منصفوں کا منصف ۔۔۔۔۔۔۔۔ منیب الحسن رضا

0
  • 93
    Shares

طلب اور رسد کا گو شوارہ دنیا میں ہمیشہ سے ہی ڈگمگاتا رہا ہے۔ کمزور اور زور آور کی کشمکش نے کتنے ہی انقلابات زمانہ کو جنم دیا کہ آج تا ریخ انسا نی انکا حساب کر نے کو بھی تیار نہیں۔ سماجی انصاف کی علمبرداری کا خط مستقیم لیے کون کون سا خواب زمانے کو نہیں دکھلایا گیا لیکن ضرورت اور خواہش کا فاصلہ کسی صورت کم ہونے میں نہیں آتا۔

مذاہب عا لم اور انکے تمام عزت ماب پیمبران تا دا نشور مظلوم کا بازو بننے کی جدو جہد کا استعا رہ ہیں مگر کو ئی دن جاتا ہے کہ ظلم سے خلق الجھتی نہ ہو ۔

عالمی جنگیں ہو ں یا قدرتی آفات، نجانے کیوں سسکتی بلکتی انسانیت کو آج تک اکسیر اعظم میسر نہ آسکا اور تاریک راہوں میں روشنی کا خواب دیکھنے والے لوگ ما رے جاتے رہے۔ اس بات پر سب کا اجماع ہے کہ دنیا کی تخلیق کرنے والا خدا اپنی خلق کردہ مخلوقات سے کبھی لاتعلق نہیں رہ سکتا لیکن پھر کیا وجہ ہے کہ ظلم کا بازو دراز ہوا جاتا ہے اور اسے موڑنے والا نہیں ملتا؟

کو ئی بھی نظا م افراد کی بہتری کے لئے وجود میں آتا ہے اور معا شی نظا م کا تو براہ راست تعلق انسانی احتیاجات سے جڑا ہوتا ہے لہٰذا اسلام یا دیگر مذاہب آسمانی کا معاشی نظام کسی صورت استحصالیت پسندی پر مبنی نہیں ہو سکتا

خدا اتنا ظالم نہیں ہے کہ وہ اپنی چند تخلیقات کو دنیا کے تمام وسا ئل پر قابض ہونے کا کہے، یہ تو انسان کی اپنی ذہنی اختراعات ہیں کہ کس طر ح وہ دنیا کو دیگر رہنے والوں کے لئے مشکل ترین بنا دیتا ہے۔ خدا کے تمام بھیجے گئے نیک لوگ تو اس دنیا کو آسان اور گل و گلزار بنا نے کے لئے پر عزم رہے اور محبوب کا ئنات سرور کو نین نے تو انسانیت کی تکمیل کا بہترین نمونہ پیش کیا۔

مارکیٹ اکا نومی، سرمایہ دارانہ نظام، آسا ئشات کی کشمکش، آگے سے آگے بڑھنے کا جنون اور مزید ترقی کی بھوک نے انسانیت کو خود سے بھی نظریں چرانے پر مجبور کر دیا ہے اور ہمدردی، اخلا قیات، خدا ترسی جیسی صفات گئے وقتوں کی باتیں معلوم ہو تی ہیں۔

کو ئی بھی نظا م افراد کی بہتری کے لئے وجود میں آتا ہے اور معا شی نظا م کا تو براہ راست تعلق انسانی احتیاجات سے جڑا ہوتا ہے لہٰذا اسلام یا دیگر مذاہب آسمانی کا معاشی نظام کسی صورت استحصالیت پسندی پر مبنی نہیں ہو سکتا۔ کیا حضرت عیسٰی کے ماننے والے اس وقت کی تہذیب کے تمام وسائل پر قابض تھے یا حضرت مو سیٰ اور حضرت سلیمان نے اپنی تہذیب کے آذروں کا مقا بلہ دولت سے کیا؟ پیغمبران نے تو انسانی اوصاف کو ڈھال بنا کر تعمیر انسانیت کو مقدم جانا اور ایک خدا کی عبادت کا درس دیا۔

منصفوں کے منصف اعظم نے ہر فرد کی انفرادی اور اجتماعی آزادی کا تصور دیا اور رسول آخر حضرت محمدؐ پر پوری دنیا بھی قربان جائے تو کم ہے کہ کس طرح آپ نے اپنی زندگی کے ہر گو شے سے ہم سب کے لئے ایک سبق فراہم کیا اور خصوصاً غا لب آنے کے بعد بدلہ نہ لینا تو اسلام کی ایسی تاریخی صفت ہے جس کی کو ئی نظیر تاریخ انسانی سے پیش نہیں کی جا سکتی۔

سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
سلام اس پر کہ جس نے با دشا ہی میں فقیری کی
سلام اس پر کہ جس کے گھر میں چا ندی تھی نہ سونا تھا
سلام اس پر کہ ٹوٹا بو ریا جس کا بچھونا تھا

کو ئی سماجی مفکر اس بات کا انکار نہیں کر سکتا کہ خدا نے کسی بھی طرح ہر کسی کو اسکی طا قت یا خواہش کے مطابق ملنے کا درس دیا ہو بلکہ ہر کسی کو اسکی ضرورت کے مطابق ملنا اور وسا ئل پر قابض نہ ہو نا ہی خدا ئی قانون بھی ہے اور سرمایہ دارانہ تہذیب و نظام کو منہ تو ڑ جواب بھی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: