہیں جو مغربِ جدید کے اس پورے Process سے گزر چکے ہیں اور انہوں نے اسلام کے حقائق کی روشنی میں اس کا مطالعہ کیا ہے۔ یہ اس کی Relevance اور اس Relevance کی Validity ہندوستان میں پیدا ہونے والی معرفت اور ایران میں پیدا ہونے والی معرفت اور نارتھ افریقا میں پیدا ہونے والی معرفت۔۔۔۔۔۔۔ یہ ساری معرفتوں کے مختلف النوع نظام جو ہیں، اس عمل کی تاریخی Validity کو Support کرتے ہیں۔

سوال:۔ اچھا فیض صاحب سے ایک بار جو میں نے انٹرویو کیا تھا تو اس میں جو گفتگو ہوئی تھی تو ان کا کہنا تھا کہ بھئی رینے گینوں کو خود فرانس میں ہی کوئی نہیں جانتا یا فرانس میں ہی ان کے اثرات بہت کم ہیں چہ جائے کہ ان کو آپ یہاں متعارف کرائیں۔
سراج منیر: بالکل صحیح! گویا کسی بات کے حق ہونے کی پہلی بنیادی دلیل یہ ہے کہ فرانس میں اسے زیادہ مانا جائے۔

سوال:۔ چوں کہ ان کا تعلق فرانس سے تھا لہٰذا جو لکھنے والا ہوتا ہے وہ پہلے گرد و پیش کو متاثر کرتا ہے۔ ان معنوں میں ان کا کہنا یہ تھا کہ جب وہ اپنے گرد و پیش کو متاثر ہی نہیں کر سکتے تو۔۔۔۔۔
سراج منیر: کوئی ضروری نہیں، مثلاً ابن العربی جو تھے وہ اسپین کے رہنے والے تھے۔ متاثر انہوں نے دمشق اور انڈیا کو بہت کیا۔ وہاں تو ان کا نام بھی بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ یوں تو کوئی دلیل نہیں۔ اس لیے کہ جب آپ حق کے Context میں بات کر رہے ہیں تو پہلا سوال یہ ہے کہ رینے گینوں Relevant کن لوگوں کے لیے ہیں۔ رینے گینوں ان لوگوں کے لیے Relevant ہیں جو اپنی نجات کا راستہ اسلام میں دیکھتے ہیں یا ما بعد الطبیعیاتی حقائق میں دیکھتے ہیں۔ عہدِ جدید کا فرانس نجات کے راستے کا تصور نہیں رکھتا۔ عہدِ جدید کے فرانس کی ساری تاریخی Movement جو ہے وہ Absurdism کی طرف ہے۔ لہٰذا رینے گینوں شاید تین سو سال بعد جا کر وہاں Relevant ہوں گے۔ بعض اوقات ایسا بھی تو ہوا ہے نا انسانی تاریخ میں، خود بلکہ بہت ہی اچھی مثال آپ دیکھیے کہ اس کے تراجم جو ہیں ارسطو کے اس نے مسلمانوں کے اثرات سے بہت پہلے کر لیے تھے لیکن مغرب کی صورت حال Medivial مغرب کی صورتِ حال اس کے اثرات کو قبول کرنے کے لیے ابھی تیار نہیں تھی، لہٰذا ارسطو اور افلاطون کے ان ترجموں کو کسی نے نظر بھر کے بھی نہیں دیکھا۔ مگر جب ابنِ رشد کا Influence پہنچا اور زمین تیار ہوئی تو ارسطو اور افلاطون اس سے Relevant ہو گئے۔ تو یہ تو بڑا Simplistic جواب ہے بہت Simplistic ہے اور فیض صاحب جیسے سادہ دل آدمی تھے ان سے یہی توقع رکھی جا سکتی ہے۔

سوال:۔ اچھا آپ نے تنقیدی مضامین بھی لکھے، افسانے بھی لکھے ہیں، شاعری بھی کی ہے، کر رہے ہیں تو آپ نے اپنے لیے کون سا میدان منتخب کیا ہے یا سارے ہی میدان آپ کے میدان ہیں؟
سراج منیر: اصل بات یہ ہے کہ یہ جو میدان کا انتخاب ہوتا ہے نا یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ایک تو سچی بات ہے ذرا۔۔۔۔۔۔۔۔ اس اعتبار سے کہ یہ شعبے بنے ہوئے ہیں۔ میں کوشش کروں تو شاید کسی شعبے میں کچھ تھوڑا سا کام کر لوں۔ لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں جس مسئلے کا شکار ہوں اس میں مجھے بہ یک وقت کئی سطحوں پر کام کرنا پڑے گا۔ اس کی بعض سطحیں ایسی ہیں جو Rational Thought کی گرفت میں آ جاتی ہیں تو تنقیدی مضامین میں انہیں بیان کر دیتا ہوں۔ بعض چیزیں ہیں جو کسی تخلیقی میڈیم کے واسطے سے سمجھ میں آتی ہیں تو بعض افراد پہ جو میں نے مضامین لکھے ہیں، ان میں کچھ ذکر آ گیا ہے۔ بعض اس کی پُر اسرار سطحیں ہیں جو گرفت میں نہیں آتیں تو میں کوشش کرتا ہوں کہ شاید کہانی کے ذریعے گرفت میں آ جائیں یا شاید شاعری کے ذریعے۔ تو یہ ایک Private Activity ہے کہانی اور شاعری اور میں تو ڈر کے مارے شائع بھی نہیں کراتا تھا اپنی چیزیں۔

سوال:۔ لیکن بنیادی حوالہ تو کوئی نہ کوئی ہوتا ہے۔ جیسے عسکری صاحب نے افسانے بھی لکھے ہیں، تنقید بھی لکھی ہے لیکن بہر حال ان کی جو شناخت یا ان کی جو پہچان ہے وہ تنقید کے حوالے سے ہے۔ سلیم احمد صاحب کے ہاں معاملہ یہی ہے۔ یا دوسرے اور بھی بہت سے لوگ ہیں جن کی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔
سراج منیر: دیکھیے! سلیم احمد کی مثال آپ نے بہت اچھی دی ہے اور آپ نے ہی ان سے انٹرویو میں پوچھا تھا ان کی شاعری کے بارے میں تو وہ اپنے آپ کو بنیادی طور پر ڈراما نگار سمجھتے تھے یعنی جو اپنی بنیادی حیثیت کا تعین کرتے تھے تو عموماً کہا کرتے تھے کہ میں تو ڈراما نگار ہوں بنیادی طور پر اور دنیا ان کو نقاد کہتی تھی، تو آدمی کا اپنے بارے میں تصور کچھ اور ہو سکتا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے یعنی اگر مجھے فرصت ہو تو میرا جی چاہتا ہے کہ میں یہ سارے کام ایک ساتھ کروں اور میرے عہد کے جن جن طبقات میں ان کی Relevance پیدا ہو وہاں یہ مفید ثابت ہوں لیکن زیادہ تر کام میں نے تنقید میں ہی کیا ہے۔ زیادہ تر توجہ میں نے تنقید کو ہی دی ہے۔ آئندہ کا حال معلوم نہیں۔ شاعری میں مجھے خود سے بڑی توقع بھی نہیں، یعنی توقع تو خیر تنقید میں بھی کوئی اتنی نہیں۔ اس لیے کہ مسائل کی نوعیت اتنی پیچیدہ اور اتنی بڑی ہے کہ آدمی کانپ جاتا ہے اور اسے شبہ ہوتا ہے کہ میں اس کی چند ابتدائی باتوں کو بھی گرفت میں لے سکوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔ تو بہت عرصے تک تنقید لکھنے کے بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ یہ جو بنیادی مسائل ہیں وہ تو اب گرفت میں کچھ آنے شروع ہوئے ہیں اور اس کا مقصد بھی خلقِ خدا کو فائدہ پہنچانا نہیں ہے بلکہ میرا مزاج کچھ ایسا واقع ہوا ہے کہ جب تک میں کسی مسئلے پر تفصیل سے لکھ نہ لوں یا بات نہ کر لوں، وہ مسئلہ خود انی جہات میں میرے ذہن میں واضح نہیں ہوتا۔ تو یہ صورت ہے۔ ویسے اب تک جو کام میں نے کیا ہے وہ زیادہ تر تنقید میں ہے اور کچھ حصہ اس کا آپ کہہ سکتے ہیں کہ فلسفۂ تہذیب سے متعلق ہے جس کی اب کتاب آنے والی ہے۔

سوال:۔ ایک تو آپ ادارۂ ثقافت اسلامیہ کے ڈائریکٹر ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ادارے کی تاریخ کے سب سے کم عمر ڈائریکٹر ہیں آپ۔۔۔۔۔۔۔ تو دو باتیں پوچھنا چاہتا ہوں۔ ایک تو یہ کہ ادارے میں آپ کے آنے کے بعد جو اب تک آپ نے کیا ہے، اس کی نوعیت یا اس کا سلسلہ کیا ہے، کس حد تک کام کیا آپ نے، کتنا اضافہ کیا؟ اور دوسری بات یہ کہ یہ بات جو آپ کے سلسلے میں کہی جاتی ہے کہ نہایت کم عمری میں ایک بڑے منصب پہ آپ کو فائز کیا گیا ہے، اس کے دفاع میں آپ کیا کہیں گے؟
سراج منیر: پہلی بات تو یہ ہے کہ ادارۂ ثقافت اسلامیہ جس وقت میری خواہش کے خلاف میرے حوالے کیا گیا اور اس کے گواہ موجود ہیں تو میں تو انگلستان اور سعودی عربیہ سے چھٹی پہ آیا ہوا تھا تو اس وقت کے بعد لوگوں نے اور ادارے کی جو Governing Body ہے اس کے لوگوں نے، انہوں نے مجھ سے پہلے بھی کہا تھا کہ میں ادارے میں آ جائوں اور اس وقت تو میں بہت ہی کم عمر تھا۔ اس لیے کہ یہ چار سال پہلے کی بات ہے۔ پتا نہیں اس وقت کیا ہوتا؟ بہر حال، جب انہوں نے یہ میرے حوالے کیا تو ادارہ ان کے اپنے قول کے مطابق ڈیڈ تھا اور یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ یہ بات کہی گئی تھی کہ اس کی کتابیں مفت تقسیم کرنا ہیں کیوں کہ وہ کتابیں فروخت نہیں ہوتی تھیں۔ اس وقت سے عالم یہ ہے کہ میں نے ادارے میں جو کچھ کیا، ایک سال کا عرصہ اداروں کی تعمیر و تشکیل میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ پہلی تو میری کوشش یہ تھی کہ مسلم تہذیب کتاب کی پروڈکشن میں دنیا کی اعلیٰ ترین تہذیب سمجھی جاتی ہے یعنی کتاب کو مسلمانوں نے اتنی خوب صورتی اور اتنی محبت دی چوں کہ ان کی تہذیب کی بنیاد کتاب ہے۔ یہ بات ایک صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے لکھی ہے کہ حتیٰ کہ مسلمانوں کی آرکی ٹیکچر بھی کتاب پر مبنی ہے اور وہ اپنے آرکی ٹیکچر میں دیواروں کی تزئین اس اعتبار سے کرتے ہیں جس اعتبار سے کتابوں کے حاشیوں کی تزئین کرتے ہیں۔

میں نے پہلی کوشش یہ کی کہ کتابوں کا ایک جو صوری حسن ہے وہ مسلم جمالیات کا representative ہو، چناں چہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابتدا میں ہی ہم اپنی کتابیں جب لائے تو ان کا جو پروڈکشن کا نظام تھا اور ان کی جو پیش کش تھی اس نے پاکستان میں کتاب کی پروڈکشن کے نظام کو متاثر کرنا شروع کیا۔ حتیٰ کہ بہت سے پبلشرز نے ہمارے ٹائٹل من و عن نقل کر لیے اور ان میں بڑے بڑے پبلشرز شامل ہیں اور اس میں ہم نے کوشش یہ کہ کہ فکری سطح پر یہ سب چیزیں سامنے آ جائیں۔ پہلے یہ تھا کہ چند کتابیں دو یا تین کتابیں آتی تھیں سال میں۔ تو ابھی مجھے یعنی باقاعدہ کام شروع کیے ہوئے تقریباً ایک سال ہوا اور تیئس کتابیں آ چکی ہیں۔ ان تیئس کتابوں میں بہت سی نئی کتابیں ہیں جن میں بہت Relevant موضوعات پر کتابیں ہیں اور تقریباً چالیس سے زیادہ کتابوں پر یا تو کام ہو کے وہ مسودے ہمارے پاس پہنچ چکے ہیں یا کہ ان پر کام ہو رہا ہے اور وہ ساری کتابیں جو ہیں کم و بیش عالمی سطح کی کتابیں ہیں۔ یہ بات بھی موجود ہے ریکارڈ پر اگرچہ مجھے اپنی زباں سے نہیں کہنا چاہیے کہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ادارے کی تاریخ میں اس سے زیادہ Productive سال کوئی اور نہیں آیا اور یہ میٹنگ میں کہی گئی بات ہے۔ خیر یہ سب معاملات تو ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت پوری اسلامی دنیا میں مسلمانوں کے وہ ادارے جو تہذیب و ثقافت سے تعلق رکھتے ہیں، ان کا ایک مخصوص رول ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس انٹرنیشنل چیلنج کو سامنے رکھا جائے جو اس وقت مسلم دنیا کو درپیش ہے۔ میں نے اس امر کی کوشش کی ہے کہ اس چیلنج کے بالمقابل ہم ادارۂ ثقافت اسلامیہ کو اس قابل بنائیں کہ وہ ایک طرف مسلم تاریخ کے قیمتی تجربوں کا تحفظ کرے۔ دوسری طرف وہ عہدِ جدید میں پیدا ہونے والے سوالات کا جواب دے اور تیسری طرف اس کا ایک ایسا دائرہ ہو جو اسلام کی تہذیبی معنویت مختلف سطحوں اور تہوں پر ثابت کرے۔ چناں چہ اس سلسلے میں بہت Relevant مواد تیار ہو رہا ہے اور ملک کے بہت نمایاں لوگ اب ادارے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ ادارے میں جو کتابیں چھپ جاتی تھیں وہ کتابیں کہیں ملتی نہیں تھیں۔ چناں چہ ادارے کی کتابوں کی Distribution میں چھہ ماہ کے اندر چار سو فی صد کا فرق پڑا ہے۔ ہاں یعنی اس میں اضافے کی رفتار جو ہے وہ چار سو فی صد ہے اور یہ پاکستان میں اداروں کی تاریخ میں سب سے بڑا واقعہ ہے Distribution کے سلسلے میں۔ جہاں تک رہ گیا کم عمری کا معاملہ تو میں آج سے سات آٹھ سال پہلے بھی بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہ چکا ہوں۔ ایسے ادارے جو عالمی سطح پر کام کر رہے ہیں اور ان کے ریسرچ ڈویژن میں سے بعض کی تنظیم بھی میں نے کی ہے اور وہاں بھی ابتدا میں یہ کم عمری آڑے آئی تھی لیکن یہ میرا ذاتی قصور نہیں ہے۔ اس کے لیے میں جواب دہ ہو نہیں سکتا۔

اچھا اب دیکھیے! ہمارا رسالہ ’’المعارف‘‘ ہے۔ اس کی ایک پوری تاریخ ہے۔ اس کا دائرۂ کار بھی بہت محدود ہو گیا تھا۔ معیار بھی گر گیا تھا۔ لیکن اب دو شمارے اس کے آئے ہیں۔ وہ سہ ماہی ہو گیا ہے اور اس کے اندر اب ایسا مواد آتا ہے جو نہ صرف یہ کہ علمی سرکلز کو متاثر کر رہا ہے اور تحقیقی اعتبار سے۔ غیر مطبوعہ مواد سے بہت سا کام اس میں شامل ہوتا ہے بلکہ ایسی چیزیں بھی ہیں جو ہماری تاریخ کو براہِ راست متاثر کر رہی ہیں۔ اخبارات میں آپ دیکھیں بعض اوقات Controversy ہوتی ہے تو کسی Quarterly کے لیے یہ بڑی بات ہوتی ہے کہ وہ ایسا مواد پیش کر سکے۔ اس کے علاوہ اب ہم کچھ اور جہتوں میں کام کر رہے ہیں۔ آج کل تیاری ہو رہی ہے، سیمینار کے سلسلے میں، پہلے بھی ہم نے کچھ جلسے بڑے کیے ہیں، مولانا حامد مدنی کے سلسلے میں اور دیگر بھی۔ یہ قصہ ختم ہو چکا تھا اس Institute سے۔۔۔۔۔۔۔۔ تو چار پانچ جلسے پچھلے سال میں کیے گئے بڑے۔ اب ہم ایک بہت بڑا سیمینار کر رہے ہیں، خطاطی پر اور غالباً وہ بین الاقوامی سیمینار ہو گا۔ اس لیے کہ ہم نے مختلف ملکوں سے رابطہ قائم کیا ہے اس سلسلے میں۔ تو کئی جہتوں میں بہ یک وقت کام ہو رہا ہے اور یہ کوئی میرا ذاتی کارنامہ نہیں ہے بلکہ ادارے میں جو کارکن ہیں اور جنہیں کوئی Motivation یا سمتِ سفر مہیا نہیں تھی، وہ میں کوشش کرتا ہوں کہ فراہم کروں۔ اس میں ان کے ساتھ Participate کر کے ہم لوگ کوئی راستہ نکالیں۔ تو الحمد للہ یہاں بڑے سینئر لوگ موجود ہیں۔ مولانا انیس مدنی ہیں۔ 80 سال ان کی عمر ہے۔ برصغیر کے بڑے علما میں ان کا شمار ہے۔

مولانا اسحاق بھٹی ہیں اور ان کے علاوہ اور لوگ ہیں تو سب یہ ان لوگوں کا کیا دھرا ہے۔ میرا کوئی اتنا اس میں دخل نہیں ہے۔ بس یہ ہے کہ اس کے جو انتظامی معاملات ہیں جو ان کے لیے سہولتیں چاہیے ہوتی ہیں، اس کی میں دیکھ بھال کرتا ہوں، تو اتنا ضرور ہے کہ ادارے کی نوعیت میں بہت بڑا فرق پڑا ہے اور ایک سال میں ادارے نے بہت مختلف جہتوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔ اب مثلاً ایک اور منصوبہ ہے Research Guidance Centre جس پر کام ہو رہا ہے۔ کیوں کہ ہمارا خیال یہ ہے کہ ملک میں ریسرچ جو ہے اس کی Methodology میں ایک زوال کی شکل نظر آ رہی ہے تو کم از کم وہ دائرۂ کار جو اسلامی تہذیب وثقافت کے اس میں ہے، اس میں ہم Methodology پہ کچھ کام کر رہے ہیں اور اس کے پیشِ نظر Idea یہ ہے کہ ابھی جس ریسرچ Methodology پر عمل ہو رہا ہے وہ اسلامی تہذیب کے مظاہر کو سمجھنے کے لیے ناکافی ہے بلکہ اکثر جگہوںپر گمراہ کن ہے تو اب کوشش کر رہے ہیں کہ ایسی تربیت کا نظام اس ادارے سے پیدا ہو جائے جو اس سلسلے میں مفید ہو اور اس میں ہم نے بہت بڑے اور ریسرچ میں گہری نظر رکھنے والے جو لوگ ہیں، ان سے رابطہ قائم کیا ہے۔ اسی طرح ادارے سے باہر ایک Net work ہم نے محققین کا قائم ہے جو ادارے کے لیے کام کرتے ہیں مختلف صورتوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اس طرح رفتہ رفتہ کوشش یہ ہے کہ یہ ادارہ مؤثر ہو اور خیال کی ایک نئی سطح پیدا کرے۔ اب یہ ہو سکتا ہے یا نہیں ہو سکتا یہ بہت کچھ خارجی حالات پہ Depend کرتا ہے۔

ختم شد

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: