اقبالؔ اور غالب کے پوشیدہ دیوان : ڈاکٹر فرحان کامرانی

0
  • 51
    Shares

انسان جھوٹ کیوں بولتا ہے؟ یہ سوال ویسے تو اخلاقیات کا ہے لیکن یہ علم نفسیات کا بھی ایک اہم سوال ہے۔ اس سوال کے بہت سے جوابات ہو سکتے ہیں مثلاً انسان جھوٹ اس لیے بولتا ہے کہ وہ اپنی برائیوں کو چھپانا چاہتا ہے یا اس لیے کہ وہ معتبر بننا چاہتا ہے اور بعض اوقات انسان جھوٹ محض ڈر کی وجہ سے بھی بولتا ہے۔ لیکن اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ انسان بلا تحقیق کسی بات کو (جو جھوٹ بھی ہو سکتی ہے) کیوں پھیلاتا ہے؟

مذہب نے ہم کو جس قدر شدت سے کسی بھی بات کو بلا تحقیق پھیلانے سے روکا ہے ہم اتنی ہی شدت سے یہ کام کرنا شاید اپنا فریضہ سمجھتے ہیں۔ اور اِس بلا (جسے آج سوشل میڈیا کے نام سے جانا جاتا ہے) کے آنے کے بعد ہماری جھوٹ پھیلانے کی بیماری میں اب ہزار گنا اضافہ ہوچکا ہے۔  2008ء کی بات ہے کہ احمد فراز صاحب بے حد بیمار ہوئے اور سوشل میڈیا اور SMS پر ان کے شعر خوب خوب بھیجے گئے۔ اور جب فراز دار فانی سے کوچ کر گئے تو SMS اور دیگر پوسٹس کا سیلاب آ گیا۔ ہر طرف سے فراز صاحب کے اشعار ’’ ابلنے‘‘ لگے۔ پر جو شخص شاعری کی ایک فیصد سمجھ بھی رکھتا تھا وہ جانتاتھا کہ ان میں سے 90 فیصد اشعار فراز کے ہر گز نہ تھے بلکہ انتہائی گھٹیا قسم کی تُک بندی ہوتی جس میں ہر ہر مصرع کے آخر میں شاعر کا تخلص (یعنی فراز) ضرور آ رہا ہوتا۔ یہ سلسلہ اتنا بڑھا کہ لوگوں نے مزاحیہ اشعار بھی فراز کے نام سے بھیجنے شروع کر دیے۔ آخر میں ایک بڑا دلچسپ’’ شعر‘‘ نظر سے گزرا۔

اب تو ڈر لگتا ہے کھولتے ہوئے دراز
کہیں اسے بھی نکل نہ آئے کوئی فراز

فرازؔ کے بعد لوگوں کی نظر کرم اقبال، غالب اور بلھے شاہ پر پڑی۔ اب تو وہ طوفان بدتمیزی شروع ہوا کہ الامان الحفیظ۔ اقبال کے نام سے ہر قسم کے وزن سے اترے، قافیہ ردیف سے عاری اور قواعد انشاء کی اغلاط سے پُرا شعار شیئر کیا جانے لگا۔ مثلاً

پرندوں میں فرقہ پرستی نہیں دیکھی ’’اقبال‘‘
کبھی مندر پر جا بیٹھے، کبھی مسجد پر جا بیٹھے
یا
جب کسی نے پوچھا یہ مہینہ کون سا ہے اقبالؔ
میں شرمندہ ہو گیا رمضان کہتے کہتے

اور حد یہ کہ ایک 14 اگست پر کسی ستم ظریف نے اقبال کی تصویر کو ایک سرسبز منظر پر’’ چسپاں‘‘ کر کے ساتھ یہ شعر لکھا۔ ’’دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے‘‘۔ یقینا عالم ارواح سے اگر ایف آئی آر کٹوائی جا سکتی تو اقبال ان تمام افراد پر سیکشن 419، 420 اور 500 (PPC) پاکستان پینل کوڈ کے تحت مقدمہ کرتے۔ بلکہ میرے خیال میں ان افراد پر دہشت گردی کی دفعہ 7ATA بھی لگتیں۔ بعد ازاں یہ طبقہ غالبؔ بیچارے کی جان کو آ گیا۔ اب غالب کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں۔

عمر بھر ہم یوں ہی غلطی کرتے رہے غالب
دھول چہرے پہ تھی اور ہم آئینہ صاف کرتے رہے

بے وجہ نہیں روتاعشق میں کوئی غالب
جسے خود سے بڑھ کے چاہو وہ رلاتا ضرور ہے

اسی طرح کے بہت سے اشعار غالب کے سر منڈھ دیے گئے۔ غالب کے ساتھ ایک مرتبہ اُن کی زندگی میں بھی ایسا ہوا تھا کہ کسی کاتب نے اُن کے اشعار کے ساتھ اپنا ایک شعر شامل کرنے کی جسارت کی۔ غالب کو جب اس گستاخی کا علم ہوا تو انہوں اپنے ایک دوست کے نام خط میں اُس کاتب کو جو مغلظات بکیں وہ آپ ’’منٹو نامہ‘‘ کے اُس حصہ میں پڑھ سکتے ہیں جہاں منٹو پر فحش نگاری کے الزام کے تحت چلنے والے مقدمے کا ذکر ہے۔ شاید غالب کو اگر ایک بار پھر خط لکھنے کا موقع ملے تو وہ اِن افراد کو بھی قلعہ معلی اور پرانی دلّی کی انہی خوبصورت گالیوں سے نوازیں۔ مگر ستم یہ ہے پر اگر آپ سوشل میڈیا میں شاعری کے نام پر پھیلائی جانے والی اِن ’’تہمتوں‘‘ پر سوال اٹھائیں تو سامنے والا ہمیشہ ایک ہی احمقانہ سوال پوچھتا ہے کہ اگر یہ شعر اقبالؔ، غالبؔ، فراز وغیرہ کا نہیں ہے تو کس کا ہے؟ اِس سوال سے بھی زیادہ ذہانت پر مبنی سوال یہ ہوتاکہ آپ کو کیسے معلوم ہوا کی یہ اصل شعر نہیں؟ ان تمام ہی شعراء کی کلیات بازار اور انٹرنیٹ پر موجود ہیں جن کے ذریعہ بآسانی تصدیق ہو سکتی ہے کہ فلاں شعر مذکورہ شاعر کا ہے یا نہیں۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگ اب مشہور نفسیات دان ایوان پا ؤلوف کے کتے کی طرح ہوتے جارہے ہیں جس کی رال گھنٹی بجتے ہی بہنے لگتی ہے۔ اِس ظالمانہ موازنے پر معذرت ۔ مگر ہمارا اجتماعی ذہن اب کچھ اِس نہج پر چل پڑا ہے کہ وہ جو بات سنتا ہے اُسے فوراً آگے بڑھا دیتا ہے۔ ایسا معلوم ہونے لگا ہے کہ ہمارے دماغ میں کوئی فلٹر ہی نہیں۔ جیسے ہم لوگ نیند میں چل رہے ہیں۔ بڑی تعداد میں لوگ یہ سوچتے ہیں کہ یہ تو محض بے ضرر سے بات ہے کہ غلط شاعری کسی کے نام سے موسوم کر دی جائے۔ تاہم یہ رویہ محض شاعری تک محدود نہیں۔ ہمارے اِس طرزعمل سے کسی قسم کا کوئی بھی جھوٹ کبھی بھی کروڑوں انسانوں تک پھیل سکتا ہے۔ یہ جھوٹ نفرت، جرم،قتل اور فساد کے بیج بو سکتا ہے۔ مگر یہ سب سوچنا ہمارے لیے ضروری نہیں۔ اس لیے کہ اسکرین پر نظر آنے والی معلومات کی تصدیق کرنے کا نہ کسی کے پاس وقت ہے نہ کسی کو پرواہ۔ یہاں اب سب چلتا ہے!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: