اقبال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا قیام ۔۔۔۔۔۔ نثار علی

0
  • 60
    Shares

گزشتہ دنوں لاہور میں ایک ادارے اقبال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا قیام عمل میں لایا گیاہے ۔ پسر زادہ اقبال جناب منیب اقبال صاحب نے اس ادارے کا افتتاح کیا ۔ یوں تو بہت سے سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اقبالیات کے فروغ میں اپنا مقدور بھر کردار ادا کررہے ہیں ، جن کے اپنے اپنے اغراض و مقاصد اور دوائر ِ کار ہیں مگر اقبال کے حوالے سے اس طرح کے ایک خالص تحقیقی ادارے کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی تھی ۔ اس ادارے کے بانی اعجاز الحق اعجاز ہیں جو فکر ِ اقبال کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کررہے ہیں ۔

جناب احسن رامے اور ممتاز صحافی زابر سعید بدر بھی اس ادارے کے اہم ذمہ داران میں شامل ہیں۔ منیب اقبال صاحب اس کے سرپرست اعلیٰ ہیں ۔ جب کہ اسے ڈاکٹر نجیب جمال (تمغہ امتیاز) ، ڈاکٹر وحیدالرحمن خاں، ماہر اقبالیات اور پنجاب یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر بصیرہ عنبرین صاحبہ، ڈاکٹر شاہد اقبال کامران ، بریگیڈئیر (ر) ڈاکٹر وحیدالزماں طارق اور کاشف منظور صاحب کی سرپرستی حاصل ہے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منیب اقبال صاحب نے اس ادارے کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ فروغ ِفکر اقبال میں بھرپور کردار ادا کرے گا ۔

سوشل میڈیا پر بہت سے عناصر اقبال کے خلاف مذموم مہم چلا رہے ہیں جن کا تحقیق کی روشنی میں جواب ضروری ہے اور یہ ادارہ اس سلسلے میں بھی اپنا کردار ادا کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ فکر اقبال کے فروغ کی ضرورت میں اضافہ ہورہا ہے کیوں کہ اقبال شاعر ِ فردا ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ نژاد ِ نو تک اقبال کی درست تفہیم پہنچائی جائے تو یہ ایک بڑی قومی خدمت ہوگی ۔ ڈاکٹر نجیب جمال ، ڈاکٹر وحیدالرحمن خاں اور ڈپٹی سیکرٹری خزانہ حکومت پنجاب جناب کاشف منظور بھی اس موقع پر موجود تھے اور انھوں نے اس ادارے کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ اس موقع پر اعجازالحق اعجاز نے ادارے کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کے تحت اقبال پر تحقیق کرنے والوں کو سپورٹ کیا جائے گا، اس سلسلے میں نئے موضوعات اور تحقیقی مواد کی فراہمی اور ماخذات تک رسائی میں طلبہ اور محققین کی مدد کی جائے گی ، اقبال سکالرز کے لیکچرز اور سیمینارز کا اہتمام کیا جائے گا نیز نئے ریسرچرز کے لیے ریسرچ ورکشاپس کا اہتمام کیا جائے گا ۔

انھوں نے کہا کہ تحقیق کے دوران محققین کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کے حل کے لیے اس طرح کے اداروں کا قیام ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ بہترین تحقیق پر انعامات بھی دیے جائیں گے اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کو اقبالیاتی تحقیق کی طرف ترغیب دلائی جائے گی ۔ احسن رامے صاحب نے کہا کہ فکر ِ اقبال کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے، اس ادارے کا قیام اقبال پر معیاری تحقیق کے لیے عمل میں لایا گیا ہے اور اس سلسلے میں ہم اپنی مقدور بھر کوششیں کرتے رہیں گے۔ زابر سعید بدر صاحب نے کہا کہ میڈیا پر فکر ِ اقبال کے منور گوشوں کو آشکار کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بہت سے عناصر اقبال کے خلاف مذموم مہم چلا رہے ہیں جن کا تحقیق کی روشنی میں جواب ضروری ہے اور یہ ادارہ اس سلسلے میں بھی اپنا کردار ادا کرے گا۔ اس موقع پرپنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج آرٹ اینڈ کلچر کے ڈپٹی ڈائریکٹر عاصم چودھری، علامہ اقبال اسٹیمپس سوسائٹی کے چیئرمین میاں ساجد علی، ڈاکٹرقاسم محمود احمد، انجم رامے، نثار علی، مختار حسین اور بہت سے دیگر افراد نے شرکت کی۔ آخر میں منیب اقبال صاحب نے اعجازالحق اعجاز صاحب کو ’’اقبال شیلڈ‘‘ عطا کی۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: