گرے لسٹ: پاکستان کا نام شامل نہیں ۔۔۔۔۔۔ رئیس احمد صمدانی

0
  • 38
    Shares

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (Finaca Action Task Force (FATF) نے بحث و مباحثے اور پاکستان کی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد جو واچ لسٹ جاری کی اس میں پاکستان کا نام شامل نہیں کیا گیا۔ گویا اس بار پاکستان کی بچت ہوگئی لیکن ٹاسک فورس نے پاکستان کو تین ماہ (جون تک) کی مہلت دی ہے کہ وہ صورت حال پر نظر ثانی کرے اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف جنگ کو مزید تقویت دینے کے لیے نیا ایکشن پلان ترتیب دیتے ہوئے اقدامات کرے۔ ٹاسک فورس کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو دہشتگردی کے لیے منی لانڈرنگ روکنے کی خاطر ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ ٹاسک فورس کے حتمی فیصلے نے امریکہ بہادر کے پاکستان پر دباؤ کومستر دکردیا اور ساتھ ساتھ پاکستان کے دشمن بھارت کو بھی منہ کی کھانی پڑی۔ پاکستان اس وقت انتہائی ابتر سیاسی و معاشی حالات سے گزر رہا ہے۔ حکومتی سیاسی جماعت سخت دباؤ کا شکار ہے، اس کا سربراہ د اعلیٰ عدالتی فیصلے کے نتیجے میں دوسری بار نا اہل ہوچکا ہے۔

پہلے انہیں وزارت اعظمیٰ کے عہدے سے نا اہل کیا گیا اور اب پارٹی صدارت سے۔ پاکستان کے قانون کے مطابق کوئی بھی نا اہل کسی بھی سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں رہ سکتا تھا ۔ نون لیگ نے منتخب ایوانوں میں اپنی برتری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قانون میں تبدیل کی جس کے نتیجے میں نواز شریف وزارت اعظمیٰ کے منصب سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے لیکن اس پر ایک اور مقدمہ دائر ہوا جس میں ان کی صدارت کو چیلنج کیاگیا نتیجہ اس بار بھی ان کے خلاف رہا اور انہیں پارٹی صدارت سے بھی نا اہل کردیا گیا ۔ ایسی صورت حال میں جب کہ ملک انتہائی ابتر سیاسی اور انتظامی بد نظمی کا شکار تھا، ملک کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو عدالت نے مفرور قرار دیا ہوا ہے، وہ وزارت خزانہ کے منصب پر فائز ہوتے ہوئے بھی وطن واپس نہیں آسکتے یا وہ نہیں آرہے اس لیے کہ انہیں اندیشہ ہے کہ جوں ہی ان کے قدم وطن عزیز کی مٹی پر پڑیں گے انہیں سیدھا سلاخوں کے پیچھے جانا پڑجائے گا۔ وزارت خزانہ ایک مشیر سے اپنا کام چلا رہی ہے۔ ایسی صورت حال میں پاکستا ن فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کے اجلاسوں میں دنیا میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے کے حوالے امور پر بحث ومباحثہ شروع ہوگیا جس کا مقصد دنیا کے ان ممالک کی ایک واچ لسٹ مرتب کرنا تھا۔ امریکہ کی پوری کوشش تھی کہ وہ پاکستان کو اس فہرست میں شامل کرائے اس کے ساتھ بھارت کا کردار شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کا تھا۔ اس نے بھی پوری طاقت صرف کی کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) پاکستان کو اس واچ لسٹ میں ڈال دے لیکن پاکستان ابتر اندرونی سیاسی خلفشار اور بگڑتی معاشی صورت کے باوجود امریکہ اور بھارت کی دشمنی سے بچ گیا۔ البتہ جاری ہونے والے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کو دہشتگردی کے لیے منی لانڈرنگ روکنے کی خاطر ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے‘۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ((FATFکا قیام 1989ء میں پیرس میں G-7 کانفرنس کی سفارشات پر عمل میں آیا تھا، کا مقصد دنیا کے ممالک میں منی لانڈرنگ ٹیکنیک، اس کے رجحانات اور اس کے خلاف اقدامات جو قومی اور عالمی سطح پر کیے گئے کا جائزہ لینا تھا۔ ٹاسک فورس نے 2012ء میں اپنی سفارشات مرتب کیں ۔ جن پر عمل درآمد کے حوالے سے ٹاوسک فورس اجلاس ہوتے رہے ہیں۔ فروری میں منعقد ہونے والے اجلاس میں اس بات کا خطرہ محسوس کیا جارہا تھا کہ امریکہ اور بھارت کے پروپیگنڈے اور دباؤ میں ٹاسک فورس پاکستان کا نام گرے لسٹ میں ڈال دے گی۔ اس بات کے قوی امکانات محسوس کیے جارہے تھے جس کی متعدد وجوہات جن میں سب سے اہم پاکستان کا اندرونی سیاسی خلفشار ہے۔ لیکن ٹاسک فورس نے ایسا نہیں کیا البتہ کچھ مہلت دے دی گئی ۔ پاکستان تو از خود مالی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اس کی اس قدر مالی حالت کب ہے کہ وہ دہشت گردوں کو مالی امداد فراہم کرے گا۔ دہشت گردی کے خلاف جو جنگ پاکستان لڑ رہا ہے اس میں اس کا جس قدر مالی اور جانی نقصان ہوا ہے وہ امریکہ کا بھی نہیں ہوا۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(FATF) کے فیصلے میں حکومتی کارکردگی کا کوئی دخل نظر نہیں آتا۔ حکومت تو از خود اندرونی خلفشار میں گرفتار ہے۔ پھر موجودہ مشیر خزانہ کا یہ فرمانا کہ’’ ساتواں بڑاملک ہیں ، ایف اے ٹی ایف کی واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل ہوتو بھی کوئی آفت نہیں آئیگی ، دوست ممالک کا کردار اچھا رہا ، دنیا میںتنہا نہیں‘‘۔ مشیر خزانہ کے اس بیان سے ظاہر ہورہا ہے کہ وہ اس بات کے لیے تیار تھے کہ پاکستان گرے لسٹ میں شامل ہونے جارہا ہے۔ انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ حالانکہ ایسا ہوجانے کی صورت میں پاکستان متعدد قسم کی اخلاقی اور مالی پریشانیوں میں گرفتار ہوجاتا ۔ گرے لسٹ میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت میں دوست ممالک کا کردار یقینا قابل تحسین ہے۔ پاکستان کی معاشی صورت حال یہ ہے کہ سرکاری اور غیر ملکی قرضوں کا حجم18574ارب وپے سے زیادہ ہوگیا ہے اس میں ملکی قرضوں کا حجم 12310ارب روپے سے زیادہ اور غیر ملکی قرضوں کا حجم 58 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ 2016سے مارچ2017تک 819.1ارب روپے کا اندرونی قرضے لیے گئے۔

یکم جولائی 2016سے 31مارچ2017 تک حکومت نے اسٹیٹ بنک اور تجارتی بنکوں سے819.1ارب قرضہ لیا۔ وزیر خزانہ کے جب وہ پاکستان میں تھے یہ اطلاع دی تھی کہ پاکستا ن کا فی کس قرضہ 94,800 روپے ہوگیا ہے۔ میں نے تو بہت پہلے ایک کالم بعنوان ’’وزیر خزانہ پر قرض لینے کا بھوت سوارہے ‘‘ لکھا تھا ۔اسی طرح ایک اور کالم بعنوان ’ہر پاکستانی 94,800کا مقروض۔ذمہ دار کون؟‘‘‘ میں لکھا تھا کہ ’ وزیر خزانہ اسحاق ڈار قرض حاصل کرنے کے ایکسپرٹ ہیں۔ان کے ذاتی اثاثہ جات5 سالوں میں 9ملین سے 837 ملین کے ہوچکے ہیں۔ ایسی کمزور معاشی صورت حال میںپاکستان بھلا کیس طرح دہشتگردوں کو کی کیا کسی کی بھی مالی مدد نہیں کرسکتا۔ ٹاسک فورس کے اجلاس میں شریک ماہرین کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ پاکستان اس پوزیشن میں ہرگز نہیں کہ وہ دہشت گردی کے لیے مالی معاونت فراہم کرے۔ اس کے اپنے ہاتھوں میں قرض کا کشکول ہے ۔ چنانچہ فیصلہ نوہ نہیں کیا جو امریکہ اور بھارت کی خواہش تھی۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(FATF) کے اراکین کی اکثریت نے فیصلہ پاکستان کے حق میں کیا اور اسے گرے لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا ۔

امریکہ کو اس فیصلہ پر سخت افسوس ہوا اور بھارت پر تو گویا اوس پڑگئی۔ امریکہ کا ردِ عمل یہ ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کی جانے والی کوششوں سے مطمئن نہیں، ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ پاکستان کو اربوں ڈالر ز دیتا رہاہے اور اسلام آباد دہشت گردوں کو پناہ فراہم کرتا آیا ہے وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی سیکریٹری کا کہنا ہے کہ امریکی صدر پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں سے مطمئن نہیں ہیں اور انہوں نے اسلام آباد کی جانب سے انتہائی معمولی سے بہتری دیکھی ہے۔ شکر ہے کہ ٹرمپ کو معمولی سے بہتری نظر تو آئی۔ امریکہ اپنے اربوں ڈالرز اپنے پاس رکھے اور پاکستان کو معاف کرے۔ پاکستان نہ تو دہشت گردی کرتا ہے، نہ اس کی حمایت کرتا ہے، نہ اس نے اس نے دہشت گرد وںکو اپنے سرزمین میں پناہ دی ہوئی ہے۔ بلکہ پاکستان اور پاکستانی قوم اس دہشت گردی کے ہاتھوں بے پناہ مالی اور جانی نقصان اٹھا چکی ہے۔ پاکستان اس سلسلے میں ایک ایکشن پلان پر باقاعدہ عمل درآمد کررہا ہے ۔ پاکستان کا نام اگر گرے لسٹ میں ڈال دیا جاتا تو پاکستان کے لیے قرضے مزید مہنگے اور غیر ملکی کاروبار کرنا مشکل ہوجاتا، غیر ملی ٹرانزیکشنز اور ترسیلاتِ زَر کی آمد کمی سے خیر ملکی بنک یہاں سے واپس جاسکتے تھے۔ لیکن پاکستان ان تمام اور ان جیسی مشکلات سے وقتی طور پر بچ گیا۔ پاکستان کی حکومت کی جانب سے یہ اقدام قابل تحسین ہے کہ اس نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(FATF) حکام کو بھارت کے پاکستان دشمن رویے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرادیا ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(FATF) کی کاروائی خفیہ ہوتی ہے کسی رکن ملک کو اس کارروئی کے بارے میں باہر بات کی اجازت نہیں ہوتی لیکن بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف پہلے ہی سے یہ پروپیگنڈ ہ کیا جاتا رہا کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا جارہا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا، بھارت کو یہاں بھی منہ کی کھانا پڑی لیکن ہمارے لیے بھارت سے ہر لمحہ ، ہر وقت ،ہر معاملے پر ہوشیار رہنے کی اشد ضرورت ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: