تبدیلی آگئی: عمران خان اب نا بالغ نہیں رہے ۔۔۔۔۔۔ فراز الحسن

0
  • 34
    Shares

پی ٹی آئی کی حکومت کی جانب سے مولانا سمیع الحق کے جامعہ حقانیہ کو پہلے تیس کروڑ کی گرانٹ اور اب ستائیس کروڑ کی گرانٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ عمران خان عملی سیاست کو سمجھنے لگے ہیں، ایک ایسے مدرسے کو دی جانی والی گرانٹ پہ شکوک و شبہات کا اظہار ناقابل فہم نہیں جس کے سربراہ پر شدت پسندوں اور طالبان سے روابط کے الزامات رہے ہوں، جن کی اپنی سیاسی حیثیت مشکل سے ایک سینیٹ یا قومی اسمبلی کی سیٹ جتنی ہو لیکن خیبر پختونخواہ میں اس شدت پسند طبقے کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور جن کے محدود ووٹ کسی بڑی جماعت کے لیے فیصلہ کُن ثابت ہو سکتے ہوں۔

سیاست نام ہے ممکنات کا، یہاں سب کو اپنی پسند و نا پسند پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن کیا کوئی پی ٹی آئی سے پوچھ سکتا ہے کہ کس صوابدید کہ تحت آپ نے ملک کے ستاون کروڑ روپے صرف ایک مدرسے کو گرانٹ کر دیے ہیں جس کا ایک شمالی مینار سن نوے سے زیر تعمیر ہے اور جس کے لیے کراچی کی ڈبلیو گیارہ بس تک میں سے چندہ مانگا جاتا ہے۔

کیا کوئی عمران خان سے پوچھ سکتا ہے کو مدرسوں کو قومی دھارے میں لانے کا کہہ کر آپ صرف ایک مدرسہ کو فنڈ دے رہے ہیں تو کیا یہ عمل دیگر مدارس کے لئے روا نہیں؟ کیا اسی طرح مدارس قومی دھارے میں آسکتے ہیں؟

الیکشن سے چند ماہ پہلے دیے جانے والی گرانٹ کبھی بھی جائز گرانٹ نہیں ہوتی۔ اس کو کرپشن اور سیاسی رشوت  ہی کہا جاتا ہے۔ خود پی ٹی آئی کے نا اہل جہانگیر ترین نے لودھراں میں اپنے ذاتی پیسوں سے الیکشن سے پہلے وہ وہ منصوبے اناؤنس کر ڈالے تھے جس پر عمل درآمد کرنے کے لیے حکومتوں کے پسینے نکل جاتے ہیں لیکن نکلا کیا صرف عوام کا پسینہ اور وہ بھی بنا مزدوری کے۔ اس کرپشن کا پول اور بھی کھلا جب جہانگیر ترین نے دوسرے نااہل شریف کی شوگر ملوں پر کیسز کے زریعے پابندیاں لگوائیں لیکن غریب کسانوں کے گنّے سے بھرے ٹریکٹرز خود انکی کی شوگر ملوں کے باہر کھڑے کھڑے زنگ آلود ہو گئے۔ پھر ترین صاحب نے وہ گنّا نہ خریدا اور بالآخر ان ہی ججز نے شریف خاندان کی شوگر ملوں سے پابندی ہٹا لی۔۔

یہ تو ایک واقعہ ہے لیکن ہم بات کر رہے ہیں کہ عمران خان اب نا بالغ نہیں رہے بلکہ اب وہ اتنے سیاسی بالغ ہو چکے ہیں کہ سرکاری وسائل کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے اس طور استعمال کرنے لگے ہیں۔ پرویز خٹک اور جہانگیر ترین جیسے جہاندیدہ سیاستدانوں کی صحبت سے عمران خان نے عملی سیاست کے روایتی اسباق سیکھنا شروع کردیئے ہیں۔ تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے۔

عمران خان کو یہ سیاسی ’بلوغت‘ مبارک ہو۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: