تقسیم ہند, پنجاب اور آج کا عام پنجابی : انوار احمد

2
  • 130
    Shares

تقسیم ہند کے دوران فسادات میں مشرقی اور مغربی پنجاب میں معصوم اور امن پسند عوام جو صدیوں سے ساتھ ساتھ رہ رہے تھے اچانک انسان سے وحشی درندے بن گئے۔ دونوں طرف خون کی ہولی کھیلی گئی پنجابیوں نے خوب ایک دوسرے کا خون بہایا اور کئی لاکھ افراد لقمہ اجل ہوئے۔ اسکے علاوہ لوٹ مار, آتشزدگی اور آبروریزی کے واقعات سے انسانیت کی جس طرح تذلیل ہوئی وہ شاید تاریخ کبھی نہ بھلا پائے گی۔۔۔

بٹوارے کے اس عمل میں ڈیڑھ کروڈ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے اور اپنی شناخت مٹا کر ایک اجنبی زمین پر بسنے پر مجبور ہوئے۔ کچھ یہی عمل کلکتہ اور بہار میں بھی ہوا اور وہاں بھی قتل و غارتگری کا بازار گرم ہوا اور سینکڑوں ہزاروں معصوم لوگ “تاریک راہوں میں مارے گئے” اسکے علاوہ یوپی, سی پی اور دوسری بہت سی جگہوں پر انسانیت سوز مظالم اور بربریت کے مظاہرے دیکھنے میں آئے۔۔۔ یوپی, سی پی اور دیگر علاقوں سے لوگ نقل مکانی کرکے نئے وطن جانے کیلئے ریل گاڑیوں کے ذریعے روانہ روانہ ہوئے اور اکثر منزل تک پہنچنے سے پہلے شہید کردئے گئے۔ چونکہ تمام راستے مشرقی پنجاب سے ہوکر گزرتے تھے جہاں ہندو اور سکھوں کے مسلح جتھے ٹرینوں پر حملہ کردیتے تھے اور بے دردی سے مہاجرین کو قتل کردیتے۔ بعض اوقات صرف لاشوں اور زخمیوں سے بھری گاڑیاں لاہور اور امرتسر کے اسٹیشن پہنچتیں۔ کچھ یہی حال یہاں سے ہجرت کرنیوالے شرنارتھیوں کا ہوا۔ انکو بھی مقامی مسلم گروہوں نے اسی طرح لوٹا اور تہ تیغ کیا۔۔۔۔ الغرض دونوں طرف انسانیت سسکتی رہی اور وحشت و بربریت کا عفریت ناچتا رہا۔۔۔۔

عام پنجابی کا استحصال بھی کم و بیش اتنا ہی ہوا اور ہو رہا ہے جتنا کہ باقی دوسرے صوبوں کے عوام کا۔۔ لیکن شاید اسکو اسکا ادراک نہیں۔۔۔ المیہ یہ ہے کہ وہ بھی دانستہ یا نادانستہ طور پر وہی زبان بول رہا ہے جو اسکی اشرافیہ کا بیانیہ ہے اور وہ دوسروں کو خود سے کم پاکستانی اور مسلمان سمجھتا اور غداری کے سرٹیفلکیٹ جاری کرتا ہے

دونوں فریقین نے اس قتل عام کو اپنی اپنی شہادت سے تعبیر کیا لیکن ہر دو فریق آج تک اس صدمہ کو نہ تو بھلا پائے اور نہ ہی انکے دلوں سے اپنی سابقہ مٹی کی محبت کم ہوئی۔۔ میں بہت سے ہندو اور سکھوں سے ملا جو اب بھارتی شہری ہیں اور اچھی زندگی گزار رہے ہیں لیکن انکے دلوں میں ابتک لاہور, گجرانوالہ اور وہ آبائی جگہیں جہاں سے انہوں نے یا انکے بزرگوں نے ہجرت کی گئی تھی آباد ہیں۔ اسی طرح ہندوستان سے ہجرت کر کے آنیوالے مہاجرین کے خوابوں میں بھی لکھنئو, دلی اور حیدرآباد ستر سال گزرنے کے بعد بھی سجے ہوئے ہیں۔۔۔

اردو ادب میں اس موضوع پر بہت کچھ لکھا گیا۔ شاعروں و ادیبوں نے رنج و الم کی وہ داستاتیں تحریر کیں جن کو پڑھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ منٹو, کرشن چندر, امرتا پریتم, ساحر, بیدی, خشونت سنگھ اور گلزار نے بٹوارے کے دوران ہونے والے واقعات اور خونریزی پر رلادیا۔۔۔۔ ایک نیا ادب تخلیق ہوا جو ماضی میں لگے زخم کو بھرنے ہی نہیں دیتا۔۔۔۔۔

اب آتے ہیں آج کے موضوع پر۔ جیسا کہ میں اوپر لکھ چکا ہوں کہ تقسیم ہند کے دوران پنجاب میں بدترین خونریزی ہوئی بالخصوص مشرقی پنجاب سے ہجرت کرکے آنیوالے پنجابی اسکا شکار ہوئے اور بے گھر ہوئے جبکہ مقامی پنجابی اس افراتفری اور خونریزی سے محفوظ رہا بلکہ کسی حد تک ہندو اور سکھوں کی جائیدادوں کی لوٹ مار اور قتل و غارتگری کا حصہ بھی رہا۔۔۔

تقسیم سے پہلے ہمارے پنجاب میں متمول اور بڑے زمینداروں یا تو ہندو تھے یا سکھ جبکہ مقامی مسلمان کی اکثریت انکے مزارعے اور کسان تھے۔۔ اور جو چند مسلمان جاگیردار تھے بھی وہ محض انگریزوں کی عنایتوں کے مرہون منت تھے مثلا حیات فیملی, مخدوم, چوہدری, ٹوانہ اور دوسرے بہت سے انگریزوں کی غلامی اور وفاداری نبھاہنے کر صلے میں خطابات اور مربعوں سے نوازے گئے۔۔ ان خاندانوں کی تفصیلات ایک مستند کتاب Cfieftans of Punjab میں درج ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔۔۔

یہ بھی پڑھیئے: پنجاب کب کھڑا ہوگا؟ اکمل شہزاد گھمن

 

تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے ثمرات پنجاب نے خوب حاصل کئیے آور اسکی پوری پوری قیمت بھی وصول کی اور کر رہے ہیں لیکن ایک عام پنجابی اور مراعات یافتہ پنجابی دو الگ گروہ ہیں۔۔ عام پنجابی کا استحصال بھی کم وبیش اتنا ہی ہوا اور ہورہا ہے جتنا کہ باقی دوسرے صوبوں کے عوام کا۔۔ لیکن شاید اسکو اسکا ادراک نہیں۔۔۔ المیہ یہ ہے کہ وہ بھی دانستہ یا نادانستہ طور پر وہی زبان بول رہا ہے جو اسکی اشرافیہ کا بیانیہ ہے اور وہ دوسروں کو خود سے کم پاکستانی اور مسلمان سمجھتا اور غداری کے سرٹیفلکیٹ جاری کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے باقی تین صوبوں کی اکثریت اس سے متنفر ہیں اور پنجابی استعمار سے نکلنا چاہتی ہے۔ مشرقی پاکستان کے لوگوں کا پاکستان کی تشکیل میں سب سے زیادہ حصہ تھا لیکن انکا بری طرع استحصال کیا گیا چونکہ وہ سیاسی شعور رکھتے تھے اور جغرافیائی طور پر بھی دور تھے لہذا الگ ہوگئے جبکہ آج باقی تین صوبوں کے عوام اپنے حقوق کی جب بات کرتے ہیں تو بجائے یہ کہ انکی سنی جائے اور جائز مطالبات تسلیم کئیے جائیں انکو دشمن کا ایجنٹ اور علیحدگی پسندی سے تعبیر کیا جا رہا ہے جو کسی بھی طور مناسب نہیں اور اس طرز عمل سے علاوہ نقصان اور کچھ نہیں ہونے والا جو ملکی سالمیت کیلئے زہر قاتل ہے۔۔۔۔

خدا کرے کہ میری ارض پاک پہ اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے ثمرات پنجاب نے خوب حاصل کئیے آور اسکی پوری پوری قیمت بھی وصول کی اور کر رہے ہیں لیکن ایک عام پنجابی اور مراعات یافتہ پنجابی دو الگ گروہ ہیں۔۔ عام پنجابی کا استحصال بھی کم وبیش اتنا ہی ہوا اور ہورہا ہے جتنا کہ باقی دوسرے صوبوں کے عوام کا۔۔ لیکن شاید اسکو اسکا ادراک نہیں

  2. مضمون کچھ اچانک ختم ہو گیا اور جو بات عنوان میں کہی گئی تھی آخر میں کہہ کر مضمون ختم کر دیا گیا- بہتر ہوتا کہ عام پنجابی سے متعلق مزید کچھ کہا جاتا اور یہ بھی کہ آخر پھر عام پنجابی کو ایسا کیا کر نا چاہئیے کہ اس کے بارے میں غلط تاثر ختم ہو سکے؟؟؟ میرا خیال ہے اس مضمون میں مزید پھیل ے کی گنجائش ہے، انوار بھائی توجہ کیجئیے شکریہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: