ہوُک ——— ڈاکٹر مریم عرفان کا افسانہ

0
  • 31
    Shares

آج وہ تیس برس بعد گاؤں کی پگڈنڈی پر چڑھا تھا۔ گنے کے کھیتوں کوجاتا راستہ اور کنوئیں کی منڈیر اس کے لیے اجنبی تھی۔ گاؤں کے وہ گھرجن کی اپلوں سے بھری تین فٹ اونچی دیواریں صحت مند جٹیوں کی چوڑی چھاتیوں کی طرح دکھائی دیتی تھیں اب وہاں چونے کی تہیں چڑھ گئی تھیں۔ چک جھمرہ سے آگے ڈیڑھ ہزار نفوس پر مشتمل و نجواں واالا گاؤں جو کبھی جولاہوں کی کھڈیوں کی کھٹ کھٹ سے گونجتا تھا۔ اب انہی جولاہوں کے چرخے اور کھڈیاں ترقی کرگئی تھیں۔ فرید بخش کے گھر کا کچا راستہ بھی پکی سڑک میں تبدیل ہو چکا تھا۔ لکڑی کے زنجیری دروازے کی جگہ آہنی گیٹ نصب تھا جس کے دائیں جانب انصاری ہاؤس کی تختی لگی تھی اور اس سے اوپر گھنٹی کا بٹن تھا۔ جس پر انگلی رکھتے ہی چوں۔ ۔ چ۔ ۔ ۔ چ۔ ۔ ۔ چ۔ ۔ ۔ چچ۔ ۔ ۔ چچ۔ ۔ ۔ کی آوازگونجی۔
اصغر کو دہلیزکے اندر پاؤں رکھتے ہی لگاجیسے صحن کی مٹی اڑکر اس کی آنکھوں میں چبھ گئی ہو۔ پکے فرش پر بھنبھاتی مکھیاں اورمکھن کی خوشبو نے اس کا ماتھا چوما۔ جس کچے صحن اوربرآمدے کو وہ آج سے بیس برس پہلے چھوڑکرگیاتھا اب وہاںپکی دیواریں چن دی گئی تھیںلیکن پیپل کا درخت اسی طرح کھڑا تھا جس کی چھاؤں مزید پھیل چکی تھی۔ فرید کی آنکھیں اس چرخے کو ڈھونڈرہی تھیں جس کی گھوں گھوں کا ساز آج بھی اس کے کانوں میں رس گھولتا تھا۔ اسے مستطیل چوکھٹے کے بائیں سرے پرتکلے کے کھونٹے یاد آگئے جن کے دائیں سرے پرجڑا چکوا اورستلی سے باہم کسے ہوئے چکوے کے پھٹوں کے کٹے کٹے کنارے تھے۔ ستلی پر مال چڑھا کر چکوے اور تکلے میں ربط کیا پیدا ہوتا۔ چرخے کی مٹھاس تکلے میں چرخ اوردم اڑا لگا کر دستے کو گھماتے ہی بڑھ جاتی اور روئی کے ریشے باریک سی تاروں میں بدلنے لگتے۔ چرخے کے پہیے ایسے گھومتے جیسے پن چکی ہو۔ کھلے صحن میں پیپل کی چھاؤں تلے چرخہ اورسامنے پیڑھی پر بیٹھی بختاں جس کے وونوں ہاتھ ہوا میں ایسے موجزن ہوتے جیسے ڈھولچی چھڑی لیکر بجانے لگاہو۔ پیڑھی پردائیں ٹانگ کی چوکڑی بھرے اوربائیں ٹانگ تکلے کی سائیڈ پر جمائے بیٹھی بختاں کی کمرکاخم کبھی دکھائی نہیں دیا، جو صبح سے شام تک چرخے کے آگے سوت کاتتی رہتی۔ آنگن میں پڑا چرخہ اوراس سے اٹھنے والی ہوک دھیمے دھیمے سروں کی طرح اس کے دل پربجتی تھی۔ فریدبخش بھی اس چرخے کا تکلہ تھاجسے پیڑھی پربیٹھی بختاں کے ہاتھوں کی تھرتھراہٹ گدگداتی تھی۔

اب اس صحن اور برآمدے میں کوئی اس کا منتظر نہیں تھا۔ ماں تو دس برس پہلے ہی گذرچکی تھی۔ باپ اس کیساتھ شہر میں تھا اور گاؤں کا یہ صحن اس کے دو بھائیوں کو بٹوارے میں مل گیا۔ دو بہنیں اپنے گھروں میں شاد آباد تھیں، بے آباد تھا تو بس فرید بخش۔ شہرمیں رہتے ہوئے بھی اسے اپنا صحن اورپیپل کی چھاؤں نہیں بھولی تھی۔ جس کے گرد ایک فٹ اونچا سیمنٹ کا تھڑا بن چکا تھا اور اب وہاں کوئی چرخہ بھی نہیں تھا۔ فرید کو تیس سال بعد پیپل کے نیچے بچھی چارپائی پرلیٹنا نصیب ہوا۔ گرمی کے موسم کے وہ میلے دن، دھلی شامیں اور ٹھنڈی راتیں فریدکے ذہن پر چابک برسانے لگیں۔

اسے وہ وقت یاد آنے لگاجب اس آنگن میں پورا کنبہ آباد تھا۔ اس کے باپ، تایا اور چچاکے بچوں سے بھرا پرا خاندان تب تقسیم نہیں ہوا تھا۔ اس کا باپ گھر میں لگی کھڈی پر بنے کھیس اورچادریںگٹھرمیں باندھ کرسائیکل سٹینڈپر رکھتا اورپیدل ہی میلوں سفرکے لیے نکل کھڑا ہوتا۔ کبھی یہ مال بکنے میں ہفتہ لگ جاتا اورکبھی تیسرے دن ہی واپسی ہوجاتی۔ گاؤں کی بیشترزمین کلرزدہ تھی ایسے میں افلاس کیسے نہ اگتا۔ بس تھوڑے کلے تھے جو مقامی لوگوں نے سبزیوں، گندم اورچاول سے بھررکھے تھے۔ یہ کھیتی گاؤں کے لوگوں کے ہی کام آجاتی۔ ان دنوں فرید اورخاندان کے لڑکے شہرکے ذائقوں سے ناآشناتھے۔ نئی نئی جوانی کے دن اوربھیگتی مسیں، بدن میں پیداہوتی لہریں اوردروازوں کھڑکیوں سے تانک جھانک کرتی آنکھیں فرید کو بھی لگ گئی تھیں۔ تب یہ خبرنہیں تھی کہ سمندرمیں گرداب کیا ہوتاہے۔ جس میں اگرایک بارناؤ پھنس جائے تو کبھی کنارہ نہیں ملتا۔ فرید کی ناؤ بھی اسی گرداب میں پھنسی۔ جس کا نام چاچی بختاں تھا۔ چالیس کے درمیانے سن ِ کی چھ فٹ لمبی، بھرپورجسم کی مالک، بیضوی چہرے اورکھلی رنگت والی چاچی بختاں جس کے چوڑے چوڑے ہاتھ پاؤں فرید کوتنورکے پھٹے پررکھے آٹے کے بڑے بڑے پیڑوں جیسے لگتے۔ بختاں کو گرمی بہت لگتی تھی اس نے سردیوں میں سویٹرتودورکبھی چادربھی نہیں لی تھی۔ بس باریک سی لیراس کے بھرے ہوئے جسم کو ڈھکے رہتی۔ جیسے دہی کے کونڈے کو مکھیوں سے بچانے کے لیے باریک جالی سے ڈھکاجاتاہے۔ بختاں کڑاھی میں پڑے اس دودھ کی طرح تھی جوپہلے ابال میں ہی چھلکنے کو تیارہو۔ فرید اس کا ذائقہ محسوس کرنے لگاتھا۔

مرغیوں کی طرح کڑکڑ کرتی رہتی بختاں کے بالوں میں لگادھنیے کاتیل اورچپڑی ہوئی چوٹی کمرپرایسے بل کھاتی جیسے دریا میں پڑنے والا کٹاؤ۔ ناک میں پڑا چھوٹا ساکیل دن کے اجالے میں بھی یوں چمکتا تھاجیسے دھوپ میں ریت کے ذرے یا پھرپانی کی جھجھر۔ بختاں کے دنداسہ کیے ہوئے دانت کچے اخروٹ جیسے تھے اور ہونٹ سیب کی قاشوں کی طرح متوازی۔ فرید کو بختاں گوبھی کا پھول لگتی تھی، ویسی ہی تروتازہ اورتہہ درتہہ لپٹی ہوئی وہ جب بھی چرخے پر بیٹھتی فرید پیپل کے گرد چکرلگانے لگتا۔ پیڑھی پر چوکڑی مارے بختاں کی بائیں ٹانگ چرخے کے تکلے کے ساتھ لگی ہوتی جیسے بنا کنڈی کے دروازے کو ڈنڈے کاسہارا دے کر بند کیا گیا ہو۔ فرید بخش روز اسے سوچتے سوچتے نجانے کتنی ہی چیزوں کے ساتھ ملانے لگتا تھا۔ دل ہی دل میں مزہ لینے کے لیے وہ بختاں کو آنکھیں میچ کرسوچنے لگتا تو وہ سوت کاتتے ہوئے کسی ہیروئن جیسی لگتی۔ ایسی ہیروئن جو اس نے ٹین ڈبے والے بکسے کے منی سینما میں کئی بار دیکھی تھی۔ فرید دوربین سے بڑے گول گول ابھرے ہوئے خانوں پر ہاتھوں کے پیالوں میں آنکھیں ٹکائے کھٹا کھٹ تصویری ناچ دیکھتا۔ جس میں ہیرو ہیروئن ایسے ہی بانہیں پھیلائے ناچتے جیسے بختاں کے ہاتھ دائیں بائیں چرخے پر پونی سنبھالتے تھے۔ جب بختاں اسے پکارتی:
’’فریدے او فریدے! ذرا میرے موڈھے تے دبا۔ ‘‘

فرید اس صدا پر دوڑا چلا آتا۔ اسے بختاں کے چوڑے کاندھوں پراپنے پھسلتے ہوئے ہاتھ ایسے ہی لگتے جیسے وہ پرات میں آٹا گوندھ رہا ہو۔ جسے مکیاں لگانے سے پہلے سنبھالنا مشکل ہوتا ہے اور پھروہ آہستہ آہستہ بختاں کی نس نس پر قابض ہو جاتا۔ اسے ایسے دباتاجیسے مکیوں مکیوں میں آٹا گوندھ کر اسے مکھن کردیاجائے۔ بختاں کی تھکاوٹ اس لمس کی حدت میں ٹوٹنے لگتی تو اس کے حلق سے چرخے جیسی گھوں گھوں کی آوازیں ابھرتیں۔ دبانے کا یہ فن اور ذائقہ بس بختاں کے لیے تھا۔ ورنہ کبھی باپ کے کاندھے دبانے پڑجاتے یا ماں کی کمر، تو وہ ایسے ہاتھ چلاتا جیسے اناڑی نائی کے ہاتھ میں استرا آگیا ہو۔ بختاں کو بھی دبوائی کا چسکا پڑ گیا تھا۔ تھکاوٹ تو ہوتی ہی بان کی چارپائی جیسی ہے جسے جتنا کسو اتنی ہی ڈھیلی پڑتی ہے اور فرید بارش میں بھیگی ہوئی چارپائی کی طرح تھا جو پانی کی مار سہنے کے بعد دھوپ لگنے سے اکڑ جاتی ہے۔ چرخے کی کوک میں بختاں کی آواز کا لوچ دودھ میں گرم گرم جلیبیوں کی طرح رچ جاتا۔ گھنے بالوں کی چوٹی تنگ کرتی تو وہ اسے بل دے کرگیندے کے پھول کی طرح گردن پرسجالیتی۔ فرید اس کے کاندھے دباتا تو یہ پھول اس کی انگلیوں کی جنبش سے کھل جاتا۔ ایسے میں وہ بختاں کے کہنے سے پہلے ہی کنگھی پکڑکراس کی چوٹی سنوارنے لگتا اور بختاں کے سُر ہوا میں بکھر جاتے:
تیرا کی جانا اے بیگانے پتُ دا وال وال ہو جانا اے میری گتُ دا

صحن میں بیٹھی گھرکی دوسری عورتیں بختاں کی لے میں تالیوں کا شور بھر دیتیں۔ ایسے میں فرید کو لگتاجیسے اس کے ہاتھ حقیقتاً بختاں کی گتُ کا بال بال کررہے ہوں۔ بختاں بھی من موجی عورت تھی اپنے آپ میں گم صم رہنے والی۔ جسے دیکھ کر لگتاجیسے وہ شدید تھکاوٹ میں مبتلا ہو اور اس کا جوڑ جوڑ کراہ رہا ہو۔ بختاں چلتے پھرتے فرید کو گاؤں کے زمیندارکی بھوری آنکھوں والی گھوڑی بھی لگتی تھی، جس کی اٹھان اور قدموں کی اٹھلاہٹ سے دھرتی ہلتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ بختاں جیسی جی دار عورت نے سات بچے ایسے جنے جیسے بلی بچے دینے کے بعد تھوڑا سستا کر اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ پھر فرید کی سمجھ میں نہیں آتا تھاکہ اتنی بہت سی تھکاوٹ اس میں کہاں سے بھرگئی ہے۔ فرید کو معلوم تھا کہ اب بختاں کی تھکاوٹ کو اس کی محتاجی ہوگئی تھی۔ چاچاکرم بخش تو اس کے باپ کیساتھ ہی کھیس بیچنے نکلتا تھا۔ دونوں ہفتہ بھرشہرکی خاک چھانتے رہتے۔ تب چاچی کے کمرے کے کواڑخاموش راتوں میں بھی بجتے تھے۔ گانوں کی شوقین بختاں اپنے کمرے میں ٹیپ لگالیتی یاپھرنواڑی کے پلنگ پر لیٹی اونچی آوازمیں گاتی:
سجن دے ہتھ بانہہ اساڈی، کیونکرآکھاں چھڈ وے اڑیا

فریدکمرے کی کھڑکی سے ناک لگائے، ایڑھیاں اٹھا اٹھاکراسے دیکھنے کی کوشش میں رہتا۔ جیسے ٹاپے کے اندربند مرغیاں سوراخوں میں سے جھانکتی ہیں۔ تب بختاں اسے آوازدیتی: فریدیا۔ ۔ ۔ باؤ ذرا پِنیاں تو کٹ دے

فرید چوہے کی تاک میں رہنے والی بلی کی طرح اس کی پنڈلیوں پرجھپٹ پڑ تا۔ چرخے کے تکلے پرسوت کی طرح گرہ لگ جاتی۔ بختاں کی رانوں پر بیٹھ کر موٹی موٹی پنڈلیاں ہاتھوں تلے مچھلی کی طرح پھسلتیں تو فرید کو لگتاجیسے بختاں بھی مستطیل چوکھٹے کے بائیں سرے پر لگاتکلہ ہو اوروہ اس کی ٹانگوں پر بیٹھا چکوے کے پھٹے کی طرح جس کے کنارے ڈورسے باہم کسے ہوں۔ یہ ڈوراس کے اندرسے نکلتی تھی جس پروہ مال چڑھاکرچکوے اور تکلے میں ربط پیداکرتا۔ وہ بختاں کے تکلے میں چرخ اوردم اڑا لگاکردستے کو گھماتاتو اس کا رُواں رُواں باریک سی تاروں میں بدلنے لگتا۔ فرید خیالوں ہی خیالوں میں بختاں کاسوت کاتتا رہتا پھر اس کی پونی بنا کر گوٹ میں ڈال لیتا۔ اس دن بھی وہ بختاں کے چرخے میں ٹانگیں پھنسائے چوکڑی مارے بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ پنڈلیوں پر ٹکے تھے جیسے ایک ہاتھ پہیے کی ہتھی پر ہو اور دوسرا تکلے کی پونی پر۔ بختاں کا چرخہ گھوں گھوں کرتا توفرید کی ہتھیلیاں گیلی ہوجاتیں۔ چرخے کاپہیہ رہٹ کی طرح چلتا رہا۔ وہ بیلوں کی طرح جتا رہا اور پانی کے ڈونگے چھپاچھپ گرتے رہے۔ ایسے میں چرخے کی آوازرک گئی جیسے سب شانت ہوگیا ہو۔ تنورکی طرح جلتی بلتی بختاں کی پنڈلیاں ٹھنڈی تھیں جیسے ابھی ابھی اس کی روح قبض کی گئی ہو۔ فرید ڈرکے مارے چرخہ چھوڑ کر باہر بھاگا۔

وہ اگلی صبح باپ کے ساتھ ضد کرکے کھیس بیچنے ساتھ نکل پڑا۔ دل کا چورگلے میں پھانس بن بیٹھا تھا۔ اسے چرخے کی گھوں گھوں یاد آتی تو آنکھوں کے آگے دھواں سا بھرجاتا جیسے مٹی کے چولہے میں پھونکیں مارتے مارتے ماں کی آنکھیں سرخ بھبھوکا ہوجاتیںتھیں۔ تین دن بعد فریدکی واپسی ہوئی۔ صحن میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر سامنے چرخے پر بیٹھی بختاں پر پڑی۔

ہائے وے چیرے والیا میں کہنی آں کرچھتری دی چھاں میں چھاوئیں بہنی آں بختاں نے فرید کو نظر بھر کر دیکھا اورپھراپنے دھیان میں مگن گاتی رہی۔ جیسے دودھ میں پڑی مکھی نکال کر اس کی جاگ سے دہی بنا لیا جائے ویسے ہی اس رات کے ذکرکو کھٹاس مل گئی۔ فرید کے دل میں برے برے خیالات آنے لگے۔ شام ہوتے ہی پیپل کی چھاؤں چڑیلوں کی طرح بال کھولے اس کے اعصاب پر سوارہوگئی۔ دوراتیں اس نے جاگ کر گزاریں۔ فریدکی ہتھیلیاں پسینے سے ترہوتیں جنہیں وہ اپنی شلوارسے پونچھ لیتا۔ تیسری رات وہ صحن میں چارپائی پر دری بچھا رہاتھاکہ چرخے نے اسے آواز دیدی:
فریدے۔ ۔ ۔ ذرا میری پنیاں تو کٹ دے۔ مرن جوگی درد نئیںجاندی

فریدکے دماغ میں گھوں گھوں ہونے لگی۔ وہ بھاری قدموں سے کمرے میں داخل ہوا۔ آج صحت مند پنڈلیوں پر اس کی گرفت تکلے کی پکڑ سے زیادہ سخت تھی کیونکہ چرخے سے نکلی پونی اب گوٹ میں داخل ہوچکی تھی۔ اسے گھرکے پچھواڑے میں لگی کھڈی یاد آگئی تو لگا جیسے آج رات بختاں اس کھڈی کا تانا ہو اور وہ بانا۔ دھاگوں کی بنت نے چرخے کی گھوں گھوں بھلادی۔ فرید بختاں کا کھیس بنا کر اوڑھنا چاہتا تھا۔ سو ہاتھ میں پکڑا رچھ اس کھڈی پر چلتارہا۔ چھک چھک چھک چھک کی صدائیں گھوں گھوں گھوں گھوں کے شورمیں گم ہوگئیں۔ بختاں کی تھکاوٹ کے دھاگے چرخے کے تکلے سے نکلے تو کھڈی کی شٹل میں ڈھل گئے۔ فرید اس چرخے اورکھڈی کی کھٹا کھٹ سے بوجھل تھا اور بختاں کے خراٹے کمرے کا سکوت توڑ رہے تھے۔ اسے لگا جیسے بختاں پھٹے پر پڑی برف کی سل تھی جسے وہ سوا لے کر چھیلتا رہتا تھا۔ رات کا سناٹا ختم ہوا تو فرید کی نوجوانی کی صبح نے پہلی انگڑائی لی۔

باقی آنیوالی صبحیں بوجھل سے بوجھل ہوتی گئیں۔ باپ کی کھڈی ترقی کرگئی تھی۔ اب شہرکی بونے اسے سرسام کردیاتھا تو پھر ایسے میں ونجواں والا کیسے اچھا لگتا اور آج تیس برس بعد فرید کو چرخے کی گھوں گھوں واپس لے آئی۔ پیپل کی چھاؤں میں چارپائی پر لیٹے لیٹے اسے چرخے سے کھڈی تک کا سفریاد آتارہااورآنکھیں بھیگتی رہیں۔ ’’فریدیا۔ کی حال آ تیرا۔ ‘‘

دو لرزتے ہوئے ہاتھ اس کے ماتھے تک آئے۔ فرید نے تڑپ کرکروٹ بدلی اورچارپائی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ چاچی بختاں کا بھرا بھرا جسم اب چوسے ہوئے آم کی طرح پچک گیا تھا۔ پوپلا منہ دانتوں سے خالی تھا۔ گردن ہوا میں بل کھاتی پتنگ کی طرح لگتاتھا ابھی فرش پر آگرے گی۔ فریدنے آنکھیں صاف کیں اورسلام لے کر بختاں سے لپٹ گیا۔ اسے تیس سال پہلے بختاں سے چپکنا یاد تھا جیسے برف کے کٹورے سے زبان چپک جاتی ہے اور آج وہ ایسے لپٹا تھا جیسے کوئی بچہ سوتے میں ڈر کر ہمکتاہے تو ماں اسے اپنے ساتھ چمٹالیتی ہے۔ بختاں اس کے کاندھے پر تھپکیاں دیتی ٹھنڈی اورشانت تھی۔ فرید جب بھی کچھ کہنے کے لیے منہ کھولتا بختاں دلار سے اس کا ماتھا چوم لیتی۔ جیسے وہ جانتی ہو کہ فرید کی زبان ندامت کی ہتھیلیاں جوڑدے گی۔ دونوں گھربار اورخاندان کی باتیں کرتے رہے۔ تمام بیتے دن یاد کیے گئے سوائے ان راتوں کے جن میں چرخے کی گھوں گھوں تھی۔ رات کا کھانا کھا کر گھر والے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔ فرید اصرار کرکے پیپل تلے چارپائی ڈال کر لیٹ گیا۔ آدھی رات ابھی ستاروں کی چھاؤں میں بیتی تھی کہ بغلی کمرے سے بختاں کی اکھڑی اکھڑی گانے کی آواز آنے لگی: سن چرخے دی مٹھی مٹھی کوک۔ ۔ ۔

فرید کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔ اسے یا دآنے لگاکہ بختاں کو کھیس بنا کر اوڑھنے کے باوجود وہ آدھی عمرننگا ہی رہا شاید چرخے کے تکلے میں اس کے من کا چور سوت پھنسا چکا تھا۔ گانے کی آواز بڑھتی رہی: میرے دل وچ اٹھ دی اے ہوک۔ ۔ ۔

اور فرید اپنے سرہانے چرخے کی گھوں گھوں سنتا رہا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: