صنفی نا برابری کی مختلف صورتیں (حصہ 2) : امرتیاسین /محمد سلیمان قاضی

0
  • 7
    Shares

اس مضمون کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے۔

شمالی امریکہ اور یورپ کی آبادیوں میں عورتوں کا مردوں سے زیادہ ہونا دراصل عمر کے مختلف حصوں میں خواتین کے زندہ رہنے کے زیادہ امکانات کے سبب ہے۔ تاہم دنیا کے بہت سے حضوں میں عورتوں کو مردوں کے مقابلے میں کہیں کم توجہ اور صحت کی سہولتیں ملتی ہیں۔ خاص طور پر لڑکیوں کو تو لڑکوں کے مقابلے میں بالکل ہی کم سپورٹ ملتی ہے۔ اسی صنفی جانبداری کے نتیجے میں ان ملکوں میں خواتین کی شرح اموات مردوں کے مقابلے میں اکثر بڑھ جاتی ہے۔ ’’گم شدہ عورتوں‘‘ Missing Women کا تصور اسی لیے تشکیل دیا گیا تھا کہ عورتوں کی شرح اموات کی خراب صورتحال کی شدت کا اندازہ لگایا جائے اور ان عورتوں پر توجہ مرکوز کی جائے جو اس وجہ سے موجود نہیں ہیں کہ مردوں کے مقابلے میں عورتوں میں شرح اموات غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔ بنیادی خیال یہ ہے کہ کوئی فوری اور عام طریقہ نکالا جائے جس سے کہ ان دونوں میں مقداری طور پر فرق Quantitative Difference نکل سکے۔

۱۔ ان ملکوں میں خواتین کی اصل تعداد، اور
۲۔ وہ تعداد جس کی توقع ہم کر سکتے کہ اگر ان ملکوں میں صنفی لحاظ سے اموات کی صورتحال ویسی ہی ہوتی جیسی کہ دنیا کے ان دوسرے علاقوں میں ہے جہاں خواتین کے خلاف صحت کی فراہمی اور بقاء سے متعلق دیگر توجہات میں کوئی خاص جانبداری نہیں بڑھتی جاتی۔ مثال کے طور پر اگر ہم افریقہ کے زیریں صحارا میں آدمیوں اور عورتوں کے درمیان تناسب کو بطور ایک معیار لیں( افریقہ کے زیریں صحارا میں عورتوں سے صحت کی فراہمی سماجی رتبے اور شرح اموت میں کوئی خاص جانبداری نہیں برتی جاتی، یہ اور بات کہ یہاں مردوں اور عورتوں ہر دو کیلئے اعداد و شمار خاصے خوفناک ہیں) تو یہاں کے مردو زن کے تناسب 1.022 کو عورتوں کی کمی والے ملکوں میں ’’گم شدہ عورتوں‘‘ کے شمار کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے مثلاً ہندوستان میں مردوزن میں تناسب 0.93 میں مردوں کی آبادی میں فرق زیریں صحارا والے ہمارے معیار کے حساب سے 9 فیصد ہے اس سے 1986ء میں (جب میں نے اپنی پہلی تحقیق کی) گم شدہ عورتوں کی تعداد 37لاکھ نکلی۔ اسی زیریں صحارا والے معیار کے مطابق چین میں گم شدہ عورتیں 44 لاکھ تھیں۔ اور اسی سے ظاہر تھا کہ دنیا بھر میں یہ تعداد آرام سے 100 لاکھ سے اوپر چلی گئی۔ کچھ اور طریقے اور معیار بھی استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ جیسا کہ اینسلے کول اور اسٹیفن کلاسن کیا اور کچھ مختلف تعداد اخذ کی (کلاسن کی اخذ کردہ کل تعداد قریباً 80لاکھ گم شدہ عورتیں ہیں)۔ شرح اموات کے اعتبار سے صنفی جانبداری نے حیران کن حد تک زیادہ جانیں لیں ہیں۔ اسے کیونکر پلٹا جا سکتا ہے؟ چند اقتصادی نمونوں (ماڈلز) نے خواتین کو نظر انداز کرنے کا تعلق خواتین کے ہاں معاشی اختیار Empowerment کے کم ہونے کو قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ ایسٹر بوزرپ، ایک ابتدائی نسائی ماہر اقتصادیات Feminist Economist نے اس سے بحث کی ہے کہ معاشی آزادی سے عورتوں کا درجہ اور مقام کس طرح سے بلند ہو جاتا ہے (جیسے نفع بخش ملازمت (Gainful Employment۔

دوسروں نے لڑکیوں کو نظر انداز کرنے کا تعلق اس بات سے معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکے کنبے کیلئے زیادہ کمائی کرکے لاتے ہیں۔ میں پہلے والی دلیل پر یقین رکھتا ہوں جو سماجی حوالوں کو بھر پور طریقے سے توجہ دیتی ہے اور لڑکوں اور لڑکیوں کی پرورش اور اس کے صلے میں ان سے ملنے والی مقابلتاً آمدنی کی کج فہم جمع تفریق سے پرے کی بات کرتی ہے۔ پہلی دلیل زیادہ درست اور دل کو لگتی ہے۔ لیکن جو تو جیہہ مرضی لی جائے، خواتین کی منافع بخش ملازمت، خصوصاً زیادہ منفعت بخش پیشوں میں لڑکیوں اور عورتوں کیلئے واضح بہتری لاتی ہے اور اسی طرح سے خواتین کی تعلیم اور دوسرے پہلو ہیں جنہیں گھریلو فیصلوں کے ضمن میں خواتین کے رتبے مقام اور ان کی آواز میں اضافہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں میں ایک مثال انڈیا میں کیرالہ کی ریاست ہے جہاں تجربے میں یہ آیا ہے کہ یہاں شرح اموات کے لحاظ سے معمولی یا کوئی صنفی جانبداری نہیں ہے اور اس بات میں یہ علاقہ ملک کے دیگر بہت سے علاقوں سے بڑا ممتاز ہے۔ یقیناً یہاں کی خواتین کی، متوقع مدت حیات Life expactancyپیدائش کے وقت 76 برس (جبکہ مردوں کی 70برس) ہے۔ 2001کی مردم شماری کے مطابق کیرالہ کی آبادی میں مردوں اور عورتوں میں تناسب 1.06 ہے۔ (عین ممکن ہے کہ مردوں کے تلاش کار کے سلسلے میں باہر جانے کے کارن یہ تناسب بڑھا ہو۔ تاہم یہ کسی طرح بھی مغربی یورپ اور شمالی امریکہ کے تناسب سے کم نہیں جوکہ 1.05 تک ہے) 30 لاکھ نفوس کے ساتھ کیرالا میں آبادی بھی مثالی ہے۔

خواتین کے اختیار سے متعلق مسبب متغیرات Causal Variable یہاں اپنا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ کیرالہ میں عورتوں کی خواندگی کا تناسب بھی بہت زیادہ ہے (چھوٹی عمر کے بچوں، بچیوں میں تو سب کیلئے تقریباً یکساں) اور خواتین کیلئے اعلیٰ تنخواہ والی ملازمتوں اور معزز پیشوں تک کہیں زیادہ رسائی ہے۔ خواتین کے اختیار پر اثر انداز ہونے والی ایک اور چیز، جس کا نام زرخیزی میں کمی Fertility decline ہے یہ رجحان بھی کیرالہ میں بہت تیز رہا ہے۔ (حتیٰ کہ چین سے بھی زیادہ تیز جہاں برتھ کنٹرول کیلئے بڑی زور زبرستی کی جاتی رہی ہے) اور کیرالہ میں زرخیزی کی موجود شرح بھی 1.7 یا 1.8 کے لگ بھگ ہے۔ (اسے ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہر جوڑے کے اوسطاً 1.7 یا 1.8 بچے ہیں)۔ یہ شرح ترقی پذیر دنیا میں سب سے کم شرح رکھنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ (یہ تقریباً برطانیہ اور فرانس کے مساوی ہے اور ریاستہائے متحدہ امریکہ سے بہت کم ہے) یہ تمام مشاہدات سبب و مسبب کی ایک کہانی میں بڑی خوبصورتی سے ہم آہنگ ہیں۔

تاہم کیرالہ کے تجربے کو سبب و مسبب کے لحاظ سے مزید متمیز کرنے کی ضرورت ہے۔ کیرالہ کی کچھ اور خصوصیات بھی ہیں جوکہ متعلقہ ہو سکتی ہے۔ جیسے ہندو آبادی میں ایک بااثر قوم نائر کو لیں۔ ان کے ہاں بیرونی دنیا سے روابط (کیونکہ نائر اپنے علاقے سے باہر بھی آتے جاتے ہیں۔ جیسے برطانیہ) اور کھلے تعلقات (جیسے عیسایوں کی موجودگی ۔۔۔۔ جوکہ آبادی کا پانچواں حصہ ہیں ۔ ۔۔۔ اور کیرالہ میں بڑے عرصے ۔۔۔۔ قریباً چوتھی صدی عیسوی سے ۔۔۔۔ رہتے چلے آ رہے ہیں اور یہودیوںسے بھی ان کے روابط ہیںجو سقوط یروشلم کے کچھ عرصہ بعد یہاں آگئے) اور بائیں بازو کے سیاسی کارکنوں کی موجودگی (جو مساوات انسانی کے تصور سے گہری وابستگی کے حامل ہیں) کی وجہ سے نہ صرف طبقات اور ذاتوں بلکہ عورتوں اور مردوں کے درمیان برابری اور مساوات کو (حتیٰ کہ جائیداد میں خواتین کے حصہ کے حوالے سے) مد نظر رکھا جاتا ہے۔

۵۔ امور جن پر تحقیق کی ضرورت ہےاب میں اس پرانے اور اب تک بحث کئے جانے والے موضوع ۔۔۔۔ زندگی اور موت کے معاملات میں صنفی جانبداری (جس کا پتہ ’’گمشدہ عورتوں‘‘ کی اس قدر بڑی تعداد سے چلتا ہے) سے ہٹتا ہوں اور ان موضوعات کی طرف آتا ہوں جن پر اب زیادہ تحقیق کی ضرورت ہے۔

ہم 4 نمایاں مظاہر سے شروع کرتے ہیں جو جنوبی ایشیاء کے طول و عرض میں دیکھے جاتے ہیں۔

۱۔ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی کم بڑھوتری پیدائش کے وقت لڑکیوں کی صحت کا معیار اتنا ہی ہوتا ہے جتنا نومولود لڑکوں کا، لیکن یہ کیفیت سماج کے غیر مساوی رویے کے فطرت کے غیر جانبدارانہ رویے کی جگہ لے لینے سے تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اس سلسلے میں اچھے خاصے شواہد کچھ عرصے میں اکٹھے ہو چکے ہیں۔ لیکن علم انسانیات کی جانب سے ان پرشبہ بھی کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ مجتمع اعداد و شمار Aggregate statistics مختلف علاقوں سے اکھٹے کرکے ان کا اطلاق انفرادی خاندانوں کے رویے کی تشریح کیلئے کیا جا رہا ہے۔ تاہم یہ بھی ہے کہ اس موضوع پر چند مفصل اور سراسر مقامی مثالیں بھی موجود ہیں۔ جنکی تحقیق وہی تصور پیش کرتی ہے جو مجتمع شماریات نے ظاہر کی ہے۔ ایک کیس سٹڈی جو انڈیا سے ہے اور جس میں سنیل گپتا کے ہمراہ 1983 میں میں بھی شریک تھا۔ اس میں دو دیہاتوں میں تمام بچوں کا وزن کیا گیا۔ اس چھوٹی سٹڈی سے، جہاں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی نشوونما جانچنے کیلئے وزن بمطابق عمر کا معیار پیما Weight for age Indicator استعمال کیا گیا تھا (معلوم ہوا کہ وقت کے ساتھ ساتھ کس طرح سے غذائی اعتبار سے برابری کی شروع کی حالت رفتہ رفتہ بچیوں اور عورتوں کے لیے فوائد میں کمی کارجحان اختیار کر لیتی ہے)۔ مفصل طور پر کی گئی مقامی سٹڈیز مجتمع شماریات کی تردید نہیں تصدیق کرتی ہیں۔ سبب اور مسبب کے عمل کی توجیح کرتے وقت یہ کہنا ضروری ہے کہ لڑکیوں کی نشوونما میں کمی کا تعلق بچیوں کو لڑکوں کے مقابلے میں کم کھانے کو دینے سے براہ راست جوڑا نہیں جا سکتا۔ اکثر ہوتا یہ ہے کہ یہ فرق اسلیے خصوصاً پیدا ہو سکتا ہے کہ لڑکیوں کو صحت کی اتنی سہولتیں نہیں ملتیں جتنی لڑکوں کو دی جاتی ہیں۔ فی الحقیقت اس بات کی براہ راست معلومات موجود ہیں کہ جنوبی ایشیاء میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کو طبی خدمات کی فراہمی میں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ یقیناً جب میں نے جو سلین کنچ کے ساتھ سٹڈی کے دوران ممبئی کے دو بڑے پبلک ہسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں کے اعداد و شمار اکٹھے کئے تو یہ جان کر سخت حیرت ہوئی کہ اس بات کا صاف پتہ چل رہا تھا کہ ہسپتال داخلے کے وقت لڑکیاں لڑکوں کی نسبت بالخصوص زیادہ بیمار ہوتی ہیں۔ جس سے معلوم ہوا کہ ہسپتال جانے سے پہلے لڑکی کو زیادہ بیماری اٹھانی پڑتی ہے۔ ناکافی غذائیت بدن کی حالت مرض Morbidityمیں رہنے سے بھی واقع ہو سکتی ہے۔ یعنی مرض میں مبتلا ہونے کے باعث غذائی اجزاء کا انجذاب اور جسم کے افعال دونوں ہی بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔

۲۔ ماں کی نا کافی غذائیت کا بکثرت دیکھنے میں آناجنوبی ایشیامیں دنیا کے بیشتر علاقوں کی نسبت زچہ کی نا کافی غذائیت کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ باڈی ماس انڈکس BM1 جوکہ وزن بحوالہ قدکا ایک معیاری پیمانہ ہے۔ اس حقیقت کو بالکل واضح کر دیتا ہے بعینہ جس طرح دوسرے پیمانے جیسے خون کی قلت (اینیمیا) کا پیمانہ ظاہر کرتا ہے۔

۳۔ بوقت پیدائش کم وزن (Low Birth weight) کا زیادہ پایا جاناجنوبی ایشیاء میں کم و بیش 21فیصد بچے (مسلمہ طبی معیار کے لحاظ سے) کم وزن پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار دنیا کے کسی بھی علاقے سے زیادہ ہیں۔ بچپن میں معیار سے کم وزن ہونے کی ابتداء جنوبی ایشیاء کے بچوںمیںپیدائش سے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ وزن بحساب عمر کے لحاظ سے جنوبی ایشیاء کے بچوں کا تناسب 40سے 60فیصد بنتا ہے اور اس کے مقابلے میں افریقہ میں زیریں صحارا تک میں نا کافی غذائیت کا یہ تناسب 20 سے 40 فیصد ہے۔ بچے محرومی سے ابتداء کرتے ہیں اور محروم ہی رہتے ہیں۔

۴۔ امراض قلب کا زیادہ دیکھنے میں آناتیسری دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں جنوبی ایشیاء میں دل کی بیماریوں کی شرح زیادہ ہے۔ حتیٰ کہ دیگر ممالک جیسے چین میں بھی ان بیماریوں سے متعلق پیش خیمہ حالات Predisposing Conditions زیادہ پائے جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ہندوستانی آبادی ان ملکوں کے مقابلے میں امراض قلب میں زیادہ گرفتار دکھائی دیتی ہے۔ یہ دیکھنا مشکل نہیں کہ پہلے تین مشاہدات آپس میں سبب اور مسبب کے تحت جڑے ہوئے ہیں۔ لڑکیوں اور عورتوں کی علاج معالجے کی سہولتوں سے عمومی نظر اندازی اور اسکے پیچھے صنفی جانبداری جسکا تاثران سے ملتا ہے، یہ زچہ کی نا کافی غذائیت کا پیش خیمہ ہوتے ہیں۔ نتیجتاً جنین کی نشوونما میں کمی اور اس سے کم وزن بچے کی پیدائش اور پھر بچوں کی نا کافی غذائیت اور خراب نشوونما۔ لیکن آخری مشاہدے کی بابت کیا کہا جائے؟ جنوبی ایشیاء کے بالغ لوگوں میں امراض قلب کی اس زیادہ شرح کی توجیح کرتے وقت میری رائے میں ہم برطانوی طبی ٹیم جس نے کبھی پروفیسر ڈی جے پی بار کرکی سرکردگی میں کام کیا تھا، کی تحقیقات سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ انگریزوں سے حاصل شدہ اعداد و شمار کی بنیاد پر پروفیسربار کرنے یہ ظاہر کیا ہے کہ پیدائش کے وقت کم وزن کا تعلق کئی دہائیاں آگے جاکر بالغوں کے ان امراض کے زیادہ واقع ہونے سے نکلتا ہے جن میں فشار خون کی زیادتی، گلوکوز کی ذیادتی (زیابیطس) اور دیگر امراض قلب شامل ہیں۔ اعداد و شمار کی اتنی تعداد اور ساتھ ہی ساتھ شکم مادر میں نشوونما میں انحطاط Intrauterine growth retardation کو یقینا تحقیق کی کسوٹی پرکھا جاسکتا ہے لیکن معاملہ یہ ہے کہ سردست جنوبی ایشیاء میں مشاہدے میں آئے طبی نتائج کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ آپس میں سبب و مسبب کے رشتے سے ممکنہ طور پر بندھے ہیں۔ جیسا کہ میں نے صدیق عثمانی کے ہمراہ ایک مشترکہ مقالے میں اس پر بحث کی ہے۔ جنوبی ایشیاء میں امراض قلب کی زیدہ شرح کے مظہر پر ان طبی تحقیقات کے اطلاق سے یہ تقریباً بھروسے سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ سبب و مسبب کا ایک سلسلہ ہے جو خواتین کو غذائیت کی فراہمی میں نظر انداز کرنے سے لے کر ذچہ کی نا کافی غذائیت اور وہاں سے جنین کی نشوونما کے انحاطاط اور کم وزن کے ساتھ پیدائش سے ہوتا ہوا بالغ عمر میں کہیں آگے جا کر امراض قلب کی صورت منتج ہوتا ہے۔

سبب اورمسبب کا ایک سلسلہ ہے جو عورتوں کو غذا کی فراہمی میں نظر انداز کرنے سے لے کر زچہ کی نا کافی غذائیت تک اور وہاں سے جنین کی نشوونما کے انحطاط Foctal Growth retardation اور کم وزن کے ساتھ پیدائش سے ہوتا ہوا بالغ عمر میں کہیں آگے جاکر قلب اور لوگوں کے امراض کی شکل میں منتج ہوتا ہے (اس طویل عمل کے ساتھ ساتھ مختصر مدت کا بچوں میں ناکافی غذائیت کا مظہر بھی جاری رہتا ہے) سو وہ چیز جو خواتین کے مفادات کو نظر انداز کرنے سے شروع ہوتی ہے، وہ سب کی صحت اور بقا کیلئے عمر کے اگلے ادوار تک، افتاد اور زبوںحالی کی صورت منتج ہوتی ہے۔تولیدی عمل میں عورتوں کے غیر معمولی کردار کی نزاکت رکھتے ہوئے یہ سوچنا بڑا مشکل ہے کہ عورتوں کو جن محرومیوں سے دوچار کیا جاتا ہے، اس کا کچھ نہ کچھ برُا اثر سب کی زندگیوں پر، مردوں کی بھی، عورتوں کی بھی، بالغوں اور بچوں، ہر ایک کی زندگی پر نہیں پڑتا ہوگا۔ کہ یہ سب آخر ’’ایک عورت سے پیدا ہوئے‘‘ ہیں (جیسا کہ ایوبؑ کی کتاب میں درج ہے، گو کہ ایک ایک کو گنے بغیر) یقینا چونکہ مرد قلب اور رگوں کے امراض میں مقابلتاً زیادہ گرفتار ہوتے ہیں سو عورتوں کی تکالیف مردوں کیلئے یوں اور بھی زیادہ خرابی کا باعث ہوتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ عورتوں کے مفادات نظر انداز کرنے کی دور اثر سزا پلٹ کر مردوں کو جا لیتی ہے۔ خواتین کی شکتی Women Agency کیا کر سکتی ہے۔ ان حیاتیاتی معاملات سے ایک اور سادہ سا نکتہ نکلتا ہے، صنفی نا برابری مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کے مفادات کو بھی ضرر پہنچا سکتی ہے۔ کچھ اور غیر حیاتیاتی ۔۔۔۔۔ معاملات بھی ہیں جو عورتوں کے فکر و عمل سے متعلق ہیں۔ عورتوں کی صلاحیتوں میں اضافے سے نہ صرف خوتین کی اپنی آزادی اور بہتری میں اضافہ ہوتا ہے۔ بلکہ اس کے بہت سے اثرات سب کی زندگیوں پر پڑتے ہیں۔ عورتوں کی عملی کارکردگی میں اضافے سے، بہت سی صورتوں میں، لوگوں کی زندگیوں پر ۔۔۔۔ عورتوں کی بھی بالغوں اور بچوں ہر ایک کی زندگی پر، قابل ذکر حدتک اثر پڑتا ہے۔ جیسا کہ بہت سی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ عورتوں کو زیادہ خودمختاری دی جائے تو اس سے بچوں کی اموات کی شرح اور انھیں نظر انداز کرنے میں کمی، زرخیزی fertilityمیں کمی اور بھیڑ بھاڑ اور ہجوم میں کمی آتی ہے۔ اور بالعموم وسیع تر سماجی شعور اور اعتنائی کا فروغ ہوتا ہے۔ ان تشریحات میں اگر کوئی سقم یاکمی رہ گئی ہے تو وہ دیگر شعبوں شمول اقتصادی اور سیاسی میدانوں میں خواتین کی کارکردگی کو مد نظر رکھنے سے دور کی جا سکتی ہے۔

جاری ہے۔

پہلے حصہ کے لیے اس لنک  پر کلک کریں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: