صنفی نا برابری کی مختلف صورتیں (حصہ اول) : امرتیاسین/ سلیمان قاضی

0
  • 22
    Shares

سلیمان قاضی

امرتیاسین

معروف بھارتی دانشور امرتیاسین کی ایک اہم موضوع پر یادگار تحریر کو سلیمان قاضی نے دانش کے قارئین کے لئے تین حصوں میں، خوبصورت اردو کے قالب میں بطور خاص ڈھالا ہے۔ تراجم کے سلسلے میں دانش کی یہ کاوش بھی امید ہے قارئین کو پسند آئے گی۔ ادارہ


سات قسم کی نا برابری:
کوئی ایک سو سال سے بھی اوپر ہونے کو آئے 1870ء میں ملکہ وکٹوریہ نے سر تھیو ڈورمارٹن کو ’’حقوق نسواں کے نادان مضر اور دیوانگی پر مبنی تصور‘‘ کی مذمت میں تحریر کیا۔ ملکہ مقتدر کی اپنی ذات کو تو یقیناً کسی تحفظ کی ضرورت نہیں تھی جو وہ ’’حقوق نسواں‘‘ کا اعتراف کرکے حاصل کر لیتی۔ حتیٰ کہ 80برس کے پیٹے میں 1899ء میں وہ اے جے بالفور کو یہ لکھ سکتی تھی ’’ہمیں شکست کے امکانات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ وہ موجود ہی نہیں۔‘‘ لیکن زیادہ تر لوگوں کی زندگیاں اس طرح سے بسر نہیں ہوتیں۔ وہ تو حالات کی نا ساز گاری کے ہاتھوں پے در پے ناکامیوں سے دوچار ہو کر خستہ حال ہو جاتے ہیں اور ہر کمیونٹی، قومیت اور طبقے میں مصیبتوں کا بوجھ عموماً غیر مناسب طور پر عورتوں پر جاگرتا ہے۔ مصیبتوں سے بھری ہماری یہ دنیا مردوں اور عورتوں کے بیچ دشواریوں کی غیر مساوی تقسیم سے عبارت ہے۔ جاپان سے مراکش تک اور ازبکستان سے ریاستہائے متحدہ امریکہ تک صنفی نا برابری دنیا کے بیشتر حصوں میں موجود ہے۔ تاہم مردوں اور عورتوں کے درمیان نا برابری کی بہت سی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ یقیناً صنفی نا برابری کوئی ایک متجانس مظہر نہیں ہے بلکہ مسائل کا ایک مجموعہ ہے۔ جو مختلف النوع ہیں لیکن ایک دوسرے سے مربوط بھی ہیں۔ ذیل میں ان مختلف قسم کے مسائل کی تشریح مثالوں سے کرتا ہوں۔

۱۔ شرح اموات میں نا برابری
دنیا کے بعض علاقوں میں عورتوں اور مردوں کے درمیان نا برابری کا حوالہ موت و زیست کے معاملات ہیں۔ یہ نا برابری عورتوں کی شرح اموات غیر معمولی طور پر زیادہ ہونے کی صورت میں دکھائی دیتی ہے۔ جس کے نتیجے میں مرد غالب اکثریت میں ملتے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس وہ سماج جہاں غذا اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے سلسلے میں صنفی جانب داری Gender Bias نہیں ہے یا بہت کم ہے، وہاں عورتیں غالب اکثریت میں نظر آتی ہیں۔ اموات کی شرح میں نا برابری شمالی افریقہ اور ایشیاء، بشمول چین اور جنوبی ایشیاء میں بالخصوص نظر آتی ہے۔

۲۔ شرح پیدائش میں نا برابری
بہت سے مردانہ غالبیت والے سماجوں میں جہاں لڑکوں کو لڑکیوں پر فوقیت دی جاتی ہے وہاں صنفی نا برابری کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ والدین چاہیں کہ ان کے ہاں لڑکا پیدا ہو، لڑکی نہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ جب یہ ایک تمنا (جاگتی آنکھوں کے خواب یا اک کا بوس۔ جیسا بھی کسی کاتصور ہو) بڑھ کر اور کچھ نہیں تھی۔ لیکن اب جنین کی جنس معلوم کرنے کی جدید تکنیک کے کارن بہت سے ممالک میں جنسی چناؤ کرکے حمل ضائع کر دینا عام ہوگیا ہے۔ یہ چلن مشرقی ایشیاء چین اور جنوبی کوریا میں بالخصوص دیکھنے میں آتا ہے۔ بلکہ سنگاپور اور تائیوان کے بعد یہ انڈیا اور جنوبی ایشیاء میں بھی ایک اہم مظہر کے طور پر ابھر رہا ہے۔

۳۔ بنیادی سہولتوں میں نا برابر ی
بھلے آبادی کی شماریات سے عورتوں کے خلاف کوئی خاص جانب داری نہ ہونے کا عندیہ مل رہا ہو اور بھی بہت سے ایسے طریقے ہیں جن سے عورتوں سے بے انصافی ہو سکتی ہے۔ (ماضی قریب کا) افغانستان شاید دنیا کا وہ واحد ملک تھا جس کے حکمرانوں نے بڑی سرگرمی سے بچیوں کو سکول کی تعلیم سے روک دیا تھا (اسکے علاوہ صنفی نا برابری کے اور بھی بکثرت حوالے ان کے ہاں موجود تھے) لیکن ایشیاء اور افریقہ اور لاطینی امریکہ کے بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں لڑکیوں کو سکول کی تعلیم کے مواقع لڑکوں کے مقابلے میں بہت کم میسر ہیں۔ اپنے فطری میلان اور استعداد کی نشوونما کیلئے حوصلہ افزائی اور کمیونٹی میں سماجی کام کرنے کا صلہ پانے سے لے کر انصاف ملنے تک۔ بنیادی سہولتوں کے کتنے ہی مواقع ہیں جہاں عورتوں سے بے انصافی روارکھی گئی ہے۔

۴۔ خصوصی مواقع پر نا برابری
اگر بنیادی سہولتوں بشمول سکول کی تعلیم کے کم فرق موجود ہے تب بھی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے مواقع نوجوان لڑکیوں کے پاس نوجوان لڑکوں کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ یقیناً اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت میں صنفی جانب داری دنیا کے امیر ترین ملکوں، یورپ اور شمالی امریکہ تک بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ بعض اوقات اس قبیل کی قسم اس سطحی قسم کے بے ضرر سے خیال پر مبنی ہوتی ہے کہ مردوزن کے متعلقہ شعبہ جات اور اقالیم ہی مختلف ہوتی ہے۔ اس نظریے کی حمایت مختلف صورتوں میں صدیوں تک کی جاتی رہی ہے اور اس کے بہت سے مضمر اور ظاہری نتائج نکلتے رہے۔ ملکہ و کٹوریہ کی ’’حقوق نسواں‘‘ سے بیزاری والے مذکورہ معاملے سے بھی سوسال بیشتر 1766 میں ریورنڈ جمیز فورڈائس نے اپنی کتاب ’’نوجوان عورتوں کیلئے خطبات‘‘ میں بالکل واضح طور پر مرد و زن کے جداجدا حلقوں پر بات کی تھی۔ میری وولسٹون کرافٹ نے اپنی تحریر ’’حقوق نسواں۔۔۔۔ شبہات کا ازالہ‘‘ 1792 میں اسی کتاب کے حوالے سے کہا کہ یہ بڑے عرصے تک خواتین کے کتب خانوں کا حصہ رہی۔ فورڈائس نے اپنے خطبات میں نوجوان لڑکیوں کو ایسی مردانہ عورتوں سے خبردار کیا ہے۔ جو ہم (مردوں) کے شعبوں میں اپنے شعبوں کے حوالے سے شمولیت کے بارے میں دلیل و حجت بازی کریں۔ یہاں اس نے مردوں کے شعبوں کی شناخت کرتے ہوئے نہ صرف ’’جنگ‘‘ کو شامل کیا ہے بلکہ ’’بیوپار، سیاست، طاقت کا ستعمال اور ذہانت و مشاقی، سپیدہ فلسفے اور سارے دقیق علوم‘‘ کو بھی۔ اگرچہ آج کل آدمیوں اور عورتوں کے مخصوص شعبوں کی ایسی واضح تقسیم شاذ ہی دکھائی دیتی ہے تاہم بہت سے شعبوں تعلیم تربیت اور پیشہ وارانہ کاموں میں صنفی بے آہنگی اور عدم توازن یورپ اور شمالی امریکہ تک میں دکھائی دیتے ہیں۔

۵۔ پیشہ وارانہ نا برابری
ملازمت اور پیشہ ورانہ ترقی کے معاملے میں بھی خواتین مردوں کے مقابلے میں عموماً زیادہ دشواریوں کا سامنا کرتی ہیں۔ جاپان جیسے ملک میں بھی جہاں آبادی کی شماریات یا بنیادی سہولتوں اور حتیٰ کہ بڑی حد تک اعلیٰ تعلیم میں بھی مساوات انسانی کا قاعدہ چلتا ہے، وہاں بھی ملازمت یا پیشے میں اعلیٰ درجے تک کی ترقی کا حصول مردوں کے مقابلے میں عورتوں کے لیے کافی حد تک دشوار نظر آتا ہے۔ ٹی وی پر ایک انگریزی سیریز بعنوان ’’یس منسٹر‘‘ کی ایک قسط میں ایک منسٹر صاحب کو اصلاحات کیلئے بڑا سرگرم دکھایا گیا ہے۔ منسٹر صاحب اپنے مستقل اور تبادلے سے مستثنیٰ سیکرٹری سرہمفری سے دریافت کر رہے ہیں کہ برطانوی سول سروس میں فی الحقیقت کتنی خواتین کام کر رہیں ہیں۔ سرہمفری کہتے ہیں کہ انکی ٹھیک ٹھیک تعداد بتانا تو بڑی مشکل ہے اور اس کیلئے بڑی چھان بین کرنی پڑے گی۔ لیکن منسٹر صاحب اب بھی مصر ہیں اور جاننا چاہتے ہیں کہ ان اعلیٰ عہدوں پر تقریباً کتنی خواتین موجود ہیں۔ اس پر سرہمفری کو بالآخر کہنا پڑتا ہے ’’تقریباً ایک بھی نہیں‘‘۔

۶۔ ملکیت میں نا برابری
بہت سے معاشروں میں جائیداد کی ملکیت میں بھی بہت زیادہ نا برابری ہے۔ حتیٰ کہ بالکل بنیادی اثاثے جیسے گھر اور زمین میں بھی بڑی غیر متناسب طریقہ سے حصہ داری کی گئی ہے۔ جائیداد کیلئے مطالبہ نہ کرنے کے سبب نہ صرف یہ کہ عورتوں کی آواز دب جاتی ہے بلکہ تجارت، معاشیات اور یہاں تک کہ چند سماجی شعبوں میں بھی عورتوں کا داخل ہونا اور ترقی کرنا دشوار تر ہو جاتا ہے۔ اس قسم کی نا برابری دنیا کے بیشتر حصوں میں موجود ہے اگرچہ جگہ کے لحاظ سے ان میں تھوڑا بہت فرق ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستان بھر میں وراثت کے روایتی قوانین نے مردوں کی طرفداری کی ہے لیکن کیرالہ کی ریاست میں طویل عرصے تک نیز نامی بااثر قوم کے ہاں وراثت مادری نسبت سے ملتی رہی ہے۔

۷۔ کنبے کی سطح پر نا برابری
خاندان یا گھرانے میں صنفی تعلقات کی سطح پر عموماً خاصی نا برابری پائی جاتی ہے۔ جس کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں۔ یہاں تک کہ اگر بیٹی پر بیٹے کو فوقیت شرح اموات، تعلیم بلکہ اعلیٰ عہدوں تک جانے میں بھی قابل ذکر حد تک نا برابری نہ دکھائی دے تب بھی خاندان کے نظام اور ترتیب میں گھر کے کام کے بوجھ اٹھانے اور بچوں کی پرورش وغیرہ میں خاصا غیر مساوی پن موجود ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر بہت سے معاشروں میں یہ بڑا عام ہے کہ عورتوں کو درخور اعتنا نہیں سمجھا جاتا کہ جب آدمی گھروں سے باہر معمول کے مطابق کام کو جاتے ہیں تو گھر سے باہر کام کرنے کو عورت صرف اور صرف اس وقت نکل سکتی ہے جب تک وہ ان گھریلو فرائض سے فارغ نہ ہو چکی ہو جو نا قابل مفر بھی ہیں اور جن میں کوئی مناسب اور متوازن طور پر ہاتھ بٹانے والا بھی نہیں۔ اسی کو بعض اوقات ’’تقسیم کار‘‘ کہتے ہیں اگرچہ عورتوں کو اسے ’’کاموں کا انبار‘‘ سمجھنے پر درگزر کیا جا سکتا ہے۔ اس نوعیت کی نا برابری کے دور رس نتائج نہ صرف گھر کے اندر غیر مساوی تعلقات بلکہ ملازمت اور بیرونی دنیا میں پہچان کے حوالے سے نا برابری تک پھیلے ہوئے ہیں۔ مزید یہ کہ اس مسلمہ نوعیت کی ’’تقسیم کار‘‘ یا ’’کاموں کے انبار‘‘ کا اثر پیشہ ورانہ حلقوں میں مختلف قسم کے کاموں کے بارے معلومات اور سمجھ پر بھی پڑ سکتا ہے۔ جب 1970کی دہائی میں میں نے صنفی نا برابری پر کام شروع کیا تھا تو مجھے یاد ہے کہ میں اس بات سے بڑا الجھا تھا کہ عالمی ادارہ صحت کے ’’دستی کتابچہ انسانی غذائی ضروریات‘‘ میں مختلف قسم کے لوگوں کی ’’حراروں کی ضروریات‘‘ بتاتے وقت گھرداری کے کاموں کو نشینی مصروفیات Sedentry Activity کے زمرے میں شمار کرتے ہوئے بہت ہی کم توانائی کی ضرورت کا حامل قرار دیا گیا۔ میں بہر حال یہ نہ جان سکا کہ سماج کے ان معزز رہنماؤں نے ایسی حیرت انگیز معلومات کیونکر اکٹھی کیں۔

۲۔ جنوبی ایشیاء پر ایک نگاہ
یہ جاننا ضروری ہے کہ صنفی نا برابری کتنی طرح کی شکلیں اختیار کر سکتی ہے۔ پہلے یہ کہ آدمیوں اور عورتوں میں نا برابری پر قابو پانے یا مقابلہ کرنے کا کوئی ایک علاج یا حل نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ وقت کے ساتھ ساتھ ایک ہی ملک میں ایک قسم کی صنفی نا برابری کی جگہ دوسری نوعیت کی نا برابری لے سکتی ہے۔ میں اس پر بحث کروں گا کہ ان دنوں انڈیا بالکل اسی طرح سے صنفی نا برابری کی نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔ تیسرے یہ کہ صنفی نا برابری کی مختلف صورتیں عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ ساتھ آدمیوں اور لڑکوں کی زندگی پر بھی مختلف النوع منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ صنفی نا برابری کی برائیوں کے مختلف پہلوؤں سے جانکاری کیلئے ہمیں عورتوں سے ماورا ہو کر دیکھنا پڑے گا اور عورتوں سے امتیازی اور عیر مساوی سلوک روا رکھنے کے نتیجے میں مردوں کیلے پیدا ہونے والے مسائل کا جائزہ بھی لینا ہوگا۔ دونوں سبب آور مسبب یعنی عورتوں سے سلوک اور اس کے سبب مردوں کیلئے دشواری کے درمیان بڑے اہم تعلق ہو سکتے ہیں اور صنفی نا برابری کی موجود ہ صورت کے لحاظ سے یہ مختلف بھی ہو سکتے ہیں۔ آخری بات یہ کہ مختلف قسم کی نا برابریاں بسا اوقات ایک دوسرے کی تقویت کرتی ہیں۔ اس لئے ہمیں ان کے مابین تعلق سے بھی آگاہ ہونا چاہئیے۔

اگرچہ اس تحریر کے مقاصد میں سے ایک صنفی نا برابری کی مختلف اقسام پر بحث کرنا ہے۔ لیکن دراصل دو اور چیزوں پر بھی میں خصوصاً توجہ دوں گا جو بالکل بنیادی قسم کی صنفی نا برابریاں ہیں۔ یعنی شرح ولادت اور شرح اموات میں نا برابری یہاں میں تحقیق کے ساتھ جنوبی ایشیاء یا برصغیر میں صنفی نا برابری کے بارے میں زوردوں گا۔ جس وقت میں خصوصیت کے ساتھ برصغیر کو علیحدہ کرکے دیکھوں گا تو ساتھ میں آگاہ کرتا چلوں کہ تصنع پر مبنی یہ تصور کہ ریاستہائے متحدہ امریکی یا مغربی یورپ صنفی نا جانبداری سے صرف اس وجہ سے پاک ہیں کہ برصغیر میں نظر آنے والی صنفی نابرابری کی قسم وہاں موجود نہیں، ٹھیک نہیں۔ صنفی نا برابری کے اتنے روپ ہیں کہ نا برابری کا انحصار اس بات سے ہوتا ہے کہ ہم کس صورت کو مد نظر رکھ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر انڈیا اور ساتھ ہی ساتھ بنگلہ دیش، پاکستان اور سری لنکا میں بھی خواتین حکومتوں کی سربراہ رہ چکی ہیں اور یہ بات جاپان اور امریکہ میں نہیں ہوئی (اور اگر میںکوئی تجزیہ کرنے والا ہوں تو کہوں گا کہ مستقبل قریب میں اس کے ہونے کا کوئی امکان بھی نہیں)۔ یہ بھی ٹھیک ہے کہ بنگلہ دیش کے معاملے میں جہاں وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف دونوں ہی خواتین ہیں تو کوئی یہ سوچنا شروع کر سکتا ہے کہ آیا یہ ممکن بھی ہے کہ وہاں مستقبل قریب میں کوئی آدمی قیادت کیلئے اٹھ سکے۔ ایک دوسری مثال 1960ء کی دہائی کے اوائل میں جب میں دہلی یونیورسٹی میں پروفیسر تھا تو میرے ہمراہ نسبتاً اس سے بڑی تعداد میں خواتین رفقائے کار کل وقتی ملازمت کر رہی تھیں جتنی نسبت سے 1990 کی دہائی میں ہارورڈ میں یا ان دنوں جب میں کیمرج میں ٹرینٹی کالج میں ہوں، کام کر رہی ہیں۔ مزید ایک اور مثال (جو خاصی ذاتی نوعیت کی ہے)۔ اپنی آخری کتاب ’’ترقی بطور آزادی‘‘ پر کام کرتے ہوئے جب میں ایک جانب دولت اور آمدن اور دوسری جانب انسانی زندگی کی قدر و قیمت (جو میری کتاب کا نکتہء آغاز تھا۔ کے مابین فرق کے بارے میں ماضی کا کوئی حوالہ تلاش کر رہا تھا۔ تو مجھے یہ (آٹھویں صدی ق م ) پرانے صحیفے اپنشد میں مذکور ایک خاتون دانشور میتری کے اقوال میں ملا جبکہ ان دو کے بیچ فرق کا کلاسیکی حوالہ تقریباً چار صدیوں بعد ارسطوی اخلاقیات Nicomachean Ethicsمیں آیا لیکن یہ بڑی دلچسپ بات ہے کہ آدمیوں اور عورتوں کیلئے جینے کی قدر اور اہمیت کا پہلا باقائدہ حوالہ اس عورت نے دیا جو اس سماج سے تھی جس نے تین ہزار سال بعد آج بھی آدمیوں اور عورتوں کے مابین شرح اموات کا فرق مٹانے میں کامیابی حاصل نہیں کی۔ بے شک اموات میں نابرابری کے پیمانے پر انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش تینوں صنفی نا برابری کی انتہاؤں کو چھو رہے ہیں اور جیسا کہ میں آگے بیان کروں گا، پیدائشی نا برابری بھی اب اپنا منحوس سر برصغیر میں بڑی شدومد سے بلند کر رہی ہے۔

۳۔ استثنائی صورتیں اور رجحانات
چند استثنائی مثالوں (جیسے سری لنکا اور انڈیا کی ریاست کیرالہ) کو چھوڑ کر برصغیر بھر میں مردوں کی شرح اموات کے مقابلے میں (متعلقہ عمر کی) عورتوں میں شرح اموات توقع سے خاصی زیادہ ہوتی ہے۔ اس قسم کی صنفی نا برابری کو دانستہ قتل کرنے سے مشروط نہیں کر سکتے۔ بلکہ یہ ایک غلطی ہوگی کہ کبھی کبھار ہونے والے بچیوں کی نو مولود کشی کے واقعات جو چین یا ہندوتان سے موصول ہوتے ہیں کی بنیاد پر اس بڑے مظہر کی تشریح کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہ درست ہے کہ ایسے واقعات جب بھی وقوع پذیر ہوتے ہیں دہشت ناک ہوتے ہیں لیکن یہ مقابلتاً شاذ و نادر ہی وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ جبکہ اصل میں عورتوں کی بقاء پر اثر انداز ہونے والے عوامل جیسے ان کی صحت، غذا اور دیگر مفادات سے عام تغافل کے نتیجے میں ہی عورتیں موت کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ بعض اوقات یہ فرض کر لیا جاتاہے کہ دنیا میں مردوں کے مقابلے میں عورتیں زیادہ ہیں۔ کیونکہ شمالی امریکہ اور یورپ میں ایسا ہی ہے کہ وہاں عورتوں اور مردوں میں 1.05کے لگ بھگ تناسب ہے (یعنی 100 مردوں کے مقابلے میں تقریباً 105عورتیں)۔ لیکن دنیا میں عورتیں مردوں سے زیادہ نہیں ہیں۔ بلکہ کرہ ارض پر 100 مردوں کے مقابلے میں 98 عورتیں بنتی ہیں۔ یہ مقابلتاً قلت ایشیا اور شمالی افریقہ میں سب سے زیادہ نظرآتی ہے۔ مثلاً مصر اور ایران میں کل آبادی میں 100 مردوں کے مقابلے میں 97 عورتیں موجود ہیں جبکہ یہ تناسب بنگلہ دیش اور ترکی میں 95 چین میں 94 ہندوپاک میں 93 اور سعودی عرب میں 84 ہے (اگرچہ موخر الذکر تعداد) سعودی عرب میں بیرون ملک سے آنے والے مرد کارکنوں کی موجودگی کی وجہ سے کم ظاہر ہوئی ہے)۔ یہ عام طور پر مشاہدے میں آیا ہے کہ اگر عورتوں کو بھی مردوں جیسی صحت کی سہولتیں اور غذا میسر ہوں تو عورتوں میں مردوں کے مقابلے میں مخصوص عمر میں شرح اموات Age Specific Mortality Rates کم ہو جاتی ہے۔ یقیناً مادہ جنس کے جنین میں نر جنین کے مقابلے میں اسقاط حمل کے امکانات بھی نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ دنیا میں ہر جگہ لڑکے لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ پیدا ہوتے ہیں (اور لڑکیوں کی نسبت حمل بھی زیادہ تر لڑکوں کے جنین کے ٹھہرتے ہیں) لیکن ان کی اپنی اپنی زندگیوں میں جوں جوں عمر آگے کو بڑھتی ہے تو مردوں کا تناسب اپنے اپنے عمر کے گروہ میں مخصوص مردانہ شرح اموات کے کارن کم ہوتا چلا جاتا ہے۔

دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: