سراج منیر: ایک یادگار انٹرویو ۔۔ـــــــ۔۔ ڈاکٹر طاہر مسعود (حصہ اول)

1
  • 65
    Shares

جواں مرگ سراج منیر ایک نابغہ (جینئس) تھے۔ ان کے علم اور ذہانت کا میں بھی اسی طرح قائل تھا جس طرح وہ لوگ جو انہیں جانتے تھے۔ ان کی وفات سے بہت پہلے میرا لاہور جانا ہوا، وہاں ان سے ملاقات ہوئی۔ وہ بڑی محبت سے اپنے گھر لے گئے جہاں مختلف موضوعات پہ ان سے گفتگو ہوتی رہی۔ میں نے سوچا کیوں نہ اس گفتگو کو ریکارڈ کر کے باقاعدہ انٹرویو کی صورت دے دو۔۔۔۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ انٹرویو ان کی زندگی میں نہیں چھپ سکے گا اور نہ میں یہ جانتا تھا کہ اس کے بعد مجھے ان سے دوبارہ انٹرویو کرنے کا موقع بھی کبھی نہیں مل سکے گا۔

ان کے بارے میں کچھ زیادہ لکھنے کا اپنے آپ میں یارا نہیں پاتا۔ ان کی وفات کے بعد میں ان پر دو مضمون لکھ چکا ہوں۔ ان کے حوالے سے اب بھی یہی کیفیت ہے کہ
جب ذکر ترا کیجیے تب چشم بھر آوے

سراج منیر (1951ء ۔ 1990ء) بیک وقت نقاد، شاعر، افسانہ نگار اور گوناگوں صلاحیتوں کے آدمی تھے۔ مشرقی پاکستان کے شہر سید پور کے علمی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ والد مولانا متین ہاشمی عالمِ دین اور بہت اچھے خطیب تھے۔ ان کا تعلق غازی پور (یوپی) بھارت سے تھا۔ سراج نے ابتدائی تعلیم سید پور میں حاصل کی۔ ایف اے راج شاہی بورڈ اور بی اے (74 ۔ 1973ء) گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا۔ اسی کالج سے 1976ء میں انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔ حصولِ تعلیم کے بعد 1976ء سے 1979ء تک گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی میں انگریزی زبان کے استاد رہے۔ 1979ء میں سعودی ریویو کے شعبۂ تحقیق سے وابستہ ہو کر سعودی عرب چلے گئے۔ جہاں المروۃ ایڈورٹائزنگ کمپنی کی اشتہار نویسی اور اشاعتی منصوبہ بندی میں بھی شریک رہے۔ 82 ۔ 1981ء کے دوران وطن واپس آ کر اردو ڈائجسٹ کے شریک مدیر اور نوائے وقت کے سینئر ایڈیٹر رہے۔ 1982ء میں اسلامک پریس ایجنسی انگلینڈ سے بطور محقق صحافی منسلک ہو گئے۔ ایجنسی کے ماہانہ انگریزی جریدے Arabia کا تمتہ مشرقِ وسطیٰ سے متعلق حصہ (سیاست، ثقافت اور اقتصادیات) ان کی ذمہ داری قرار پایا۔ 1984ء میں وفاقی وزارتِ تعلیم کی فرمائش پر پاکستان واپس آ کر اداۂ ثقافتِ اسلامیہ لاہور کے ڈائریکٹر کا عہدہ سنبھالا۔ اس ادارے سے ان کے دور میں بہت سی اہم خوب صورت کتابیں اور مجلّات شائع ہوئے اور متعدد نئے منصوبوں کا آغاز ہوا۔

سراج منیر شعلہ بیان مقرر اور ریڈیو ٹی وی کے ماہر براڈ کاسٹر تھے۔ انہوں نے ریڈیو کے لیے پانچ سو سے زیادہ مذاکرات، فیچر اور لیکچر نشر کرنے میں حصہ لیا، جب کہ ٹی وی کے لیے تین سو سے زائد پروگرام کیے۔ سراج منیر نے ادب، صحافت، طباعت اور سیاست کے میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ تا ہم ان کی ذات کا بنیادی حوالہ ادب ہی تھا۔ وہ صحیح معنوں میں دانش ور تھے۔ ان کی دو کتابیں منظر عام پہ عائیں۔ ’’ملت اسلامیہ، تہذیب و تقدیر‘‘ اور کہانی کے رنگ‘‘ ان کے کتنے ہی مضامین کتابی صورت میں مرتب ہونے کے منتظر ہیں۔ زیر نظر انٹرویو میں جہاں کوئی لفظ یافقرہ Transcribe کرتے ہوئے ناقابلِ فہم رہا ہے، اس کو اسی طرح رہنا دیا گیا ہے۔ طاہر مسعود


سوال:۔ ہر عہد کو چند سوالات کا اور ہر عہد کے ادب کو بھی چند سوالات کا سامنا ہوتا ہے۔ آپ کے خیال میں اس وقت جو ادب ہے ہمارا، اس کے سامنے سب سے بڑا یا سب سے اہم سوال کیا ہے؟
سراج منیر: آج کے عہد کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ انسان کیا ہے؟ زمانۂ قدیم میں مذہب اور اس کے پیدا کردہ معاشرے میں انسان کا ایک واضح تصور تھا اور اس کے وجود کی تمام سطحوں کی معرفت الگ الگ موجود تھی۔ عہدِ جدید میں ہوا یہ ہے کہ اثرات کو چھوڑ دیجیے الگ، بہر حال نتیجہ یہ نکلا ہے کہ انسان کی اپنی شناخت اور اس کا اپنا تشخص پھر کائنات میں اس کی حیثیت اور انسان سے ماورا اگر قوتیں ہیں تو کیا ان قوتوں سے اس کا تعلق اور اس کے اعتبار سے اس کا مقام، گویا انسان کی بنیادی شناخت کی بازیافت ادب کا آج سب سے بڑا سوال ہے۔

سوال:۔ ہمارا جو ادب ہے یا جو ہمارے ادیب لکھ رہے ہیں تو ان کے تخلیق کردہ ادب میں ان سوالات کی بازگشت سنائی دیتی ہے؟
سراج منیر: ایک تو صورت ہے عالمی ادب کی۔ اس میں قصہ یہ ہے کہ انسان کی شناخت ہر جگہ ایک ہی پہلو اور ایک ہی اعتبار سے کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ جن چیزوں کو ہم کہتے ہیں کہ وہ Socio-Political مسائل کا ادب ہے یا یہ کہ مختلف فلسفیانہ نظریات کے تحت پیدا ہو رہا ہے، دنیا میں الگ الگ تحریکیں اور رویں ہیں تو وہ بھی بنیادی طور پر انسان کو ہی تلاش کر رہی ہیں لیکن ان کی بنیادی خامی یہ ہے کہ انہوں نے انسان کی ایک پہلے سے Definition اور اس کی حدود متعین کر رکھی ہیں۔ اگر کوئی چیز گم ہو جائے تو تلاش کی شرط یہ ہے کہ اسے ہر ممکن جگہ پر تلاش کیا جائے نہ یہ کہ اس کا ایک دائرہ پہلے متعین کر لیا جائے اور اس کے اندر تلاش کیا جائے۔ تو آج کے پورے عالمی ادب کی جو صورتِ حال ہے، اس میں دو باتیں ہیں۔ ایک تو بہت سا ادب، یہ کہنے میں کوئی بات نہیں ہے کہ جھوٹا ادب پیدا ہو رہا ہے۔ وہ جھوٹا ادب ان تجارتی مقاصد کے ساتھ وابستہ ہے جو فکری اور نظریاتی تحریکوں کے مفادات میں پیدا ہوئے ہیں اور ان سے مفادات وابستہ ہوئے ہیں اور انفارمیشن کا جو ایک نیٹ ورک پوری دنیا میں کام کر رہا ہے، اس انفارمیشن نیٹ ورک کا جو تجارتی Aspect ہے وہ ایک خاص طرح کے ادب سے متاثر ہے۔

سوال:۔ یہ عالمی سطح پر ہے؟
سراج منیر: عالمی سطح پر اور ظاہر ہے کہ پاکستان میں یا اردو ادب میں، اس میں کوئی استثنا نہیں ہے۔ یہ ادب imitate کرتا ہے ان سوالوں کو جن سے genuine ادب پیدا ہوا کرتا ہے لیکن اس ادب کے اندر روح نہیں موجود۔ یہ ہے ہر جگہ۔ اس کے ساتھ ہی کچھ ایسا genuine ادب ہے جو انسان کے سچے روحانی بحران سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ روحانی بحران جو ہے وہ ہر جگہ کارفرما ہے اور اس نے مغرب میں بھی مختلف طریقوں سے express کیا ہے لیکن مغرب میں چوں کہ دوسرے mediums of expression بھی بہت نمایاں اور مضبوط ہیں لہٰذا وہاں ہم صرف ادب تک محدود نہیں رہ سکتے، مثلاً وہاں پینٹنگ میں بہت کام ہوا ہے۔۔۔۔۔تو بنیادی creative urge یا بنیادی creative سوال جو ہے وہ ہے ہی انسان کی شناخت کا اور ہمارے ہاں بھی جب ادب ان انسانی elements سے متعلق ہوتا ہے جو اس شناخت میں اس کی مدد کر سکتے ہیں تو وہ genuine ہوتا ہے اور جب ان سے غیر متعلق ہو کر وہ اس فکری اور فلسفیانہ ایک جو ۔۔۔۔۔۔بنا ہوا ہے اور ایک مرکز بنا ہوا ہے، اس کے مفادات میں، اس کے تابع ہو کے پیدا ہونا شروع ہوتا ہے تو اس وقت وہ اپنی انسانی significance جو ہے، اس سے محروم ہو جاتا ہے۔

سوال:۔ اچھا وہ کون سے عناصر ہیں جو ہمارے سابقہ ادب میں تھے جن کی موجودگی کی وجہ سے ایک بڑا ادب create ہوا اور اب ان کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہمارے ادب کی جو قدر و قامت ہے، وہ گھٹ گئی یا کہ اس سطح کا ادب پیدا نہیں ہو پا رہا۔
سراج منیر: دیکھیئے آرکی ٹیکچر میں ایک بات کہی جاتی ہے کہ زمانۂ قدیم کا یعنی تہذیبوں کی peaks پر جب آرکی ٹیکچر پیدا ہوا ہے تو وہ جب اپنا معبد بناتے تھے یا اپنا قلعہ بناتے تھے یا اپنا مکان بناتے تھے تو وہ پوری کائنات بناتے تھے۔ ایک پوری cosmos کو دوبارہ create کرتے تھے، چھوٹے پیمانے پر، integrated vision سے یہ چیز پیدا ہوتی ہے۔ یہی معاملہ ادب کا ہے کہ ادب کی قوت کا تعلق کائنات کے اس تصور سے ہے جو بنیادی طور سے اس ادب کو motivate کرتا ہے تو اگر انسان کو اپنی کائنات کی وسعتیں معلوم ہیں، ان وسعتوں سے پیدا ہونے والی ذمہ داری کا شعور ہے تو اس کا ادب لازماً بہت بڑا ادب ہو گا کیوں کہ وہ تناسب رکھتا ہے بلکہ کائنات کی جگہ ہمیں لفظ حقیقت استعمال کرنا چاہیے کہ ادب کم زور یا مضبوط ہوتا ہے تصورِ حقیقت کی وسعت اور حدود کی نسبت سے اور اس میں مؤثر ہونے کا نظام اس تصورِ حقیقت سے پیدا ہونے والی ذمہ داری کے ذریعے وجود میں آتا ہے۔ اس کی understanding ایک عملی responsibility بھی قبول کرتی ہے یعنی اگر کوئی بات اس کی سمجھ میں آتی ہے تو وہ سمجھ میں آنا اس پر عمل واجب کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایمان، تفکر اور تعقل کے ذریعے دنیا کی مختلف تہذیبوں نے انسان کے عملی تہذیبی نظام پیدا کیے۔ آج کی صورت حال یہ ہے کہ وجود کے اسکیل پہ انسان کی حیثیت متعین نہیں ہے۔ لہٰذا آج fragmentary ادب پیدا ہو رہا ہے اور اسی لیے اس کی قوت جو ہے وہ منقسم ہے۔ یہاں آ کے ہم اس سوال کی طرف پہنچ جاتے ہیں جس کی طرف بہت بھرپور طریقے پر ہمارے اردو ادب میں سلیم احمد نے اشارہ کیا۔۔۔۔۔۔یعنی کسری آدمی کا پیدا کیا ہوا ادب اپنے مؤثرات کی حیثیت سے کسری اور اس اعتبار سے قوت میں بہت کم ہوتا ہے۔ integrated vision کا زوال ہے۔ یہ جو کائنات کا ایک معمل vision ہے اس کے زوال سے پیدا ہونے والا ادب کم زور ادب ہے۔

سوال:۔ تو جو صورت حال اس وقت ہے جس کی آپ نے نشان دہی کی ہے تو ان حالات میں ادب کے مستقبل یا ادب کے امکان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ کیا اس کا کوئی امکان ہے؟
سراج منیر: سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیں دو چیزیں طے کرنی پڑیں گی۔ ایک تو یہ کہ ہم کیا سمجھتے ہیں کہ ادب کیوں پیدا ہو۔ اس کی کیا ضرورت ہے؟ اور انسان کے وجود میں اس کا تعلق کس عنصر سے ہے؟ اگر تو اس کا تعلق انسانی وجود کے کسی ایسے عنصر سے ہے جو زمان و مکاں میں آ کے مر جاتا ہے تو ادب مر جائے گا۔ موجودہ ٹیکنالوجی میں ادب کے زندہ رہنے کا کوئی سوال نہیں، لیکن اگر ادب کا تعلق انسانی وجود میں کسی ایسے عنصر سے ہے جو اس کی فطرت کا لازمہ ہو تو ظاہر ہے کہ جب تک انسان زندہ ہے، ادب زندہ رہے گا۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ ادب انسانی فطرت کے اس لازمی عنصر سے متعلق ہے جسےہم اصطلاح میں آرزو کا نام دیتے ہیں اور دنیا کے وہ معاشرے جو سسٹم بناتے ہیں اور تجارتی یا فکرتی سسٹم میں انسان کو جکڑنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ بنیادی طور پر آرزو کو فنا کرنے والے ادارے ہیں، لہٰذا ایسے معاشروں میں ادب کی genuine پیداوار کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ اس صورتِ حال میں اگر انسان کو کوئی چیز بچا سکتی ہے تو وہ ادب ہے۔ یہ بات پہلے بھی کہی گئی ہے کہ عہدِ جدید میں انسان کو صرف حسن بچا سکتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ انسانی فطرت کا وہ element بچا سکتا ہے انسان کو جو اس کی فطرت کا لازمہ ہو اور اس کی موجود کیفیت س ےماورا لے جانے میں مدد کرے اور وہ element آرزو ہے۔ لہٰذا وہ ادب جو آرزو سے پیدا ہو گا وہی ادب اس وقت وسیع پس منظر میں انسان کی تقدیر کے سلسلے میں مؤثر ثابت ہو گا۔

سوال:۔ وہ صورتِ حال جس کی آپ نے وضاحت کی، اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ادب کا جو ایک رول تھا معاشرے میں وہ اب باقی نہیں رہا اور اس کے جو اسباب آپ نے بتائے ہیں اس سے ایک بات اور یہ ظاہر ہوتی ہے کہ اس صورتِ حال میں ہمارے ادیبوں پر بہت زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے تو آپ کے خیال میں ہمارے جو ادیب ہیں وہ کیا ان مسائل سے اسی درجے میں باخبر ہیں؟ اور کیا ان ذمہ داریوں کو وہ کما حقہ، پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیںیا ان مسائل سے لا تعلق ہو کر چھوٹی چھوٹی اپنی گروہ بندیوں میں اور چپقلشوں میں اور سیاستوں میں ملوث ہیں؟
سراج منیر: بہت کم لوگ ان مسائل کا اندازہ رکھتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ادبی گروہ بندیوں نے انسانوں کو نعرے کی غذا پہ زندہ رکھنے کی ایک لت ڈال دی ہے اور یہ کسی خاص اس سے متعلق نہیں ہے بلکہ عمل اور ردِّ عمل کے اس نظام میں ایسا ہوا ہے کہ ادیب مختلف نعروں کے سحر اور حصار میں آتے چلے گئے ہیں اور نعرے کے حصار میں یا فارمولے کے حصار میں آنے کے بعد وہ بےکار ہو جاتے ہیں، مثلاً ایک بات جس کو لوگ بہت فخر سے بیان کرتے ہیں کہ ادب زندگی کا عکاس ہے۔ ادب زندگی کا آئینہ ہے۔ اب اس میں پہلی بات تو آپ دیکھیے کہ ادب کو زندگی سے منجملۂ اوّلین کاٹ کے رکھا گیا ہے۔ گویا کہ ادب زندگی کا حصہ نہیں ہے بلکہ اس سے الگ situate ہو کے، اس سے الگ واقع ہو کے زندگی سے کوئی رشتہ رکھتا ہے۔ اگر ادب زندگی کا عکاس ہو بھی تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زندگی اور اس کے First Hand تجربے کی موجودگی میں ہم ادب کو یہ فریضہ عکاسی کا کیوں سونپیں۔

یہ بھی پڑھیے: سراج منیرکا تصور تہذیب 

 

اس کی تخلیق کی ضرورت کیا ہے؟ ادب زندگی کا عکاس نہیں ہے بلکہ زندگی میں ٹھہر جانے اور اپنے Pattren اور Crystalize کرنے میں اور اپنی فصیلوں کو سنگین بنا دینے کا جو رجحان ہے، ادب آرزو کے ذریعے ان رجحانات کو توڑ کے اوپر آ جاتا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں، اوپر آ جاتا ہے تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ انسانی زندگی کی ادنیٰ قدروں سے ادب ہمیشہ انسانی زندگی کی اعلیٰ قدروں کی طرف جاتا ہے۔ بعض صورتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ادب کو اس بات کا شعور نہیں ہوتا کہ وہ کس مقصد کے لیے کام کر رہا ہے۔ کہیں کہیں معلوم ہوتا ہے۔ بہتر صورت وہ ہوتی ہے جہاں ادیب کو یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کس مقصد کے لیے کام کر رہا ہے اور وہ ادب کے ذریعے کن اعلیٰ انسانی اقدار کو پروان چڑھا رہا ہے۔ اصل میں ادب کو برباد کرنے میں ضرورت سے زیادہ دانش وری کا ہاتھ ہوتا ہے کہ مقاصد کی تحلیل اور ان کی فلسفیانہ بندشیں اتنی صفائی سے کر لی گئی ہیں کہ ادب کے اسرار کا اور ادب کی یعنی ایک نئے تجربے کے ایک نئے علاقے کو دریافت کرنے کا کوئی بڑا جواز اس کے پاس نہ ہو۔ چناں چہ آپ دیکھیے کہ اٹھارویں صدی کے بعد دنیا کے معاشرے عموماً Ideology پہ Survive کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نظریات پہ Survive کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان فلسفیانہ Systems کے ذریعے زندگی کو Organize کیا جائے جو انسان کی پیچیدہ نفسیاتی تہوں کے اسرار کو نہیں سمجھتیں۔ چناں چہ اس کی وجہ سے یہ ہوا کہ فلسفیانہ Systems نے انسانی زندگی میں اسرار کا اور نامعلوم کا اور آرزو کے موضوع کا جو عنصر تھا، اس کو کاٹ کر الگ کر دیا۔

اس کو کٹا کر الگ کر دینے کے بعد انہوں نے ایک حسابی آدمی تو پیدا کر دیا لیکن غیر حسانی آدمی کے بدلے میں انہوں نے چھپی ہوئی اور دبی ہوئی خواہشات کا ایک پورا ایسا نظام پیدا کر دیا ہے جس سے آج کی دنیا سب سے زیادہ Threatened ہے اور سب سے زیادہ نقصان کا اندیشہ اسی پہلو سے ہے بلکہ خود انسانی زندگی کے اس Planet کے وجود کو خطرہ ہے۔ یہ ہوا ہے اور ادیبوں میں، سچی بات یہ ہے کہ اگر ہم اردو کے ادیبوں کی بات کریں تو کم از کم لوگ آپ کو ملیں گے جو ان مسائل پہ سوچتے ہیں۔ آپ کے علم میں ہے عام طور پر لوگوں نے کچھ کلیشے وضع کر لیے اور وہ کلیشے دراصل وہ تصورات ہیں جو اٹھارہ سال کی عمر میں ان ادیبوں کے ذہن میں واضح ہو گئے اور آج تک وہ اس گنبد میں بند ہیں۔ ان کے نزدیک فائن آرٹ اور انسان اور ادب میں فرق ہے۔ سلیم احمد ایک بات کہا کرتے تھے کہ میں بار بار اپنے آپ کو بناتا ہوں، توڑتا ہوں اور اس سے پھر دوبارہ اپنی تعمیر کرتا ہوں۔ اس کے بغیر انسان کے جو اسرار ہیں وہ ادب میں ظاہر ہو نہیں سکتے۔ اگر آدمی اپنا ایک مجسمہ بنا کر اس کی پرستش کرنا شروع کر دے تو یہ ایک Vague صورتِ حال تو ہو گی، شاید اس کے اخباری دنیا میں کوئی معنی بھی ہوں لیکن ادب میں، ادب کے اسرار میں یا انسانی معنویت کی تخلیقی تفتیش میں اس کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ اس تخلیقی تفتیش میں تو ہمہ وقت نئے Domains کو دریافت کرنا پڑے گا اور اس کے لیے ہمارے ادیب بہت کم رہ جاتے ہیں۔

سوال:۔ تو آخر نجات کیا ہے؟
سراج منیر: نصب العین کا قاعدہ۔ اب ہم ادب کے دائرے سے باہر نکلتے ہیں۔ معاشرے۔۔۔۔۔۔ انسانی معاشرے بہر حال نصب العین کے ذریعے Survive کرتے ہیں اور نصب العین کی غذا پہ پل کے جوان ہوتے ہیں۔

سوال:۔ بے معنویت سے ادب پیدا نہیں ہوتا؟
سراج منیر: نہیں پیدا ہوتا۔

سوال:۔ تو وہ پورا ادب جو بے مقصدیت ہی سے پیدا ہوا، اس کے بارے میں کیا کہیں گے آپ؟
سراج منیر: جو معیار ہمارے سامنے ہیں ان معیاروں کی روشنی میں اس ادب کی حیثیت اپنے انسانوں کی باطنی کیفیات پر ایک گواہ سے زیادہ نہیں ہے۔ یعنی Absurdist ادب جو ہے، وہ ان معنوں میں تو بہت Genuine ہے کہ وہ جن روحانی کیفیات کو بیان کر رہا ہے وہ روحانی کیفیات کتنی عذات کی کیفیات ہیں۔ آپ دیکھیے نا Absurdist ادب کا پورا منظر نامہ ہے جو وہ بنیادی طور پر ایک جہنم کا منظر نامہ ہے اور جن Idealogies کے ذریعے، تاریخ کی جن کروٹوں کے ذریعے یہ پورا System پیدا ہوا ہے اس پر گواہی صرف ادب کی ہے تو Absurdism کا بلکہ اس پورے System کا جس سے گویا Absurdism پیدا ہوئی، سلطانی گواہ ہے۔

سوال:۔ ابھی آپ نے خود اپنی گفتگو میں ادب کے آئینہ ہونے کا ادب کے اپنے معاشرے کی عکاسی کرنے کا ذکر کیا تو اگر انسان کی اپنی باطنی صورتِ حال جس سے وہ گزر رہا ہے، اگر اس کی وہ گواہی دے یا اس کی اگر عکاسی کرے تو خود وہ اپنے معیار کے اندر اس بات کی، اگر وہ ادبی لحاظ سے ایک بلند درجہ رکھتا ہو تو اس کی کوئی اعلیٰ ادبی حیثیت نہیں ہو گی کیا؟
سراج منیر: دیکھیے! ایک تو صورت یہ ہے کہ آپ ادب کا وہ تصور قائم رکھیں جو پیدا ہوتا ہے اس امر سے کہ ادب زندگی کا عکاس ہے۔ وہ جزوی طور پر اپنا فریضہ سر انجام دے رہا ہے لیکن ایک بڑے تصورِ کائنات میں اس کی Validity کچھ نہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ وہ سوائے اس کے ہمیں کچھ نہیں بتا رہا کہ انسان ایک جہنم میں ہے۔ اگر مقصد کا کوئی تصور اور نصب العین کی کوئی گواہی موجود نہ ہو تو اس صورتِ حال میں اس ادب کی کوئی Validity نہیں۔ ہمیں سارتر، کامیو اور دستووسکی اتنے بڑے ناموں سے ڈرنا نہیں چاہیے۔ ہمیں یہ کہہ دینا چاہیے کہ ان کی اپنی صورتِ حال میں خود اس کا ایک Limited Role ہے، لیکن ادب کا ایک بڑا جو معاشرتی تصور ہے اس میں اس کی حیثیت ایک قابلِ قدر دستاویز سے زیادہ نہیں۔

سوال:۔ یعنی آپ نے جو بات کہی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جو ادب ایک اعلیٰ تصورِ حقیقت کو بیان کرتا ہو، اس کا جو مرتبہ یا جو منصب ہے وہ اس ادب سے زیادہ ہے۔
سراج منیر: کہیں زیادہ ہے۔۔۔۔۔۔کہیں زیادہ ہے۔

سوال:۔ موجودہ جو حالات ہیں عالمی سطح پر یا جن مسائل سے ہم گزر رہے ہیں تو ان مسائل کی موجودگی میں کیا اس تصورِ حقیقت کی وضاحت میں یا اس کی ترجمانی میں کوئی ادب لکھنا ممکن ہے؟
سراج منیر: ادب کے ذمے یہ کام ہی نہیں کہ وہ اس تصورِ حقیقت کی وضاحت کرے۔ یہ مذہب کا کام ہے کہ وہ اس تصورِ حقیقت کی وضاحت کرے۔ ادب کا کام یہ ہے کہ وہ انسان میں کسی نا معلوم حقیقت جو مذہب کے ذریعے آتی ہے یا تہذیبوں کے ذریعے پروان چڑتی ہے، اس کی تہوں کی تلاش کی آرزو باقی رکھے۔ باقی ادب جن معنوں میں ہم استعمال کر رہے ہیں، دیکھیے ایک بات اور یہاں میں عرض کر دوں کہ جب ہم کہتے ہیں فلاں چیز ادب ہے یا نہیں تو اس میں ایک جدید اصول ہے۔ آپ کے علم میں ہے کہ عموماً کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ چیز Non-poetic ہے یا یہ چیز Non-creative ہے، یہ قولِ فیصل کا بیان ہے۔ بہر حال اور یہ کو چوں کہ انسانی وجود خود بہت تہ دار ہے لہٰذا اس کے Discipline کے بہت سے معییارات ہیں تو ایک ادنیٰ پیمانہ یہ بھی ہے۔ جیسے قرآن میں آتا ہے کہ فلاں قسم کے لوگ جیسے بھیڑ بکریاں ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں۔ تو یہ ان کے انسان ہونے کا بہ اعتبار حقیقت انکار کیا گیا ہے ورنہ Biologically تو وہ انسان ہیں۔ اسی طرح یہ بات ممکن ہے کہ ادب اپنی Biology کے اعتبار سے تو ادب ہو لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے ادب نہ ہو۔ حقیقت کے اعتبار سے ادب وہی ہے جو انسان کی فطرت میں آرزو کو اُبھارے۔ کیوں کہ انسانی فطرت کے بنیادی عناصر میں آرزو کے علاوہ کوئی اور ایسا element نہیں ہے، جس کے لیے ادب کی ضرورت ہو۔

سوال:۔ جب آرزو کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس سے آپ کی کیا مراد ہوتی ہے؟
سراج منیر: اس سے مراد ہوتی ہے اپنی موجودہ صورتِ حال سے باہر نکل کر دیکھنے کی خواہش۔

سوال:۔ یہ آرزو باقی نہیں ہے۔
سراج منیر: جس کی طرف اقبال نے اشارہ کیا۔ سینہ را از آرزو آباد کن۔۔۔۔۔۔ تو مراد یہ ہے کہ وہ جو پُراسرار کیفیت ہے جسے آرزو کہتے ہیں وہ ہے کیا؟ وہ ہے یہی کہ انسان جس صورتِ حال میں بھی ہے اس صورتِ حال سے بلند ہونے کی خواہش اور چوں کہ ایک اتنی بڑی حقیقت کو آدمی Attempt کرتا ہے جو بالقصد اس کی گرفت میں آنے والی نہیں ہے، لہٰذا آرزو ایک ایسی چیز ہے جو کبھی Exhaust نہیں ہوتی۔ جس طرح معرفت کی تکمیل کبھی نہیں ہوتی، اسی طرح آرزو کی بھی تکمیل نہیں ہوتی۔ کہتے ہیں کہ جانور اور انسان میں فرق یہ ہے کہ انسان Transcend کر سکتا ہے اپنی موجودہ صورتِ حال کو۔ اس سے باہر نکل سکتا ہے۔ اس سے باہر نکلنے کی خواہش کسی خیر کی خواہش ہی ہو گی۔ تو اہم چیز ادب کے لیے یہ نہیں ہے کہ وہ تصورِ حقیقت کی وضاحت کرے۔ یہ کام تہذیب کے دوسرے ادارے کرتے ہیں بلکہ اس کا کام یہ ہے کہ وہ اس تصورِ حقیقت کے لیے Motivated رکھے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ انسانی فطرت سے قریب تر ہو جائے۔ فطرتِ انسانی پر اگر اپنی بنیاد رکھے ادب تو اس سے زیادہ Genuine کوئی چیز ہو ہی نہیں سکتی۔

سوال:۔ یعنی موجودہ صورتِ حال سے باہر نکلنے کی خواہش!
سراج منیر: ہر موجودہ صورتِ حال سے باہر نکلنے کی خواہش۔

سوال:۔ ہر موجودہ صورتِ حال سے باہر نکلنے کی خواہش۔ یہ خواہش تو موجود ہے لیکن ہمارے۔۔۔۔۔۔
سراج منیر: وہ خواہش نہیں، خیال ہے۔ خیال ہے، نعرہ ہے۔ چوں کہ ادب وہ آرزو ہے تو وہ اس کے مقابل ایک صورتِ حال پیدا کر دے گی۔ دیکھیے! ہمارے ہاں شعر کی اصطلاح میں جنوں کا لفظ ہے۔ ٹھیک ہے نا۔۔۔۔۔۔ تو آج کے ادب میں خیالات کو تو بہت بھر مار ہے، جس چیز کی کمی ہے وہ چیز ہے جنوں۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے نہیں کہ آدمی اور Ideal کا رشتہ باقی نہیں رہا۔ چناں چہ ہوتا کیا ہے اگر آدمی موجود ہو اور Ideal موجود نہ ہو تو Frustration پیدا ہوتی ہے۔ پچھلے پچیس تیس سال کے ادب میں آپ دیکھیے کہ کتنا ادب ذات کے Frustration سے یا آشوب کے ذریعے تخلیق کیا گیا ہے، کتنے ادب کی بنیاد اس پر ہے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ چوں کہ فطرتِ انسانی آرزو سے محروم نہیں ہو سکتی اور ادب فطرتِ انسانی کے بنیادی تقاضوں سے ہٹ چکا ہے اور Ideal کا فطرت سے تعلق منقطع ہو چکا ہے، لہٰذا ادب پیدا کرنے کے لیے ایک ہی مواد باقی رہ گیا ہے اور وہ ہے انفرادی آشوب۔

سوال:۔ ہماری جو تنقید ہے اس کو بھی ان ہی مسائل کا سامنا ہے؟
سراج منیر: ہماری تنقید۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھیے جناب تنقید کے سلسلے میں، میں بہت تنگ نظر آدمی ہوں۔ تنگ نظر ان معنوں میں کہ ہر وہ آدمی جس کے بعض خیالات پر مشتمل کوئی کتاب چھپ چکی ہے، میں اسے نقاد مانتا۔ نقاد کے معنی ہیں وہ آدمی جو ادب اور تہذیب کے باطن کی تفتیش اور اس کی تشخیص کرے۔ جو لوگ عام طور سے ہمارے ادب کی تنقید کے نام پر کچھ لکھ رہے ہیں وہ زیادہ تر بعض نظریوں، بعض علوم مثلاً نفسیات اور سوشیالوجی کی Binding بعض معاشی تصورات مثلاً مارکسزم کی اور بعض ادبی گروہ بندیوں کی سرپرستی کے مترادف ہے۔ تنقید کا Crisis ہمارے ہاں بہت بڑا Crisis ہے۔ اچھا جناب! اب آپ تنقید پہ آئیے تو چند نام آپ کو ملیں گے۔ اوّل تو میرے دیکھنے کا ایک تصور یہ بھی ہے کہ بعض۔۔۔۔۔۔۔ کم لوگوں نے تنقید ہمارے ہاں اس اعتبار سے لکھی ہے۔ اس پر آپ مجھے معاف کر دیجیے گا۔ اس لیے کہ بہت سے نام ہمارے تنقید میں جو بڑے سمجھے جاتے ہیں لیکن ان معنوں میں وہ اپنے منصب کو Justify نہیں کرتے۔ یوں تو گروہ نقادوں کا وہ ہے جو تنقید سے پہلے پیدا ہوا، یعنی ہمارے ہاں اردو میں باقاعدہ تنقید کی ایجاد سے پہلے موجود تھا، مثلاً میں میر کو بہت بڑا نقاد کہتا ہوں۔ خود حالی کی تنقید پیدا ہوئی چند بنیادی سوالوں کی تفتیش سے جو ادب اور معاشرے میں پیدا ہوئے۔ حالی کا جواب چاہے کچھ ہو لیکن محض اس کے سوال کا Genuine ہونا جو ہے وہ اسے بہت بڑا آدمی ثابت کرتا ہے۔ حالی کے ضمن میں بہت سوالات عموماً اعتراضات بہت واقع ہوتے ہیں۔ حالی پر ’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘ پر ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اصل میں تنقید میں Validity اس بات کی نہیں کہ جواب کیا ہے؟ جواب تو بدل جائے گا۔ اصل Validity اس بات کی ہے کہ سوال کیا ہے اور انسانی نفسیات یا اجتماعی نفسیات کی کس گہری سطح پر واقع ہے تو حالی نے جب سوال اٹھایا تھا وہ اس کی تہذیب کے باطن میں کہیں بہت دور واقع تھا۔ حالی بہت Important آدمی تھا۔ شاعری کے اعتبار سے عموماً فراق صاحب کا نام بہت لیا جاتا ہے۔ لیکن میں فراق صاحب کو کوئی بڑا نقاد نہیں سمجھتا۔

یہ بھی پڑھیئے: سراج منیر ایک یاد: زخمِ دل مبادا بِہ شود — عزیز ابن الحسن

اس طرح ایک عجیب نام میں لوں گا۔ میں ادب کا بہت بڑا نقاد اقبال کو سمجھتا ہوں۔ تنقید کے اعتبار سے اور اس کے لیے نہ صرف یہ کہ ان کے شعری کلام میں بہت وضاحت سے چیزیں موجود ہیں بلکہ جو نثر انہوں نے لکھی ہے اس میں اتنا مواد موجود ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ صرف اس لیے کہ ایک Second rate کارروائی یعنی نقاد کا Label اقبال نے اپنے اوپر نہیں لگایا تھا۔ اس کے بعد دو آدمی جو میری نظر میں آتے ہیں، وہ ہیں حسن عسکری اور سلیم احمد۔ حسن عسکری نے وہ سوال پوچھے ہیں جو مشرق کی روح میں بہت گہرائی میں پیدا ہوئے ہیں اور سلیم احمد کا دائرۂ کار حسن عسکری سے بہت زیادہ ہے، کیوں کہ ایک تو سلیم احمد کی نظر انسانی نفسیات کو Approach کرتی تھی، تجربے کے ذریعے، لہٰذا ایک ایسا زندہ تجربہ بولتا ہوا محسوس ہوتا ہے ان کی تنقید میں جس کی Validity کو ہم کسی طرح چیلنج نہیں کر سکتے اور اس سے ایک ایسا تصور ہمارے ہاں پیدا ہوا ہے جو ہماری پوری تاریخِ تنقید میں Unparalleled ہے اور وہ کسری آدمی کا تصور جو ہے اگر اس پر تفصیل سے کام کیا جائے تو سلیم احمد کو زیادہ موقع نہیں ملا اس پر کام کرنے کا لیکن بنیادی طور پر ان کے تصورات میں یہ چیز شامل ہے اور اس اعتبار سے بالکل صحیح تشخیص کی۔ تہذیب کی Fragmentation کی۔ یہ بہت اہم بات ہے۔ تو باقی نقادوں کا معاملہ اور زیادہ تر ہم بھی جو کچھ اگر کبھی تنقید کے نام پر لکھتے ہیں تو زیادہ تر وہ عموماً موجودہ ادبی صورتِ حال پر فوری Reaction سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ان چیزوں سے شاید کوئی بہت بڑی چیز پیدا نہیں ہوتی۔

—– جاری ہے —–

اس انٹرویو کا دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

About Author

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: