ایک شامِ ہجر کا قضیہ ——- عزیز ابن الحسن

0
  • 180
    Shares

صاحب یہ میـرا نامـۂ تقدیر دیکھیے
اک شامِ ہجر اس میں کئی بار درج ہے

نادرا کے دفتر میں اپنے غلط اندراجات کی شکایت لے جاتے تو آپ نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہوگا مگر یہ جو شاعر لوگ ہوتے ہیں نا ان کے کھاتے دوسری طرح کے ہوتے ہیں. ہمارے ایک بڑے شاعر ایک دفعہ جب غمِ جہاں کا حساب کرنے بیٹھے تھے تو انہیں اپنا محبوب بے طرح یاد آیا تھا. انہی کے ایک ہم زلف مرکزی مالیاتی ادارے سے اپنا آپ چھپانے والوں کیطرح اپنا نامۂ اعمال اسلیے داورحشر سے چھپاتے پھرے تھے کہ اس میں کچھ پردہ نشینوں کے نام آگئے تھے. مگر ہمارے فہیم شناس کاظمی نے کافی عرصے سے ہمیں ایک اور ہی طرح کی دُبدھا میں ڈال رکھا ہے. آج اسی کی روداد پیش ہے۔

اب میں اسے حافظے کی خرابی کہوں یا ذوق کی حسِ شدید (Over Sensitivity) کہ میں نے پہلے پہل جب درجِ بالا شعر شاعر کے نام کے بغیر پڑھا تو اسپر کسی پرانے استاد کی کاوش کا گمان ہوا تھا۔

اچھے شعر میں ایک ایسا تخلیقی ابہام پایا جاتا ہے جو نام نہاد مگُھمتا کے نام پر مفہوم کو غارت کرنے کے بجائے اسے ایک دُبدھا میں رکھ کر کثرتِ معنی کے امکان کھولتا ہے۔

میرے نزدیک اچھے شعر کی دیگر خوبیوں کے علاوہ ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں ایک ایسا تخلیقی ابہام پایا جاتا ہے جو نام نہاد مگُھمتا کے نام پر مفہوم کو غارت کرنے کے بجائے اسے ایک دُبدھا میں رکھ کر کثرتِ معنی کے امکان کھولتا ہے۔ نیے شعرا میں چونکہ پرت دار شاعری کا چلن کم ہوگیا ہے اسلیے ذہن ایک مدت تک اس شعر کے ساتھ کسی اگلے مرصع کار استاد کا خیال باندھتا رہا تاآنکہ پتا چلا کہ اس کے خالق ہمارے فہیم شناس کاظمی ہیں۔

یہ شعر بظاہر بہت سادہ اور سامنے کا ہے مگر غور کرنے پر سوالات کا ایک سلسلہ سامنے آتا ہے:
اول یہ کہ شعر کا تخاطب کس سے ہے یعنی صاحب کہہ کر کسے مخاطب کیا گیا ہے؟
دوم نامۂ اعمال میں شامِ ہجر کے متعدد اندراجات کی طرف متوجہ کر کے شاعر کیا کہنا چاہ رہا ہے؟

۱- کیا وہ اس سے کوئی فائدہ لینا چاہ رہا ہے؟
۲- یا وہ کسی ضرر سے بچنا چاہ رہا ہے؟

نامۂ اعمال کے قرینے سے گمان ہوتا ہے کہ مخاطب داورِ حشر ہے اور شاعر دنیا میں ہجر کے مسلسل دکھوں کا مداوا طلب کر رہا ہے۔
مگر صاحب کا کلمۂ تخاطب اور مصرعے کی شوخی داورِ حشر مراد لینے میں قدرے مانع بھی ہے. اس سے کسی بے تکلف دوست کا گمان ہوتا ہے۔

شامِ ہجر کے متعدد بار اندراج کے شکوہ کا کراماً کاتبین سے ہونے کا بھی امکان ہے. لیکن یہ سوال ہنوز جواب طلب ہے کہ آیا یہاں غلطئ اندراج کی تصحیح مطلوب ہے کہ ایک ہی شامِ ہجر کو باربار لکھ دیا گیا ہے، اسے درست کیا جائے یا یہ کہ اُس ایک شام کی سختی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس نے زندگی کی دیگر مسرتوں کو اپنی مہجوریوں کی شدت اور المناکیوں کی سختی سے بے کیف کر دیا ہے. اگلا سوال یہ بھی ہے کہ شاعر یہ سب کیوں کہہ رہا ہے؟ کیا اب سے اس شامِ ہجر کا ازالہ مطلوب ہے یا وہ امالہ چاہتا ہے یا یہ محض اسکا اظہارِ تحیر ہے. اسکا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خود کارکنانِ قضا و قدر نے یہ محسوس کیا کہ اس ایک شام کی حرمانی اتنی شدید تھی کہ محض ایک دفعہ کا اندراج اسکی شدت کے بیان کیلیے ناکافی تھا لہذا اسے متعدد بار درج کیا گیا تاکہ عاشقِ مہجور کیلیے تلافی کچھ صورت بن سکے..!
ظاہر ہے کہ شعر میں ان باتوں کا کوئ جواب نہیں ہے. شعر تو بس ایک حالت کا اظہار ہے جس میں قدرے شوخئ بیان بھی ہے کہ ہمارا گناہ ایک دفعہ درج ہوچکا ہے اب عاشق/محبوب کو مزید سامانِ رسوائی نہ بنایا جائے۔

یہی پرت در پرت اٹھنے والے سوالات ہی شعر کی خوبی ہیں. معنی کے یہ امکانات شعری جدیدیت کے معنی غارت کرنے والے ابہام* سے زیادہ اطرافِ معنی کے گوشوں سے نکلنے والے اشاروں سے پیدا ہورہے ہیں۔
شعر کی اگلی اور میرے اعتبار سے بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ درج بالا امکانات و تفصیلات پر غور کئیے بغیر پہلی پڑھت میں ہی شعر کا پُر جمال بیانیہ قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے جو کسی بھی اچھے بلکہ بہت ہی اچھے شعر کی اہم ترین خوبی شمار ہوتی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نوٹ: * یہاں شعری جدیدیت کے ابہام سے اشارہ سن ساٹھ کی دہائ میں اردو کے ادبی مباحث میں اٹھنے والے ابہام و اظہار کے مسائل کی طرف اشارہ ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: