اہلیت اور نا اہلی —— محمد عثمان جامعی

0
  • 81
    Shares

بھیا! یہ جو لفظ ہے ناں ”اہل“ اس کی اہمیت اور افادیت کا اب جا کے اندازہ ہوا ہے۔ یوں کہیں کہ ہم اسے سمجھنے کہ اب اہل ہوئے ہیں۔ دراصل اہلیت کا اندازہ ہوتا بھی بڑی مشکل سے ہے۔ جیسے بعض لوگ اہلیہ کے زندگی میں آنے کے بعد ہی جان پاتے ہیں کہ وہ ”اہل“ نہیں۔ اگر گلی محلے کے لوگ اہلیت سے محروم شوہر کو ”قبلہ بڑے حکیم صاحب“ کے مطب کے چکر لگاتے دیکھ کر یہ راز جان لیں تو اہلیہ کے لیے ہر طرف سے ”اہلاً وسہلاً مرحبا“ ہونے لگتا ہے۔ حکیم صاحب کے کُشتے اور معجون کام کرگئے تو ٹھیک، ورنہ ”اہلِ دل یوں بھی نبھالیتے ہیں۔“

اب سمجھ میں آرہا ہے کہ اہل ہونا کتنا اہم ہے، اسی لیے شادی بیاہ کے دعوت ناموں میں ”بہ معہ اہل وعیال“ لکھا جاتا ہے، یعنی کہا جاتا ہے،”میاں! یوں ہی منہہ اٹھائے مت آجانا، بچے تو ساتھ لاو¿ گے ہی کھانا ٹھسوانے اور بدتمیزیاں کروانے کے لیے، کسی اہل کو بھی لے کر آنا، تاکہ تمھیں عزت دی جاوے اور تم کھانے کے حق دار قرار پاو۔“

ہم میں سے اکثر لوگوں کو اپنی اور دوسروں کی اہلیت کا پتا بہت دیر میں چلتا ہے، جیسے اپنے میاں محمد نوازشریف خود کو سیاست، قیادت اور حکومت کا اہل سمجھا کیے، لیکن پھر ایک کے بعد ایک صادق وامین کی تعریف، قومی اسمبلی کی رُکنیت، وزارت عظمیٰ اور اپنی جماعت کی سیادت کے لیے نااہل قرار پائے۔ ان کے حصے میں اتنی ساری نااہلی آئی ہے کہ اب شاید مسلم لیگ ن کی شناخت ”مسلم لیگ نااہلی“ بن جائے۔ خیر ہم ناچیز اس نااہلی پر اس سے زیادہ کیا کہہ سکتے ہیں کہ خُدا نواز رہا ہے تجھے نواز شریف۔

نوازشریف کی طرح ”تحریک صاف“ کے چیئرمین عمران خان خود کو، بلکہ خود ہی کو، کرکٹ ٹیم کی کپتانی سے سیاست، اور سیاست سے وزارت عظمٰی تک کا اہل سمجھتے ہیں۔ اتفاقیہ کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان نے اس اعزاز کو یوں خود سے منسوب کیا جیسے کرکٹ نہیں اسکواش کا کپ جیت لائے ہوں۔ اس دن سے خان صاحب کی امیدیں اتفاقات پر منحصر ہوگئیں، یہی وجہ ہے کہ انھوں نے سوچ لیا کہ وزارت عظمیٰ ”اتفاق فاونڈریز“ ہی کے ہاتھ سے چھینوں گا تو ملے گی۔ پھر اتفاق سے نوازشریف کو فارغ کرنے پر اتفاق پایا گیا، اتفاق سے پاناما کا معاملہ سامنے آیا، اس سے اتفاقیہ طور پر اقامہ برآمد ہوا، پھر متفقہ طور پر ان کی وزارت عظمیٰ پر قیامت صغریٰ ڈھا دی گئی۔ یہ اتفاقات ہی کیا کم تھے کہ عدالت سے اہلیت کی سند پا کر تو عمران خان کو اپنے اہل ہونے میں کوئی شبہہ نہیں رہا، یہ اہل ہونے کا پکا یقین ہی تو تھا کہ وہ تیسری اہلیہ لے آئے۔

بعض اوقات اہلیت کا معاملہ حاملہ ہوکر بہت سے سوال جنم دینے لگتا ہے۔ ایسا اُس وقت ہوتا ہے جب ہم کسی کی اہلیت خفیہ امراض کی طرح پوشیدہ رہے اور اچانک سامنے آکر سب کو حیران کردے۔ اس حیرت کی ایک روشن مثال آصف زرداری ہیں۔ ان کی اہلیت پر حیرت کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب بے نظیر بھٹو نے ”چُن لیا میں نے تمھیں سارا جہاں رہنے دیا“ کہتے ہوئے انھیں اپنا شوہر منتخب کرلیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ انتخاب میں ایسی دھاندلی کم ہی دیکھنے میں آئی ہے، ہم یہ سُن کر بس چُپ رہتے ہیں۔ ناقدین اور حاسدین کا خیال تھا کہ وہ بے نظیر جیسی بے مثال اہلیہ کے اہل نہ تھے، لیکن بھیا وہ تو اپنی اہلیت ثابت کرتے ہی چلے گئے۔ دلہا کا سہرا پہننے سے شروع ہونے والا اہلیت کا سفر گُل کھلاتا ہوا انھیں وزارت سے پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت اور پھر ملک کی صدارت تک لے گیا۔ دوسری طرف جن مقدمات کے لیے انھیں سزا کا اہل سمجھا جارہا تھا ان میں زرداری صاحب کی اہلیت ثابت نہ ہوسکی اور وہ سب پر بھاری نکلے۔ چناں چہ انھیں پارٹی کی قیادت سے ملک کی دوبارہ صدارت تک ہر اہلیت میسر ہے، بس جو اہلیہ ان ساری اہلیتوں کی وجہ بنیں ان سے وہ محروم ہوچکے ہیں، پس تو پتا چلا کہ بعض اہلیتوں کے سامنے آنے کے لیے اہلیہ کا ”جانا“ ضروری ہوتا ہے۔

کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ بندے بشر کو اپنے اہلیت کسی طور بھی ثابت کرنی پڑتی ہے۔ اسی کیفیت میں آدمی کہتا ہے،”گو ہاتھ کو جُنبش نہیں، آنکھوں میں تو دَم ہےرہنے دو ابھی ساغرومینا مِرے آگے۔ گویا بڑھاپے کی ناتوانی نے شاعر کو کسی کام کا نہیں چھوڑا۔ واضح رہے کہ یہاں شاعر نے ہاتھ کو محض تشبیہ کے طور پر استعمال کیا ہے، ورنہ مسئلہ ہاتھ کی نااہلی کا نہیں تھا۔ مزید وضاحت کرکے ہمیں اپنی تحریر کو ناقابل اشاعت نہیں بنانا۔ دراصل شاعر خُم وصراحی کے ذریعے اپنا دَم خَم ثابت کرنا چاہتا ہے۔ اہلیت ثابت کرنے اور نااہلی کی حقیقت سے آنکھیں چُرانے یا اس کی آنکھیں پھوڑ دینے کی کیفیت عمر کے اس حصے میں جاگ اٹھتی ہے جب آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہونے میں کچھ ہی سمے رہ جاتا ہے اور بینائی بھی دَم سے محروم ہوکر دور مار نہیں رہتی، ایسے میں ”ہدف“ کو ”یہاں آو¿ بٹیا!“ کہہ کر قریب کرلیا جاتا ہے۔ اہلیت دکھانے اور آزمانے کا جوش بڑھ جائے تو باز بن کر جھپَٹّا مارنے سے بھی باز نہیں آیا جاتا۔ ایسے میں جھپٹنے کا شکار خاتون کبوتر کے عقاب بننے پر حیران رہ جاتی ہیں، اور بزرگی سے متعلق اپنے اطمینان، امکانات اور توقعات کے چراغ گُل ہوجانے پر پکار اٹھتی ہیں،”یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو کی تھی۔“

بہ الفاظِ دیگر یوں کہہ لیں اپنی اہلیت جتانے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے، اور الفاظ، انداز، اطوار سے خود کو اہل ثابت کیا جاتا ہے، ایسے میں یہ بھی ہوتا ہے کہعجیب ہوتے ہیں آدابِ رخصتِ محفلکہ اُٹھ کے وہ بھی چلا جس کے گھر ”نہ تھی“ کوئی۔

اب جب ہم سب پر اہل اور اہلیت کی قدروقیمت واضح ہوچکی ہے اور یہ امر طے پاچکا ہے کہ اہلیت کتنی اہم اور نااہلی کیسا عذاب ہے، تو ہونا یہ چاہیے کہ ہم سب اچھے بچوں کی طرح خود کو اہل بنانے کی پوری کوشش کریں، اس کے لیے زیادہ کچھ نہیں کرنا، بس یہ دیکھ لیں کہ ملک میں کون کون ناہل نہیں ہوا، بس اس جیسے بن جائیں، یہی اہلیت کا معیار ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: