صنفی نا برابری کی مختلف صورتیں (حصہ 3) : امرتیاسین /محمد سلیمان قاضی

0
  • 12
    Shares

اس مضمون کا پچھلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے۔

مختلف ممالک میں خواتین کی عملی شمولیت اور سماجی ترقی کے درمیان واضح تعلق دیکھنے میں آیا ہے۔ مثال کے طور پر اس بات کے کافی شواہد موجود ہیں کہ جب کچھ سماجی اور معاشی نظام کو مردوں کی ملکیت اور اجارہ داری کے مروجہ طریقہ کار سے علیحدہ کیا جائے تو خواتین بڑی کامیابی سے معاشی اور کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ یہ بھی واضح ہے کہ خواتین کی شمولیت کا صرف یہی نتیجہ نہیں نکلتا کہ خواتین کی آمدنی میں اضافہ ہو بلکہ خواتین کے مرتبے میں اضافے اور انکی آزادی سے اور بہت سے سماجی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ تنظیمیں جیسے بنگلہ دیش کے گرامین بینک اور بنگلہ دیش رودل ایڈوانسڈ کمیٹی (BRAC) کی حیرت انگیز کامیابیاں اس کی مثال ہیں اور اس کے بھی شواہد موجود ہیں کہ اس ملک میں خواتین کے کردار کے بارے میں انداز فکر میں تبدیلی آنے سے اور خواتین کی اقتصادی شمولیت کے باعث ہی خواتین سماجی اور سیاسی میدانوں میں یوں نمایاں طور پر شامل دکھائی دیتی ہیں۔

گو ریورنڈ جیمز فورڈائس کے یہ کہہ کر ’’یہ مردانہ قسم کی عورتیں جو مردوں کے شعبوں میں آوارہ گردی کرتی پھرتی ہیں‘‘ انہیں رد کر دیتا ہے لیکن جدید بنگلہ دیش کی صورتحال مختلف حوالوں سے خواتین کی روز افزوں شکتی پر دلیل ہے۔ بنگلہ دیش میں دو دہائیوں کے دوران کل شرح ذر خیزی Total Fertility rate میں 6.1 سے 3.0 تک کی کمی (جو غالباًدنیا میں اس نوعیت کی تیز ترین کمی ہے) واضح طور پر خواتین کے تبدیل شدہ سماجی و معاشی کردار اور ساتھ ساتھ خاندانی منصوبہ بندی بہتری کی سہولتوں میں اضافے کی رہین منت ہے۔ اس حوالے سے تمدنی اثرات اور ترقی کا عمل دخل بھی ہے۔ اسی نوعیت کی تبدیلیوں کا مشاہدہ انڈیا کے بعض حصوں میں کیا جا سکتا ہے۔ جہاں خواندگی میں اضافے اور گھر سے باہر سماجی و معاشی سرگرمیوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت کے کارن عورتیں مزید بااختیار ہو رہی ہیں۔ ایک بٹے ہوئے ہندوستان کے پس منظر میںاگرچہ سطور ہذا تک جس ترقی کا میں ذکر کرتا آیا ہوں اس پر کچھ خوشی کا احساس ہوتا ہے اور برصغیر میں مختلف شعبوں میں صنفی مصیبتوں کی گرفت کمزور پڑنے کے معقول شواہد بھی موجود ہیں۔ مثلاً صنفی نا برابری کا کم از کم ایک پہلو جسے شرح پیدائش کی نا برابری Nastality Inequality کہتے ہیں! اس بات کا پتہ خاص طور پر 2001؁ میں انڈیا کی دہ سالہ قومی مردم شماری میں چلا ابتدائی نتائج سے اندازہ ہوتا ہے کہ گو بحیثیت مجموعی ملک میں عورتوں اور مردوں کے مابین تناسب ذرا بہتر ہوا ہے (اور اسی لحاظ سے ’گمشدہ عورتوں‘ کا تناسب بھی کم ہوا ہے) لیکن بچوں اور بچیوں کے تناسب میں خاصا بعد آیا ہے۔ انڈیا میں، مجموعی طور سے 6 برس سے کم عمر کے لوگوں میں 1991؁ میں 94.5 لڑکیوں کے مقابلے میں 100 لڑکوں کی شرح کم ہو کر 2001؁ میں 92.7 لڑکیاں بمقابلہ 100لڑکوں تک گر گئی ہے۔ گوکہ ملک کے بعض حصوں (خصوصاً کیرالہ) میں اس طرح سے کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی لیکن دیگر علاقوں جیسے پنجاب، ہریانہ، گجرات اور مہارا شٹر ۔۔۔۔۔ جو انڈیا کی امیر ریاستوں میں سے ہیں یہ شرح بہت تیزی سے نیچے آئی ہے۔ ان تمام شہادتوں کو اکھٹا کریں تو یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ اس تبدیلی کی وجہ یہ نہیں کہ بچیوں کی اموات کی شرح زیادہ ہو گئی بلکہ بچیوں کی پیدائش کی شرح لڑکوں کے مقابلے میں کم ہو گئی ہے اور اس کی تقریباً یقینی وجہ رحم میں پرورش پاتے بچے کی جنس کے تعین کی سہولتوں تک رسائی کا بڑھ جانا اور ان سہولتوں کے استعمال میں اضافہ ہوتا ہے۔

چند سال پہلے انڈیا کی پارلیمنٹ نے اس خدشے کے تحت کہ کہیں انڈیا میں بچے کی جنسی تفریق کی بنیاد پر اسقاطِ حمل نہ شروع ہو جائے، رحم میں نوزائیدہ کی جنس کے تعین کرنے والی تکنیکوں کا استعمال ممنوع قرار دے دیا ما سوائے اس کے کہ کسی دیگر ضروری طبی تفتیش کے دوران ذیلی اعتبار سے بچے کی جنس کا پتہ لگ جائے۔ لیکن لگتا ہے کہ اس قانون پر عمل در آمد بڑے جامع طریقے سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اور جب نیویارک ٹائمز کی سرگرم نامہ نگار سیلیاڈگر نے پولیس سے دریافت کیا تو ان کا جواب اکثر یہی تھا کہ کامیابی سے قانونی چارہ جوئی کرنا بڑا دشوار ہے کیونکہ یہ ماؤں کی مہربانی ہے کہ وہ اس قسم کی تکنیکوں کے استعمال کے بارے میں گواہی دینے سے ہی اجتناب کرتی ہیں۔ میں اس پر یقین نہیں رکھتا کہ اس بات کا پتہ لگانا کوئی دشوار گزار عمل ہے۔ (قانونی چارہ جوئی کیلئے اور قسم کے شواہد بھی اکٹھے ہو سکتے ہیں) لیکن ماؤں کی جانب سے گواہی دینے سے اجتناب اس شرح پیدائش کی نا برابری کا سب سے پریشان کن پہلو ہے کہ بظاہر بہت سی انڈین مائیں خود بھی ’’بیٹے کو ترجیح‘‘ دیتی ہیں۔ اس لیے صنفی نا برابری کے اس پہلو سے چھٹکارا ممکن نہیں، کم از کم مستقبل قریب میں، بھلے خواتین کو مزید با اختیار بنا لیں یا انکی شکتی میں اضافہ کر لیں کیونکہ یہاں خواتین بذات خود عملی طور پر اس شرح پیدائش کی نا برابری کے اہم اسباب میں سے ایک ہیں۔ پالیسی سازی میں اس حقیقت کا خاطر خواہ ادراک ہونا چاہئیے کہ آج انڈیا میں صنفی نا برابری کی صورتحال بظاہر ایک نئی کروٹ لے رہی ہے۔

شرح اموات میں نا برابری (انڈیا میں پیدائش کے وقت متوقع عمر Life Expectancy at birth، عورتوں میں مردوں کے مقابلے میں دو سال زیادہ ہو گئی ہے)، اب شرح پیدائش کی نا برابری کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔ یقیناً یہ واضح ہے کہ صنفی نا برابری میں تبدیلی لانے کے روایتی طریقے، یعنی پبلک پالیسی کے توسط سے تعلیم نسواں اور خواتین کی اقتصادی امور میں شمولیت کیلئے اثر انداز ہونا، شرح پیدائش کی نا برابری کے مسئلے کا حل ثابت نہ ہو سکیں۔ اس سمت میں راہنمااشارہ مشرقی ایشیا کے ممالک سے ملتا ہے ان سب کے ہاں تعلیم نسواں اور معاشی معاملات میں خواتین کی شرکت بڑے پیمانے پر ہے۔ لیکن تمام کامیابیوں کے باوجود امر واقعہ ہے کہ دنیا بھر میں حیاتیاتی اعتبار سے یکساں پیدائشی تناسب یعنی 100 لڑکوں کے مقابلے میں 95 لڑکیوں کی پیدائش کے حوالے سے سنگاپور اور تائیوان میں 92 لڑکیوں کی پیدائش، جنوبی کوریا میں صرف 88 اور چین میں محض 86ل ڑکیوں کی پیدائش کی شرح سے نظر آتا ہے۔ فی الحقیقت جنوبی کوریا میں مجموعی طور پر بچوں میں تناسب 88 لڑکیاں بمقابلہ 100لڑکے ہے اور چین میں صرف85۔ انکے مقابلے میں انڈیا میں 92.7 لڑکیوں کے مقابلے میں 100 لڑکوں کا تناسب (گو سابقہ اعداد و شمار کے لحاظ سے 94.5کے تناسب سے کم ہو گیا ہے) اب بھی نا مناسب ہے۔ لیکن انڈیا کی حالیہ مجموعی اوسط کے علا وہ اور بھی ایسے پہلو ہیں جو توجہ چاہتے ہیں۔ پہلی بات یہ کہ انڈیا کے اندر اچھے خاصے انحرافات Variations ہیں، انڈیا کی مجموعی اوسط اس حقیقت پر پردہ ڈال دیتی ہے کہ انڈیا میں ایسی ریاستیں ہیں۔

جہاں بچوں میں صنفی تناسب انڈیا کے اوسط تناسب کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ دوسرے یہ پوچھا جائے کہ آیا جنسی تحضیص کے ساتھ اسقاط حمل Sex Selective abortion پھی جانے سے انڈیا چین اور کوریا کے مقابل آ جائے گا بلکہ ان سے بھی آگے چلا جائے گا اور اس بات کے یقینی شواہد موجود ہیں کہ ملک کے بعض حصوں میں بڑے پیمانے پر ایسا ہی ہو رہا ہے۔ تاہم انڈیا میں ایک سماجی اور تمدنی تقسیم ہو رہی ہے خواتین کے خلاف شرح پیدائش اور پیدائش کے بعد کی اموات کے سلسلے میں روا رکھے گئے تعصب کی اساس پر یہ ملک تقریباً دو باہم متصل حصوں میں بٹ گیا ہے۔ چونکہ دنیا بھر میں ہر جگہ فطری طور پر لڑکیوں کے مقابلے میں ویسے بھی لڑکے زیادہ تعداد میں پیدا ہوتے ہیں۔ (یعنی جنسی تخصیص کے ساتھ اسقاطَ حمل کے بغیر بھی) سو ہم ترقی یافتہ صنعتی ممالک میں بچوں میں جنسی تناسب کو ایک معیار بنا کر تفریق اور تنوع کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔ 5-0 سال تک کی عمر کے لڑکیوں اور لڑکوں میں تناسب جرمنی میں 94.8، یوکے میں 95اور ریاستہائے متحدہ امریکہ میں 95.7 ہے اور شاید ہم جرمنی کے تناسب 94.8 کو اپنا معیار Cut Off Point بنا سکتے ہیں جسکے نتیجے میں یہ شبہ کرنا چاہئیے کہ عورتوں کے خلاف کوئی مداخلت یا سرگرمی ہو رہی ہے۔

اس خط تقسیم Dividing line کا پیمانہ استعمال کریں تو اس سے انڈیا میں جغرافیائی طور پر ایک بہت واضح تقسیم دکھائی دے گی۔ انڈیا میں شمال اور مغرب کی ریاستیں ایسی ہیں جہاں بچیوں اور بچوں کے مابین تناسب تواترسے ہمارے اوپر مذکور معیاری خط تقسیم سے نیچے چلا آتا ہے۔ اس فہرست میں بالترتیب پنجاب، ہریانہ، دہلی اور گجرات (جہاں تناسب 79.3 اور 87.8 کے درمیان ہے) اور بشمول دیگر ریاستوں کے ہما چل پردیش، مدہیہ پر دیش، راجھستان، اترپردیش، مہارا شٹر، جموں اور کشمیر اور بہار (جہاں دادرا اور ناگر حویلی ایک استشاء ہیں جہاں کی آبادی چوتھائی ملین سے کچھ کم ہے) ہیں۔ اس تقسیم کے دوسری جانب مشرق اور جنوب کی ریاستوں ہیں جہاں لڑکیوں لڑکوں کا تناسب معیاری پیمانے، 94.8 لڑکیاں بمقابلہ 100 لڑکے، سے اوپر ہے۔ اس میں کیرالہ، آندھرا پردیش، مغربی بنگال اور آسام (جن میں سے ہر ایک کے ہاں تناسب 96.3 اور 96.6 کے مابین ہے) اور بشمول دیگر ریاستوں کے اوڑیسا، کرناٹک اور بنگلہ دیش کی شمال مشرقی ریاستیں (میگھالیا، مزورام منی پور، ناگالینڈ، آرونا چل پردیش) شامل ہیں۔ امن واضح تقسیم میں صرف ایک استثناء تامل ناڈو ہے جہاں مردوں اور عورتوں کا تناسب 94 سے ذرا نیچے ہے جوکہ کم تناسب والی آس پاس کی دیگر تمام ریاستوں سے زیادہ ہے۔ لیکن پھر بھی معیاری حد (94.8) سے ذرا کم ہے۔ حیرت کی بات یہ نہیں ہے کہ بظاہر یہ مخصوص ریاست آس پاس کی ریاستوں میں معمولی سی مختلف کیوں ہے۔ بلکہ اصل حیرانی اس پر ہے کہ آخر انڈیا کی ریاستوں کی اکثریت ان دو واضح طور پر مختلف لیکن باہم متصل حصوں کے تحت کیوں آتی ہیں۔ جنہیں ایک طرف شمال اور مغرب اور دوسری طرف جنوب اور مشرق میں واقع ریاستوں میں تفریق کیا گیا ہے۔ بلا شیہ شمال اور مغرب کی ہر ریاست (سوائے دادرا اور ناگر حویلی کی یونین کے علاقے کے) میں بچیوں اور بچوں میں تناسب مشرق اور جنوب کی کسی بھی ریاست بشمول نامل ناڈو) کے مقابلے میں شدت سے کم ہے۔ یقینا ًیہ امر خاصا غیر معمولی ہے۔ بچیوں بچوں کے درمیان تناسب کی بنیاد پر علاقائی تقسیم بچیوں اور بچوں کے مابین شرح اموات کے تناسب کے مقابلے میں زیادہ واضح ہے۔ اگرچہ ان دونوں کا آپس میں واضح اور گہرا تعلق ہے۔ طفلی شرح اموات Child Mortality کے لحاظ سے بچیوں اور بچوں میں تناسب ایک طرف جنوبی مشرقی ریاستوں کے گروپ میں مغربی بنگال میں 0.91 اور کیرالہ میں 0.93 تک تو دوسری طرف شمالی اور مغربی ریاستوں کے گروپ میں پنجاب ہریانہ اور اتر پردیش میں 1.30اور گجرات، بہار اور راجستان میں بھی زیادہ تناسب دیکھنے میں آیا ہے۔ شمال اور مغرب میں خواتین کے خلاف تعصب ایک ایسی واضح خصوصیت ہے جو جنوب اور مشرق کے زیادہ تر حصے میں موجود ہی نہیں۔ یا پھر تاحال واضح نہیں ہوئی۔ اس تضادکی کوئی ضروری اقتصادی وجہ بھی نہیں ہے۔ خواتین کے خلاف تعصب رکھنے والی ریاستوں میں امیر ریاستیں (پنجاب اور ہریانہ) بھی ہیں اور غریب ریاستیں (مدہیہ پردیش اور اتر پردیش) بھی۔

تیزی سے پھلتی پھولتی ریاستیں (گجرات اور مہارا شٹر) بھی ہیں اور اقتصادی طور پر نا کام ریاستیں (بہار اور اتر پردیش) بھی مزید یہ کہ جنسی تفریق کی بنیاد پر اسقاط حمل کو بھی جنین کی جنس کا تعین کرنے والی ٹیکنالوجی تک رسائی کی سہولتوں کی بنیاد پر نہیں بیان کیا جا سکتا۔ کیرالہ اور مغربی بنگال جن کا شمار کم تناسب والی فہرست میں نہیں ہوتا اور دونوں میں تناسب 96.3 لڑکیاں بمقابلہ 100 لڑکے ہے (جو کہ 94.8 کے معیار سے ٹھیک ٹھاک زیادہ ہے) ان میں صحت کی سہولتیں کم از کم اتنی ہی ہیں جتنی کہ معیار سے گرے ہوئے تناسب والی ریاستوں جیسے مدہیہ پردیش یا راجستان میں۔ اگر کیرالہ یا مغربی بنگال میں جنین کی جنس کی بنیاد پر اسقاطَ حمل کرنے والی سہولتیں کمرشل بنیادوں پر دستیاب نہیں تو اسکی وجہ یہ ہے کہ وہاں ان سہولتوں کی مانگ کم ہے نہ کہ انکی فراہمی کی طرف سے کسی رکاوٹ کا سامنا ہے۔ اس سے یہ پتہ چلا کہ ہمیں اقتصادی ذرائع یا مادی ترقی یا قومی آمدنی (GNP) کے تناظر سے آگے وسیع سماجی اور تمدنی اثرات کو دیکھنا ہوگا۔ بہت سے ممکنہ سلسلہ وار بندشوں کو یہاں مد نظر رکھنا ہوگا اور آبادی سے متعلق ان اعداد و سمار کو سماجی انسانیات Social Anthropology اور تمدنی تحقیقات کے پر مغز مضامین سے بھی جوڑنا اہم ہوگا۔ شائد اس کا تعلق کچھ سیاست سے بھی ہے۔ بلا شبہ دیگر حوالوں سے یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ شمال اور مغرب کی ریاستوں میں کم و بیش زیادہ تر نے مذہبی تفریق کی بنیاد پر سیاست کو زیادہ موقع فراہم کیا جبکہ اسکے برعکس مشرقی اور جنوبی ریاستوں میں مذہبی سیاست کرنے والی تنظیموں کو بہت معمولی کامیابی ہوئی۔ مثال کے طور پر پارلیمنٹ میں بھارتیہ جنتا پارٹی BJP اور شیو سینا کے 1999 میں منتخب ہونے والے 197 اراکین میں سے 196 شمال اور مغرب کی ریاستوں سے جیت کر آئے۔ بھلے ہم BJP کے اراکین کو نکال بھی لیں، جوکہ اگرچہ بہار اور مدہیہ پردیش سے چلے گئے تھے، لیکن حال ہی میں بنائی گئی ریاستوں جھاڑ کھنڈ اور چاہتسگڑھ Chhatisgarh سے تعلق رکھتے تھے (جہاں کہ اتفاق سے مرد وزن میں تناسب ’’مشرقی‘‘ ہے اور معیار کی حد سے اوپر ہے)، تب بھی شمال اور مغرب میں سنگھ پر یوار کی نمائندگی زیادہ مضبوط اور نمایاں ہے۔ بغیر مزید جانچ پڑتال کیے یہ کہنا آسان نہیں کہ یہ علاقائی، تمدنی اور سیاسی سلسلے کس قدر اہم ہیں اور کس طرح سے (اور کس سمت میں) یہ سبب اور معطل اثرات کس انداز میں کام کرتے ہیں۔

لیکن بچیوں اور بچوں میں تناسب (جو پیدائش اور پیدائش کے بعد کی اموات میں نا برابر کے مجموعی اثر کو ظاہر کر رہا ہے) کی بنیاد پر انڈیا کے غیر معمولی امر کے اعتراف بلکہ تحقیق کا متقاضی ہے۔ یہ بھی ضروری ہوگا کہ جنسی تخصیص کی بنیاد پر اسقاط کرانے کے معاملے پر بہت قریب سے نگاہ رکھی جائے کہ آیا یہ سلسلہ ان ریاستوں میں خاص طور پر تو نہیں بڑھ رہا جہاں فی الوقت یہ خاصا غیر معمولی ہے۔ مختصراً یہ کہ یہاں مختصراً میں ان اہم نکات پر اپنی گفتگوختم کرنے کی کوشش کروں گا جن پر میں نے ابھی تک بحث کی ہے۔ پہلے میں نے یہ بحث کی ہے کہ صنفی نا برابری کے مسئلے کو مختلف حوالوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اسکے بہت سے متنوع پہلو ہیں۔ صنفی نا انصافی کی نمایاں صورتیں ایک علاقے سے دوسرے علاقے اور ایک عہدسے دوسرے عہد میں مختلف ہو سکتی ہے۔ دوسرے یہ کہ صنفی نا برابری کے اثرات جوکہ مردوں اور عورتوں کی زندگیوں پر بری طرح سے اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ کو مزید بہتر طور پر سمجھنے کیلئے مخصوص علاقوں میں نا برابری کی مخصوص صورتوں کو تجرباتی بنیادوں پر مفصل انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ صنفی نا برابری نہ صرف لڑکیوں اور زیادہ پختہ عمر کی عورتوں کے مفادات پر زد ڈالتی ہے بلکہ لڑکوں اور آدمیوں کے مفادت پر بھی، حیاتیاتی بنیادوں (جیسے بچپن میں نا کافی غذائیت اور عمر کے اگلے ادوار میں امراض قلب ) پر بھی اور سماجی (سیاسی معاشی اور سماجی زندگی کی ) بنیادوں پر بھی۔

عورتوں اور آدمیوں میں تفاوت کے دیرپا اثرات کو کافی حد تک سمجھنے کیلئے ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ صنفی نا برابری کوئی ایک تکلیف نہیں بلکہ بہت سی تکالیف ہیں جو مردوں اور عورتوں اور لڑکوں اور لڑکیوں ہر ایک کی زندگی پر جداگانہ طور پر اثرا انداز ہوتی ہیں۔ اس بات کی ضرورت بھی ہے کہ ہم ماضی کے ان چند نتائج کی جانچ پڑتال اور نظر ثانی کر لیں جنھیں ہم نے ماضی میں محض تجربے سے اخذ کرنے کی کوشش کی۔ اس بات کو رد کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں کہ خواتین کی آواز اور انکی شکتی میں اضافے کیلئے انہیں با اختیار بنانے سے کئی قسم کی صنفی نا برابری کم کی جاسکتی ہے اور عورتوں کو اطاعت گزار بنانے کی بالواسطہ ہدایات جو مردوں کو ملتی ہیں ان میں بھی کمی کی جا سکتی ہے۔ تاہم شرح پیدائش میں نا برابری کا بڑھتا ہوا مظہر ایسے سوالات اٹھا رہا ہے کہ جن کا جواب بنیادی طور پر بہت پیچیدہ ہے۔ جب بعض علاقوں کی عورتیں بذات خود لڑکی کے بجائے لڑکے کی خواہش کو اس قدر شدت سے ترجیح دیتی ہوں تو اسکے نتیجے میں ظاہر ہونے والی شرح پیدائش میں نا برابری کے تدارک کیلئے دیگر ممکنہ ترغیبات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ خوتین سے بھی بہت کچھ توقع کرنا ہوگا۔ یقینا شرح پیدائش میں نا برابری کی صورت میں ظاہر ہونے والی جدید high-tech قسم کی نا برابری کی اس صورت سے معاملہ کرتے وقت عورتوں کی محض شکتی سے بھی آگے جانا ہوگا بلکہ جو اقدار چلی آتی ہیں ان کا بھی تنقیدی جائزہ لینا ہوگا۔ جب عورتوں کے خلاف تعصب کار فرما ہو (جیسے جنسی تخصیص کے ساتھ حمل گرانا) تو اس سے روایتی مردانہ اقدار کے اثر و نفوذ کا پتہ چلتا ہے جس سے مائیں خود بھی محفوظ نہیں ہونگی۔ جس چیز کی ضرورت ہے وہ صرف خواتین کیلئے عملی آزادی ہیں بلکہ فکری آزادی بھی ہے کہ وہ اپنی صلاحیت اور مرضی کو بروئے کار لاکر چلی آتی اقدار کے بارے میں سوال اٹھا سکیں۔ باخبر اور ناقدانہ فکرو عمل ہر نوع کی نا برابری کے مقابلے کیلئے ضروری ہے اور صنفی نا برابری اور اسکی مختلف صورتیں بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔

پہلے حصہ کے لنک کے لیے یہاں پر کلک کریں۔

دوسرے حصہ کے لنک کے لیے یہاں پر کلک کریں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: