کتا کلچر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد سلیم طاہر

1
  • 41
    Shares

عجب معمہ جس نے کتے کے گلے میں پٹہ ڈال رکھا ہوتا ہے، اس کی زنجیر مضبوطی سے تھام رکھی ہوتی ہے، کتا اس کے تو تلوے چاٹتا ہے، اس کے پیروں میں ہے اور وہ جو اس سے ڈر رہا ہوتا ہے، اپنی راہ پر چلتے ہوئے اس پر بھونکتا ہے اور اس کو کاٹنے کو لپکتا ہے۔ کوئی کتے سے کہے کہ بھائی اس کو کیوں نہیں کاٹتا جس نے تیری آزادی کو سلب کر رکھا ہے، اس کو کاٹ، اس پر بھونک۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈرے ہوئوں کو اور کیوں ڈراتا ہے۔

کہتے ہیں ڈر انسان کے اندر کی اپنی ذاتی پیداوار ہے، اگر انسان چاہے تو بے خوف ہو سکتا ہے، سر جھٹک کر، جرأت کر کے، ڈر کو دور بھگایا جا سکتا ہے، مگر کہنے والے سیانے سے کوئی یہ بھی تو پوچھے کہ چور کا اندھیرے میں، سانپ کا راستے میں اور کسی کتے کے اچانک وارد ہو کر جھپٹنے کا خوف اندر کی پیداوار ہے یا پیدائشی خطرہ۔ جب یہ سارے ڈر ہوں اور اوپر سے اندھیرا بھی ہو تو بڑے بڑوں کا پتا پانی ہو جاتا ہے۔ آپ سکوٹر پر جا رہے ہوں یا کسی گاڑی پر، سڑک پر نہ جانے کہاں سے کوئی کتا آپ کی طرف لپکتا ہے اور آپ کی گاڑی یا سکوٹر سے مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے ساتھ ساتھ بھاگتا ہے، کیا یہ استقبال کا کوئی اپنا طریقہ ہے ان کتوں کا؟ یا انوکھا احتجاج کہ ہمارے سکون کو کیوں برباد کر دیا؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر تھوڑی دور برابر بھاگ کر طے کر چکا ہوتا ہے واپس چلتا ہے اور اپنے اڈے پر آ کر بیٹھ جاتا ہے، کسی اور نو وارد پر جھپٹتے اور ساتھ ساتھ بھاگنے کے لیے۔ کسی دانشور کتے سے معلوم کرنا چاہیے کہ اس عمل میں کیا حکمت ہے، کہیں بقول اقبال ’’پلٹنا، جھپٹنا، جھپٹ کر پلٹنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانا‘‘ تو نہیں ؟

آج کل تو کسی کتے کے ایڈوانس کرنے پر رک جائیں تو وہ بھی ذرا قریب آ کر رک جاتا ہے، اگر آپ بیٹھ جائیں تو وہ بھی بیٹھ جاتا ہے، اب اگر وہ خود اپنے کسی ’’ذاتی کام‘‘ سے چلا جائے تو آپ کی جان چھوٹ سکتی ہے

بچپن میں، میں اور میری ماں اذان سحر کے قریب کسی ایمرجنسی میں گھر سے نکلے، پیدل سٹرک پر پیدل چل رہے تھے، ابھی اندھیرا تھا، کچھ آوارہ کتوں نے ہمیں دیکھ کر بلا وجہ بھونکنا شروع کر دیا اور باقاعدہ ہماری طرف مارچ کرنے لگے، لگ رہا تھا کہ للکارے بغیر حملہ کر دیں گے، میں بچہ تھا، گھبرا کر بھاگنے لگا تو ماں نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’بھاگنا نہیں! ساکت ہو جائو ۔۔۔۔۔۔۔۔ یا زمین پر بیٹھ جائو‘‘ دونوں نے ایسا ہی کیا، کتوں نے واقعی ذرا سا توقف کیا، ارادہ ملتوی کر کے وہاں سے چلے گئے اور ہم ماں اور بیٹا وہاں سے محفوظ گزر گئے۔ میں اس وقت اپنی ماں سے پوچھ نہیں سکا کہ ہمارے زمین پر ساکت بیٹھ جانے میں کتوں کے لیے کیا پیغام تھا؟ آج سوچتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ پرانے کتوں اور انسان کے درمیان کوئی un-written معاہدہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ فوجوں کی واپسی کا ۔۔۔۔۔۔۔۔ !!! مگر آج کل تو کسی کتے کے ایڈوانس کرنے پر رک جائیں تو وہ بھی ذرا قریب آ کر رک جاتا ہے، اگر آپ بیٹھ جائیں تو وہ بھی بیٹھ جاتا ہے، اب اگر وہ خود اپنے کسی ’’ذاتی کام‘‘ سے چلا جائے تو آپ کی جان چھوٹ سکتی ہے۔ آج اگر میری ماں صاحبہ حیات ہوتیں تو میں ان سے کہتا ہوں ’’امی! آج یہ نسخہ کا رگر نہیں ہے اور کوئی نسخہ بتائیں، مستقل بیٹھ جانے والوں سے نجات کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘

میں نے سینئر سٹیزنز کو صبح منہ اندھیرے سیر پر نکلتے دیکھا ہے، ہاتھ میں چھڑی لیے، میں سوچتا ہوں جہاں چھڑی سے ان کی شخصیت رعب دار ہو جاتی ہے وہاں وہ اسے بوقت ضرورت اپنے دفاع میں بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ کہتے ہیں کہ کتے کی تھوتھنی پر اگر ٹکا کے چھڑی ماری جائے تو وار کارگر ثابت ہوتا ہے، نہ صرف حملہ آور فوراً بھاگ جاتا ہے بلکہ دور تک سناٹے میں اپنی پسپائی کا اعلان بھی کرتا جاتا ہے تا کہ دوسرے کتوں کو کان بھی ہو جائیں۔ میرے ایک عزیز جو بغیر چھڑی کے سیر کو نکلے تھے ایک لپکنے والے کتے کو ڈرانے کے لیے زمین پر پڑا پتھر ہاتھ بڑھا کر ابھی اٹھانا ہی چاہتے تھے کہ کتے نے رقند بھر کر ان کی کلائی کو دبوچ لیا، بعد میں موصوف کو پیٹ میں 14 ٹیکے لگوانے پڑے کیونکہ 14 ہی لگتے تھے اور پیٹ ہی میں لگتے تھے۔ یہ تو خدا کا شکر ہے کہ ویکسین ڈیٹ ایکسپائر نہیں تھی، اب شاید کتے کے کاٹے کی ایک اور ویکسین مارکیٹ میں آ گئی ہے جو وہ چار ٹیکے ہی کافی ہوتے ہیں اور بازو میں لگتے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ کاٹنے والے کتے کو بھی پکڑ کر دس بارہ روز کے لیے اپنی نگرانی میں باندھنا پڑتا ہے، تسلی کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ کہیں وہ پائولا تو نہیں، اگر کتا نگرانی کے دنوں میں مر جائے تو زخم شدہ پر مزید توجہ دینی پڑتی ہے، میرا ذاتی خیال ہے کہ کتے کے مر جانے کی صورت میں یہ تحقیق بھی کر لینی چاہیے کہ کتے کے مرنے کی وجہ کہیں مضروب تو نہیں؟ اس واقعے کے بعدمیرے عزیز سیر کے لیے تو کیا ویسے بھی گھر سے اب ہر پیدل کم ہی نکلتے ہیں۔ سیر کا شوق پورا کرنے کے لیے گاڑی استعمال کرتے ہیں اور اگر خدا نخواستہ پیدل باہر نکلنا پڑ ہی جائے تو ساتھ میں ایک آدھ لٹھ بردار کا اہتمام بھی کرتے ہیں‘‘۔

پاکستان میں اگر ہم اپنے ارد گرد نظر ڈالیں تو معاشرے میں ہمیں ’’کتا کلچر‘‘ پھلتا پھولتا نظر آئے گا، بلکہ بعض لوگ تو کتوں سے سر راہ براہ راست مکالمہ کرتے بھی نظر آئیں گے، کسی مترجم کے بغیر۔ لگتا ہے دو کمیو نٹیز میں بڑی انڈر سٹینڈنگ ڈویلپ ہو گئی ہے، چلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان ایک دوسرے کے نہ سہی، کسی کے قریب تو آئے۔ ہم خیال لوگ ایک دوسرے کو ’’کتا‘‘ کہتے سنائی دیتے ہیں ایک آدھ نسوانی آواز تو اندھیرے میں میرے کانوں سے بھی ٹکرائی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کتے! نہ کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔ تم بڑے کتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘ کوئی کسی سے کہہ رہا ہوتا ہے کہ ’’ابھی میں تم کو ہڈی ڈالوں گا، تم کتے کی طرح دم ہلاتے میرے پیچھے پیچھے آئو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘ ایک لڑکی دوسری سے کہہ رہی تھی ’’وہ تو بڑا ہی کتا ہے، میرا پیچھا نہیں چھوڑتا‘‘۔

ہمارے محکمے میں ایک افسر کے بارے میں کہا جاتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’اس کے منہ نہ لگنا، وہ بڑا کتا ہے‘‘۔ میں نے ان کے پی اے سے پوچھ ہی لیا کہ تمہارے صاحب کو ’’بڑا کتا‘‘ کیوں کہتے ہیں؟ کہنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’صاحب جب کسی پر چڑھائی کرتے ہیں تو ان کی ’’وراچھوں‘‘ سے جھاگ اڑنے لگتی ہے اور معتوب دم دبا کر، سر جھکا کر ان کے کمرے سے نکلتا ہے، نکلنے والا چونکہ ان کا ماتحت ہوتا ہے اور یہ صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے وہ چھوٹا اور یہ بڑا کتا ہوتے ہیں۔ صرف دفتر میں ہی نہیں، صاحب جب واپس گھر جاتے ہیں، گاڑی پورچ میں کھڑی کرتے ہیں، گاڑی سے باہر آتے ہیں تو گھر میں نگرانی کے لیے رکھے ہوئے کتے خوف کے مارے کونوں میں دبک جاتے ہیں، صاحب کو سر اپنے شانوں پر تن جاتا ہے، دفتر میں بھی ان کی حکومت، گھر میں بھی ان کی حکومت، اب آپ خود بتائیں کتے بڑے ہوئے یا ہمارے صاحب؟

دروغ بہ گردن راوی ۔۔۔۔۔۔۔۔ کہتے ہیں کہ ایک ہندوستانی کتا جسے اپنے علاقے میں پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ہوتا تھا، قحط سالی کی زد سے نکلنے کے لیے پاکستان کی سرحد کراس کرنے لگا تو اس نے دیکھا کہ پاکستان سے ایک پلا پلایا،موٹا تازہ کتا، ہندوستان میں داخلے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہندوستانی کتے کو تعجب ہوا، اپنے لاغر جسم پر نظر ڈالی اور فربہ کتے سے پاکستان چھوڑنے کی وجہ دریافت کی، پاکستانی کتے نے کہا، پاکستان میں کھانا تو بہت ہے بلکہ ضرورت سے زیادہ ہے لیکن یہاں بھونکنے کی اجازت نہیں، میں اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے ہندوستان جا کر ’’کتھارسس‘‘ کرنا چاہتا ہوں۔ پھر ہندوستانی کتے کا حوصلہ نہیں پڑا کہ وہ پاکستان کی سرحد عبور کرے کیونکہ اسے بھی بھونکنے کا بہت شوق تھا اور ہندوستان میں اس کے لیے بالکل پابندی نہیں تھی اور وہ اظہار رائے کا سبق ہندوستانی کی جمہوریت کی کتاب میں پڑھ چکا تھا، مگر پاکستانی کتا شاید علامہ اقبال کے اس شعر سے نابلد تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’اے طائرِ لاہوتی اس رزق سے موت اچھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی‘‘

جہاں آوارہ کتے زیادہ ہوں گے وہاں بلیوں کی تعداد کم ہو گی، جہاں بلیاں کم ہوں گی وہاں چوہے زیادہ ہوں گے اور جس ملک میں چوہے زیادہ ہوں وہاں قحط پڑنے کا اندیشہ ہر لمحہ سر اٹھاتا رہتا ہے بلکہ سر کھجاتا رہتا ہے، کتا بلی کا دشمن ہے، بلی چوہے کو دبوچ لینا چاہتی ہے، ہر کوئی ایک دوسرے کی تاک میں ہے، اس کے باوجود زندگی رواں دواں ہے، قدرت کا اپنا ایک نظام ہے جس کے تحت انسانوں اور جانوروں کی تعداد مناسب سطح پر رہتی ہے، انسان بھی مرتے ہیں اور جانور بھی، مگر پھر بھی ہر طرف ان کی بہتات ہے، بظاہر آبادی میں اضافہ دکھائی دیتا ہے، حالانکہ فیملی پلاننگ والوں نے ہر طرح کا انتظام کر کے دیکھ لیا، مگر جس نے پیدا ہونا ہوتا ہے وہ ’’چھپر پھاڑ کر‘‘ پیدا ہو جاتا ہے۔ میرے خیال میں تو فیملی پلاننگ والوں کا سارے کا سارا فند آنے والی نسلوں کی تعلیم اور بہبود پر خرچ کر دینا چاہیے۔

آدمی اور کتے میں فرق یہ ہے کہ کتا اگر آدمی کو کاٹے، آدمی پلٹ کر کتے کو نہیں کاٹتا، راہ گیر پر اگر کتے بھونکنا شروع کر دیں تو جواب میں وہ نہیں بھونکتا، ایک ڈر ہوتا ہے جو کہ راستے میں کتے کو دیکھ کر تیزی سے زمین پر پڑا ہوا پتھر جھک کر اٹھاتا ہے اور کتے کی سمت اچھال دیتا ہے، شاید کتے کو پتا ہوتا ہے کہ راہ گیر مجھے دیکھ کر ڈرے گا اور اپنا ڈر اتارنے کے لیے مجھے مارے گا، اسی لیے وہ پیشگی بھونکنا شروع کر دیتا ہے، اور وہ راہ گیر بھی کتے کے کاٹنے سے پہلے ہتھیار بند ہو جاتا ہے مگر کیا راہ گیر کو راستے میں ہر بھونکنے والے کتے کو بھگانے کے لیے اپنی سطح سے نیچے جھک کر پتھر اٹھانا پڑے گا، مگر کیا کیا جائے، کتے راہ گیر کو مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ جھکے اور ہتھیار اٹھا لے۔ بعض راہ گیر تو سفر پر نکلتے ہوئے زاد سفر میں کچھ پتھر بھی ساتھ رکھ لیتے ہیں، ایک طرف آدمی کتے سے ڈرتا ہے اور دوسری طرف اس سے دوستی بھی کرتا ہے، کچھ آدمی یہ کہتے ہوئے سنے گئے ہیں کہ کتا انسان کا بہت اچھا دوست ہے اور ایسی کئی مثالیں جو کتوں نے اپنی دوستی کے ثبوت میں پیچھے چھوڑی ہیں انہیں بیان بھی کرتے ہیں اور جو لوگ کتے سے ڈر رہے ہوتے ہیں انکا ڈر اتارنے کے لیے کچھ کتوں کو منہ بھی لگاتے ہیں اور اکثر دیکھتے ہیں کہ وہ کتا جو اس کے تلوے چاٹ رہا تھا ان کا منہ بھی اپنی زبان سے صاف کر رہا ہوتا ہے، عجب منظر ہوتا ہے، دو دشمن ایک دوسرے کے منہ لگ رہے ہوتے ہیں،محبت کے ثبوت میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ یا اپنا اپنا ڈر اتارنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ویسے مشاہدہ یہ ہے کہ کتے ایک دوسرے کا منہ نہیں چومتے، ملاقات کے وقت ایک دوسرے پر بھونکتے ہیں، ایک دوسرے کی جانب بڑھتے ہیں اور موقع ملے تو ایک دوسرے کو بھنبھوڑ بھی ڈالتے ہیں اور پھر جو دونوں میں سے کمزور ہے، دم دبا کر، چیوں چیوں کر کے پناہ کے لیے زور آور کی پہنچ سے بھاگ جاتا ہے۔ نیا اخبار میں کبھی کبھار ایک آدھ خبر پڑھنے کو مل جاتی ہے کہ فلاں آبادی میں آوارہ کتوں کی تعداد زیادہ ہو گئی ہے اور وہ پُرامن راہ گیروں پر اچانک حملہ کر دیتے ہیں، کارپوریشن یا ٹائون کمیٹی ان کا کچھ بندوبست کرے، آوارہ کتوں کے بارے میں تو پڑھنے کو مل جاتا ہے مگر کبھی کوئی خبر پالتو کتوں یا لے پالک کتوں کے بارے میں نہیں چھپی، حالانکہ وہ بھی آبادی کا بڑا حصہ ہیں اور ان کا رہن سہن اور معیار زندگی عام انسانوں سے بہتر ہوتا ہے اور ملکی وسائل کا بڑا حصہ ان کی صحت، کھانے پینے اور رہائش پر خرچ ہوتا ہے، جبکہ اکثر انسان کے بچے بھوکے، ننگ دھڑنگ، بغیر چھت کے ۔۔۔۔۔۔۔۔ مکان میں زندگی گھسیٹ رہے ہوتے ہیں، خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا۔

کتا بائولا ہو جائے تو ایک دو کو کاٹتا ہے اور بروقت طبی امداد مل جائے تو مریضوں کو بچایا بھی جا سکتا ہے مگر اس کے بعد کتے کو کہیں پناہ نہیں ملتی، خلقت اس کے تعاقب میں ہوتی ہے، آخر کار پکڑا جاتا ہے اور مار دیا جاتا ہے اور زمین میں گہرا گڑھا کھود کے دبا دیا جاتا ہے، مگر انسان بائولا ہو جائے تو ایک آدھ پر اکتفا نہیں کرتا، بستیوں کی بستیاں تاراج کر دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ دن دیہاڑے نہتّوں پر حملہ کر دیتا ہے، بے دھیانوں پر شب خون مارتا ہے، گھر بیٹھے آبادیوں پر کروز میزائل داغ دیتا ہے، کابل اور تورا بورا اجاڑ دیتا ہے، بغداد، موصل اور بصرہ بدمعاشی کے زور پر ہتھیا لیتا ہے اور اپنے حواریوں کے ساتھ مجبوروں کو محکوم بنا کر جشن مناتا ہے، ماں باپ کو مارتا ہے، ان کے بچوں کو گود میں اٹھا کر ہاتھ میں بسکٹ اور لالی پاپ تھما دیتا ہے اور ان کے ساتھ کھینچی تصویریں چھپوا کر ان کے مستقبل کے تحفظ کا یقین دلاتا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح کسی سڑک کے کنارے یا کسی چوک میں کسی نکڑ پر کوئی کتے کے کسی پلے کو کانوں سے پکڑ کر ہوا میں اٹھائے اس کے اصیل اور خاندانی ہونے کا اعلان کر رہا ہوتا ہے، اب اصل راز کون بتائے کہ برائے فروخت پلا واقعی خاندانی ہوتا ہے یا اس کیفیت میں وہ عاجز ہوتا ہے یا اس شخص کی مضبوط گرفت میں اس کے حلق سے آواز ہی نہیں نکل رہی ہوتی۔

میں بعض اوقات سوچتا ہوں کہ کیا ہم ہوا میں معلق ہیں، ہمارے قدموں تلے سے زمین کی چادر کس نے کھینچ لی ہے، ہمارے حلق سے آواز کیوں نہیں نکل رہی، کیا ہمیں بھی کسی نے کانوں سے پکڑ کر ہوا میں معلق کر رکھا ہے؟ میں نے بعض انسانوں کو بھی اپنے دو پیروں کے بجائے چاروں پیروں پر چلتے دیکھا ہے، اپنے ہم جنسوں کے پیچھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ان کے پیروں کے نشانوں کو سونگھتے ہوئے پایا ہے۔ چاروں پیروں پر چلنا ایک وصف ہے جو کتوں میں پایا جاتا ہے، پتا نہیں انسانوں کے مزاج، عادات و اطوار میں یہ خوبی کہاں سے در آئی ہے، جتنے مرضی درس اور لیکچر دے لیں، انہیں اپنے ممدوح اور مالک کے علاوہ کسی اور سے کوئی مطلب نہیں، مالک جب چاہے انہیں ذرا سا ’’ہش‘‘ کہے اور کسی کے پیچھے پڑوا دے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر کسی نواب اور وڈیرے کی کمان میں ہو تو وہ جب چاہے کسی مجبور اور مظلوم کو پکڑیں، زمین میں گاڑیں ان پر دہی انڈیل کر کتوں کو ان پر چھوڑ دے اور پھر یہ داستان عبرت دوسروں کے لیے سبق بن جاتی ہے اور محکموں کے نصاب میں داخل کر دی جاتی ہے۔

تنگدستی میں کشادگی کے لیے ضرورت مند کیا کیا نہیں کرتا، افاقے کے لیے جہاں فاقے کاٹتا ہے وہاں بھوک سے نجات کے لیے روزگار کے لیے نت نئے رستے بھی تلاش کرتا ہے، ہمارے قریبی دوستوں میں ایک صاحب نے ایسا ہی انوکھا طریقہ نکالا، کہیں سے Heat پر آئی ہوئی ایک کتیا کا بندوبست کیا، گلے میں پٹا ڈالا اور ایک ویگن والے کو رازدار بنایا اور ایک کمبل بغل میں داب کر رات کے اندھیرے میں ان علاقوں کا رخ کیا جہاں بنگلوں کی رکھوالی کے لیے قیمتی اور نایاب کتے مالکوں نے رکھے ہوتے تھے، کتا کی مہک، کارپورچوں اور لانوں میں کھلے بندوں پھرتے کتوں کو متوجہ کرتی اور وہ ’’تلاش حُبّ‘‘ میں نکل کھڑے ہوتے، جو بھی ہمت کر کے چوری چھپے مالکوں کی نظر میں دھول جھونک کر کتیا کے دیدار کو لپکتا، چشم زدن میں، کمبل کی مدد سے دبوچ لیا جاتا، اٹھا کر ویگن میں پھینکا جاتا اور پھر اسے اپنے گھر میں لا کر باندھ کر کئی دنوں تک بھوکا پیاسا رکھا جاتا، ذرا سے احتجاج پر کافی چھترول بھی ہوتی اور کچھ ہی دنوں میں اس کتے کی ’’مردانگی‘‘ دھری کی دھری رہ جاتی اور پھر اس کو بڑی آسانی کے ساتھ کسی بھی بلّے کے بچے کے ہاتھ چوہے کے معاوضے کے عوض فروخت کر دیا جاتا۔ جب کوئی کتا مالک پر روٹی کھانے کے دوران غرائے اور اندیشہ ہو کہ کسی لمحہ کاٹ سکتا ہے، وہ پالتو بنائے جانے کا اہل نہیں، بلکہ اس کو تو گولی مار دینی چاہیے، ایسے کتوں نے شاید اردو کا محاورہ ’’جس کا کھائو اس کے گن گائو‘‘ نہیں سنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نمک حرامی صرف انسانوں کے حلال ہے، کتوں کے لیے حرام !!! تحقیق کہتی ہے کہ جس کتے کے منہ کو انسانی نمک کی چاٹ لگ جائے، اس کے جسم سے بال اترنا شروع ہو جاتے ہیں، زیادہ نمک کھانے سے بعض کتوں کے جسم پر کھال نمایاں ہو جاتی ہے اور وہ اپنے ہی پنجوں سے اپنے جسم کو کدھیڑتے رہتے ہیں او رایسے خارش زدہ کتوں کو بھی گولی مار دینی چاہیے۔ نمک کی ہلاکت خیزی کتوں تک ہی محدود نہیں بلکہ بعض انسان اپنے ہاتھوں کی کمائی سے خریدے ہوئے نمک کی بدولت بھی موت کے منہ میں جا پہنچتے ہیں۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. جہاں آوارہ کتے زیادہ ہوں گے وہاں بلیوں کی تعداد کم ہو گی، جہاں بلیاں کم ہوں گی وہاں چوہے زیادہ ہوں گے اور جس ملک میں چوہے زیادہ ہوں وہاں قحط پڑنے کا اندیشہ ہر لمحہ سر اٹھاتا رہتا ہے بلکہ سر کھجاتا رہتا ہے،

Leave A Reply

%d bloggers like this: