کہو اللہ میرے ساتھ ہے ۔۔۔۔۔۔ خان محمد بار

0
  • 38
    Shares

آج ساتویں حاضری تھی۔ خدا دیدہ درویش کے در پر۔ عجیب درویش تھا نہ کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتا تھا اور نہ ہی کچھ طلب کرتا تھا سر جھکائے اپنی سفید دھاڑی کو سنیے سے چمٹائے آنکھیں بند کیے بیٹھا رہتا تھا۔ بلانے پر بولتا تھا اکیلا ہی اپنی بوسیدہ سی کٹیا میں رہتا تھا میں نے جب بھی دیکھا سر جھکائے بیٹھا ہوا دیکھا۔ کوئی پاس بھی نہیں ہوتا تھا۔

قبرستان کے ساتھ درختوں کے جھنڈ کے پاس اس کی کٹیا تھی۔ میرے غور کرنے کے باوجود مجھے کوئی کھانے پکانے کا برتن نظر نہ آیا حیرانی تو ہوئی لیکن اس سوچ نے کہ اللہ والے دنیاداری سے دور ہی رہتے ہیں شاید کوئی ان کے لیے کھانا لاتا ہو اور برتن ساتھ ہی لے جاتا ہو۔

میں گھریلو مسائل میں الجھی ہوئی خاتون تھی میرا خاوند اچھی خاصی نوکری کرتا تھا میرے خاوند کی عجیب سی بیماری نے ہمارا سکھ چین چھین لیا نوبت فاقوں تک آگئی تھی بہت سے ڈاکٹروں کو دکھایا کسی بھی ڈاکٹر کو بیماری سمجھ نہیں آرہی تھی میری نئی پڑوسن نے اس درویش سے دعا کرانے کا کہا جو تیلیوں کے مکان میں نئے کرایہ دار آئے تھے۔

بڑی ہی نیک عورت معلوم ہوتی تھی۔ روز میرے خاوند کا حال پوچھنے آتی تھی۔ میرے کہنے پر بھی پانی تک نہیں پیتی تھی آج سات روز ہو گئے درویش کے پاس آتے ہوئے حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی تھی۔ جب بھی درویش سے دعا کرنے کے لیے کہا وہ سر اٹھاتے اور صرف ایک ہی جملہ کہتے۔۔۔۔

کہو اللہ میرے ساتھ ہے۔

اور پھر سر جھکا لیتے۔ اور کبھی دعا نہ کرتے۔ آج میں فیصلہ کر کے آئی تھی کہ درویش کی کچھ خدمت کرونگی منت سماجت کرونگی کہیں مجھ سے ناراض ہی نہ ہوں کیونکہ میں ہمیشہ خالی ہاتھ ہی گئی تھی گھر میں بھی فاقوں کا بسیرا تھا لے کر بھی کیا جاتی۔ محلے میں ملکوں کے لڑکے کی شادی ہوئی تھی اچھے کھاتے پیتے لوگ تھے ولیمے پر سارے محلے میں بریانی بانٹی تھی میرے گھر بھی ایک پرات بریانی دے گئے تھے۔

ہمارے کھا لینے کے بعد کچھ بریانی بچ گئی تھی سو وہ میں درویش کے لیے لیکر آئی تھی۔ حسب معمول درویش سر جھکائے ہوئے بیٹھے تھے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے انہیں مخاطب کیا۔
بابا جی ۔۔۔۔ بابا جی ۔۔۔ بابا جی۔
تیسری بار آواز تھوڑی اونچی تھی۔
بابا جی نے حسب معمول سر اٹھایا اور کہا
کیا چاہتی ہو۔
آج پہلی مرتبہ درویش نے یہ الفاظ کہے۔ ورنہ ہر بار ایک ہی جملہ کہتے

کہو اللہ میرے ساتھ ہے۔۔۔

میں نے ڈرتے ڈرتے وہی الفاظ دھرائے جو ہر بار کہتی تھی درویش پھر سر جھکا کر اپنی پہلے والی حالت میں چلے گئے۔
میں نے ہمت کر کے دوبارہ درویش کو مخاطب کیا اور کہا بابا جی آپ کے لیے کھانا لائی ہوں۔

پہلی مرتبہ بابا جی نے سر اٹھایا اور میری طرف دیکھا تو میرا پورا وجود لرز گیا۔ مجھے ایسا لگا جیسے ان کی آنکھوں سے شعائیں نکل رہی ہوں وہ مجھے گھور رہے تھے خوف کی شدت سے میرا پورا وجود ٹھنڈا ہو رہا تھا مجھ میں ہلنے جلنے کی بھی سکت نہ رہی۔ باوجود کوشش کے میں اپنی آنکھیں بند نہ کر پا رہی تھی۔

درویش کی آنکھوں کی شدت میرے لیے ناقابل برداشت تھی عجیب سی کیفیت ہو رہی تھی اچانک مجھے شدید سردی کا احساس ہونے لگا۔ ایسا لگ رہا تھا چند لمحوں میں ہی مجھے احساس ہو جیسے میرا وجود جمتا جا رہا ہے۔ کہ اچانک بابا جی بولے۔۔
کتنی بار کہا کہ کہو ۔۔

اللہ میرے ساتھ ہے

پھر میرے پاس چلی آتی ہو۔بابا جی کی آواز میں اتنی گھن گرج تھی کہ مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا میں وہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی لیکن میرے وجود کے کسی بھی حصے نے میرا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ ایک انجانے خوف اور سردی کی شدت سے مجھ پر لرزہ طاری ہو رہا تھا۔
پھر بابا جی بولے۔
کیا اللہ کا ساتھ کافی نہیں

ان الفاظ کے ساتھ میرے دماغ نے بھی میرا ساتھ چھوڑ دیا اور میں بے ہوش ہو گئی۔
پتہ نہیں کب ہوش آیا۔
دیکھا تو خشک زمین پر پڑی تھی۔
نہ ہی وہاں درویش تھا اور نہ ہی درویش کی بوسیدہ کٹیا۔
درختوں کا جھنڈ بھی غائب تھا۔ ہر طرف ہو کا عالم تھا۔
میں اٹھی اور گرتی پڑتی گھر واپس آئی اور چارپائی پر گر گئی۔
چند لمحوں میں ہی تیز بخار نے آجکڑا۔ بخار کی شدت اتنی تھی کہ میں پھر ہوش سے بیگانہ ہو گئی۔
بے ہوشی کے عالم میں ہی میری سماعت سے کوئی آواز ٹکرا رہی تھی ۔۔۔۔

کہو اللہ میرے ساتھ ہے۔۔۔
کہو اللہ میرے ساتھ ہے ۔۔۔

میں کہنے لگی۔

اللہ میرے ساتھ ہے۔۔۔
اللہ میرے ساتھ ہے۔۔۔

اور آہستہ آہستہ مجھے محسوس ہونے لگا کہ ہر طرف ایک ہی آواز گونج رہی ہے۔۔

میرا اللہ میرے ساتھ ہے۔۔
میرا اللہ میرے ساتھ ہے۔۔

اچانک مجھے لگا جیسے بارش ہو رہی ہو بارش کے قطرے میرے چہرے پر گر رہے تھے میرا چہرہ بارش کی بوندوں سے تر ہو رہا تھا۔ میں نے کوشش کر کےآنکھیں کھولیں تو میرا خاوند میرے چہرے کو کپڑے سے صاف کر رہا تھا۔ مجھے ہوش میں آتا دیکھ کر اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
ساری رات تجھے بہت تیز بخار تھا اور میں ساری رات تجھے پانی کی پٹیاں کرتا رہا ہوں ۔۔۔ اللہ کا شکر ہے کہ اب تجھے بخار نہیں ہے۔۔۔ میں اچانک آٹھ کر بیٹھ گئی میری حیرانی کی انتہا نہ رہی۔ تم یہاں تک کیسے آئے۔ اپنی ٹانگوں پر چل کر آیا ہوں اس نے جواب دیا۔

میں حیرانی سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی مجھے یقین نہیں آرہا تھا اس کے مرجھائے ہوئے چہرے پر اب دھبے بھی نہیں تھے۔ اس کے ہاتھ بھی کام کر رہے تھے۔ مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہی۔ لیکن یہ خواب نہیں تھا حقیقت تھی میں نے لڑکھڑاتی زبان میں پوچھا
کہ۔۔ تم ۔۔۔۔ اٹھ۔۔۔ کیسے

شاید وہ میرا سوال سمجھ گیا تھا۔ اس نے جواب دیا کہ میں گہری نیند میں تھا کیا دیکھتا ہوں میرے کمرے کا دروازہ کھلا ہے اور سامنے ایک باریش نورانی چہرے والا بزرگ مسکرا کر مجھے دیکھنے لگا۔ وہ اندر آئے اور میرے پاس کھڑے ہو گئے۔ ان کی چہرے پر ہلکا ہلکا تبسم تھا۔ وہ مسکراتے ہوئے بولے۔ بیٹا کہو اللہ میرے ساتھ ہے۔۔۔ اللہ میرے ساتھ ہے۔ میری زبان سے خود بخود ہی یہ الفاظ نکلنے لگے۔

اللہ میرے ساتھ ہے
اللہ میرے ساتھ ہے

میری زبان سے یہ ورد جاری تھا کہ بزرگ مسکراتے ہوئے پلٹے اور کمرے سے باہر نکل گئے۔ میں انہیں روکنا چاہتا تھا ان سے کہنا چاہتا تھا کہ آپ نہ جائیں لیکن میں ان کو روک نہ سکا۔ وہ چلے گئے۔ لیکن میری زبان پر اب بھی ورد جاری تھا۔

اللہ میرے ساتھ ہے۔۔۔
اللہ میرے ساتھ ہے۔۔

پتہ نہیں کب میری آنکھ کھلی تو مجھے شدید پیاس لگی ہوئی تھی۔ میں اٹھا اور گھڑے سے پانی بھر کر پیا۔ اچانک میری نظر تیری طرف گئی تو تو چارپائی پر پڑی کانپ رہی تھی میں نے تم پر بستر ڈالا اور تمہارے ماتھے پر ہاتھ لگایا تیرا ماتھا بخار کی شدت سے تپ رہا تھا۔
میں تجھے ساری رات گیلی پٹیاں کرتا رہا اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتا رہا۔

میرا اللہ میرے ساتھ ہے
میرا اللہ میرے ساتھ ہے۔

میں ششدر ہو کر اس کی باتیں سن رہی تھی میری کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے میں ان ہی سوچوں میں ڈوبی ہوئی پتہ نہیں کب سو گئی۔ میری آنکھ کھلی تو وہ میرے پاس ہی بیٹھا تھا وہ مجھے جاگتا دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں کوئی کاغذ تھا۔ وہ مجھے مخاطب کر کے بولا۔ جانتی ہو یہ کیا ہے۔ میں صرف اس کی طرف دیکھے جا رہی تھی۔
وہ پھر بولا۔
بنک میں جس نوکری کے لیے اپلائی کیا تھا اسی بینک کا لیٹر ہے انہوں نے مجھے کل ہی نوکری پر بلایا ہے۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا میں مزید حیران ہو رہی تھی کہ اچانک یہ سب کیا اور کیسے ہو رہا ہے۔ میں اپنی ہی سوچوں میں غلطاں تھی۔ اچانک مجھے اپنی پڑوسن کا خیال آیا میں اٹھی اور پڑوسن کے گھر پہنچ گئی۔ ان کے دروازے پر تالا لگا ہوا تھا۔

میں ساتھ والے گھر گئی اور ان سے پوچھا کہ پڑوسن کا کوئی پتہ ہو کہاں گئی ہے دروازے پر تالا لگا ہوا ہے۔ ان کا جواب سن کر میری حیرانی میں مزید اضافہ ہو گیا پڑوسن کہہ رہی تھی کہ یہ مکان تو پچھلے تین مہینے سے خالی ہے یہاں تو کوئی کرائے دار آیا ہی نہیں تم کس کا پوچھ رہی ہو۔
میں حالات کو کچھ کچھ سمجھنے لگی۔۔ میں گھر واپس آگئی۔ سامنے میرا میاں بیٹھا میرا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔
اس کے ہونٹ ہل رہے تھے میں سمجھ گئی کہ وہ کیا پڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔

میں نے پڑھنا شروع کر دیا۔۔۔
میرا اللہ میرے ساتھ ہے۔۔۔
میرا اللہ میرے ساتھ ہے۔۔۔
میرا اللہ میرے ساتھ ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: