حقہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ عمر فرید ٹوانہ

0
  • 17
    Shares

رونق ہو جاؤ گھٹ وے
چل میلے نوں چلی اے

اس گاؤں کا حدود اربعہ بیان کریں تو گاؤں کے شمال اور جنوب میں دو بڑے بڑے قبرستان جبکہ مشرق اور مغرب میں دو بڑے بڑے چَھپڑ واقع ہیں۔ مزید تفصیل فراہم کریں تو شمال مغربی کونے میں اقلیتی چھوٹا قبرستان اور جنوب مشرقی کونے میں چھوٹا چَھپڑ واقع ہے۔ جبکہ انتہائی جنوب میں ماضی قریب ہی کا واقعہ ہے کہ اس ملک کی بڑی و اہم فوجی چھاؤنیوں میں سے ایک کی داغ بیل پڑی تھی۔ اب جس کے نام پہ یہاں بہترین طریق زندگی جو کہ بہترین نمونہء تعمیر و جدید ترین سہولیات سے عبارت ہے کی امرت بیل آس پاس کے دوسرے پنڈوں کی طرح اس گاؤں اور اسکی بہترین زمینوں کو بھی تقریباً نگل چکی ہے۔

تفصیل در تفصیل لکھیں تو گاؤں کی سطح عین وسط سے ایسی ابھری ہوئی جاذب و بھلی لگتی ہے جیسے طرف اندرون حسینہ کی کلائی پہ ابھرا ہوا پھوڑا جاذب و بھلا لگتا ہے۔

اس ابھار کے متعلق روایت ہے کہ یہ پرانے گاؤں کی قبر ہے۔ جس کے متعلق گمان غالب ہے کہ رنجیت سنگھ کے دور میں باوجوہ کھودی گئی تھی۔ روایت ہے کہ کبھی اس ابھار پہ گوسائیں سردار کی حویلی اور محل سرا تھی۔ اب وہاں گاؤں کی بڑی مسجد واقع ہے۔ زبان زد عام، اندرا گاندھی کا ننھال ہونے، مشہور زمانہ ڈکیت المعروف رابن ہُڈ ثالث بینکہ سنگھ کا ہمسایہ گاؤں ہونے اور کسی جگ والے میلے کا مرکزی مقام ہونے کا اعزاز، تعارف میں نتھی رکھتا ہے۔ اول الذکر و آخرالذکر کی ہمیں کوئی سند مہیا نہ ہوسکی لیکن ثانی الذکر پہ ہمیں قدرے دلی ٹُھکائی میسر آئی۔

بابا حُقہ بیٹھے بیٹھے اپنے حقے کی طرح گڑگڑانے لگا۔ اوئے سُنڈی تم تو پڑھنے لکھنے میں بھی اچھے بھلے تھے اوپر سے تم نے پردیس بھی دیکھ رکھا ہے۔ کیا ہر جگہ ایسا ہی ہورہا ہے؟۔
کیا کیسا ہی ہورہا ہے؟۔
یہ نظر نہیں آرہا تمہیں کیا حال ہورہا ہے؟۔

بابا کہاں دھوپ میں بال سفید کرتے رہے ہو۔ قدرت کا اصول ہے بڑی مچھلی چھوٹی کو نگل رہی ہے۔
کیا چھوٹا ہونا جرم ہے؟۔ چلتے پھرتے چار حرف انگریزی سیکھ کے آج میرے بچے مجھے بہترین لائف سٹائل کا درس دے رہے ہیں۔ کیا ہمارا رہن سہن نیچ ہے؟۔

بابا زمانہ بدل رہا ہے۔ وقت کے ساتھ بدلنا پڑتا ہے۔ زمانہ ایک مونہہ زور گھوڑا ہے جس کی رکاب میں پاؤں ہونا چاہیے۔
پترا ہم نے بہت دیکھے ہیں اناڑی رکاب میں پاؤں پھنسائے، جنہیں رفتار نے رگڑ رگڑ کے گونگلو کی طرح چھیل دیا۔
تو کیا کرو گے؟ زمینیں تو بیچنی ہی پڑیں گی۔ یہ لوگ بزنس مین ہیں۔ بہترین شکاری۔ یہ بھوک بیچتے ہیں بابا جی۔ ہر طرح کی بھوک۔ وہ بھوک جو تم نہیں جانتے مگر تمہارے اندر ہے یہ وہ بھی جانتے ہیں اور بیچتے ہیں۔ انسان اپنی اصل میں بھوک کا خریدار ہے روٹی یا ضرورت کا نہیں، یہ تو یونہی بدنام ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔
روٹی بندہ کھا جاندی اے!۔ ۔ ۔ ۔ ۔
چپ کرکے حقہ پیو۔ ۔ ۔

سنڈی میں تین دن سے یہی سوچ رہا ہوں کہ یہ بہترین لائف سٹائل ہے کیا؟۔ پکی اینٹیں، رنگ برنگی مہنگی ٹائلیں، پکے رنگ، ٹہلنے اور مل بیٹھنے کی جگہوں کو بھی اپنی چاردیواری میں بند کرنے کی کوشش۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں مدد کروں حقے؟؟

نہیں۔ ۔ جس رفتار سے یہ سَوری دے سیمنٹ اور اس جیسی دوسری چیزیں بنائے جارہے ہیں مجھے تو لگتا ہے عنقریب زمین پہ خالص مٹی کا اکلوتا وجود انسان کا اپنا وجود رہ جائے گا۔

اطمینان ایسی پیاس ہے جو کبھی نہیں مٹتی۔ تو اپنی صف کو ہمیشہ خلا میں ڈالنا۔ پھر دیکھنا وہ وجود جو تجھے آتے ہوئے انسان سے لگے تھے وہ بیٹھتے ہی پیاسی جنت سے بکھرنے لگے ہیں۔ ایسی جنت جو اپنے آدم کی تلاش میں ماری ماری پھر رہی ہو

ہاہاہاہاہا۔ ۔ ۔ ۔ حقے جا جا کے اپنی بھینسوں کا گوبر صاف کر۔ بددعائیں دے رہی ہوں گی، کہاں مرگیا بڈھا۔
بڈھا اتنی جلدی نہیں مرتا سُنڈے۔ مجھے تو ایک مثال سمجھ آئی ان تین دنوں میں اس بہترین لائف سٹائل کے بارے۔
وہ پہلے وقتوں کے دو بھائیوں کی کہانی ہے نا۔ جو جڑواں تو تھے ہی اوپر سے ہم شکل بھی تھے۔ ایک کا کام بہترین دوسرے کا نام بیوقوف۔ نووارد لوگ تو دھوکہ کھاتے ہی تھے اکثر ان کے اپنے گاؤں والے حتی کہ ماں باپ بھی دھوکہ کھا جاتے تھے۔ یہاں بھی یہی چکر ہے سنڈی پہلوان۔ ایسا طریق زندگی جس کے تعاقب میں اکثریت عقلمندوں کی بیوقوفی کی تمام حدیں لانگ رہی ہو وہ کیسے بہترین طریق زندگی ہوسکتا ہے؟؟۔ یہ بہترین نہیں بیوقوف ترین طریق زندگی ہے۔ اچھی بھلی زرعی زمینوں کا کیسے بیڑا غرق ہورہا ہے اور دیکھو کن کے ہاتھوں ہورہا ہے؟؟

بابا چھوڑ یہ دانشوری مجھے ایک بات بتا۔ ۔ ۔ ؟
پوچھو۔ ۔ ۔ ۔ !
گول مول جواب نہیں چاہیے۔ یہ گردش کرتی حقے والی داستان کا کھڑا سچ کیا ہے؟

سنڈی یار تجھے تو پتہ ہے میرا ڈیرا راستے پہ پڑتا ہے۔ بس ابے کی کرتوتوں کی وجہ سے کوئی بھی آتا جاتا اب تک ہمیں مونہہ لگا کے راضی نہیں تھا۔ میں روز کام سے فارغ ہو، حقہ ڈال صف بچھا بیٹھ جاتا ہوں اس درخت کے نیچے۔ میرا بھی دل کرتا ہے دانش وری جھاڑنے کو۔ آتے جاتے حالات اور لوگوں پہ تبصره کرنے کو۔ بچپن سے جوانی تک بہت سنے لوگوں کے تبصرے اب سنانے کو من للچاتا ہے۔ حقہ ڈال، چٹائی بچھا بیٹھنا بہت بڑی عیاشی ہے سنڈی پہلوان۔

بابا بات کی لسی نہ بنا کھڑا سچ بتا۔ ۔ ۔ ۔ !
یہی سچ ہے یارا۔ وہ تو اس محلے کی عورتیں میرے اور میرے حقے کے متعلق نہ جانے کیا کچھ اپنے بچوں اور مردوں کے کانوں میں بھرتی رہتی ہیں۔

میں نے تو سنا ہے جو تیرے پاس بیٹھ کے اٹھتا ہے اس کے کان سُن اور آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں۔ ۔ ؟
تیرے تو ہوؤے نہیں سنڈی!۔ یہیں سے حساب لگا لے لوگ کیسے کیسے الزام لگاتے ہیں مجھ پہ۔ ۔ ۔ ۔
حُقیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

تجھے اوپر والا اوپر ہی اٹھا لے، مجھے طریقہ بتا کہ تو تمباکو کے ساتھ بھنگ کیسے رکھتا ہے حقے میں ؟؟۔
سُنڈے جب میں ابھی تقریباً جوان ہی تھا تب ایک قریب المرگ بڈھے حقہ بردار نے مجھے اپنا حقہ اور ایک نصیحت دی تھی تحفے میں۔

کرمیا حقہ اور صف ڈالنا کوئی بڑی بات نہیں۔ ہمیشہ یاد رکھنا حقے کے حلقے میں آنے والا اپنی جنت کا متلاشی ہوتا ہے۔ میری زندگی کا نچوڑ ہے کہ اکثریت سانسوں کی اس مہلت کو بُھگت رہی ہے جیسے نامزد ملزم پیشی بُھگت رہا ہو۔ اپنی خواہش کا بیان ڈھونڈتی یہ دنیا معلق ہے۔ اکثریت اکتاہٹ کا شکار ہے۔ اطمینان ایسی پیاس ہے جو کبھی نہیں مٹتی۔ تو اپنی صف کو ہمیشہ خلا میں ڈالنا۔ پھر دیکھنا وہ وجود جو تجھے آتے ہوئے انسان سے لگے تھے وہ بیٹھتے ہی پیاسی جنت سے بکھرنے لگے ہیں۔ ایسی جنت جو اپنے آدم کی تلاش میں ماری ماری پھر رہی ہو۔ تیری مرضی کا بنایا حقہ مرکز اور تیری بچھائی صف جنت بن جائے گی۔

واہ او حقیا تو نے تو خلا کا مطلب ذہن میں خلل ڈالنا نکال رکھا ہے۔ ۔ ۔ ۔
ہاں یہی میں اپنے بچوں کو سمجھاتا ہوں یہ تمہارے شخصی خلا میں در آیا خلل ہے جس سے بیوقوفی ہی چھلکے گی بھلے وہ جنت ہو!!!۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: