پاکستانی موسیقی۔۔۔۔۔ ڈاکٹر اسلم فرخی،آصف فرخی

0
  • 60
    Shares

علوم و فنون میں عموماً اور فنون لطیفہ میں خصوصاً سرزمین پاکستان صدیوں سے پیش پیش چلی آتی ہے۔ وہ علاقہ جو اب مغربی پاکستان کہلاتا ہے برعظیم میں داخل ہونے والی ترقی یافتہ قوموں کی آماجگاہ بنا رہا ہے۔ اس کی گود میں عظیم تہذیبیں پلتی رہیں۔ فاتحوں اور فرماں روائوں نے اسی علاقے کو اپنا وطن ثانی بنایا۔ تہذیب و تمدن کی جو قلمیں وہ اپنے ساتھ لائے تھے وہ یہاں خوب پھلی پھولیں۔ ان میں طرح طرح کے بیل بوٹے، رنگ رنگ کے پھول کھلے اور ان کی خوشبو سے مشام جاں معطر ہو گئی۔

محمد بن قاسم کے ساتھ علاقئہ سندھ میں آئے اور اپنی ترقی یافتہ تہذیب ساتھ لائے۔ ریگستانِ سندھ ان کے دم قدم سے سرسبز و شاداب ہو گیا۔ سندھ کے میروں نے علوم وفنون کی سرپرستی کی اور صدیوں کے شاندار ورثے میں معتدبہ اضافہ ہو گیا۔ خیبر اور ایران و توران سے آنے والے مسلمانوں نے سرحد اور پنجاب کو ایک نیا روپ دیا۔ مغلوں نے آگرہ اور دلّی کو اپنا دارالسلطنت بنایا اور برعظیم کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ان کی برکتیں پھیلتی چلی گئیں۔ ہمارا ملک انہی برکتوں کا امین ہے۔

یوں تو سارے ہی فنون لطیفہ میں مسلمان بادشاہوں کی سرپرستی اور مسلمان فن کاروں کی ذہانت کی بدولت نئی نئی راہیں کھلتی گئیں اور فنون میں اختراعات و ایجادات ہوتی گئیں۔ مگر سب سے نمایاں ترقی ہماری موسیقی نے کی۔ ہندو پاکستان کی موجودہ تمام موسیقی مسلمانوں ہی کی ساختہ پرداختہ ہے۔ برعظیم کے علاقوں کی موسیقی مقامی لوک گیتوں سے آگے نہ بڑھ سکی۔ مسلمان فنکاروں نے اپنی عربی و عجمی موسیقی کو موجودہ موسیقی کے قالب میں ڈھال دیا اور اسے ایک علمی صورت دی۔ آج اسی ہزار سالہ موسیقی کا ایک سرسری جائزہ ہمیں لینا ہے۔

مغلوں نے آگرہ اور دلّی کو اپنا دارالسلطنت بنایا اور برعظیم کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ان کی برکتیں پھیلتی چلی گئیں۔ ہمارا ملک انہی برکتوں کا امین ہے۔

عربوں نے اپنی موسیقی کے لیے وہی سات بنیادی سُر مقرر کیے جنھیں قدیم یونانیوں نے اساس قرار دیا تھا۔ اس کا بانی فیثا غورث بتایا جاتا ہے۔ یہی سات سُر یعنی سا رے گا ماپا دھا اور نی ساری دنیا کے گانے بجانے کے بنیادی سُر ہیں۔ فیثا غورث کے وضع کیے ہوئے سات سُروں کی سپتک یورپی بلکہ عالمی موسیقی کا’’ہارڈ اسکیل‘‘ کہلاتی ہے۔ اس سپتک کے تمام سُر شدھ(یعنی پاک) ہوتے ہیں۔ ہماری موسیقی میں ہارڈ اسکیل یا تمام شدھ سُروں کی سپتک کو’’بلاول اسکیل‘‘ کہتے ہیں۔ ان سات بنیادی سُروں کے قائم کیے جانے کے بعد پانچ درمیانی سُر دریافت کر کے پڑھائے گئے اور (Octave) یا سپتک میں بارہ سُر اس ترتیب سے قائم ہوئے:

سارے رے گا گا ما ما پا دھا دھا نی نی یعنی سا اور پا کے علاوہ باقی پانچ سُروں کی دو دو شکلیں بن گئیں۔ سا او رشدھ رکھب کے درمیان ایک اور سُر قائم کیا گیا اور اس کا نام کومل یا ملائم یا اتری رکھب رکھا گیا ہے۔ اس طرح شدھ رکھب اور شدھ گندھار کے درمیان کومل گندھار قائم ہوئی۔ شدھ گندھار اور شدھ مدھم کے درمیان کوئی سُر قائم نہیں ہوتا۔ بلکہ شدھ، مدم اور پنچم کے درمیان ایک تیور یا چڑھی کا مدھم سُر قائم کیا گیا ہے۔ پنچم اور شدھ دھیوت کے درمیان کومل دھیوت اور شدھ دھیوت اور شدھ نکھاد کے درمیان کومل نکھاد قائم کی گئی۔ ان بارہ سُروں کی اب تین قسمیں ہو گئیں:سا اور پا قایم۔ یعنی ان کے اترے چڑھے روپ نہیں ہوتے۔

رے گاما دھا اور نی کے دو دو روپ یعنی کومل اور شدھ، جنھیں تیور بھی کہتے ہیں، سوائے مدھم کے، کہ شدھ مدھم دراصل کومل ہوتی ہے اور اس کے بعد کی مدھم تیور یا چڑھی یا کڑی کہلاتی ہے۔ اس لحاظ سے ایک سپتک میں دو قائم، پانچ کومل اور پانچ تیور سُر یعنی کل بارہ سُر ہوتے ہیں۔ ان بارہ سُروں کے مختلف مجموعوں سے راگ ترتیب دیے جاتے ہیں۔ اگر صرف سات سُروں کے مجموعے بنائے جائیں تو (Combination) کے حسابی قاعدے سے پانچ ہزار چالیس راگ بنتے ہیں۔ مگر تمام مجموعے چونکہ خوش آہنگ نہیں بنتے اس لیے ان کی تعداد بڑی حد تک گھٹ جاتی ہے اور برتاوے میں جو راگ آتے ہیں ان کی تعداد دو سو سے زیادہ نہیں ہے۔ مگر ہمارے ہاں ایسے استاد ہیں جنھیں اس سے زیادہ راگ یاد ہیں۔ استاد بندو خاں سارنگی نواز کو پانچ سو راگ یاد تھے۔

راگ چند خوش آہنگ سُروں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ پانچ سُر سے کم کے راگ کو راگ نہیں مانا گیا ہے۔ مگر ہماری موسیقی میں چار بلکہ تین سُر کے راگ بھی موجود ہیں۔ مثلاً سالسری جو صرف ساگا پا ہی میں گایا جاتا ہے۔

نظریاتی طور پر راگ انسانی مزاج کی کسی کیفیت کو پیش کرتا ہے۔ اسی نظریے کے تحت’’رس‘‘ کا نظریہ وجود میں آیا، مثلاً شانت رس، شرنکار رس، بھیانک رس، ہانسیارس وغیرہ۔ یعنی ایسے راگ جنھیں سُن کر سکون حاصل ہو، تعیش و لذت کا تصور پیدا ہو، خوف معلوم ہو، ہنسی آنے لگے وغیرہ۔ اس طرح کے نو رس مانے گنے ہیں جو سننے والوں میں مختلف جذبات پیدا کرتے ہیں، یا کسی مزاجی کیفیت کو ابھارتے ہیں۔

پرانی تقسیم کے مطابق چھ راگ اور تین یا چھتیس راگنیاں مقرر کی گئی تھیں، پھر ان کی بھار جائیں اور سُر بھی بنائے گئے تھے۔ مگر اس تقسیم میں اختلافات بہت تھے۔ کسی میں چھ راگ کچھ مقرر کیے تو کسی اور نے کچھ اور ہی چھ راگ مقرر کر دیے۔ اس لحاظ سے یہ تقسیم بالکل بے اصولی تھی۔ دوسرے ان راگوں کے ساتھ جو راگنیاں وغیرہ بنائی گئی تھیں ان کا راگوں سے کسی قسم کا میل ہی نہ تھا۔ کوئی ساٹھ سال ادھر پٹنہ کے ایک رئیس محمد رضا نے تمام راگوں کو دس ٹھاٹھوں پر تقسیم کیا اور ان ٹھاٹھوں کے تحت ان تمام راگ راگنیوں کو تقسیم کیا جو سُروں کی مشابہت و مماثلت رکھتی تھیں۔ یہ طریقہ اصولی ہے اور منطقی بھی۔ مگر قدامت پسندی اور روایت پرستی نے اسے سالہا سال تک رائج نہ ہونے دیا اور پرانی تقسیم پر ہی عمل ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ بمبئی کے ایک وکیل’’بھات کھنڈے‘‘ نے اسی اصول کا پرچار کیا اور کتابیں لکھ کر وہ اسے عوام میں رائج کر گیا۔ یہ وہی بھات کھنڈے ہے جس کے نام سے آج کل لکھنئو میں موسیقی کی’’بھات کھنڈے یونیورسٹی‘‘ قائم ہو گئی ہے۔

محمد رضا اور بھات کھنڈے نے پہلے دس راگوں کے ٹھاٹ قائم کیے ہیں اور پھر ان راگوں کے سُروں سے میل کھاتے ہوئے راگ اور راگنیاں ان ٹھاٹھوں کے تحت مرتب کی ہیں۔ ان کی جدید تقسیم یہ ہے:

(۱) کلیان ٹھاٹھ: اس کے سب سُر تیور ہیں۔ اس میں جو راگ راگنیاں شامل ہیں یہ ہیں: ایمن، شدھ کلیان، بھوت کلیان، عمیر، کیدارا، چھایانٹ، کامود، شام کلیان، ہنڈول، گون سارنگ، مالسری، ایمنی، بلاول، چندرکانت، ساونی کلیان، جیت کلیان۔

(۲) بلاول ٹھاٹھ: اس کے سب سُر شدھ ہیں۔ اس میں یہ راگ راگنیاں ہیں:بلاول، بہاگ، بھاگڑا، رلیکار، پہاڑی، ککبہ، شنکرا، نٹ، مانڈ، سرپردا، الیا، کمل کلی سکل، نٹ بلاولی، ہنس، دھن، چاساکھ، ہیم، درگا، نوروچکا، ملوھا کیدارا، دیوگری، جلدھر کیدارا، پٹ منجری۔

(۳) کھماچ ٹھاٹھ:اس کی رکھب، گندھار، مدھم اور دھیوت شدھ ہے اور مکھادیں دونوں لگتی ہیں۔ اس میں یہ راگ شامل ہیں: کھماچ، جھنجھوٹی، سورٹھ، دیس کھمباوتی، تلنگ، درگا، راگیری، جے جے ونتی، گونڈ ملار، نٹ ملار، تلک کامود، بڈھنس، غارا، نارائنی۔

(۴) بھیروں ٹھاٹھ: اس کی رکھب، گندھار اور دھیوت کومل ہیں۔ مدھم شدھ اور نکھارد تیور ہے۔ راگ راگنیاں اس میں یہ ہیں: بھیروں کا لنگڑا، میگھ رنجنی، سوراشبٹر، جوگیا، رام کلی، پرھاوتی، تبھاس گوری، ست پنچم، ساویری، بنگال بھیروں، شیومت بھیروں، گن کلی، ھجیج، اھیر بھیروں، زیلف، دیس، گونڈ۔

(۵) بھیرویں ٹھاٹھ: اس کے سب سُر کومل ہیں۔ راگ راگنیاں یہ ہیں: بھیرویں، مالکوس، ساوری، دھناسری، زنگولہ، موٹکی، سدھ ساونت، بسنت کمھاری، بلاس خانی۔

(۶) اساوری ٹھاٹھ: اس کی رکھب تیور، گندھار اور دھیوت کومل، مدھم شدھ۔ راگ راگنیاں یہ ہیں: اساوری، جونپوری، دیوگندھار، اڈانہ، سندھ، کوسی، درباری، دیسی، کھٹ، ابھری۔

(۷) ٹوڈی ٹھاٹھ: اس کی رکھب، گندھار اور دھیوت کومل ہے۔ مدھم تیور اور نکھاد شدھ ہے۔ راگ راگنیاں یہ ہیں: ٹو ڈی، گوجری، میاں کی ٹو ڈی، بہادری ٹو ڈی۔

(۸) پوربی ٹھاٹھ: اس کی رکھب اور دھیوت کومل ہے۔ گندھار مدھم اور نکھاد تیور ہے۔ راگ راگنیاں یہ ہیں: پوری، گوری، ریوا، میہاس، دیپک، تربینی، مالوی، سری راگ، جیت سری، بسنت پرچ، دھنا سری، پوریا دھنا سری، ہنس نارائن۔

(۹) ماردا ٹھاٹھ: اس کی رکھب کومل اور گندھار مدھم، دھیوت اور نکھاد تیور ہیں۔ راگ راگنیاں یہ ہیں: ماروا، پوریا، سوہنی، براری، جیث، بھکار، بھٹیار، ببہاس، ساج گری، مالی گورا، پنچم۔

(۱۰) کافی ٹھاٹھ: رکھب اور مدھم شدھ ہیں۔ گندھار اور نکھاد کومل اور دھیوت تیور ہے۔ راگ راگنیاں یہ ہیں: سیندورا، دافی، دھانی، بھیم پلاسی، بہار، مدھ ماد، باگیسری، حسینی کا نہرا، میگھ ملار، رام داسی ملار، میاں کی ملار، سوہا، نیلا مبری، سور ملار، پٹ منجری، پردیپکی، شہانہ، دیو ساکھ، ہنس کنکنی۔ بندرا بنی، پیلو، کوسی کا نہرا، نائکی کا نہرا، میاں کی سارنگ، سگھرئی، شدھ، بروا، ساونت، سارنگ، سری رنجنی، لنکدھن۔

ہماری کلاسیکی موسیقی ایک نہایت دقیق فن ہے۔ ان بارہ بنیادی سُروں کے علاوہ بھی درمیانی چھوٹے سُر ہوتے ہیں جنہیں سُرتیاں(Microtones) کہتے ہیں۔ یہ سُرتیاں ہمارے گانے بجانے میں بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ کیونکہ ہمارے راگ راگنیاں اسی وقت اپنا پورا لطف دکھاتی ہیں جب مقررہ بنیادی سُروں کو گھلا ملا کر لگایا جائے اور مینڈ سوت کو برتا جائے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ سُرتیوں کو برتا جائے۔ بعض راگوں کے چند سُر مقررہ بنیادی سُروں سے ہٹے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کا صحیح مقام کسی سُرتی پر ہوتا ہے۔ مثلاً درباری کی گندھار اور دھیوت۔ پرانی تقسیم کے مطابق پوری سپتک کو بائیس سُروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس طرح:

سا رے گا ما پا دھا نی۴ ۳ ۲ ۴ ۴ ۳ ۲۲=۲

مگر موجودہ سائنس کے ترقی یافتہ دور میں یہ تقسیم غلط ثابت ہو چکی ہے۔ ایک سُر سے دوسرے سُر تک جانے میں نظریاتی طور پر سینکڑوں مقام ہو سکتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں صرف اتنی سُرتیوں کو تسلیم کیا گیا ہے جنہیں گوشٍ انسانی تمیز کر سکتا ہے۔ اس معیار سے اگر ہم اپنی سپتک کو سُرتیوں میں تقسیم کریں تو اس کا بھی دار و مدار انفرادی صلاحیت پر ہو گا۔ کیونکہ ہر شخص کی صلاحیتِ سمع جداگانہ ہوتی ہے۔ کوئی دو سُرتیوں تک امتیاز کر سکے گا اور کوئی دس بارہ تک۔ تا ہم سا اور پا چونکہ قائم سُر ہیں ان کو چھوڑنے کے بعد بقیہ دس سُروں کے لیے کم سے کم چار چار سُرتیوں کی گنجائش رکھنی چاہیے۔ یوں ان دس سُروں کی سُرتیوں کی تعداد چالیس ٹھہرتی ہے۔ ان میں دو سُرتیاں سا اور پا کی شامل کر لی جائیں تو کُل تعداد بیالیس سُرتیوں کی ایک سپتک میں ہو گی۔

سُروں کی نزاکتوں اور لطافتوں کے علاوہ ہماری کلاسیکی موسیقی میں بڑی ترقی یافتہ صورت تال اور لے کی ہے۔ عالمی موسیقی میں دو چار تالوں کے علاوہ اور کوئی تال نہیں ہے۔ مگر ہمارے ہاں بے شمار تالیں ہیں۔ مشکل مشکل پیچیدہ پیچیدہ۔ اور ان تالوں اور ٹھیکوں کو بھی ماشوں اور رتیوں سے تقسیم کیا گیا ہے۔ دربار اکبری کے عظیم فن کار میاں تان سین نے ۹۶ تالیں گانے بجانے کے لیے انتخاب کی تھیں مگر فی زمانہ ہماری سہل پسندی کی وجہ سے تقریباً بارہ تالیں عام رواج میں ہیں اور استادوں کے برتاوے میں بیس بائیس۔ ان میں بھی بعض تالیں مخصوص طریقوں سے وابستہ ہیں۔ مثلاً چوتانہ اور دھمار، دھرپد اور ہوری، جھومر اور تلواڑا، خیال سے، دیپ چندی اور پنجابی ٹھمری سے، دادرا اور کہروا، دادرے، غزل اور گیت سے۔

ہماری موسیقی مجموعہ ہے’’تریوّں‘‘(Forms) کا۔ مختلف زمانوں میں مختلف طریقے یا ڈھنگ ایجاد ہوئے اور رواج پاتے رہے۔ ان کے نام یہ ہیں: (۱) الاپ، (۲) دھرپد، (۳) خیال، (۴) ٹپہ، (۵) ٹھمری، (۶) دادرا، (۷) قوالی، (۸) غزل، (۹) گیت اور (۱۰) لوک گیت۔

(ا) الاپ: الاپ گونگا گانا ہے۔ جب انسان خوش ہوتا ہے تو وہ گنگنانے لگتا ہے۔ یا جب اسے کوئی بڑا غم لاحق ہوتا ہے تو وہ واویلا کرنے لگتا ہے۔ اس کیفیت میں صرف کوئی دھن ہوتی ہے الفاظ نہیں ہوتے، اس بے لفظ کے گانے کو فنی شکل دے کر اس کا نام الاپ رکھا گیا اور اس کے لیے چند بے معنی الفاظ بھی مقرر کر دیے گئے۔ تا کہ سننے والوں کے لیے محض آ آ اجیرن نہ ہونے پائے۔ مثلاً اے، اتی، نا، نوم، توم وغیرہ۔ الاپ میں راگ کے سُروں کو وضاحت سے پیش کیا جاتا ہے، سُروں کی بڑھت بتدریج کی جاتی ہے۔ گانے کی رفتار(Tempo) سست سے شروع ہوتی ہے، پھر اوسط اور پھر تیز۔ الاپ میں چونکہ بول اور تال کی قید نہیں ہوتی۔ صرف سُر اور ’’لے‘‘ ہوتی ہے۔ اس لیے راگ کی مکمل پاکیزگی صرف اسی طریقے میں ظاہر ہوتی ہے۔ گانے والے اور سننے والے دونوں کی توجہ خالص راگ کی طرف لگتی رہتی ہے۔ بول اور تال ہوتے تو ان کی طرف بھی دھیان جاتا۔

(۲) دھرپد: جب گانے میں الفاظ داخل ہوئے تو تال اور لے کی قید سے کلام موزوں وجود میں آیا اور ترقی پا کر دھورو، چھند، پد، کبت اور دھوہا کہلایا۔ موسیقی نے جب ترقی کی تو گانے میں شاعری بھی داخل ہو گئی۔ مجلسوں اور درباروں میں پہنچنے کے بعد فنی خوبیوں میں اضافہ ہونے لگا۔ عام گانوں نے خاص خاص روپ دھارنے شروع کر دیے چنانچہ دھورو اور پد کے امتزاج سے ’’دھرپد‘‘ پیدا ہوا اور اگلے زمانے کے استادوں نے اس کے علمی اصول مقرر کیے۔ دھرپد کے چار’’تک‘‘ یا حصے ہوتے ہیں: استھائی، انارہ، سنچائی اور بھوگ۔ اس کے لیے تالیں بھی مخصوص ہیں۔ مثلاً چوتالہ، سول فاختہ، جھپ تالہ وغیرہ۔ دھرپد ایک خاص قسم کا مردانہ گانا ہے جس میں حمد و ثنا اور شجاعت کے کارنامے یا دیوتائوں کی توصیف کی جاتی ہے۔ جب دھرپد جھپ تال میں گایا جاتا ہے تو ’’سادرہ‘‘ کہلاتا ہے اور جب دھمار میں گایا جاتا ہے تو’’ہوری‘‘ کہلاتا ہے۔ دھرپد کی ترقی اکبر اعظم کے زمانے میں ہوئی۔ تان سین، بلاس خاں، درنگ خاں، لعل خاں وغیرہ نے اسے چار چاند لگائے۔ شاہ جہاں کے دورِ سلطنت تک دھرپد کا عروج رہا۔ سورج خاں، چاند خاں اور کم و بیش دو سو موسیقاروں نے اس صنف میں اپنے اپنے کمالات شامل کیے۔

(۳) خیال: پندرھویں صدی میں جونپور کے شاہان شرقیہ میں سے سلطان حسین شرقی نے ایک نئے ڈھنگ کا گانا ایجاد کیا اور اس کا نام’’خیال‘‘ رکھا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ تیرھویں صدی عیسوی میں حضرت امیر خسروؒ نے منجملہ دیگر اختراعات کے ’’خیال‘‘ بھی ایجاد کیا تھا۔ ممکن ہے کہ یہ طریقہ امیر خسروؒ ہی نے وضع کیا ہو مگر خیال کی ترویج و ترقی کا سہرا سلطان حسین شرقی کے سر ہے۔ خیال کو شروع میں دھرپد کے کینڈے پر بنایا گیا تھا۔ اس کے بھی وہی چار’’تک‘‘ یا حصے رکھے گئے تھے جو دھرپد کے ہوتے ہیں۔ بعد میں صرف استھائی اور انترہ باقی رہ گیا اور سنچائی اور ابھوگ کو خارج کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ دھرپد اور خیال میں نمایاں فرق تانوں کا رکھا گیا۔ دھرپد میں تانیں نہیں ہوتیں۔ تان کی صرف ایک شکل دھرپد میں ہوتی ہے اور وہ’’گمک‘‘ کہلاتی ہے۔

فن کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تان ناف کے زور سے لی جاتی ہے۔ یعنی دھرپد پیٹ کا زور لگا کر گایا جاتا ہے۔ خیال میں سینکڑوں قسم کی تانیں ہوتی ہیں جن سے گانے کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے۔ خیال کا گانا سینہ کا گانا کہلاتا ہے۔ خیال کے لیے نئی نئی تالیں وضع کی گئیں اور ان کی تعداد اتنی بڑھی کہ شمار سے باہر ہو گئی۔ آج کل رواج میں صرف دس بارہ تالیں ہیں۔ خیال کے عروج کا زمانہ محمد شاہ بادشاہ دہلی کا زمانہ ہے۔ ایجاد ہو جانے کے باوجود خیال کا چراغ تین سو سال تک دھرپد کے آگے نہ جل سکا۔ آخر محمود شاہ کے دو درباری فن کاروں نے خیال کو اتنا فروغ دیا کہ دھرپد ماند پڑ گیا۔ شاہ سدا رنگ اور شاہ ادا رنگ کی بنائی ہوئی چیزیں آج بھی فخر کے ساتھ گائی جاتی ہیں، بلکہ راگ کی صداقت میں بطور سند پیش کی جاتی ہیں۔ مغل شہنشاہوں کی سرپرستی آخر تک جاری رہی۔ یہاں تک کہ بہادر شاہ ظفر، آخری تاجدار دہلی نے بھی جو فی الحقیقت نام ہی کے بادشاہ رہ گئے تھے، بے شمار موسیقاروں کو اپنے دربار سے وابستہ کر رکھا تھا۔ ان میں تان رس خاں نے وہ شہرت پائی کہ برعظیم کا بیشتر شمالی علاقہ انہی کے حلقئہ تلمذ میں داخل سمجھا جاتا ہے۔ خود بادشاہ بھی خیال، ٹھمریاں بناتے تھے اور ان میں تخلص’’شوخ رنگ‘‘ کرتے تھے۔

(۴) ٹپّہ: ہماری کلاسیکی موسیقی نے عوامی گیتوں ہی سے ترقی کر کے اعلیٰ شکل پائی ہے۔ پنجاب کے عوامی گانوں میں سے ایک کا نام’’ٹپّہ‘‘ کہلاتا ہے۔ یہ سار بانوں کا گانا تھا جسے ترقی دے کر’’میاں شوری‘‘ نے کلاسیکی درجہ دیا۔ یہ تیز تانوں کا گانا ہوتا ہے۔ جس کا ہر بول تان میں بندھا ہوتا ہے۔ دربار اودھ نے میاں شوری اور ٹپّہ کی سرپرستی کی اور ایک زمانے میں ٹپّہ کی ہر دلعزیزی کے آگے خیال کا رنگ بھی پھیکا پڑ گیا تھا۔ مگر ٹپّہ چونکہ چھوٹا سا خوشنما تانوں کا گلدستہ ہوتا ہے اس لیے خیال کی عظمت کے آگے زیادہ فروغ نہ پا سکا۔ اگر خیال کو پوری آتش بازی سے تشبیہ دی جائے تو ٹپّہ کو ہم صرف ایک پھلجڑی کہہ سکتے ہیں۔

(۵) ٹھمری: دربار شاہان اودھ میں جب مردانگی کو زوال اور نسوانیت کو عروج ہوا اور بادشاہ اور رعایا کے اعصاب پر عورت سوا ہو گئی تو ٹھمری نے جنم لیا۔ ساخت تو ٹھمری کی بھی خیال ہی کی طرح ہے۔ یعنی اس میں بھی استھائی اور انترہ ہوتا ہے، مگر اس کے گانے کا ڈھنگ جداگانہ ہے۔ ٹھمری خالصتاً عورتوں کا گانا ہے۔ اس میں ایک خاص قسم کا لوچ ہوتا ہے۔ ہر بول بنا کر گایا جاتا ہے۔ بلکہ اس کے ساتھ بھائو بھی بتایا جاتا ہے، یعنی بول کی تصویر ہاتھوں، آنکھوں، ابروئوں اور اوپر کے دھڑ کی نازک جنبشوں سے پیش کی جاتی ہے، ان کی وجہ سے ٹھمری گانے کا لطف ہزار گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔ ایک ہی بول کو طرح طرح سے (ILLUSTRATE) کیا جاتا ہے اور نئی سے نئی تعبیریں کی جاتی ہیں۔ عورتوں کی دیکھا دیکھی مردوں نے بھی ٹھمریاں گانا شروع کر دیں مگر چونکہ نرت بھائو بتانے کی گنجائش مردوں کے لیے نہیں تھی اس لیے اچھے فن کاروں نے اس میں یہ کمال پیدا کیا کہ محض آواز کے مختلف اندازوں سے اس کمی کو پورا کیا جائے۔ ’’لے‘‘ بھی اس کی ایسی رکھی جس میں لوچ لچک ہو، مثلاً چاچر یا پنجابی وغیرہ۔ بول ایسے بنائے گئے جن سے جسمانی لذت کا حساس ہو۔

(۶) دادرا: یہ یورپی زبان کا گانا ہے جس کی لے برابر کی رکھی گئی۔ یعنی تال، دادرا یا کہروا منظر کشی یا شاعری میں اس دیہاتی ماحول کو پیش نظر رکھا گیا۔ جسمانی لذت کا عنصر اس میں شامل ہے۔ ٹھمری اور دادرے کے لیے راگ بھی مخصوص ہیں۔ دونو ںطریقے پورب سے وابستہ ہیں اور ہماری نیم کلاسیکی موسیقی میں شمار کیے جاتے ہیں۔

(۷) قوالی: خالص مسلمانوں کا گانا ہے جو اہل فارس کے ساتھ ہندوستان میں رائج ہوا۔ امیر خسروؒ نے اسے ایک نیا انداز دیا اور ہمارے صوفیائے کرام نے قوالی کو تزکیہ نفس و تصفیئہ قلب کا ذریعہ قرار دیا۔ امیر خسروؒ کو موجودہ موسیقی کا باوا آدم سمجھنا چاہیے۔ امیر خسروؒ ایک عجیب و غریب(Genius) تھے۔ ان کی شخصیت پہلودار تھی۔ انھوں نے گیارہ بادشاہوں کا زمانہ دیکھا، سات بادشاہوں کے مشیر و وزیر رہے۔ پانچ لاکھ شعر فارسی میں کہے اور ’’طوطئی ہند‘‘ کہلائے۔ اردو زبان کے مئوسس بھی خسرو ہی ہیں۔ ان کی پہیلیاں، کہہ مرنیاں، سونحنے آج تک زبان زدِ خلائق ہیں۔ علا الدین خلجی کے دربار میں جب ان کا مقابلہ جگت گرو نایک گوپال سے ہوا تو اسے نیچا دکھانے کے لیے انھوں نے دھرپد کے مقابلے میں طرح طرح کی اختراعیں اسے سنائیں۔ نایک گوپال ان کی موسیقانہ ذہانت کو دیکھ کر اتنا مرعوب ہوا کہ ان کا شاگرد ہو گیا۔ امیر خسرو کی ان اختراعات میں سے قول، قلبانہ، نقش، گل، ہوا، بسیط، سوہلہ، ترانہ، تروٹ اور منڈھا اب بھی ہماری موسیقی کی مایہ ناز (Forms) سمجھی جاتی ہیں۔ قول ہی سے’’قوال‘‘ اور ’’قوالی‘‘ کے الفاظ مشتق ہیں۔ بعد میں قوالی ایک مخصوص قسم کا گانا بن گیا۔ جس میں متصوفانہ کلام گایا جانے لگا اور الفاظ اور مصرعوں کی تکرار سے تاثر پیدا کیا جانے لگا۔ اہلِ دل پر اس گانے کا اتنا اثر ہوتا ہے کہ ان پر وجد و حال کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ بلکہ اکثر تواجد میں جان تن سے جدا بھی ہو گئی، جیسا کہ روایت ہے کہ:

کشتگان خنجر تسلیم راہر نفس از غیب جانِ دیگر است

پر حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ پر تین دن تک حال کی کیفیت طاری رہی اور اس شعر پر آخر ان کا طائر روح قفس عنصری سے پرواز کر گیا۔

قوالی ایک فن کار کا نہیں بلکہ ٹولی کا گانا ہوتا ہے جس میں آٹھ دس فن کار شریک ہوتے ہیں۔ ڈھولک کی تھاپ اور تالیوں کی ضرب سے روح میں عجیب کیفیت پیدا ہوتی ہے اور الفاظ کی تکرار سے ایک سماں بندھ جاتا ہے۔ آج کل قوالی میں متصوفانہ کلام کے علاوہ عاشقانہ عزلیں بھی گائی جاتی ہیں۔

(۸) غزل: غزل سرائی بھی ملکِ فارس سے ہمارے ملک میں مسلمانوں کے ساتھ آئی۔ فارسی شاعری کے تنتبع میں اردو شاعری میں بھی غزل کا رواج ہوا اور صنفِ شعر اتنی مقبول خاص و عام ہوئی کہ مشاعروں کی مجلسیں اور غزل سرائی کی محفلیں سجنے لگیں۔ ہماری مجلسی زندگی میں مجرے کا دستور بھی غزل ہی سے ہوا۔ مجرے میں ایک طائفہ ہوتا ہے جس میں مغنیہ گاتی ناچتی اور نرت بھائو دکھاتی ہے۔ اس کے ساتھ اس کے’’سفر دا‘‘ ہوتے ہیں۔ جن میں دو سارنگی نواز، ایک طبلہ نواز اور ایک مجیرے بجانے والا ضرور ہوتا ہے۔ بعد کے زمانے میں حسبِ ضرورت اور ساز بجانے بھی شریک کر لیے گئے۔

(۹) گیت: گیت یوں تو پیدائش سے موت تک ہر زمانے اور ہر موقع پر گائے جانے کا رواج چلا آتا ہے لیکن انھیں فروغ تھیٹر سے ہوا اور اس سے زیادہ فلم سے اور فلمی گیتوں نے تو اب اتنی ترقی کر لی ہے کہ ان میں مغربی دھنیں بھی حسب گنجائش داخل ہونے لگیں۔ اس زمانے میں کہ فاصلوں کی طنابیں کھنچ گئی ہیں ترکی، مصری، عربی، ایرانی، تورانی موسیقی کے انداز بھی ہماری موسیقی میں گھلتے ملتے جاتے ہیں۔ مغربی سازوں نے بھی ہماری فلمی موسیقی میں جگہ پالی ہے۔ مغربی دھنیں مثلاً ’’رمبا‘‘ اور ’’سمبا‘‘ نے مقبولیت حاصل کرنی شروع کر دی ہے۔

(۱۰) لوک گیت: یا عوامی گیت ہمارے دیہاتوں کی وسیع آبادی کے گیت ہیں جن میں دیہاتی زندگی اور قدرتی مناظر کا دل دھڑکتا ہے۔ یہ گیت اگرچہ فنی لطافتوں سے عاری ہوتے ہیں مگر ان کی سادگی میں وہ لطف ہوتا ہے جو ہماری ترقی یافتہ پرکاری میں بھی کم ہوتا ہے۔ سرحد کا ٹپّہ، لوبھا۔ پنجاب کا ماھیا، ہیر، مرزا صاحباں۔ سندھ کا رانو، کوھیاری اور جموں کی پہاڑی وغیرہ اتنی دلکش دھنیں ہیں کہ ہمارے مجلسی راگ جو صدیوں سے نکھرتے چلے آ رہے ہیں ان کے آگے پھیکے پڑ جاتے ہیں۔ اور ہاں یہ بھی ہمیں نہ بھولنا چاہیے کہ ہماری ترقی یافتہ موسیقی کی جڑ انہی لوک گیتوں میں ہے۔ یہی لوک گیت اس شاندار عمارت کی بنیاد ہیں جسے ہم پاکستانی موسیقی کا محل کہتے ہیں۔ یہ وہ’’کھڑ‘‘ ہے جس میں سے قیمتی پتھر نکالے جاتے ہیں اور علم و فن کی سان پر چڑھا کر موسیقی کے وہ جواہر تراشے جاتے ہیں جو ہماری کلاسیکی موسیقی کے رتن سمجھے جاتے ہیں۔ ہماری موسیقی کی ایک اور ایسی خصوصیت ہے جو شاید دنیا کی کسی اور موسیقی میں نہ پائی جاتی ہو۔ ہماری موسیقی میں’’گھرانے‘‘ بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ گھرانے کسی بڑے استاد کی وجہ سے قائم ہوئے۔ مثلاً دلّی والوں کا گھرانہ، آگرہ والوں کا گھرانہ، گوالیار والوں کا گھرانہ، پٹیالہ والوں کا گھرانہ، تل ونڈی والوں کا گھرانہ، کولھا پور والوں کا گھرانہ، کرانہ والوں کا گھرانہ، بہرام خاں کا گھرانہ۔ ان گھرانوں کو (School of Music) سمجھیے۔ ان گھرانوں کے افراد اور شاگرد چونکہ ایک استاد سے سیکھتے ہیں یا استاد کے شاگردوں سے سیکھتے ہیں اس لیے ان کے گانے کے اسلوب یا اسٹائل دوسرے گھرانے والوں سے یکسر جدا ہوتے ہیں۔ ہر فن کار کسی نہ کسی دوسرے گھرانے سے بالواسطہ یا بلاواسطہ متعلق ہوتا ہے۔ جب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ فلاں آرٹسٹ آگرہ والوں کے گھرانے سے تعلق رکھتا ہے تو اس کے گانے کا ڈھنگ فوراً ذہن میں آ جاتا ہے۔

راگ اور تال میں تو کوئی فرق ڈال ہی نہیں سکتا صرف اس کی ادائیگی (Execution) اور اس کے پیش کرنے کے انداز (Treatment) میں بین فرق دکھائی دے گا۔ اس کی بڑی وجہ غالباً یہ ہے کہ ہماری موسیقی لکھی نہیں جاتی، یا اگر لکھی جاتی بھی ہے تو اس کی صحیح ادائیگی صرف استادوں ہی سے سیکھی جا سکتی ہے۔ ہماری موسیقی کتابوں سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔ یہ علم و فن صدیوں سے سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا چلا آ رہا ہے۔ اس لیے جو فنکار بھی تیار ہوتا ہے وہ کسی نہ کسی گھرانے کی گائیکی گاتا ہے۔ دلّی چونکہ ہمیشہ دارالسلطنت رہی اس لیے دربار میں نامی گانے بجانے والے کھنچ کر آ گئے تھے۔ دلّی کا سب سے بڑا آخری فن کار تان رس خاں ہے جس کا شاگرد در شاگرد تقریباً سارا شمالی برعظیم ہے۔ آگرہ کے گھرانے میں، آفتاب موسیقی، استاد فیاض خاں جیسا گایک پیدا ہوا۔ جسے جیتے جی بعض لوگوں نے سہا دیو کا روپ سمجھا۔ پاکستان میں اس گھرانے کے سپوت، استاد اسد علی خاں ہیں۔ گوالیار والوں میں ہدو ہسو خاں نے نام پیدا کیا اور تان رس خاں دلّی والے کے مقابلے میں گائے۔ پٹیالہ والوں کا گھرانہ فتح علی اور علی بخش کی گائیکی سے مشہور ہوا جو اپنے گانے کی تیاری کی وجہ سے ’’جرنیل‘‘ اور ’’کرنیل‘‘ کہلائے۔ اسی گھرانے سے عاشق علی خاں، بڑے غلام علی خاں اور رفیق غزنوی جیسے زبردست گایک وابستہ ہیں۔ تل ونڈی والوں کا گھرانہ دھرپدیوں کا گھرانہ تھا۔ افسوس کہ اب اس گھرانے کا کوئی قابل ذکر فرد باقی نہیں۔ کولھا پور کے گھرانے کے کرتا دھرتا استاد اللہ دیے خاں تھے جن کے سینکڑوں شاگرد ان کے نام کو روشن کر رہے ہیں۔ کرانہ والوں میں دو نامی گویے پیدا ہوئے۔ ایک عبد الکریم خاں اور دوسرے عبد الوحید خاں۔ عبد الکریم خاں جتنے خوش آواز تھے اتنے ہی بدگلو استاد عبد الوحید خاں تھے۔ مگر انھوں نے ریاض سے اپنی گائیکی ایسی تیار کی تھی کہ آج ان کے نام سے ان کے گھرانے کا نام قائم ہے۔ اسی گھرانے کی دو یادگاریں ہیرا بائی بڑودکر اور روشن آرا ہیں۔ روشن آرا وہ مغنیہ ہے جس پر مومن خاں کا یہ شعر صادق آتا ہے:

اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپکشعلہ سا لپک جائے ہے، آواز تو دیکھو

پاکستان کو روشن آرا بیگم پر فخر ہے کہ پورے ہندوستان و پاکستان میں ان کا جواب نہیں ہے۔ بہرام کا گھرانہ دھرپدیوں کا گھرانہ ہے۔ اس کے دو بڑے فن کار اللہ بندے اور ذاکر الدین تھے۔ ان کے بعد نصیر الدین خاں نے بہت کمال اور نام پیدا کیا۔ آج کل رحیم الدین خاں، حسین الدین خاں اور ان کے بھتیجے نصیر معین الدین اور نصیر امین الدین اس گھرانے کی یادگار ہیں۔ رامپور والوں میں مشتاق حسین خاں، اشتیاق حسین خاں اور لطاف حسین خاں نے خوب شہرت پائی۔ دلّی کے گائیکوں میں استاد چاند خاں، استاد رمضان خاں اور استاد امرائو خاں نے اچھا نام پایا۔ امرائو خاں استاد بندو خاں سارنگی نواز کے بیٹے ہیں اور اپنے باپ کی طرح سارنگی بجانے میں بھی انہوں نے کمال حاصل کیا ہے۔ سندھ میں استاد مبارک علی خاں اور استاد امید علی خاں کے دم سے ہدو ہسو خاں کی گائیکی زندہ و تابندہ ہے۔

پاکستان میں کلاسیکی اور ہلکی موسیقی کے بے شمار فن کار ہیں۔ ہم نے طوالت سے بچنے کے لیے صرف مشتے نمونہ از خروارے گنتی کے نام پیش کیے ہیں۔گلوئی موسیقی کے علاوہ سازی موسیقی میں بھی مسلمان فن کار ہی پیش اور پیش پیش رہے ہیں۔ ان میں سے چن کے نام ہم سازوں کے ساتھ ساتھ لیں گے۔

ہمارے ہاں گانے بجانے کی نوعیت عالمی موسیقی سے کچھ علیحدہ ہی رہی ہے۔ ہمارے ہاں ایک ہی فن کار گاتا ہے یا کوئی ساز بجاتا ہے۔ ٹولیاں بنا کر کلاسیکی موسیقی نہیں گائی جاتی اور نہ آرکسٹرا کا ہمارے ہاں رواج رہا ہے۔ مگر اب ریڈیو کی وجہ سے آرکسٹرا بھی تیار ہو گیا۔ در اصل ہماری موسیقی کا مزاج ہی اتنا نرم و نازک ہے کہ اس میں زیادہ شور کی گنجائش نہیں ہے۔ ساز ہمارے ہاں ہمیشہ سے اکیلے بجتے چلے آئے ہیں۔ سازوں کی تعداد بھی کچھ زیادہ نہیں ہے۔ غالباً اس کمی کی وجہ ہماری قدامت پسندی اور روایت پرستی بھی ہے۔ ہمارے فن کار اسے برا سمجھتے ہیں کہ اگلے استادوں نے جو کچھ چھوڑا ہے اس پر کچھ بڑھایا جائے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ ہمارا کلاسیکی فن جامد(Static)ہو کر رہ گیا ہے۔ مگر اس سے یہ فائدہ ضرور ہوا کہ راگ راگنیاں اپنی صحیح شکل میں قائم رہیں۔ اگر ان میں تحریف کی اجازت ہوتی(جسے موسیقار بدعت سمجھتے ہیں) تو آج ہماری کلاسیکی موسیقی کی شکل مسخ ہو چکی ہوتی۔ ہماری کلاسیکی موسیقی ایک ساکت و جامد فن ہوتے ہوئے بھی ایک عظیم فن ہے اور اس کی عظمت کا یہ ثبوت کیا کم ہے کہ آپ جب بھی کوئی راگ سنتے ہیں وہ نیا لطف دیتا ہے۔ حالاں کہ وہ راگ آپ کا ہزاروں دفعہ کا سنا ہوا ہوتا ہے۔ آج کل کے فلمی گانوں نے بے انتہا جدت طرازیوں اور دلپذیریوں کے باوجود کوئی مستقل حیثیت اختیار نہیں کی۔ ان کی حیثیت وقتی اور بہت کم عمر ہوتی ہے۔ وہ فلمی گانا جو بچے بچے کی زبان پر ہوتا ہے چند مہینے بعد ایسا فراموش ہو جاتا ہے گویا کبھی اس کا وجود ہی نہیں تھا۔ اس سے ان کی موسیقانہ بے بضاعتی ظاہر ہے۔

ہمارے سازوں میں سب سے پرانا ساز’’قانون‘‘ ہے۔ کہتے ہیں کہ اسے فیثا غورث نے ایجاد کیا تھا۔ مسلمانوں کے ساتھ یہ ساز اس سرزمین پر آیا۔ اسے چھوٹی چھٹوی چوبوں سے بجایا جاتا ہے۔
بین یہاں کا پرانا ساز ہے۔ اس کی کئی قسمیں ہیں۔ مگر اس صدی میں عبد العزیز خان نے جو وچتربین اختراع کی وہ ان تمام پرانی بینوں پر فوقیت لے گئی۔ وچتربین شیشے کے بٹے سے بجائی جاتی ہے۔ اس کی آواز نہایت شیریں اور واضح ہوتی ہے۔ ناروبین، سرسوتی اور مدراسی بین اس وچتربین کے آگے ہیچ ہوتی جا رہی ہیں۔ آج کل استاد حبیب علی خاں اور محمد شریف پونچ والے بٹّہ بین بجانے میں منفرد سمجھے جاتے ہیں۔ رفیق غزنوی نے بھی بٹّہ بین بجانے میں اچھا نام پیدا کیا ہے۔

قدیم ہندوستان کی بین میں پردے ڈال کر امیر خسرو نے ستار ایجاد کیا تھا۔ ابتدا میں اس کے صرف تین تار تھے، جس کی وجہ سے اس کا نام سہ تار رکھا جو بعد کو ستار ہو گیا اور اس میں بیسیوں تار باج کے طربوں کے لگ گئے۔ نسبتاً آسان اور خوش آواز ہونے کی وجہ سے ستار نے بین کے مقابلے میں بہت جلد مقبولیت حاصل کر لی۔ زمانئہ حال میں عنایت خاں اور ولایت خاں نے ستار بجانے میں کمال حاصل کیا۔ آج بے شمار اچھے ستار بجانے والے موجود ہیں جن میں محمد شریف اور کبیر خاں کے نام قابل ذکر ہیں۔ سراج احمد قریشی نے ستار اور رباب ملا کر ایک نیا ساز ایجاد کیا ہے جس کا نام انھوں نے’’فردوس بہار‘‘ رکھا ہے۔

رباب دراصل علاقہ سرحد کا باجا ہے۔ مگر ہمارے فن کاروں نے اس میں طرح طرح کی اختراعیں کر کے اسے ایک کلاسیکی ساز بنا لیا۔ اس کی ترقی یافتہ شکل سرود ہے۔ جس کے نامی فن کار استاد علا الدین خاں، استاد علی اکبر اور استاد حافظ علی خاں ہیں۔ یہ ساز یورپی ساز’’مینڈولن‘‘ اور’’گٹار‘‘ کے مقابلے میں زیادہ خوش آواز ہوتا ہے۔

ہماری کلاسیکی موسیقی ایک ساکت و جامد فن ہوتے ہوئے بھی ایک عظیم فن ہے اور اس کی عظمت کا یہ ثبوت کیا کم ہے کہ آپ جب بھی کوئی راگ سنتے ہیں وہ نیا لطف دیتا ہے۔

گز سے بجائے جانے والے سازوں میں ہمارا قدیم ترین ساز سارنگی ہے۔ یہ نہایت مشکل ساز ہے۔ یہ گھسے سے بجتی ہے، تانت کے پہلو میں ناخن ملا کر رکھے جاتے ہیں اور ان کے کھسکانے سے سُر اترتے چڑھتے ہیں۔ صدیوں تک یہ ساز ایک ہی شکل میں رہا۔ قد و قامت میں البتہ بڑا چھوٹا ہوتا رہا۔ مگر اس صدی میں دلّی والے استاد بندو خاں سارنگی نواز نے اس ساز کی ہیئت میں تبدیلی کی اور طرح طرح کی سارنگیاں بنا کر تجربے کیے۔ آخر میں انھوں نے موٹے بانس کی سارنگیاں اپنے لیے بنوائی تھیں اور ان پر تانت کے بدلے فولاد کے تار چڑھائے تھے۔ اسے بھی بجانے کا اصول تو وہی پرانا تھا مگر اس کی آواز میں نمایاں فرق آ گیا تھا۔ بجانے کے طریقے میں بھی استاد بندو خاں نے جدتیں کی تھیں۔ انہوں نے سارنگی میں دوسرے سازوں کا باج بھی داخل کیا تھا۔ مثلاً رباب، دلربا، بین، طبلہ، سب کے نقشے اپنے بانس میں اتار لیے تھے۔ وہ گھسّے سے بھی سارنگی بجاتے تھے اور انگلیوں کی ضرب(Tapping) سے بھی۔ بندو خاں صاحب نے سارنگی کو’’سورنگی‘‘ بنا دیا تھا اور اس کے بجانے میں ایسا کمال پیدا کیا تھا کہ ایسا باکمال فن کار صدیوں سے پیدا نہیں ہوا تھا۔ اب بھی جس ڈھنگ سے وہ سارنگی بجاتے تھے وہ ڈھنگ صرف ان کے بیٹے اور جانشین استاد امرائو خاں کو آتا ہے۔ استاد بندو خاں سارنگی کے جادوگر کہلاتے تھے۔ افسوس کہ حال میں ہی کراچی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ فلوسا خاں، حامد حسین اور نتھو خاں پاکستان کے مایہ ناز سارنگی نواز ہیں۔

دلربا، ستار اور سارنگی کو ملا کر بنایا گیا ہے۔ اس کا زیادہ رواج مشرقی پاکستان کی طرف ہے۔ مگر آسان ہونے کی وجہ سے یہاں بھی اس کا رواج بڑھتا جا رہا ہے۔ ستار کی طرح اس میں پردے ہوتے ہیں مگر مضراب کے بدلے اسے گز سے بجایا جاتا ہے۔ اسے’’اسراج‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اس کے استاد بھائی لال ہیں۔

پھونک سے بجائے جانے والے سازوں میں سب سے قدیم ساز شہنائی ہے، جو دراصل’’سینائی‘‘ ہے۔ کیونکہ اس کے موجد حکیم بو علی سینا تھے۔ یہ نفیری کی شکل کا ساز ہے جس کا بجانا مشکل ہے۔ بجانے کا اصول وہی ہے جو معمولی بانسری کا۔ بسم اللہ خاں نے شہنائی بجانے میں کمال حاصل کیا ہے۔

ضرب سے بجائے جانے والے سازوں میں جل ترنگ ایک عجیب ساز ہے۔ اسے امیر خسرو کی اختراع بتایا جاتا ہے۔ بیس بائیس چینی کے پیالے اس طرح نیم دائرہ بنا کر رکھے جاتے ہیں کہ ان کا قد و قامت کم ہوتا جاتا ہے۔ پھر ان میں پانی ڈال ڈال کر ان کے سرسپتنک کے حساب سے قائم کیے جاتے ہیں۔ دونوں ہاتھوں میں دو چوبیں لے کر پیالے کی کگر پر مارنے سے سُر کی آواز پیدا ہوتی ہے۔ ان پیالوں کو اس طرح بجایا جاتا ہے کہ ان سے ہر دھن پیدا ہو سکتی ہے۔ پیالوں اور پانی کی دشواری سے بچنے کے لیے’’نل ترنگ‘‘ اور’’لکڑ ترنگ‘‘ وغیرہ بھی ایجاد کیے گئے ہیں۔

تال کے سازوں میں ہمارے ہاں کئی ساز ہیں۔ سب سے قدیم ڈھول ہے جو آج کل بھی منادی کرنے کے لیے دیہاتوں میں بجایا جاتا ہے۔ اس کے بعد نوبت نقارہ ہے جو محلات شاہی اور رئیسوں، امیروں کی ڈیوڑھیوں پر بجتا تھا اور جلوسوں میں بھی پیش پیش رہتا تھا۔ مجلسی سازوں میں قدیم ساز پکھاوج یا مردنگ ہے جو ڈھول کی شکل کی ہوتی ہے۔ مگر اس کے درمیانی تسموں میں گٹّے چڑھے ہوتے ہیں۔ ان سے پکھاوج کو سُر میں ملایا جاتا ہے۔ پکھاوج کو بیچ میں سے کاٹ کر امیر خسرو نے’’طبلہ‘‘ ، ’’بایاں‘‘ بنایا ہے جو طبلہ کی جوڑی کہلاتی ہے۔ ان میں ایک’’دایاں‘‘ لکڑی کا ہوتا ہے جس کے تسموں میں گٹے چڑھے ہوتے ہیں اور دوسرا بایاں ہوتا ہے تانبے کا یا مٹی کا۔ دایاں طبلہ سُر میں ملایا جاتا ہے اور بایاں گمگ پیدا کرتا ہے۔ نوبت نقارہ، ڈھول، تاشہ، پکھاوج، مردنگ سب کے بول علیحدہ ہوتے ہیں۔ امیر خسرو نے طبلہ کے بول سب سے الگ مقرر کیے ہیں۔ مثلاً پکھاوج کے بول ہیں کڑان، جھا، وغیرہ تو طبلہ کے’’ترکٹ‘‘ اور’’دھرکٹ‘‘۔ پھر اسے بجانے کا اصول بھی علیحدہ مقرر کیا۔ پکھاوج پوری ہتھیلی سے بجاتی جاتی ہے، طبلہ صرف انگلیوں کے پوروں سے۔ پکھاوج کے بول’’کھلے‘‘ کہلاتے ہیں اور طبلہ کے ’’بند‘‘۔ ڈھولک بھی امیر خسرو کی ایجاد بتائی جاتی ہے۔ اس کی درمیانی ڈوڑیاں چھلوں کسی جاتی ہیں۔ اس کے بول بھی تال کے دوسرے سازوں سے الگ مقرر کیے گئے ہیں۔ ڈھولک قوالی کا خاص ساز ہے۔ قوالوں کی چونکہ ٹولی ہوتی ہے اس لیے طبلہ کی چانٹ چٹکی کی آواز میں دب جاتی ہے۔ لہٰذا ڈھولک کی تھاپ تھپکی رکھی گئی۔ قوالی کے ٹھیکے بھی الگ مقرر کیے گئے اور یہ’’ٹھیکے‘‘ کھلے ہاتھ سے بجائے جاتے ہیں۔

سرحد اور سندھ کے بعض ساز مخصوص ہیں۔ مثلاً سارندہ اور طنبورہ۔ سارندہ ایک طرح کی چھوٹی سارنگی ہوتی ہے جس کی پسلیاں چوڑی اور پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔ نیچے کھال منڈھی ہوتی ہے اور اوپر پسلیوں کا منھ کھلا ہوا ہوتا ہے۔ یہ کھلا ہوا منھ گراموفون کے ہارن کی طرح آواز کو بڑھا کر خارج کرتا ہے۔ سارندہ گز سے بجایا جاتا ہے اور اس کی آواز بڑی تیز ہوتی ہے۔ چونکہ اس کا میدان انگلیوں کی دوڑ کے لیے مناسب نہیں ہوتا، اس لیے اس میں سارنگی یا وایولن کی طرح تیاری نہیں پیدا کی جا سکتی۔ صرف گز کے (Stroke) ہی اس میں لگائے جا سکتے ہیں۔ سارندہ عموماً عوامی گانوں کے ساتھ بجایا جاتا ہے۔ اس لیے اس میں تیاری کی ویسے بھی ضرورت نہیں ہے۔ طنبورہ ایک طرح کا ابتدائی(Primitive) رباب ہوتا ہے جو تال کا کام بھی دیتا ہے اور سُر کی’’آس‘‘ بھی دیتا ہے۔ اس طنبورے کو ہماری موسیقی کے کلاسیکی طنبورے سے کوئی نسبت نہیں۔ کلاسیکی طنبورے میں صرف چار تار ہوتے ہیں اور انھیں مقررہ سُروں میں ملا لیا جاتا ہے۔ ان تاروں کو صرف چھیڑا جاتا ہے تا کہ گانے یا بجانے کی بنیاد قائم رہے۔ یہ صرف’’ڈرون انسٹرومنٹ‘‘(Drone Instrument) ہوتا ہے۔ اسے’’تانپورہ‘‘ بھی کہتے ہیں۔

جدید یا آج کل کی موسیقی میں خصوصاً فلمی اور ریڈیائی موسیقی میں، یورپی ساز بھی آرکسٹرا اور ہلکی موسیقی میں شامل کیے گئے ہیں۔ ان سے بڑے خوشگوار اضافے ہو رہے ہیں۔ یورپی سازوں میں سیکسوفون، کلارنٹ، کارنٹ، چیلو اور ڈبل بیس عمومیت حاصل کر چکے ہیں۔ فلمی موسیقی میں پورا یورپی آرکسٹرا لیا جانے لگا ہے۔ اس سے مشرقی موسیقی کا مزاج بدل کر مغربی موسیقی سے قریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس زمانے میں اس کی ضرورت بھی تھی کیونکہ ہماری کلاسیکی موسیقی جامد و ساکن ہو کر محدود ہو گئی ہے۔ کلاسیکی موسیقی کے طرفداروں کو شاید موجودہ موسیقی کے رجحانات پسند نہ آئیں مگر اس میں شک نہیں کہ جب فن کی ترقی کا سوال آئے گا تو وہ اس بدعت کو بھی گوارا کر لیں گے۔ اس وجہ سے بھی کہ جدید موسیقی سے ہماری قدیم موسیقی کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا اور جدید و قدیم میں تو ہمیشہ سے اختلاف چلا آتا ہے اور آئندہ بھی چلتا رہے گا اور اختلاف رائے کوئی ایسی بری چیز نہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: