کیا قومی وحدت کیلئے تعصب ضروری ہوتا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بشارت محمود مرزا

1

تعصب در اصل وہ شناخت ہے جو کسی معاشرے یا کسی معاشرے کے فرد یا افراد کو اپنے متعلق حاصل ہوتی ہے۔ معاشرہ جس سے ہمارے معاملات ملے ہوئے ہیں، ہماری توقعات بھی اُس سے وابستہ ہوتی ہیں۔ ہم اُسے دوسروں سے بہت زیادہ دیکھتے ہیں۔ ہم دوسروں کے بجائے اس سے زیادہ حاصل بھی کرتے ہیں۔ اسی مصروفیت اور لین دین کے ماحول میں ہم پیوست ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ جب کوئی معاشرہ یا قوم جس کے ہم افراد ہوتے ہیں کوئی اقدام لیتی ہے، کوئی مقصد حاصل کرتی ہے یا کسی کارنامے کو انجام دینے کی تیاری کرتی ہے تو ہم قدرتی طور پر اُس کی مصروفیت کی روئداد اور کامیابی و ناکامیابی کو ذاتی سی چیز سمجھنے لگتے ہیں۔ خوشی کے مواقع پر خوش اور اُداسی اور غم کے موقعوں پر اجتماعی طور پر ایسے اُداس اور غمزدہ ہو جاتے ہیں کہ کوئی کسی کو تسلی نہیں دیتا در اصل سب ہی کو تسلیت کی ضرورت ہوتی ہے سب ہی نڈھال ہو جاتے ہیں۔

قومی کامرانیوں اور کامیابیوں پر تاثر مختلف ہوتا ہے۔ ایک سرشاری میں سب شریک ہو جاتے ہیں تو ایک دوسرے کی تحسین بھی کرتے ہیں۔ عقائد و تصورات جو معاشروں کا جذبہ افراد کا عاطفہ ہیں اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے آگے بڑھتے ہیں اگرچہ اقوام مکمل طور پر ہار چکی ہوں، عقیدے اور ایمان کی گرم بازاری میں کمی نہیں آتی۔ شکست کی صورت میں اس سے التماس اور نیا یش اور فتح کی صورت میں تحسین اور ستایش میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ انہیں ظواہر، مراحل، جواہر اور عقائد سے کسی فرد اور معاشرے کی شخصیت مجتمع ہوتی ہے۔ جس سے افراد کا رشتہ معاشرے کا ہم رنگ ہو کر وسیع ہو جاتا ہے۔ اسی لیے کسی قوم اور معاشرے سے وابستہ ہونا، کسی مضبوط تصور سے وبستہ ہونا ہے۔ صرف یہی تصور جیسا بھی ہے اپنا سا ہوتا ہے جس سے ہم توقع کر سکتے ہیں اور جو ہماری توقع کے مطابق ہے ہم اُس پر مطمئن ہوئے، فخر کر سکتے ہیں۔

ہمیں اپنے محلِ وقوع اور فضا سے قدرتی محبت ہوتی ہے۔ محبت جس کے وجود کے لیے دلائل ضرورت نہیں ہوتے۔ کسی جغرافیائی آبادی کا متفق عمل خود بخود قومی عمل تسلیم ہو جاتا ہے۔ جس کا دفاع کرنا اور اُس پر فخر کرنا ہر فرد کا جذبہ سمجھا جاتا ہے۔ اہلِ مغرب ہمارے زاویے سے ایک قوم، اپنی نظر میں ایک قوم نہیں ہیں۔ اَب نہیں ہیں جب سے وطنی قومیت کے نعرے کو مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ اس کے باوجود بھی مذہبی قومیت وہ میلان ہے جو کسی بھی انسان اور دوران میں بالکل ناقابلِ لحاظ نہیں رہا ہے۔

اگر کوئی معاشرہ بے تعصب ہے تو وہ کوئی نا بالغ نومولود معاشرہ ہے۔ جس کی آزادانہ خدمات کی ابتداء بھی نہیں ہوئی۔ جب کوئی فرد یا معاشرہ یا قوم کچھ سفر چل چکتی ہے تو وہ کچھ معاملات کو سلجھانے کا تجربہ بھی کر لیتی ہے۔ یہ تجربہ اُس کی محنت کا حاصل ہوتا ہے۔ اپنی محنتوں کی ملکیت سے راضی ہونا ہر فرد انسان اور معاشرے کا حق ہے۔ آخر ملکیت ہی وہ قدر ہے جو افراد اور اقوام کو ضخامت اور فخر عطا کرتی ہے۔زمانے کے جس دور میں ہم رہ رہے ہیں یہ تمدن کی ابتدأ کا دور نہیں ہے۔ اس کی اتنی لمبی تاریخ اور اتنا ضخیم حافظہ ہے کہ انسانی تلاش اس کے مکمل کھوج سے عاجز ہے۔ ہر معاشرہ اور ملت اپنے پھیلائو میں عجیب اعتبار حاصل کر چکے ہیں۔ مغرب سے قطع نظر اور بھی معاشرے ہیں جو دوسری قوموں اور ملتوں کے افراد کو تہذیب و تمدن کے اُس درجے پر محسوس نہیں کرتے جس پر اپنے تئیں وہ فائز سمجھتے ہیں۔ میرے ایک دوست جو ملائیشیا سے واپس آئے تھے بتانے لگے میں اپنے ہم منصب کے ساتھ کھانے کی میز پر تھا اُس نے عجیب طرح سے سوال پوچھا ’’پاکستان میں کیا چاول ہوتے ہیں‘‘؟ ہماے یہ دوست جواب میں صرف مسکرا ہی سکے۔ اُن کے خیال میں پاکستان ایک ایسی قدیم میں آباد محروم آبادی ہے جہاں چاول خوراک نہیں ہیں۔

یہ درست ہے کہ صرف اسلام نے انتظامات کو اخلاقی قوانین کا پابند کیا ہے۔ پھر ساری دنیا سمیت اسلامی دنیا کے معاشی رجحانات غیر مادی نہیں ہو سکے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ مستعد اسلام کو سرگرمی دکھانے کا وسیع موقع ہر قلمرو میں ہاتھ نہیں آیا ہے۔ آج بھی ہم ایسے محاورات دیکھتے ہیں جہاں اعتبار کیا جاتا ہے کہ نزاعات کی وجہیں ہمیشہ مادی ہوتی ہیں یا نزاعات کی وجہیں ہمیشہ مادی ہونی چاہئیں انہیں بنیادوں پر بہت فلسفے بھی تعمیر ہوئے ہیں۔ ہمیں شاید اسلام کے علاوہ بھی اعتقادی غیر ہم آہنگی کی بنیاد پر ہونے والے تصادم بہت کم مل سکیں۔ لیکن شخصی اعتبار سے تعرض بڑے پیمانے پر تصادم پیدا کرتا رہا ہے۔ جیسے بہت پہلے ہم دیکھتے ہیں۔ حرب اور عبد المطلب نے اپنے قاصد شاہِ حبش کے پاس یہ فیصلہ کروانے کے لیے بھیجے تھے کہ دونوں حضرات میں اعزاز میں بڑھ کر کون ہے۔ آج بھی اگر ہم غور کریں تو باہمی حیثیتوں سے تعرض اور بے اعتنائی عداوت اور نزاع پیدا کر رہی ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ ہم اجتماعی انسانی شرافت کے قائل نہیں چلے آ رہے۔ اسی لیے ہم نے اس بڑے نزاعی عموم کو نظر انداز کیے رکھا ہے۔ یہ بڑا افسوس ناک اغماض ہے یا انسانی معاشروں کی غیر رواداری کی بری نشانی ہے۔ یہ تہذیبی بہتری کے دعاوی پر عائد ہو نے والا بڑا سوال ہے، ایسا کیوں ہوا اور ہوتا رہا ہے؟ واضح ہے ہم عمومی اشرافیت کی قدر دانی کے قائل نہیں ہو سکے ہیں۔

عدنانیوں اور قحطانیوں، ربیعوں اور مضریوں، اوسوں اور خزرجوں پھر امویوں اور ہاشمیوں کے درمیان نزاعات میں شاید مادی وجہیں موجود ہوں لیکن وہ گہرے مشاہدے ہی سے معلوم ہو سکیں گی۔ قریظی یہودی نضیری یہودی کے خون کی نصف دیت کے قائل تھے۔اسی طرح بدوی اور حضری تصورات میں بعد و عناد چھپائے نہیں چھپتا۔ حضری یا شہری آبادی کی بدویوں آج کل کی تبدیلی کے ساتھ قرویوں کے بارے میں رائے یہ ہے کہ وہ خام اور احمق ہوتے ہیں۔ قروی مدنیوں کے بارے میں یقین کرتے ہیں کہ وہ چالاک، حریص اور بے رحم کاروباری لوگ ہوتے ہیں۔ کسی عرب بدوی سے آپ اگر یہ سوال کریں کہ اُس کے پاس مرغی مل سکتی ہے تو وہ حقارت سے جواب دے گا مرغیاں حضری لوگ پالتے ہیں، ہمارے پاس تو اونٹ ہیں۔ یہ حجمیت کی طرف میلان کی وجہ سے ہے۔ معمولی بدلی ہوئی مہارت جو اُن کا تجربہ نہیں رہی ہوتی، اُن کو گہری سنجیدگی میں ڈال دیتی ہے۔ جو اُن کے گمان کو منفی بنا دیتی ہے۔ لیکن شہری رسم کے عادی اُن کے مقابل اُن کی اس حساسیت کو نگاہ میں نہیں رکھتے ہوئے اُن کے لیے مشکوک ہو جاتے ہیں۔ شہری محدود معاشرت اور باہمی دائو پیچ سے واقفیت شہری افراد کے درمیان ہمیشہ محسوس ہونے ہوالی چغلی کی طرح حفاظت کرتی رہتی ہے۔ ہماری گذشتہ صدی یا صدیوں کی مقبولیت جمہوریت نے بدوی حضری بے اعتمادی کو کامیابی سے کم کیا ہے لیکن ہمارے یہاں نہیں پھر بھی وسیع بین الانسان مجامع میں اس کی بدولت کوئی بہتری نہیں دیکھی گئی ضرور اس لیے کہ یہ اس کے محدود مقاصد میں داخل نہیں ہے۔

اتفاقاً اسلام کو اپنی ابتدائی مرزبوم کے اندر اور اپنی ابتدائی توسیعات میں اپنی غیر واضح سرحدوں کے ساتھ ابتدائی آویزشوں میں جن اقوام اور مذاہب سے واسطہ پڑا اُن میں عیسائی اور یہودی مذہب آبادی سے معاملات کا تناسب بہت واضح تھا۔ دینِ مسیح ؑ جو مغرب کا مقبول دین تھا وہ اسی جغرافیے سے یورپ کو واضح طو رپر مسیحی شہنشاہتوں کی سوغات کے طور پر پہنچا تھا۔ چنانچہ مشرق میں اسلام کے ہاتھوں کلیسا کی سیاسی پسپائی اسلام کی فوجی کامیابی کے علاوہ اور کسی صورت میں دکھائی جا سکتی تھی۔ شاید ہم جانتے ہیں قدیم سے مغرب و مشرق کا عیسائی معاشرہ اتنا بے لگام اور آزاد رو نہیں تھا جتنا کہ اب ہے۔ بلکہ سچ یہ ہے کہ بہت سارا عملی مذہبی معاشرہ تھا۔ تہذیبی یورشیں تہذیبی تعامل تو کہیں بعد میں ثابت ہوتی ہیں۔ ابتداً اُن کا سراپا موافق دکھائی نہیں دیتا۔ ظاہر ہے جنگ کے ماحول کی آپ جتنی بھی اچھی تصویر کھینچ لیں وہ تصویر اگر حقیقی ہے تو وہ کسی باغ کی یا سبزہ زار کی تصویر نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ مشاہدہ یہ ہے کہ باغوں میں تلواریں نہیں اُگتیں متحاربوں میں ہر فریق مسلح ہوتا ہے لیکن فاتحوں کے اسلحے لمبے دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی مفتوح فرد یا گروہ اپنے روبرو مسلح فاتح کو مثالی انسان اور معزز مہمان قبول نہیں کرتا۔ اسلام کی سریع اشاعت ہر چند اس کے پرجوش مجاہدوں کا کارنامہ کہی جائے، تسبیح و سجادہ اس میں بعد میں داخل ہوئے ہیں۔ وقتِ نماز ہم ہتھیار سمیٹ لیتے ہیں اور ہنگام کا زار تسبیح و سجادہ تہہ کر لیتے ہیں۔ تو جس وقت ہم جو کچھ کرتے دکھائی دیتے ہیں وہی ہماری تصویر ذہن میں رہ جاتی ہے۔ مغرب کے ذہن میں ہماری وہی ابتدائی تصویر کندہ ہو گئی ہے۔ اُس کی مجبوری یہ ہے کہ وہ ہماری اس سے مختلف تصویر بنانے پر قادر ہی نہیں ہے۔ وہ ایک عملی اور حقیقی نقاش ہے۔ مشرق کی طرح اُس کی تصویریں فرضی اور خیالی نہیں ہیں۔ وہ جذبات اور ہیجان کے وقت کارگاہ سے اُٹھ آتا ہے۔ مشرقی انتظار کرتا ہے کہ وہ مشتعل اور برافر و ختہ معمل میں داخل ہو۔

مغرب کے پاس دین کا خلا تھا وہ اُس نے مشرق کے دین کو درآمد کر کے بھر لیا۔ ماحول کی یکسانیت، ندرت اور نفاست کی شدید کمی جو اُس کو صدیوں سے لاحق تھی، مشرق کے ساتھ جنگی معاملات کی صدیوں کے دوران پوری کر لی۔ مضبوط اعصاب، عمل پسندی اور محنت کی عادت اُن کا جغرافیائی وصف تھا۔ وہ کسی سے بھی کس طرح کم تھے۔ ظاہر ہے کسی طرح بھی نہیں، اُن کی بعض پسماندگیاں دوسروں کی بہت پیش رفتوں سے تقریباً برابر ہی تھیں۔ وہ قدیم بنیاد ہونے کی وجہ سے وسیع اثرات اور زیادہ مضبوط مذہبی قومی تاریخ اور تعمیر کے بھی خواہ تصوراتی طور پر ہی سہی حامل چلے آتے ہیں۔ اگرچہ وہ اپنے علاوہ دوسروں کو غارت گر اور جھگڑا لو مانتے ہیں لیکن آئینِ کلیسا اُنہیں سوائے مقدس جہاد میں خون بہانے کے اور مواقع پر تشدد سے شدید احتراز سکھاتا تھا۔ جیسا بھی ہو لطیفہ یہ ہے کہ جو مذہب کے صحن کی مقدس فضا میں انجام پائے وہ مشروع اور جائز ہے۔ یعنی اگر مذہب انسان کسی کی طرف ہدایت کرے تو اُس کی شقاوت کی طرف اشارہ نہیں کرنا چاہیے۔

ہم میں ایک وقت میں دو شناختیں مضبوط نہیں ہو سکتیں۔ کیونکہ ہماری شخصیت ایک اور اُس کو ودیعت سامان بھی اتنا ہے جو صرف ایک شخصیت کو مکمل کر سکے۔ ایک مکمل شخصیت جس کی ہم مکمل شناحت حاصل کر چکے ہیں ہمیں زیادہ متوجہ کرتی ہے۔ بہ نسبت ایک کم معلوم زیادہ مجہول شخصیت کے شاید ہم اُس کو تعجب سے دیکھیں، شاید ہم محبت سے مائل ہو جائیں اگر وہ دلکش طور پر خوبصورت ہے اتنی خوبصورت کہ اُس میں نسوانیت کا نہتہ پن دکھائی دے اور کوئی وجہ نہیں ہوتی کہ ہم اُس کی طرف مائل ہوں۔ حُسن توازل سے اغوائی ہے، اُس کی عادت ہے نہ ترکیب۔ جس صورت حال کا میں ذکر کر رہا ہوں وہ لشکروں کے گزرنے کی ہے باراتوں کے سفر نے کی نہیں ہے۔ ہماری توقع یہ ہے کہ ہماری شخصیت کی مکمل نمائندگی ہو، ضروری ہے ہمارے اندر ہی سے ہو۔ ہمیں اُسی نگاہ سے دیکھا جائے جس نگاہ سے ہم توقع کرتے ہیں کہ ہم کو یکھا جائے۔ اگرچہ ہمارے پاس دو آنکھیں ہوتی ہیں لیکن عکس ایک ہی بنتا ہے نہیں پتہ چلتا کس آنکھ نے کونسا حصہ دکھایا ہے۔ مغرب کی بھی ہماری طرح ایک شخصیت ہے جو بڑی مدت کی محنت کے بعد پنپتے ہوئے نہ صرف بنی ہے بلکہ ہمارے مقابلے میں بہت جوان ہو گئی ہے۔ جوانی قوت کی فراوانی کا دور سرگرمی کی افراط کا زمانہ ہوتا ہے۔ نوجوان پر تو ان مغرب پیدائش اعمال میں حقیقتاً محیرالعقول ہے۔ کارکردگی کے ہر ہر شعبے پر اُس کا اجارہ ہے۔ تو پھر کیا چیز ہے جو اس کو اپنی آغوش میں جب وہ سستا رہا ہے اُس کو ستائے۔ کمزور مناظر اور مظاہرے اگرچہ منظر اور مظاہرے ہی ہوتے ہیں سیاحوں کی توجہ کو جلب نہیں کر سکتے۔

یہ درست ہے مغرب نے مشرقی تجربے کو اختیار کر لیا ہے لیکن وہ اس کے مزاج کو اپنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ یہی حال مشرق کا بھی ہے جو مغرب کی خدمات کا تو خریدار ہے اُس کے کامیاب اوصاف کا خریدار نہیں ہے۔ میرے نزدیک مشرق کا مغرب سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اُس کی حقیقی شخصیت کو سمجھ لے گا منصفانہ نہیں ہے جبکہ مشرق مغرب کی سادہ بناوٹ کا پرانا عارف ہونے کے بعد بھی اُس کی شخصیت کا صحیح احاطہ نہیں کر سکا ہے۔ ہماری توقعات کو دنیا کا بیشتر تعارف اخفا میں پڑا رہے گا اگر ہم واقعات کا توقعات کے مطابق فیصلہ چاہنے کی عادت سے آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ کسی بھی جغرافیے میں آباد کسی بھی شخص کے لیے ممکن نہیں ہے اگر وہ آپ کا اعتقادی اور تاریخی حلیف نہیں ہے تو وہ آپ کے احساسات کی رعایت کر سکے۔ اگر وہ ایسا کر سکے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا کرنا چاہتا ہے۔ ہمارے لیے بہت آسان ہے کہ ہم اپنی خدمات کے دفاتر کی مغربیوں سے اپنے انداز میں تدوین کرانے کے منصوبے کا ٹھیکہ دے دیں۔ وہ چونکہ اُجرتی خدمت ہو گی اس لیے ہماری خواہش کے مطابق بھی ہو گی۔

جب میں کوئی بھی مغربی مصنف سے اردو میں ترجمہ شدیہ تالیف دیکھتا ہوں، بعض اُن میں اتنی ضخیم ہیں کہ سوائے متخصصین کے اُنہیں اور کوئی گننا بھی نہیں چاہتا تو عجیب بد مزگی کا شکار ہو جاتا ہوں۔ میں جانتا ہوں میں ایک عیسائی کی تالیف پڑھ رہا ہوں اکثر ہی اُس کا متن ویسا ہی ہوتا ہے، جیسا ہم مسلمانوں کے بعض مذاہب مانتے ہیں یا اُن میں چند یا کوئی ایک مانتا ہے اور اگر بات مذاہب کی تصدیق تک نہیں جاتی تو کسی مسلم ادیب اور اکابرین ایسی آراء کا اظہار کرتے چلے آئے ہیں۔ لیکن یہ ہمارا گھریلو نااتفاق رائے ہے ہم دوسروں کو پنگا لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔ کیا یہ دل چسپ نہیں ہے کہ ہمارے غور و فکر کے نتائج ہمیں جہاں پہنچاتے ہیں، کسی مستشرق کے نتائج غور و فکر بھی اُس کو اُسی نتیجے پہ پہنچا دیں یا ہمیں اُن مراجع کی تلاش کرنی چاہیے جن کے متعلق ہمارا گمان ہے کہ وہ استفادے میں رہے ہونگے۔ مجھے ذاتی طور پر تعجب ہوتا ہے اور یقین نہیں آتا جب میں کسی مغربی کو اسلام کے فروعات میں عمل پر اپنی رائے کے، اُنہیں عین قریب یا مثیل پاتا ہوں۔ میرا ماننا یہ ہے کہ کسی عاطفی کے غور و فکر اور کسی پیشہ ورر کے غور و فکر کے نتائج کو جوڑنا بہت ناممکن ہے۔

میں انہماک سے مطالعہ کر رہا ہوتا ہوں اپنے شعور میں بھی ہوتا ہوں قوسین میں ایک بے رحم جملہ آجاتا ہے (مصنف یہاں تعصب کا مظاہرہ کر رہا ہے) یا ستارہ چمکنے لگتا ہے اور جب آپ پاورقی میں جائیں تو اگر تقریر مختصر ہے تو وہیں دی جائے گی یا اگر ناراضی کا مواد اگلے ایک دو یا چند صفحوں سے زیادہ کا متقاضی ہے تو اتنا لکھا ہو گا (تفصیلات کے لیے دیکھیے ہمارا مقدمہ) اور کل کتاب پر جو بوجھل چیز آپ پڑھتے ہیں، جس میں علم اور تخلیق کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا وہ یہی راہنما مقدمہ ہوتا ہے۔ جس کی طرف بار بار راہنمائی کی جاتی ہے۔ ان دنوں میرے پاس ایک کئی جلدی متن ہے اور اُس کے مطالعے کے دوران تقریباً ہر صفحے پر یہی بدمزگی ہے وہ حقیر سی روشیں جن پر کوئی توجہ بھی نہیں دیتا، فاضل مترجم اُن کے متعلق بہت حساس ہے اُسے ڈر ہے کہ اُس کا قاری گمراہ نہ ہو جائے اور ملت کے بارے میں اُس کا یقین ایسا اور ویسا نہ ہو جائے، یہ بھی تو تعصب ہی ہے۔ بھلا ایک شخص جس نے تحصیلات کے آخری درجے کامیابی سے طے کر لیے چند ہزار روپے او رقیمتی اوقات غیر رائج معاملات اور حالات کی اطلاع کے لیے صرف کرنے پر مائل ہے۔ اُس کے ہاتھ میں سفید چھڑی نہیں ہے کہ اُس کا ہاتھ تھام کر کہیں پہنچا دینا نیکی اور کچھ کِھلا دینا اجر کا ذریعہ بنتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم سب سے زیادہ متعصب لوگ ہیں۔ ہمیں اپنی شخصیت کا احساس سب سے زیادہ ہے۔ ہمارا ملی شعور اور حافظہ کسی بھی قوم کے مقابلے میں زیادہ اور پختہ ہے۔ ہماری ترتیب میں تربیت کے مقاصد کے لیے بہت اوقات اور ساعات ہیں۔ اس لیے ہم قدرتی طور پر ثروت مند حافظے اور فکر مند ذہن کے لوگ ہیں۔ اگرچہ ہم نے اپنی مذکورہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کبھی کم ہی کیا ہے۔ ہم میں ہر کوئی واعظ، مبلغ اور مصلح ہے۔ ہم میں ہر کوئی مئوطف سپاہی اور چوکس نگہبان ہے۔ دنیا کی کسی بھی دوسری ملت میں اس تعارف کے لوگ نہیں پائے جاتے۔ ہمارے پاس وسیع نظام اور گہرا اہتمام ہے۔ صرف ہمارے پاس یہ بندوبست ہے کہ ہم آزاد رائے طلبی اور رائے دہی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ صرف ہمارا اندرونی نظم اتنا مضبوط اور مئوثر ہونے کے علاوہ مشہور طور پر علمی ہے کہ ہمارا عامی اور جاہل پیر و مذہب بھی بنیادی حساسیتوں کے متعلق گہرے طور پر آگاہ ہے۔ یہ صرف ہماری تبلیغی محنت اور مساعی سے ممکن ہوا ہے۔

ہمیں کئی گوشوں اور شعبوں میں کام کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ نظری تعمیر اور اصلاح کے علاوہ عملی ترغیب اور تدابیر کے لیے بھی۔ اس طرح ہم ہی وہ مذہبی ہیں جو انفرادی اور مجموعی طور پر اپنے عقائد اور رسومات کو سب سے زیادہ وقت دیتے ہیں اور سب سے زیادہ ان کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔ ہمارے پاس مخصوص مراسم اور اذکار کے لیے کوئی ایک باہمی طور پر طے شدہ ایسا معین وقت نہیں ہوتا جو سب کے لیے سہوت کو پیشِ نظر رکھ کر طے کیا گیا ہو اور نہ ہی کوئی معین دن کہ دنوں پہلے اُس کے لیے وقت کو خالی چھوڑنے کا بندوبست کر لیا جائے۔ میری آگاہی اور اطلاعات بھی ایک مضبوط تعصب ہیں، اس کی نوعیت ملی ہے۔ میرا ایک انسانی تعصب بھی ہے جو مجھے عظیم محنتوں کی ناقدری سے روکتا، بڑی خدمتوں کی قدردانی کی طرف مائل کرتا ہے۔ میرا مضبوط عقیدہ ہے۔ غرض مند انسانی گروہ مخاصمت پیدا کرتے ہیں ورنہ نوعی موافقت مشہور ہے۔

جمہوری روایت میں سرمائے کی بڑی لاگت ذہانتوں کو اپنے مقاصد کے لیے خرید لیتی ہے۔ سلطانی اپنے طویل ادوار میں اپنے مقاصد کے لیے روحانی قیادت کی پرورش کرتی رہی تھی۔ ایسا لگتا ہے حقیقی قدرت کا منشاء کہیں اور واقع ہوتا ہے جو مقاصد اور رجحانات کو تخلیق کرتا دوسروں میں ذمہ داریوں کو تقسیم کرتا ہے۔ ہماری رائج سیاسی بناوٹ نے ذات انسانی تصور کو مجروح کیا ہے جہاں اخلاقی مشروعیت اور جواز کے پرانے نظریے یا عقیدے کے آگے مضبوط سوال اور اُس کی رفتار کے آگے بڑے مسائل کھڑے ہو گئے ہیں۔ صرف آج کے ترقی یافتہ دور میں قوموں کی کمزوریوں کا اندازہ لگانے اور اُنہیں استعمال کرنے نیز زمینی وسائل کا اندازہ لگانے اُن پر قبضہ جمانے اور استعمال میں لانے کے طریقوں اور اُن پر اُٹھنے والے اخراجات کا علمی جائزہ لینے والے ادارے قائم ہوئے ہیں۔ یہ سب شواہد ہمیں اس سچائی تک پہنچانے کے لیے کافی ہیں کہ مغرضانہ سیاست کا اغوا انسانی مستقبل کے لیے خطرناک ثابت ہونے جا رہا ہے۔ یہ تعصب کی غیر روایتی شکل روایتی تعصب کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ثابت ہو گی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20