افریقی تاریخ اور لوک کہانیاں —– آگسٹس کیسلی ہیفورڈ، ترجمہ: محمد عثمان

0
  • 20
    Shares

عرض مترجم:- درج ذیل تحریرمشہور برطانوی محقق اور ثقافتی تاریخ دان آگسٹس کیسلی ہیفورڈ کی تقریر کا اردو ترجمہ ہے۔ آگسٹس نے یہ تقریر ٹیڈ ٹالک سیریز کے پروگرام میں پیش کی جسے پوری دنیا میں زبردست پذیرائی ملی۔

محمد عثمان

آگسٹس کے آباؤاجداد کا تعلق مغربی افریقہ کے ملک گھانا سے تھا۔ آگسٹس واشنگٹن ڈی سی میں قائم افریکن آرٹ میوزم کے ڈائریکٹر ہيں اور کنگز کالج لندن سمیت بہت سی علمی اور ثقافتی سوسائٹیوں کے ممبر ہیں۔
اس کے علاوہ وہ سکائی ٹی وی اور بی بی سی ٹی وی پر تاریخ اور ثقافت سے متعلق مختلف پروگرام بھی کرچکے ہیں۔
آگسٹس کی اس تقریر کا مقصد نوآبادیاتی اور جدید نوآبادیاتی دور میں افریقہ کی تاریخ کے حوالے سے مغربی مفکرین کے تعصب اور جہالت کو ظاہر کرتے ہوئے ماضی میں افریقی تہذيب و تمدن اور علوم و فنون میں ترقیات کی ایک ہلکی سے جھلک پیش کرنا ہے۔
ترجمہ میں کہیں کہیں بات کو عام فہم بنانے کے لئے ضروری اضافے کئے گئے ہیں۔


مشہور جرمن فلسفی ہیگل کا ایک قول بہت مشہور ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ افریقہ ایک ایسا خطہ ہے کہ جس کی کوئی تاریخ، ماضی اور بیانیہ نہیں ہے۔ لیکن میں اس سے اختلاف کی جسارت کرتے ہوئے کہنا چاہوں گا کہ کسی اور براعظم نے افریقہ سے زيادہ اپنی تاریخ کی نشونما، حفاظت اور والہانہ تکریم نہیں کی۔ افریقہ کی کہانی کو زندہ رکھنے کے لئے افریقی عوام نے انتھک اور مسلسل جدوجہد کی ہے جو کہ آج بھی جاری ہے۔ غلامی، نو آبادیاتی نظام، نسل پرستی، جنگوں اور دیگر مسا‏‏ئل کے خلاف جدوجہد اور قربانیاں ہمارے تاریخی بیانیے کا مرکزی خیال بن چکی ہیں۔

ہمارے بیانیے نے نہ صرف اِن حملوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا جو تاریخ نے اُس پرمسلط کئے بلکہ ہم نے تہذیب و تمدن، اخلاق و قانون اور علم و دانش کی عظیم الشان عملی مثالی بھی چھوڑی ہیں جو کہ تاریخی حوالے سے دنیا کے کسی بھی مسلمہ معیار پر پورا اترتی ہیں۔ یورپی ممالک کی افریقہ میں خود غرضانہ آمد سے طویل عرصہ قبل، جبکہ یورپ ابھی اپنے تاریک دور سے گزر رہا تھا، افریقی اہل علم تاریخ کو ریکارڈ کرنےکے طریقوں کی ایجاد اور ترقی میں مصروف تھے تاکہ وہ اپنی کہانی اور بیانیے کو زندہ رکھ سکیں کیونکہ ہمارے لئے ہماری تاریخ اور تہذیب و تمدن بہت اہم ہے جس کا اظہارآپ ہمارے رسم و رواج اور طور طریقوں میں دیکھ سکتے ہیں۔

مجھے یاد آرہا ہے کہ پچھلے سال القاعدہ سے الحاق کردہ تنظیم انصار دائن کے بانی ممبران پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلا اورانہیں ہیگ بھیجا گیا۔ ان میں سب سے بدنام احمد الفاقی تھا جو کہ مالی (مغربی افریقہ کا ایک ملک) سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان تھا۔ اس پر الزام قتل عام یا نسل کشی کا نہیں تھا بلکہ یہ تھا کہ اس نے مالی کے اہم ترین تہذیبی ورثے کو تباہ کرنے کے عمل کی منصوبہ بندی کی تھی۔

یہ قومی املاک کو تباہ کرنے کا کوئی غیر ارادی منصوبہ نہیں تھا۔ الفاقی کو جب عدالت میں اپنی شناخت کروانے کا کہا گیا تو اس نے بتایا کہ وہ ایک گریجویٹ ہے اور تدریس کے مقدس پیشے سے وابستہ ہے۔ 2012 کے دوران، یہ لوگ مالی کے تہذیبی ورثے کو تباہ کرنے کی دانستہ اور منظم سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ افریقی تہذیب وتمدن پر جنگ مسلط کرنے اور افریقہ کے تاریخی بیانیے کو تباہ کرنے کی اس سے زیادہ گھناؤنی حکمت عملی سوچنا شاید ہی ممکن ہو سکے۔ نو سے زائد مزارات، مرکزی جامعہ مسجد اور تقریبا چار سو تاریخی مخطوطوں کو تباہ کرنے کی کوشش اسی دانستہ حکمت عملی کی کڑی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ معاشروں کو باہم مربوط رکھنے میں تاریخی بیانیے کتنا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لئے وہ پرامید تھے کہ مقامی بیانیے اور لوک کہانیوں کی تباہی کے زریعے وہ ان معاشروں کو مغلوب کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

لیکن انصار دائن کی مسلح کاروائیوں اور متشدد نظریات کے خلاف ٹمبکٹو (مالی کا قدیم تاریخی شہر) کی مقامی آبادی، اہل علم اور لائبریریوں نے بھرپور مزاحمت کی۔ یہاں کی مقامی آبادیاں ٹمبکٹوکی لائبریریوں کی چھاؤں میں مالی کی ‏عظیم سلطنت کی کہانیاں اور لوک گیت سنتے ہوئے پروان چڑھتی رہی ہیں اس لئے وہ اتنی آسانی سے اپنے تہذیبی ورثے کے خلاف جنگ میں ہار ماننے کو تیار نہ تھے۔ 2012 میں انصار دائن کی مالی پر چڑھا‏‏ئی کے کٹھن مہینوں کے دوران، مالی کے عوام نے قیمتی دستاویزات کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے، اپنی تاریخی عمارات اور قدیم لائبریریوں کا دفاع کرنے کے لئے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنے سے بھی گریز نہ کیا۔ اگرچہ وہ اپنے اہداف میں سوفیصد کامیابی حاصل نہ کرپائے لیکن اس کے باوجود بہت سے اہم علمی مخطوطے بچالئے گئے۔ نیزیہ کہ چودھویں صدی عیسوی میں بنائی گئی مرکزی جامعہ مسجد سمیت تمام تباہ شدہ مزارات کودوبارہ تعمیر کرکے انہیں اپنی اصل شکل میں لوٹا دیا گیا ہے۔

لیکن دہشت گردوں کے خطے پر قبضے کے بدترین حالات میں بھی ٹمبکٹو کے عوام کی اکثریت نے احمد الفاقی جیسے افراد کی پیروی کو قبول نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی تاریخ کو مٹنے سے بچانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کیے۔ کوئی بھی شخص جو دنیا کے اس خطے میں سیروسیاحت کرچکا ہے بخوبی طور پر سمجھ سکتا ہے کہ لوک کہانیاں، بیانیے اور تاریخ کیوں اہم ہیں۔ یوں تو اپنی تاریخ سے جڑے رہنا ہر قوم کے لئے ضروری ہے لیکن افریقی پس منظر رکھنے والے افراد کے لئے، جن کے بیانیے کو صدیوں تک منظم حملوں کا شکار رکھا گیا ہے، یہ زندگی اور موت کا مسلئہ ہے۔ یہ ہماری تاریخ میں عام افریقی لوگوں کی اپنی کہانی کی حفاظت کے لئے کھڑے ہوتے رہنے کی جہدِمسلسل کی بازگشت ہے۔

جیسا کہ انیسویں صدی میں کیربین کے علاقے میں افریقی پس منظر رکھنے والے غلاموں نے ‎ جبروتشدد اورسزا کے خوف کے باوجود اپنے مذاہب پرعمل اور اپنے تہواروں کو منانے کا سلسلہ جاری رکھا تاکہ وہ اپنی تہذیب کوزندہ رکھ سکیں۔ اپنے تاریخی ورثے کی حفاظت کے لئے لوگ ہر طرح کی قربانیاں دینے، یہاں تک کہ اپنی جان دینے کے لئے بھی ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔ محتلف ممالک پر نوآبادیاتی قبضے کو عملی شکل دینے اور مستحکم کرنے میں مقامی تاریخ اور بیانیے پرحملہ آورنوآبادیاتی طاقتوں کے بیانیے کی حاکمیت نے موثر ترین کردار ادا کیا۔

جب 1874 میں انگریزوں نے اشانتی (1670ء سے 1957ء تک قائم رہنے والی سلطنت جسے آج گھانا کے نام سے جانا جاتا ہے)پر حملہ کیا، تو انہوں نے ُکماسی (اشانتی سلطنت کا صنعتی اور تہذیبی دارالخلافہ) کو فتح کر کے اشانتین پر قبضہ کرلیا۔ کسی بھی قوم کی آزادی اور ترقی میں زندگی کے بارے میں اس کا بیانیہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ وہ (نوآبادیاتی حملہ آور) جانتے تھے کہ محض علاقوں پر کنٹرول حاصل کرلینا اور سربراہِ ریاست کو اپنا محکوم بنا لینا کافی نہیں ہے اور کسی بھی ریاست کی حقیقی طاقت اس کے بیانیے، اپنی مٹی سے جذباتی لگاؤ اور گولڈن اسٹول (اشانتی سلطنت کا مقدس تخت جس سے اشانتی کے لوگوں کی تاریخی اور مذہبی وابستگی تھی) جیسی ان نشانیوں میں ہوتی ہے جس کے زریعے وہ اپنی عظمت کا اظہار کرتی ہے۔ وہ جانتے تھے کہ کسی بھی خطے کے عوام کو حقیقی معنوں میں غلام بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ان کی تاریخ کومسخ کرکے اپنا محکوم بنالیا جائے۔ اشانتی کے لوگ بھی اس بات سے آگاہ تھے، اس لئے انہوں نے کبھی بھی گولڈن اسٹول کو چھوڑنا اور برطانوی حملہ آوروں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کو قبول نہیں کیا۔

1871 میں کارل ماؤچ نامی ایک جرمن ماہر ارضیات، جو کہ جنوبی افریقہ میں تحقیقی کام کررہا تھا، نے اتفاقیہ طور پر پتھر سے بنی عمارتوں کا ایک غیر معمولی اور انتہائی پیچیدہ مجموعہ دریافت کیا جو کہ مکمل طور پر غیر آباد اور مخفی تھا۔ اس نے وہاں ہری بھری چراہگاہوں کے بیچ گرینائٹ اور قیمتی پتھر سے بنا ایک شہر دیکھاجسے گریٹ زمبابوے (یہ شہر موجودہ افریقی ملک زمبابوے میں واقع ہے اور گیارہویں سے سولہویں صدی تک قائم رہنے والی سلطنت کا پایہء تخت رہا) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کارل ماؤچ اپنی دریافت کے سحر سے زندگی بھر نہ نکل سکا۔ ماؤچ فنِ تعمیر کے اس شاہکارکو بنانے والوں سے قطعی طور پر لاعلم تھا لیکن اسے ایک چیز پر کامل یقین تھاکہ اِس شہر سے متعلق بیانیے پر نوآبادیاتی قبضہ اِنتہا‏ئی ضروری ہے۔

اپنی بعد کی تحریروں میں ماؤچ نے لکھا کہ گریٹ زمبابوے کا فنِ تعمیراتنا مبحوت کن اور تکنیکی حوالےسے اتنا مہذب تھا کہ افریقہ کے لوگوں کا ایسی شاندار تعمیرات بنانا بعید ازاِمکان تھا۔ کسی مفتوح قوم کونفرت اور حقارت سے دیکھنے کی اس گھٹیا مثال شاید ہی ممکن ہوسکے۔ ماؤچ کے نوآبادیاتی طرز فکر کی پیروی کرنےوالے درجنوں مغربی مصنفیین نےاِس ضمن میں قیاس آرائیاں کی ہیں کہ مذکورہ بالا شہر کس نے بنایا تھا۔

لیوفروبینس جو کہ جرمنی سے تعلق رکھنے والا انتھراپالوجسٹ (ماہر بشریات) تھا نے جب پہلی بار نائجیریا کے شہرایفی سے دریافت شدہ تانبے کے مجسمے دیکھے تو اس نے انہیں قدیم یونانی شہر ایٹلانٹس کی نوادرات قرار دیا۔ اس کا یہ رویہ ہیگل کی جبلی روش سے مشابہ تھا جس کا واحد مقصد افریقی تاریخ پر ڈاکہ زنی کرکے اسے مسخ کرنا تھا۔ یہ غیرمنطقی نظریات ذہنوں میں اس حد تک پیوست ہیں کہ آرکیالوجی کے ثبوت فراہم ہونے کے باوجود مغربی دانشورمنطق اوردلیل کے مطابق سوچنے اور تجزیہ کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ رویہ افریقہ اور نشاۃ ثانیہ کے تشکیل پانے والے یورپ کے مابین تعلقات کا عکاس ہے جس میں افریقی وسائل کی لوٹ مار، افریقی تہذیب اور عقل و دانش کی توہین اور افریقہ پرسیاسی قبضہ شامل ہیں اور جس کا واحد مقصد تاریخ کو یورپی مفادات کے تابع کرنا ہے۔

اگر ما‎ؤچ واقعی اپنے سوال (“زمبابوے کی وہ عظیم الشان سلطنت اوروہ شاہکار عمارات کہاں سے آئیں؟”) کا جواب تلاش کرنا چاہتا تھا، تو اسے اپنی تلاش کا سفر عظیم زمبابوے سے ایک ہزار میل دور، براعظم افریقہ کے مشرقی کنارے سے شروع کرنا چاہیے تھا جہاں افریقہ کا ملاپ بحیرہ ہند سے ہوتا ہے۔ اسے سونے چاندی اور دیگراشیاء کے اُس تجارتی سلسلے کو تلاش کرنا چاہیے تھا جو کہ سواہلی (مشرقی افریقہ میں بولے جانے والی زبان) کے ساحلی علاقے سے لے کر زمبابوے تک پھیلا ہوا تھا تاکہ وہ اس حیران کن ثقافت کے پھیلاؤ اور اثرات کا اندازہ لگا سکتا اورزمبابوے کی سلطنت کے اپنے ماتحت بادشاہتوں اور تہذیبوں پر سیاسی اور ثقافتی اثرات کا خاکہ کھینچ پاتا۔ اس ساحلی علاقے کی طرف صدیوں تک ہندوستان، چین اور مشرق وسطی جیسے دورافتادہ خطوں سے تاجروں کی آمد ورفت جاری رہی۔ پتھرسے بنی ان شاندارعمارات کے زریعےہم اُن پیچیدہ معاشی مراکز کا اندازہ لگا سکتے ہیں جنہوں نے اِس خطے پر ایک ہزار سال تک اپنے اثرات مرتب کئے۔

يہ بیانیہ اپنی جگہ انتہائی اہم ہے۔ آج بھی اپنی کہانی سنانا ہمارے لئے نہ صرف حالات و واقعات بلکہ انصار دائن جیسی جماعتوں کے خلاف مزاحمت سے عبارت ہے۔ صدیوں سے مسلط اور مسخ شدہ تاریخ کے بعد حقیقی افریقی آواز کا سامنے آنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمیں نہ صرف اپنی تاریخ کو نوآبادیاتی اثرات سے آزاد کروانا ہوگا بلکہ اس پوشیدہ علم و دانش کو بھی سامنے لانا ہوگا جس کے وجود کے امکان کو بھی ہیگل نے مسترد کردیا تھا۔ ہمیں افریقی فلسفہ، نظریہ حیات اور تاریخی تناظر کو دوبارہ کھوجنا ہوگا۔

تیرہویں صدی عیسوی میں گریٹ زمبابوے کی سلطنت کا عروج کوئی عارضی اور محدود واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ براعظم افریقہ میں ہونے والی تیزتر معاشی ترقی کا محض ایک جزو تھا جس کا اہم ترین اظہار مالی سلطنت کی بنیاد رکھنے والے سندیاتہ کیتہ کی شکل میں سامنے آیا۔ تاریخی طور پر مالی سلطنت کو مغربی افریقہ کی عظیم ترین سلطنت قرار دیا جاسکتا ہے۔ سندیاتہ کیتہ 1235ء میں ایک ایسے زمانے میں پیدا ہوا جب پورے براعظم افریقہ میں ارتقاء اور ترقی کا عمل زور وشور سے جاری تھا۔ شمال میں بربر سلطنتیں متواتر تبدیلیوں سے گزر رہی تھیں۔ جنوب میں ایفی کا علاقہ عروج کی جانب گامزن تھا جب کہ مشرق میں ایتھوپیا کے علاقے پر سلیمانی سلطنت قائم تھی۔ کیتہ جانتا تھا کہ وہ تیزی سے بدلتے ہوئے ایک ایسے دور میں جی رہا ہے جس میں عالمی سیاست اور معیشت میں براعظم افریقہ کا اعتماد دن بدن بڑھتا جارہا تھا۔ گریٹ زمبابوے اور سواحلی کی یہ سلطنتیں بالواسطہ یا بلاواسطہ براعظم افریقہ سے باہر بھی اپنےاثر ورسوخ میں اضافہ کررہی تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ سلطنتیں اپنی اجتماعی دانش اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کے لئے بھی ہرطرح کے وسائل بروئے کار لارہی تھیں۔ غالب امکان یہی ہے کہ سندیاتا کیتہ نے اپنےازمنہ وسطہ کی افریقی معاشی نیٹ ورک کی بڑھوتری کے لئے ہمسایہ ممالک کے ساتھ وسیع پیمانے پر معاشی اور سماجی تعلقات قائم کئے ہوں۔

افریقہ کی ان تمام عظیم سلطنتوں کی طرح، سندیاتا کیتہ نےلوک کہانیوں کے زریعے اپنی تاریخ کو محفوظ رکھنے کے لئے سرمایہ کاری کی۔ کہانی سنانے کے فن کو نہ صرف ایک رسم کےطور پر زندہ رکھا گیابلکہ اسے نسل در نسل منتقل کرکے اپنی سلطنت کے بیانیے کواستحکام بخشا۔ لوک گیتوں کی شکل میں یہ کہانیاں آج بھی مقامی آبادیوں میں گائی جارہی ہیں۔

سندیاتا کیتہ کی وفات کے دہائیوں بعد، مانسہ موسٰی نامی ایک معروف حکمران مالی کی سلطنت پرتخت نشین ہوا۔ مانسہ موسٰی اپنی سلطنت میں سونے کے وسیع و عریض ذخائر اور یورپ اور مشرق وسطی میں سفارتی وفد بھیجنے کے حوالے سے مشہور ہے۔ کچھ ماہرین اسے انسانی تاریخ کا امیر ترین فرد بھی شمار کرتے ہیں۔ اپنے پیش رو فرماں رواؤں کی طرح وہ بھی ایک مہم جو ذہن رکھتا تھا لیکن اپنے آپ کو تاریخ میں زندہ رکھنے کے لئے اس نے یکسر مختلف راستہ اپنایا۔ 1324ء میں مانسا موسٰی سفر حج پر مکہ کی جانب روانہ ہوا تو اس کے قافلے میں ہزاروں افراد شریک تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے قافلے میں سو اونٹ ایسے تھے جن میں سے ہر ایک پر سو پاؤند سونا لدا ہوا تھا۔ اپنے سفر کے دوران ہر جمعے والے دن وہ ایک مسجد تعمیر کرواتا تھا۔ اِسی طرح دورانِ سفر اُس نے سخاوت اور رحمدلی کا اس حد تک مظاہرہ کیا کہ بربر سلطنتوں کے حالات لکھنے والے سیاح ابن بطوطہ کو لکھنا پڑا، ”مانسہ موسٰی ٰ نے قاہرہ، شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں اس حد تک فیاضی کا مظاہرہ کیا کہ آنےوالی کئی دہائیوں تک سونے کی قیمتوں پر یہ عمل اثر انداز ہوتا رہا۔“

سفر حج سے واپسی پر، مانسا موسٰی نے اپنی سلطنت کے مرکزی شہر میں میں ایک عظیم الشان مسجد بنواکر اپنے سفر کو یادگار بنایا۔ اس کے چھوڑے گئے ورثے میں ستر ہزار دستاویزات، جن میں خطوط اور علمی کام شامل ہیں، پر مبنی علمی خزانہ شامل ہے۔ ٹمبکٹو میں موجود یہ خزانہ افریقی اہل علم کے لکھے گئے ذخیروں میں سے ایک اہم ذخیرہ ہے جسے عام طور پر غیر سرکاری اور گھریلو سطح پر محفوظ کیا گیا ہے۔ پندرھویں اور سولہویں صدی میں ٹمبکٹو شہر اپنےعروج پر تھا اور وہاں قائم یونیورسٹی یورپ کے کسی بھی تعلیمی ادارے سے کم نہ تھی۔ ایک لاکھ آبادی کےشہر ٹمبٹکو میں موجود یہ یونیورسٹی کم وبیش پچیس ہزار طلباء کو علوم و فنون سے متعارف کروانے کی خدمت سرانجام دے رہی تھی جس کے نتیجے میں ٹمبکٹو کو علمی حوالے سے ایک عالمی مرکزکی حیثیت حاصل ہوچکی تھی۔ علوم و فنون کا یہ سلسلہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں آگے بڑھ رہا تھا۔

پہلی بار ٹمبکٹو جانے کے بعد میں براعظم افریقہ میں موجود بہت سی لائبریریاں دیکھ چکا ہوں اور اِن اَسفار نے مجھے اِس حقیقت سے روشناس کروایا کہ ہیگل کی سوچ(کہ افریقہ ایک ایسا خطہ ہے جس کی کوئی تاریح نہیں ہے) محض تاریخی تعصب، جہالت اور لاعلمی پر مبنی ہے۔ افریقہ نے تاریخ کو اکٹھا کرنے اور پروان چڑھانے کے لئے غیر روایتی اور حیرت انگیزطریقہ کار تشکیل دیئے۔ کاغذ کے صفحات اور کپڑے پر کنندہ تاریخی مواد کے ہزاروں مجموعوں کی مدد سے علمی اور ثقافتی ورثے کےبلند پایہ ذخیرے محفوظ کئے گئے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ افریقہ کی علمی روایت کا انکار کرنے والے بہت سے یورپی مؤرخین، اپنے تعصب کے باوجود مغربی علمی ترقی میں افریقی دانشوروں کے کردار سے خوب واقف ہیں۔ وہ لازمی طور پر ان افریقی فلاسفروں سے آگاہ ہوں گے جنہوں نے بحیرہ روم (افریقہ اور یورپ کے درمیان موجود سمندر) کے دونوں جانب اَسفار کئے اور علوم و فنون کی افریقہ سے یورپ منتقلی کو یقینی بنایا۔ وہ لازمی طور پر عیسائی روایت میں موجود تین ذہین افراد کی کہانی سے آگاہ ہوں گے جس میں سے ایک، جو قرون وسطی میں بالتھزر کے نام سے مشہور تھا، درحقیقت ایک افریقائی بادشاہ تھا۔ قدیم علمی دنیا جن تین ستونوں پر کھڑی تھی اس میں ایشیاء اور یورپ کے بالمقابل تیسرا ستون یہی افریقہ تھا۔

نوآبادیاتی دور سے پہلے افریقہ کے لوگ اپنی ثقافت اور تاریخی ورثے سے خوب واقف تھے۔ ماضی کے یہ مشہور اور ترقی یافتہ خطے ایک خلاء میں قائم نہیں ہوئے۔ ٹمبکٹو کی دولت اور طاقت کی بنیادی وجہ اس کا بین البراعظمی تجارتی راہداری میں ایک پرکشش اور مرکزی مقام کے طور پر موجود ہونا تھا۔ یہ بندشوں سے پاک، پرعزم، با اعتماد اورباقی دنیا کے ساتھ گھل مل جانے والے براعظم افریقہ میں موجود بہت سے مراکزمیں سے ایک اہم مرکز تھا۔ بربر تاجرصحراؤں کو عبور کر کے مغربی افریقہ میں نمک، مصالحہ جات، کپڑا، قیمتوں سامان اور علم وفنون کے تبادلے کا زریعہ بنتے تھے۔ مانسہ موسٰی کے دور میں بنائے گئے نقشوں سے ظاہرہوتا ہے کہ اس مغربی راہداری کے علاوہ جنوب میں صحرائے صحارا کے اردگرد موجود تجارتی راہداریوں نے بھی خیالات، تہذیب و ثقافت اور علم وفنون کی ٹمبکٹو سے یورپ منتقلی اور ترویج میں اہم کردارادا کیا۔ تاریخی مخطوطے اور ثقافتی نوادارت ہمارے تہذیبی بیانیے اور تاریخی تسلسل کا زریعہ اظہار بن چکے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ مغربی دانشور جو ہماری تاریخ کو مسخ اور اس کی تضحیک کرتے ہیں، ہماری ان روایات اور ثقافت سے بخوبی آگاہ ہونگے۔

آج جبکہ انصار دائن اور بوکو حرام جیسی شدت پسند تحریکیں مغربی افریقہ میں مقبول ہو رہی ہیں، ہماری قدیم تہذیب اور روایات کو خود انحصاری اور عقل ودانش کی توانا طاقت ہی بچائے رکھے ہوئے ہے۔ جب مانسہ موسٰی نے ٹمبکٹو کو اپنی سلطنت کا دارالخلافہ بنایا تو اس کے ذہن میں ٹمبکٹو کا ویسا ہی تخیل تھا جیسا میڈيکی خاندان (پندرہویں صدی میں اٹلی پر حکومت کرنے والا تاجر خاندان) کے ذہن میں فلورنس (اٹلی کا شہر جو کہ قرون وسطی میں یورپ کا تجارتی اور علمی مرکز رہا) کے بارے میں موجود تھا۔ وہ اسے ایک کشادہ ظرف، عقل و دانش کی دلدادہ اور جدت پسند سلطنت کا مرکز بنانا چاہتا تھا جو کہ ہر طرح کے اعلی نظریات اور خیالات کو قبول کرنے والی ہوچاہے وہ کسی بھی خطے، مذہب یا مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہوں۔ اس خطے کی ثقافت اور علمی نشونما ایک انتہائی دلکش اور پیچیدہ روایت پر مبنی تھی جس کا ذکریہاں کی مقامی لوک کہانیوں میں مسلم دور حکومت سے بھی پہلے سے چلا آرہا ہے۔ اسلام اسی وجہ سے مالی اور افریقہ کے دوسرے علاقوں میں اتنا مقبول ہوا کیوں کہ اس نے یہاں کی ذہنی آزادی، باہمی رواداری اور ثقافتی تنوع کو قبول کرلیا تھا۔ ہر طرح کی تباہ حالی، خانہ جنگیوں اور لوٹ مار کے باوجود اپنے ثقافتی تنوع، تہذیب وتمدن اور علم و فنون سے محبت کی یہ روایت آج بھی مغربی افریقہ کی بنیادی شناخت کے طور پر موجود ہے۔

آج، جب کہ انصار دائن کے تباہ کئے ہوئے مزارات اور مسجدیں دوبارہ تعمیر کی جارہی ہیں اور اس تباہ کاری کو فکری جواز فراہم کرنے والے گرفتار کئے جاچکے ہیں، اور ہمارے سامنے یہ حقیقت ایک بارپھر واضع ہورہی ہے کہ کیسے ہماری تاریخ اور لوک کہانیوں نے ہمارے معاشروں کو ہزاروں سال سے باہم مربوط رکھا ہوا ہے اور کیسے یہ کہانیاں جدید افریقہ کی تشکیل میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ ماضی کے کھنڈرات ہمیں یہ بھی یاد کرواتے ہیں کہ کیسے ایک پراعتماد، دانش پرور، تخلیقی صلاحیت سے مالامال، باہر کی دنیا کا کھلی آنکھوں اور دل ودماغ سےمشاہدہ کرنے والا، ثقافتی تنوع اور معاشی پابندیوں سے پاک براعظم افریقہ پوری دنیا کے سامنے ایک قابل رشک مثال کے طور پر موجود تھا۔

اگر ہم ڈھونڈنا چاہیں تو یہ بنیادیں آج بھی موجود ہیں۔
آپ سب کا بہت شکریہ
(تالیاں)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: