طائر لاہوتی ——- مطربہ شیخ

0
  • 108
    Shares

ہر مسئلہ مذہبی نہیں ہوتا ہمارے معاشرے کے زیادہ تر مسائل ہمارے سماجی رویوں اور نام نہاد روایات و اقدار کی وجہ سے ہیں، لیکن یہ بات بہت کم باشعور افراد سمجھاتے ہیں اور لکھواتے ہیں اور جو لکھواتے ہیں وہ اکثر تنقید و طنز کا نشانہ بنتے ہیں۔ اس لئے مختلف صنف کے مصنفین حضرات براہ راست مذہب کے متعلقہ قصے کہانیاں لکھنے لگتے ہیں۔ لیکن خواتین مصنفین کو اس سلسلے میں داد دینی ہو گی کہ وہ سماجی مسائل پر وقتاً فوقتاً قلم اٹھاتی رہی ہیں۔ طائر لاہوتی کے نام سے رفعت سراج صاحبہ نے ایک ناول لکھا تھا جو خواتین ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوا تھا۔ نوے کی دہائی میں ۔ بہت مشہور ہوا تھا ڈرامہ بھی بنا تھا جو بہت کم لوگوں کو پسند آیا تھا۔ لیکن قارئین ناول اور اسکے کرداروں کے دیوانے تھے، میں نے بھی پڑھا تھا اور مجھے بھی بہت پسند تھا اور ابھی بھی ہے رفعت سراج صاحبہ بلاشبہ ایک بڑی ناول نگار ہیں۔

سمجھنے والے باشعور قارئین کے لئے کئی سبق ہیں اس ناول میں۔ مجھے ایک سین ہمیشہ یادرہے گا۔ جب ناول کی ہیروئن اپنے بے ایمان اور غنڈے شوہر سے بچنے کے لے اسکے گھر سے بھاگ جاتی ہیں اور کراچی سے حیدرآباد جانے والی ٹرین میں سوار ہو جاتی ہیں۔ ٹرین میں انکو ایک اکیلی خاتون مل جاتی ہیں اور وہ ان پر بھروسہ کر کے حیدرآباد ان کے گھر پہنچ جاتی ہیں اور آرام و سکون سے رہنے بھی لگتی ہیں لیکن خاتون پر بوجھ بننے کے بجائے ایک دن وہ نوکری کرنے کی غرض سے گھر سے باہر نکلتی ہیں۔ لیکن رفعت سراج صاحبہ نے لکھا ہے وہ چادر سے منہ نہیں چھپاتی ہیں کیونکہ ان کو عادت نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے وہ اپنے ہی کزن کو نظر آ جاتی ہیں اور کزن انکو اسی وقت واپس انکے شوہر کے پاس پہنچا دیتے ہیں۔ کیونکہ انکے شوہر نے انکے میکے والوں کی زندگی اجیرن کر دی تھی کہ میری بیگم واپس کرو۔ جب میں نے یہ پڑھا تو مجھے غصہ آیا تھا کہ یہ ماہ نور واقعی منہ چھپا لیتی۔ کیونکہ مجھے ماہ نور سے بہت ہمدردی تھی۔

کرپٹ افراد کی ایک چین کس طرح معاشی و معاشرتی نظام کو بر باد کرتی ہے ہم کو بہ خوبی ادراک ہے۔ اسی لالچ اور مفاد پرستی کی وجہ سے سماجی ناانصافی اور معاشی ناہمواری جنم لیتی ہے جو معاشرتی برائیوں کی راہ ہموار کرتی ہے۔

میں نے یہ بھی سوچا تھا کہ کیا تھا اگر رفعت سراج صاحبہ ناول کے اس حصے میں پردے کی اہمیت بتا دیتیں، لیکن ضروری نہیں ہے کہ مصنف سب کھول کر لکھ دے، قاری کو خود بھی ادراک ہونا چاہئے کہ مصنف نے کیااشارہ دیا ہے اور وہ کیا کہنا چاہتا ہے، ماہ نور ایک غریب لڑکی تھی اور نوکری اسکی مجبوری تھی۔ دوسرے ایک سماجی مسئلہ جس کی نشاندہی رفعت صاحبہ نے کی وہ اسٹیٹس کانشس ہونا تھا۔ خاندان میں کئی لڑکے موجود تھے لیکن غریب گھر کی بیٹی ہونے کی وجہ سے کسی نے اس سے رشتہ نہیں جوڑا تھا حالانکہ شکل و صورت کے حساب سے بے مثال تھی اور کردار بھی بہت مضبوط تھا جب ہی پاشا جیسے غنڈے کی نظر انتخاب اس پر پڑی تھی لیکن کوئی شریف اور خاندانی لڑکا اس کی خوبیوں کو پہچان نہیں ہو سکا تھا افسوس۔ اگر خاندانوں اور معاشرے میں پیسے کے بل بوتے پر رشتے جوڑے جائیں تو پاشا جیسے غنڈے آزاد ہو جاتے ہیں شرفاء کی بیٹیوں پر نظر رکھنے کے لئے۔

دین فطرت اسلام نے بھی اسلئے خاندان میں شادیوں کو ترجیح دی ہے۔ بے شک خاندان سے باہر بھی کرنی چاہیے رشتے داری بڑھانی چاہیے لیکن میڈیکل سائنس کا سہارا لے کر ہم میں سے بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ خاندانی بیماریاں قائم رہتی ہیں۔ چلیں ٹھیک ہے مان لیا لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ایسا ہوتا تو اسلام میں کبھی بھی ایسا حکم نہ دیا جاتا۔ نظر کی حفاظت یعنی غض بصر۔

پردہ عورت کے لئے ضروری ہے خاص طور پر ایک ایسے معاشرے میں جہاں قانون امیروں کے لئے ہو اور غریب انصاف کے لئے محتاج ہو جہاں بچوں سے لے کر بزرگ اساتذہ بھی محفوظ نہ ہوں، وہاں ہم کو محتاط رہنا چاہیے تاکہ ہم محفوظ رہ سکیں۔

پاشا قانون کی گرفت سے بچ نکلا تھا۔ یہ تیسرا اہم سماجی مسئلہ بھا کہ قانون کی بالادستی کو معاشرے میں یقینی بنایا جائے ایک فلاحی ریاست کےلئے یہ ضروری ہے۔ مظاہر کی والدہ کا کردار بھی اس ناول میں کئی پہلوئوں سے دکھایا گیا ہے، انکے شوہر اپنے دوست کو گھر میں لانے لگتے ہیں دوست مظاہر کی والدہ پر نظر رکھنے لگتا ہے اور پھر مظاہر کی والدہ اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کر دیتی ہیں اور اسکے ساتھ نکاح کر لیتی ہیں، یہاں بھی سبق دیا گیا ہے کہ اپنے دوستوں کو کس حد تک اپنے گھریلو معاملات میں ملوث کرنا چاہیے، گھر کی خواتین کی کس طرح دوسرے افراد سے حفاطت کرنی چاہیے، دوسرا سبق پیسے کا لالچ ہے، قناعت پسند ی بہترین اخلاقی خوبی ہے جس کا ادراک ہر انسان نہیں رکھتا اسی لئے مظاہر کی والدہ بھی ٹک گئیں اور حاصل کچھ نہ ہوا۔ ماہ نور ایک قناعت پسند عورت بھی اسکو پاشا کے پیسے سے زیادہ عزت والی زندگی درکار تھی جو کہ پاشا کے ساتھ کی وجہ سے ممکن نہ تھی کیونکہ پاشا بد نام مشہور تھا اور اس میں بہت سی اخلاقی برائیاں بھی تھیں۔

لیکن معاشرتی اصولوں اور اقدار کے تحت اسکو پاشا کے ساتھ نکاح کر کے رہنا بسنا پڑتا ہے۔ پاشا کی بدنامی کی وجہ اسکا کاروبار تھا، مذہبی اور معاشرتی اصولوں کے تحت حلال رزق کمانا اچھا سمجھا جاتا ہے اور یہ دنیا کے ہر مہذب معاشرے کے لئے ضروری ہے، نو کرپشن کی کئی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں لیکن ہمارے معاشرے میں کرپشن کی بہت بڑی بڑی مثالیں ہم دکھاتے ہیں۔ کرپٹ افراد کی ایک چین کس طرح معاشی و معاشرتی نظام کو بر باد کرتی ہے ہم کو بہ خوبی ادراک ہے۔ اسی لالچ اور مفاد پرستی کی وجہ سے سماجی ناانصافی اور معاشی ناہمواری جنم لیتی ہے جو معاشرتی برائیوں کی راہ ہموار کرتی ہے۔ بہترین کردار نگاری، منظر نگاری، محبت، وفا، بے حسی، خود غرضی اور رشتوں کے خلوص اور انکو نبھانے کو اس ناول میں بہت خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ بغیر کسی دقیق نصیحت اور مذہبی پیرائے کے بجائے سماجی طور پرلکھا گیا ناول ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: