فلیش بیک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد سلیم طاہر

0
  • 77
    Shares

وہ شاید اکیلا تھا

جو اپنے جیسوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنے گرد اکٹھا کرتا تھا۔ کسی کا کچھ بھی نہیں لگتا تھا۔ مگر ہر ایک کی خواہش ہوتی تھی کہ وہ صرف اور صرف اُسی سے بات کرے اور جس سے وہ خود بات کرنا چاہتا تھا۔ تردّد نہیں کرتا تھا۔ فوراً بلا لیتا تھا۔ نہ کوئی تمہید باندھتا تھا، نہ کوئی پیش بندی کرتا تھا۔ بس ہوش مندی کرتا تھا

دیوانہ بکارِ خویش ہشیار پہلی نظر میں ہی یاری

اپنے جیسوں کا ایک لشکر تیار کر لیا تھا اُس نے، یوں لگتا تھا کہ خالد ہی ایک ایسا دھاگا ہے جس کے ساتھ سب مضبوطی سے بندھے ہوئے ہیں، وہ اپنے دونوں پہلوئوں میں اس طرح سب کو ساتھ لے کر لاہور کی سڑکوں پر مارچ کرتا تھا جس طرح مرغی اپنے ننھے ننھے بچوں کو، ان دیکھے خطرات سے بچانے کی فکر میں اپنے پروں کی پناہ میں لے کر چلتی ہے۔

محفلیں اُس کے دم سے سجتیں، اُس کے سخن پہ بے دریغ تالیں بجتیں، وہ ہنستا تھا تو چائے کی پیالیاں ہنستیں۔
بہت کم شاعروں کو میں نے دوسروں کا کلام تحمل سے سنتے دیکھا ہے۔ فریاد کرنے والے کو اس حد تک یقین ہوتا تھا کہ اُس کی فریاد شہر میں ایک ہی شخص توجہ سے سنے گا اور وہ خالد احمد کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں تھا۔

یہی حال نئے شعر کہنے والوں کا بھی تھا۔ نئے لکھنے والے کو خالد احمد بہتر مستقبل کی نوید سناتا تھا۔ رہنمائی کرتا تھا اور رخت سفر میں چند نصیحتیں اور حوصلہ باندھ دیتا تھا اور جانے والا بامراد لوٹتا تھا۔ اس کے چہرے پر خوشی، مسکراہت اور اطمینان اس بات کی گواہی دے رہے ہوتے تھے کہ پیر صاحب نے اگر بیٹا نہیں دیا تو کم از کم مایوس بھی نہیں کیا۔ پرانے لکھنے والوں کو وہ سند جاری کرتا تھا۔ ان کے سرٹیفکیٹس کو Certify کرتا تھا۔ جیسے خالد احمد نہ ہوا ایوان ادب کا نوٹری پبلک ہوا۔ مین میخ ٹھیک کروا کے اور اپنی ڈھیلی شاعری کی چولیں، خالد احمد سے کسوا کر آج کے مستند کہلوانے والے شاعر شہر کی کسی بھی ادبی محفل میں دھڑلے سے اپنے شعر پڑھتے تھے۔ خالد احمد تو نیکی کر کے دریا میں ڈال دیتا تھا اور بھول جاتا تھا کہ اُس نے کس کس کی خالی جیب میں کیا کیا ڈالا ہے۔

یہ وصف میں نے اپنی زندگی میں دو انسانوں میں دیکھا ہے کہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر بہت سے بے کار لوگوں کو کارآمد بنانا۔ ایک حفیظ تائب میں اور دوسرے خالد احمد میں۔ میں ذاتی طور پر آگاہ ہوں کہ ان دو صاحبان نے بہت سے بے نشان اور گم نام لوگوں کو زمین سے اٹھایا، گرد صاف کی، چمکایا اور روشن کر دیا۔

میرے علم میں دونوں کی مہربانیاں ہیں۔ میرا دونوں سے تعلق پچھلے 40 برسوں سے بھی زیادہ کے عرصے پر محیط ہے۔ دونوں مشنری ہیں۔ اپنا کام عبادت سمجھ کر کرنے والے جمود کو متحرک کرنے والے اور دیانت داری سے اپنے روشن چراغوں سے بجھے ہوئے اور نئے چراغوں کو روشن کرنے والے۔ میرے ذاتی علم میں ہے کہ حفیظ تائب کی زندگی میں جو دوسروں کے نعتیہ مجموعہ شائع ہوئے۔ اُن میں سے بیشتر کی اشاعت میں حفیظ تائب کی توجہ، تحریک، ترغیب، نظر خاص اور کوششوں کو بہت دخل تھا۔ کچھ نام تو میں لے بھی سکتا ہوں اور اگر نام نہ بھی لوں تو اُن کے مجموعوں کی ورق گردانی سے ان کے لب و لہجہ سے اسلوب سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کن کن شاعروں کو انہوں نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا۔ اور کن کن کے مصرعوں سے حفیظ تائب کی مانوس آواز سنائی دیتی ہے۔

حفیظ تائب اور خالد احمد، دونوں ہمت بندھانے والے دونوں حوصلہ بڑھانے والے، دونوں محبت اور توجہ سے دوسروں کی بے سرو پا باتوں کو سننے اور برداشت کرنے والے اور اُن کے انتشار کی تہذیب کرنے والے۔ بشمول میرے بہت سے اوروں کو بھی سیدھے راستے پر چلانے والے۔ ذکرِ رسولﷺ کو بھی نعت اور درود سمجھنے والے۔ اور ایسی عبادت شمار کرنے والے جو نصاب میں لکھ دی گئی ہے۔ جو خود اللہ اور اُس کے فرشتے بھی کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ حفیظ تائب کو کروٹ کروٹ سکون نصیب کرے اور اُن کے درجات میں اضافہ کرے۔
خالد احمد نے بھی جن شاعروں کے منہ میں زبان دی۔ اُن کے شوق کو تعلیم دی۔ اُن کی وحشت کو مہذب کیا۔ وہ بھی ممتاز ہوئے، سرفراز ہوئے۔ ہمارے ساتھ بہت سوں نے دیکھا، مشاہدہ کیا کہ جو لوگ خالد احمد کی شفقت سے فیضیاب ہوئے۔ میلے کاغذوں پر اپنی کج مج تحریروں کے ساتھ حاضر ہوتے۔ شکستہ لہجوں میں اپنے شعر سناتے اور خالد احمد کے نئے کاغذوں پر اپنی لکھی ہوئی نظر ثانی شدہ غزلوں کو خوشی خوشی اعزاز کے ساتھ گنگناتے اور اپنی اپنی جیبوں میں منتقل کرتے تھے۔

ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جس کسی نے خالد احمد سے گریز کیا وہ مہر کی نظر سے محروم ہو گیا۔ اُس کے کلام سے برکت اٹھ گئی۔ اُس کا لب و لہجہ لڑ کھڑانے لگا۔ اور اس کے ارتقا کا گراف گرنا شروع ہو گیا۔ صاف نظر آنے لگا کہ یہ حضرت جو پہلے لکھتے تھے وہ ان کا ذاتی سرمایہ نہیں ہے یا یہ جو اب تحریر کر رہے ہیں یہ ان کا نہیں ہے۔

آج کے بہت سے مشہور شاعروں کے بعد میں آنے والے مجموعوں کو وہ پذیرائی نہیں مل سکی جو خالد احمد کی سر پرستی میں اُن کے سب سے پہلے مجموعوں کی اشاعت پر اُن کے حصے میں آئی تھی۔ دراصل اسلوب ہی ایک ایسی شناخت ہے جو کسی کو اُسے دوسرے سے منفرد اور ممتاز بناتی ہے، اصل اور نقل کی پہچان بتاتی ہے۔

کچھ ایسے بت بھی خالد احمد نے بنائے جن کو زبان ملی تو وہ خالد احمد پر ہی برس پڑے اور لگے اُس کے بارے میں مثالیں بیان کرنے اور اپنی پیدائش کو بھول گئے۔ تخلیق خالق سے کیسے بڑی ہو سکتی ہے۔ بادشہ بادشہ گر سے کیسے بڑا ہو سکتا ہے۔ کیا اندھیرا اور اُجالا برابر ہو سکتے ہیں۔

خالد احمد سے دوستی کے کچھ دعویداروں کے کرداروں کو اگر متشکل کر دیا جائے تو برادرانِ یوسف کو یقیناً اطمینان حاصل ہو جائے گا کہ کوئی اُن سے بڑھ کر بھی اس جہان میں ہے۔
اسی طرح کی ایک دوستی خالد نے سگریٹ سے بھی کی شروع شروع میں تو تنہائی دور کرنے کی کوشش ہو گی۔ سوچنے میں معاون ثابت ہوئی ہو گی یا توجہ مرکوز کرنے کے لیے دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہو گئے۔

بشیر منذر کا پریس ہوتا، قاسمی صاحب کا انار کلی والا دفتر ہوتا، مدینہ بیکری ہوتی، ترک ہوٹل ہوتا، یا دیال سنگھ کالج کے ساتھ چائے کی دکان، یا ایبٹ آباد روڈ کا فضل ہوٹل، خالد احمد ہی براجمان ہوتا۔ خالد احمد ہی ہر محفل کی جان ہوتا۔

سگریٹ کا بے تحاشا دھواں اس بات کی غمازی کر رہا ہوتا تھا کہ خالد احمد مصروف گفتگو ہے اور اُس کے ارد گرد عقیدت مندوں اور ارادت مندوں کا جمگھٹا لگا رہتا ہے۔ بار بار چائے کے دور چلتے تھے سگریٹ پہ سگریٹ پھونکے جاتے تھے، شعر سنے اور سنائے جاتے تھے اور ایسی نشستیں تدریس اور تربیت گاہ کا درجہ رکھتیں تھیں۔ وہاں موجود، ہر زانوئے تلمذ تہ کرنے والا یقین رکھتا تھا کہ خالد احمد یہ ساری گفتگو اور لیکچر صرف اور صرف اسی کے لیے Deliver کر رہا ہے۔ خالد احمد رات گئے اپنے مرضی سے اُٹھتا تو Pause محفل برخاست ہوتی اور ہر کوئی واپس جانے والا کل واپس آنے کا یقین لے کر وہاں سے اٹھتا اور اپنی اپنی بساط کے مطابق اپنا حصہ سمیٹ کر لے جاتا۔ اور پیچھے ہوٹل کی ٹیبل پر ایش ٹرے میں سگریٹوں کی راکھ اور ٹوٹے رہ جاتے۔ نیچے فرش پر سگریٹ کی خالی ڈبیاں پڑی ہوتیں۔ جن کے سگریٹوں کا دھواں اور خالد احمد سانس کے ذریعے آکسیجن کی جگہ اپنے پھیپھڑوں میں اتار چکا ہوتا اور کسی کو اندازہ ہی نہیں ہوا کہ دھیرے دھیرے سگریٹ کے دھویں اور بُو نے اُس کے نفس کو تنگ کر دیا ہے۔ اُس کی رگوں میں محبت کے بدلے زہر بھر دیا ہے۔

ہر وقت ہنستے، بولتے اور چہکنے والے خالد کو چپ رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اُس کے معمولات متاثر ہوئے ہیں۔ اُس کے اپنے قدم راستے کا پتھر ہوئے ہیں۔ دشمن کے کاری وار سے اُس کے قویٰ مسخر ہوئے ہیں، خوشبو کا جھونکا مقید ہو کر رہ گیا ہے، تحیر کی آنکھ کا جل بہہ گیا ہے۔

وہ دوستوں کی بے رُخی کا وار ہنس کر سہہ گیا ہے۔
ہماری سب کی خالد احمد سے دوستی اور محبت اس بات کی متقاضی ہے کہ اس کو نقصان پہنچانے والی ہر چیز کو اُس سے دور کر دیا جائے۔

مگر وہ خالد احمد ہی کیا جو اپنے پیاروں کو خود سے دور کرے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: