آہ ایک اور دیوی جلا دی گئ : مطربہ شیخ

2
  • 117
    Shares

اس ہفتے بڑی خبر ہندوستانی اداکاہ شری دیوی کے انتقال کی رہی، سوشل میڈیا پر یار لوگ بحث کرتے رہے کہ آر آئی پی کہنا جائز ہے یا ناجائز، نہ جانے ہم لوگ بے معنی بحث کرنا کب چھوڑیں گے، برصغیر کی تقسیم کے بعد نئے بننے والے اس ملک میں کیا صحیح ہے کیا غلط، کیا مذہبی ہے کیا مذہب کی قطار سے باہر ہے، کیا جائز ہے کیا نا جائز، پہلے یہ مباحث صرف اوطاقوں، بیٹھکوں اور ڈرائنگ رومز میں ہوتے تھے لیکن اب سوشل میڈیا پر ان مباحثوں کی بھرمار ہوتی ہے۔ اسکرول کرتے جاو لیکن یہ ختم نہیں ہوتے۔

ایک اہم نکتہ جو ہمیشہ نوٹ کیا اور ابھی بھی کر رہی ہوں کہ جیسے ہمارے ملک میں دو گروہ ہیں، ایک ترقی پسندوں کا اور ایک روایت پسندوں کا، بلکل یہی سلسلہ ہندوستان میں بهی ہے لیکن وہاں کے ترقی پسند تقسیم سے پہلے ہی منطق اور عقل سے کام لے رہے ہیں۔ ادب اور فنون لطیفہ سے وابستہ افراد کی اکثریت ترقی پسند اور لبرل خیالات رکهتی ہے لیکن مشاہدہ کیا جائے تو ترقی پسندوں کا یہ گروہ روایت کو چیلنج کرتا نظر نہیں آتا۔ صدیوں سے جس ہندو ازم کی بنیاد ہے وہی ابھی تک رائج ہے، اشنان کے طریقے سے لے کر میت کی آخری رسومات تک۔ اور جادو ٹونے، نظر بندی، شگن کے لئے کسی بے جان شے سے شادی، مینگلک لڑکی اور لڑکے کے اوپر سے ستارو ں کی نحوست کے توڑ اور نہ جانے کیا کیا۔ فلمی صنعت کے ستارے بهی ان سارے معاملات میں پیش پیش رہتے ہیں، دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئ لیکن یہ ابھی تک ہاتھی کی سونڈ والی مورتی کی پوجا کرتے ہیں۔ اور بهی بہت سی مورتیاں ہیں جن سے شگن لئے جاتے ہیں اور تو اور مسلمان اولیاء کرام کے مقبروں پر بھی حاضری رہتی ہے لیکن ان سب روایات کو ہندوستان میں کوئی چیلنج نہیں کرتا۔ حالانکہ کچھ اخبارات میں ایسے کالمز اور آرٹیکل شائع بهی ہوتے ہیں، طنزیہ انداز بھی ہوتا ہے کوئی منطقی دلیل بھی دیتا ہے لیکن براہ راست مذہب اور روایات کو کوئی نشانہ نہیں بناتا جیسے ہمارے یہاں ترقی پسند طبقہ بناتا ہے۔ اور پهر ایک طوفان کھڑا ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ ہمارے پاس نہ کچھ بھی مکمل نہیں رہ گیا۔ مذہبی حد کو توڑ موڑ دیا گیا ہے، منطق اور دلیل پیش کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ بقول ہمارے انکل ہائے ہائے اتنی خوبصورت مسکراہٹ اور ناچنے والی دیویوں کو جلا دیتے ہیں، انکو حنوط کر لینا چاہیے۔ میرے میاں نے کہا بڑے میاں جی جو انکی رسم ہے وہ اس پہ قائم ہیں، وہ اپنے روایتی انداز میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ جس بات کو پسند کرتے ہیں وہی کرتے ہیں، کچھ روایات اور رسموں کو وہ بدلنا چاہتے ہیں لیکن اس کے لئے وہ اپنے مذہب پر حملہ نہیں کر رہے ہیں، کچھ افراد ڈرامے کے ذریعے، کچھ فلمز کے ذریعے اور کچھ سماجی کام کر کے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اور یہی بہتر ہے کیونکہ اسطرح تصادم کا خطرہ نہیں ہے، تشدد اور بے رحمی کا سلسلہ نہیں ہے۔ صرف کام ہو رہا ہے اور آئندہ چند سالوں میں ہو سکتا ہے وہ معاشرے کی قبیح رسومات اور نام نہاد روایات کا خاتمہ کر سکیں۔

ہمارے وہ ترقی پسند افراد جو ہر وقت ہندوستان کی مثالیں دیتے ہیں انکو سوچنا چاہیے کہ جن کو اپنے ملک اور لوگوں کے لئے کام کرنا ہوتا ہے وہ خلوص نیت سے اپنے اپنے شعبے میں رہ کر کام کرتے ہیں اور تبدیلی لاتے ہیں۔ عقائد پر حملہ کرنے سے صرف بد زبانی وجود میں آتی ہے، عقیدہ دل میں ہوتا ہے اور کسی کے دل پر حملہ کیا جائے تو وہ خوش نہیں ہو گا۔ اسلئے دماغ سے کام لیتے ہوئے کام کریں اور نیت صاف رکهیں کیونکہ ہم نے اور آنے والی نسلوں نے اسی ملک میں رہنا بسنا ہے تو ملک کے لئے اپنی انا سے بالاتر ہو کر کام کرنا ہو گا جب ہی مثبت تبدیلی آ سکے گی۔ جدت پسندی کے نام پر صدیوں سے رائج عقائد اور نظریات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا لیکن اگر کوئی بری اور نقصان دہ رسومات ہیں انکو بدلنے کے لئے سوچ میں بدلاو لانا ہو گا۔جب ہی کامیابی ملے گی۔

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. عقائد پر حملہ کرنے سے صرف بد زبانی وجود میں آتی ہے، عقیدہ دل میں ہوتا ہے اور کسی کے دل پر حملہ کیا جائے تو وہ خوش نہیں ہو گا

Leave A Reply

%d bloggers like this: