میرے سلیم بھائی ۔۔۔۔۔۔ فتح محمد ملک

0
  • 74
    Shares

اسلام آباد ہوٹل کے ایک کمرے میں احمد ندیم قاسمی کے پاس ادیبوں کا جمگھٹ لگا تھا جائے تنگ و مردماں بسیار کی صورت درپیش تھی۔ لوگ آتے اور جہاں جگہ پاتے ٹک جاتے۔ سلیم احمد تشریف لائے تو میں نے بہ منت اُنہیں اپنی کرسی پر بٹھایا اور خود ایک کونے میں کھڑا ہو گیا۔ سلیم احمد کے رخصت ہونے پر پروفیسر پریشان خٹک میرے اس طرزِ عمل پر معترض ہوئے، کہنے لگے:

’’میں ایک یونیورسٹی کا وائس چانسلر ہوں۔ صدیق سالک صدر مملکت کے پریس سیکرٹری ہیں۔ ہم دونوں خوبصورت، لمبے تڑنگے جوان ہیں۔ ہم نے تھری پیس سوٹ پہن رکھے ہیں۔ جب ہم داخل ہوئے تو ملک صاحب ٹس سے مس نہ ہوئے۔ لیکن جب میلی سی شیروانی میں ملبوس ایک شخص آیا تو انہوں نے بہ صد اصرار اسے اپنی کرسی پیش کر دی۔ میں اور سالک پلنگ کی پائنتی پر سکڑ رہے ہیں، میں اپنی اور سالک کی طرف سے اس رویّہ پر احتجاج کرتا ہوں‘‘۔
اس پر احمد ندیم قاسمی نے حیرت کے ساتھ پوچھا:
’’پریشان صاحب آپ واقعتہً اس اُجلی اور منوّر شخصیت سے متعارف نہیں؟
یہ سلیم احمد تھے‘‘۔
’’اچھا، تبھی آپ بھی ہم سب کو بھول کر صرف انہی کے ساتھ باتوں میں محو تھے‘‘۔ پریشان خٹک کی تشفی ہو گئی اور میں یہ واقعہ بھول گیا۔

ایک مدت بعد سلیم احمد کی یاد میں برپا ایک تقریب میں پروفیسر پریشان خٹک نے اس واقعہ کا تذکرہ کر کے میرے ذہن میں اس واردات کو تازہ کر دیا۔ میرے اور سلیم احمد کے درمیان محبت اور رفاقت کا یہ گہرا اور اٹوٹ ربط اس زمانے سے قائم ہے جب اوّل تو مجھے کوئی جانتا ہی نہ تھا اور جن چند لوگوں کی نظر سے میرے ابتدائی مضامین گزرے تھے انہیں یہ ماننے میں تامل تھا کہ واقعتہً میرا کوئی وجود ہے۔ وہ کہتے تھے کہ فتح محمد بھی بھلا کسی ادیب کا نام ہو سکتا ہے۔ ہو نہ ہو کوئی پرانا ادیب اس قلمی نام کے ساتھ ادبی مباحث چھیڑ رہا ہے۔ ایسے میں ’’ادب لطیف‘‘ میں میرا ایک مضمون پڑھ کر سلیم احمد نے انتظار حسین سے پوچھا:

’’یہ تم نے فتح محمد ملک صاحب کو کہاں سے ڈھونڈ نکالا؟ کون صاحب ہیں؟ کیا کرتے ہیں؟ کب لکھنا شروع کیا اور تمہارے ہتھے کیسے چڑھے؟ ان کا مضمون بہت پسند آیا۔ ادبِ لطیف اگر ہر مہینے ایک مضمون ایسا شائع کر دے اور سال بھر میں دو ایک آدمی ایسے ڈھونڈ نکالے تو سمجھو کہ بات بن گئی‘‘۔

جنوری 63ء کے ادبِ لطیف میں سلیم احمد کی یہ بے ساختہ اور والہانہ داد پا کر مجھے بے اندازہ مسرت ہوئی۔ چند روز بعد سلیم احمد کا پہلا خط ملا۔ میں ان دنوں اپنے گائوں میں مقیم تھا۔ اس احساس نے میری خوشی کو دو چند کر دیا کہ ضلع اٹک کے ایک دور افتادہ اور پسماندہ گائوں میں بیٹھے ایک نو آموز اور گمنام مبتدی کی تحریروں کو سلیم احمد اتنی توجہ اور اس قدر محبت کے ساتھ پڑھ رہے ہیں۔ میں خوشی میں ایسا سرشار ہوا کہ خط لکھنے میں تاخیر کر دی، اس پر سلیم احمد نے لکھا:

’’ملک صاحب، میں تو آپ کے جواب سے مایوس ہی ہو چکا تھا کیونکہ ایک صاحب نے مجھے یہاں بتایا کہ جس مقام کا نام میں نے ’’لہٹی‘‘ لکھا ہے وہ لہٹی نہیں ’’لیٹی‘‘ ہے۔ ظاہر ہے اس کے بعد کیا امید رہتی ہے۔ ارادہ کر رہا تھا کہ دوسرا خط لکھوں کہ اتنے میں آپ کا جوب آیا۔

’’دشتِ وفا‘‘ کے تبصرہ پر آپ کو تو نہیں مگر قاسمی صاحب کو یہی گمان گزرا ہے کہ یہ ان کے فکاہی کالموں کا رد عمل ہے۔ خوب تماشا ہے کہ یہاں دہری جواب دہی کرنی پڑتی ہے بعض لوگ کہتے ہیں تبصرہ میں قاسمی کی اپنی تعریف کی گئی ہے جس کے وہ مستحق نہیں تھے۔ اور خود قاسمی صاحب کو اس میں مخالفت کے سوا اور کچھ نظر نہیں آتا۔ خیر قاسمی صاحب کو آپ کے خط کا اقتباس بھیجوں گا۔ رہ گیا آپ کا یہ کہنا کہ بھائی سلیم احمد تمہیں دوسروں کی رائے سے کیا لینا؟ مجھے دوسروں کی رائے سے کچھ نہیں لینا اسی لیے تو یہ جھگڑا ہے۔ ورنہ دوسروں کی رائے لینے والے تو بس چپ چاپ رائیں نقل ہی کرتے چلے جاتے ہیں کیا آپ کا خیال ہے کہ غالب پر کوئی صحیح رائے اس وقت تک دی جا سکتی ہے جب تک ان تمام نقادوں سے نہ لڑا جائے جنہوں نے غالب کی شخصیت پر ہزار ہا پردے ٹانگ دیئے ہیں۔ میر، سالک اور ممتاز حسین کی رائیں، جو ظاہر ہے کہ ذمہ داری سے ظاہر کی گئی ہیں، قاسمی کے مجموعوں میں شامل ہیں۔ پڑھنے والے انہیں محترم ادیبوں کی دقیع ادبی زایوں کی حیثیت سے پڑھتے ہیں۔ پھر ان پر بات کرنا غلط کیسے تھہرا۔ دوسری بات یہ ہے کہ زبان و بیان کی غلطیاں شاعری کے لیے سم قاتل ہیں۔ شاعری کے ’’معنی‘‘ پر غیر ضروری زور دینے کے سبب یہ خیال عام ہوا کہ زبان و بیان کچھ نہیں۔ لیکن میرا اس کے برعکس خیال یہ ہے کہ شاعری صرف ’’زبان‘‘ ہے اور صرف ’’بیان‘‘ ہے۔ چلئے اس میں معنی بھی ڈال دیجئے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ ورنہ بیدل نے تو یہ کہا کہ ’’شعر خوب معنی ندارد‘‘۔

اچھا ایک بات بتائیے۔ آپ بھی دوسروں کی طرح اس مرض میں کیوں مبتلا ہیں کہ لکھنے والے کی ہر تحریر کو اس کے جذبات کی ’’عکاسی‘‘ کے طور پر پڑھیں۔ تحریر لکھنے والے کی شخصیت اور کردار کا آئینہ سہی، مگر تحریر کوئی گٹر نہیں ہے جس میں آدمی چپ چاپ سارا کوڑا کرکٹ پھینک دے۔ ’’غیر ضروری شدت‘‘ کا ذکر بعض لوگوں نے اسی انداز میں کیا ہے۔ جیسے میں نے اپنے دل کی ’’بھڑاس‘‘ نکالی ہے۔ اور اب بھڑاس نکالنے کے بعد متوازن ہو جائوں گا۔ خیر دوسرے لوگوں کا ذکر نہیں لیکن جب مظفر اور آپ بھی اسی غلط فہمی میں مبتلا ہو جائیں اس وقت میں بیچارہ کیا کروں۔ ’’نئی نظم اور پورا آدمی‘‘ میں میں ایک پوری نسل، پورے رجحان بلکہ باقاعدہ ایک نظریہ سے لڑ رہا ہوں۔ تبصرہ میں میرا معاملہ افراد سے ہے۔ اصول ہے کہ ہاتھی کو گرز سے مارا جاتا ہے اور چیونٹی کو چپل سے۔ مجھ میں غیر ضروری شدت نہ پہلے موجود تھی۔ نہ اب کم ہوئی ہے۔ بس میں گرز کی جگہ گرز استعمال کرتا ہوں اور چپل کی جگہ چپل۔ یہی اصول لڑائی کا ہے اور یہی اصول صلح کا۔ صلح میں بھی بعض لوگوں کا کام ایک پھول کے تحفہ سے چل جاتا ہے اور بعض لوگوں کے لیے گلستان بھی کم پڑتے ہیں۔

لکھنے کی ضرورت تو نہیں، لیکن دل چاہتا ہے تو کیوں نہ لکھوں، آپ کی تحریریں مجھے پسند ہیں۔ ادبِ لطیف میں آپ کا مضمون ’’تمیزدار بہو کی بد تمیزی‘‘ اتنا پسند آیا کہ بے اختیار انتظار کو مبارکباد دینی پڑی کہ اس نے اتنا ضروری، اتنا خیال افروز اور اتنا دل چسپ مضمون شائع کیا۔ اس کے ساتھ آپ کی دوسری تحریروں کا اشتیاق پیدا ہوا۔ آپ کی تحریروں میں ایک عجیب بات پاتا ہوں اور یہ میرا ذاتی تاثر ہے کہ آپ میرے اندر شدید امید پیدا کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد شدید مایوسی خدا جانے گڑ بڑ کہاں ہو جاتی ہے۔ میں چونکہ مقبول لوگوں کے غیر ضروری شدت کا مارا ہوں اس لیے آپ کے بارے میں کہتا ہوں۔ ’’فتح محمد بہت اچھا لکھتا ہے۔ مگر بے ایمان ہے‘‘۔ آپ کو بُرا لگا؟ لگا تو لگے۔ آپ اپنے آپ سے بے ایمانی کرتے ہیں۔ یہ آپ کے ’’ممدوحین‘‘ کیا چیز ہیں۔ قدرت اللہ شہاب، احمد ندیم قاسمی، لاہور کی نئی نسل۔ ان میں کچھ تعریف کی باتیں ہیں تو تعریف ضرور کیجئے۔ کیونکہ تعریف نہ کرنے والا بھی بے ایمان ہوتا ہے۔ تعریف ضرور کیجئے مگر اپنی ’’قیمت‘‘ پر نہیں۔ آپ ان سب سے زیادہ گراں بہا چیز ہے۔ بشرطیکہ آپ جو کچھ ہیں اس سے روگردانی کر کے کچھ اور بننے کی کوشش نہ کریں۔

جمیل صاحب کا بس سے حادثہ ہو گیا تھا۔ بچ گئے۔ اب بہتر ہیں۔ ان کی کتاب کتابت کے لیے جا چکی ہے۔ میں نے اس دوران دو ایک مضمون لکھے ہیں۔ آپ کراچی آئینگے تو دکھائوں گا۔ آپ کراچی کب آ رہے ہیں؟
آپ کا
سلیم احمد

سلیم احمد نے حسب معمول خط پر تاریخ درج نہیں کی مگر لفافہ پر ڈاک کی مہر بتاتی ہے کہ مجھے یہ خط 19 اگست 63ء کو موصول ہوا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مرحوم ترقی پسندوں کے خلاف شمشیر برہنہ تھے۔ رسالہ دینا دور، میں ’’دشت وفا‘‘ پر اپنے مفصل تبصرہ میں انہوں نے غلام رسول مہر، عبد المجید سالک اور ممتاز حسین کے خیالات کی تردید اور زبان و بیان کے دو ایک اسقام کی نشاندہی کے بعد ندیم صاحب کی شاعری کے اصل حسین کی تحسین کی تھی۔ مگر یار لوگوں کی نگاہ فقط تردید میں الجھ کر رہ گئی تھی۔ دونوں طرف نیتو ںپر شکوک بڑھنے لگے تھے۔ میں نے ندیم صاحب کو سلیم احمد کے قلم سے تحسینی تبصرہ پر مبارک باد دی اور سلیم احمد صاحب سے تردیدی حصہ کی شکایت کی تھی۔ چنانچہ سلیم احمد نے اپنے خط کے ایک حصہ میں میری شکات کی تو دوسرے حصے میں میری حقیر تحریروں پر اتنی بے لاگ اور اس قدر محبت بھری تنقید کی کہ ’’بے ایمان‘‘ کا اسم صفت مجھےدُشنام نہیں انعام معلوم ہوا۔

ہماری باہمی محبت میں جو چیز نادر و نایاب ہے وہ ہے اختلاف رائے کے باوجود ایک دوسرے کی نیت کی صفائی اور رائے کی دیانت پر اٹوٹ اعتماد۔ احمد ندیم قاسمی، قدر اللہ شہاب اور لاہور کی نئی نسل (ناصر کاظمی، انتظار حسین اور ان کا حلقۂ اثر) آج بھی میرے ’’ممدوحین‘‘ میں شامل ہیں اس کے باوجود سلیم احمد کی محبت اور رفاقت کی یاد میرا عزیز ترین سرمایہ ہے۔ میں کسی معاشرے کی تندرستی اور توانائی کا اندازہ اس میں اختلاف رائے کے پنپنے کے امکانات سے کرتا ہوں۔ کسی معاشرے میں انفرادی اور گروہی اختلاف رائے کے حدود جس قدر وسیع ہوں گے وہ معاشرہ اسی قدر تندرست و توانا ہو گا۔ بد نصیبی سے تنگ نظری اور کور باطنی کی منحوس گرفت نے ہمارے معاشرے کو ایک بیمار معاشرہ بنا رکھا ہے۔ آج ہمارے ہاں قرض محبت کی قینچی ہو یا نہ ہو۔ اختلاف رائے ضرور محبت کی قینچی ہے۔ رائے سے اختلاف ذات پر حملہ تصور کیا جانے لگا ہے۔ ایسے میں سلیم احمد کی ذات ہماری معاشرتی توانائی کی علامت تھی۔ وہ جس دلیری اور بے باکی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے اسی بہادری کے ساتھ مخالفانہ نقطۂ نظر پر غور کرتے تھے۔ ادب اور سیاست کے چند مسائل پر کبھی کبھار میرے اور ان کے درمیان چھوٹے موٹے اختلاف پیدا ہوئے۔ مگر ذہنی تحفظ کی اس فضا میں بھی ہماری قلبی یگانگت میں سرِمو فرق نہ آیا۔ جس وقت بھٹو شہید کے اسلامی مساوات کے نعرہ نے مجھے مسحور کر رکھا تھا عین اس وقت سلیم احمد نے اسلامی سوشلزم کے تصور کے خلاف محاذ کھول رکھا تھا اور پھر وہ وقت آیا جب سلیم احمد وزارت اطلاعات کے مشیر مقرر ہوئے اور ’’جسارت‘‘ کا کالم نگار یونیورسٹی سے میری برطرفی کا مطالبہ کرنے لگا۔ ان حالات میں بھی سلیم احمد کی گرم جوشی میں کمی نہ آئی۔ اگر وہ ایک دن کے لیے بھی اسلام آباد آئے تو نظیر صدیقی کو ساتھ لے کر مجھے ڈھونڈتے پھرے۔ دینی عقائد میں اختلاف کا معاملہ ادب اور سیاست سے کہیں زیادہ نازک معاملہ ہے مگر دیکھئے کہ سلیم احمد اس نازک مرحلے کو بھی کس حسن و خوبی کے ساتھ طے کرتے ہیں۔

برادرم ملک صاحب! سلام مسنون
ابھی ابھی آپ کا محبت بھرا خط ملا۔ آپ نے میری صحت کی دعا کی ہے۔ خدا آپ کو جزائے خیر دے۔ ’’انداز نظر‘‘ تو میرے سرہانے رکھی ہے۔ ایک دفعہ پڑھ چکا ہوں، دوسری بار ورق گردانی کر رہا ہوں لیکن تعصبات میرے پاس نہیں ہے۔ ایک صاحب مجھے کتابیں لا کر دیتے ہیں وہ اتوار کو آئیں گے تو ان سے اسے منگوا دوں گا اور ان شاء اللہ دونوں کتابوں پر ایک ساتھ تبصرہ کروں گا۔ آپ کو پاکستان سے جیسی سچی محبت ہے وہ ہمارے تعلق کی سب سے مضبوط بنیاد ہے۔ لیکن اسلام کے بارے میں آپ کے پورے خیالات ابھی مجھ پر واضح نہیں ہیں۔ اس سلسلہ میں آپ سے بہت کچھ باتیں کرنی ہیں۔ آپ میرے اقبال والے خط کا جواب دیں گے تو اس ضمن میں یہ گفتگو بھی ہوتی رہے گی۔ معلوم ہوا کہ نظیر صدیقی صاحب بھارت سے واپس آ گئے ہیں۔ ملاقات ہو تو میرا سلام کہہ دیجئے گا۔
آپ کا بھائی
سلیم احمد

یہ ہیں میرے سلیم بھائی جو فتویٰ جاری نہیں کرتے باتیں کرتے ہیں، جو عمر بھر سچی تخلیقی لگن اور گہرے علمی تجسسّ کے ساتھ حق کی تلاش میں سرگرمِ عمل رہے اور جن کے لب پر ہمارے لیے ہمیشہ یہ دعا رہی

تو شیشہ بنے کہ سنگ، کچھ بن
اندر سے مگر گداز ہو جا

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: