ایف آئی آر : سمیع احمد

0
  • 13
    Shares

عوام کو بلاتخصیص امیر و غریب انصاف کی فراہمی ریاست کی اہم ذمہ داری ہے جس سے مثالی معاشرہ اور امن و امان کی فضا قائم ہوتی ہے لیکن پاکستان کے عوام کی یہ بدنصیبی ہے کہ یہاں جلد انصاف کی فراہمی تو دور کی بات انصاف کے تقاضوں کو بھی نظر انداز کیا جاتا ہے عوام کو قانونی پیچیدگیوں اورسسٹم میں اس طرح پھنسا دیا جاتا ہے کہ انصاف کے متلاشی اپنا حق حاصل کرنے میں دنیا سے گزر جاتے ہیں لیکن انصاف سے محروم رہتے ہیں۔میڈیا پر کسی بھی واقعے کی بریکنگ نیوز 3منٹ کے اندر نشر ہوجاتی ہے لیکن ایف آئی آر درج ہونے میں 4 دن لگتے ہیں، ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کا نقصان غریب اور کمزور کو ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جہاں کیمرہ 3 منٹ میں پہنچ جاتا ہے وہاں پولیس کیوں نہیں پہنچتی؟ سب کے سامنے ایک واقعہ ہوتا ہے لیکن پھر بھی ایف آئی آر کٹنے میں 4 دن لگ جائیں تو اس تاخیر کا ذمے دار کون ہے؟ جرم کہیں بھی سرزد ہو جائے اس کو ریکارڈ پر لانے اور انصاف کے پروسیجر کا آغاز کرنے کیلئے جو پہلی دستاویز بنتی ہے اسے فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (FIR) کہا جاتا ہے۔ب ظاہر تو یہ ہر فریادی کی فریاد کو فوراً لکھ کر اس پر کاروائی کا آسان سا عمل ہے مگر ہمارے ہاں یہ پہلی دستاویز ہی بہت سارے تکلیف دہ عوامل کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔آپ کو کہیں تو شکایت ملتی ہے کہ مہینوں دھکے کھانے کے بعد بھی درج نہیں ہو سکی اور کہیں چند منٹوں میں ‘جھٹ منگنی پٹ بیاہ’ کے مصداق درج ہو جاتی ہے۔

کسی وقوعہ کے فوراً بعد سفارش، رشوت اور دباؤ کے ذریعے اپنی مرضی کی ایف آئی آر بنوانے یا رکوانے کیلئے دوڑ دھوپ شروع ہو جاتی ہے آپ کو سوسائٹی میں ایسے طاقت ورلوگ بھی نظر آئیں گے جو دن کو رات اور رات کو دن میں بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لہٰذاشروع سے ہی مقدّمات کی مضبوطی یا کمزوری کا دارومدار ان عوامل کے اثرات پر ہوتا ہے اور یہی عوامل اسکے فوری، بدیر یاغیر موثر کیے جانے کا سبب بنتے ہیں۔۔ اگرچہ قانون موجود ہے مگر عملاً جھوٹی ایف آئی آر کروانے والے، جھوٹے گواہ اور غیر منصفانہ فیصلے دینے والے منصف کیخلاف کارروائی پہاڑ سے ٹکرانے کے مترادف ہے لہٰذا عدالتوں میں اکثر ایف آئی آر بے خوف و خطر جھٹلا دی جاتی ہیں۔

۔ دوسرا پہلو ایف آئی آر کے بعد کی کارروائی ہے۔ جو ں ہی کسی نے کسی کے خلاف ایف آئی آر کٹوائی، ملزم سے مجرم کا سا سلوک شروع ہو جاتا ہے۔ اسے فوراً گرفتار کر کے حوالات میں ڈال دیا جاتا ہے اور پھر تفتیش شروع ہوتی ہے۔ اس دوران اسکی بزرگی،شہری حقوق اور وقار ختم ہو جاتا ہے۔تفتیش ایک آدھ دن میں تو ہونے سے رہی،لہٰذا اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جاتا ہے۔وہاں پر اسے قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک برداشت کرنا پڑتا ہے۔حتی کہ ڈھیر سارا خرچہ کرنے کے بعد اسکی ضمانت ہوتی ہے اور تب جا کر وہ پھر سے اپنے مقام پر واپس آتا ہے۔پھرشامل تفتیش رہتا ہے قانون کا طالب علم ہونے کے ناطے ایف آئی آر کے سسٹم میں بہتری کے لیۓ چند ایک تجاویز ہیں۔ ہر تھانے میں ایک جوڈیشل مجسٹریٹ تعینات کیا جائے۔ فریادی سب سے پہلے اسکے سامنے پیش ہو کر جو کچھ اور جتنا زیادہ لکھنا یا لکھانا چاہے اسے حرف بہ حرف ضبط تحریر میں لا کر ہر صفحہ پر اسکے دستخط اور نشان انگوٹھا کے بعد عدالتی مہر ثبت کر دی جائے۔اسکی مصدقہ تین کاپیاں بنیں- ایک مدعی کودے دی جائے ایک عدالت کے ریکارڈ میں رہے اور ایک پولیس کے حوالے کر دی جائے۔

کسی وقوعہ کے فوراً بعد سفارش، رشوت اور دباؤ کے ذریعے اپنی مرضی کی ایف ای آر بنوانے یا رکوانے کیلئے دوڑ دھوپ شروع ہو جاتی ہے آپ کو سوسائٹی میں ایسے طاقت ورلوگ بھی نظر آئیں گے جو دن کو رات اور رات کو دن میں بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں

پولیس کیلئے اس مصّدقہ بیان کوFIRکے ساتھ منسلک کرنا لازم ہو تاکہ پہلی عدالت سے آخری اپیل تک مدعی کا پہلے دن کا لفظ بہ لفظ بیان ہر جج کے سامنے ہو۔اسی طرح جب پولیس خود کسی کے خلاف درج کرنا چاہے تو مدعاعلیہ،مال مقدمہ اور وقوعہ کی ابتدائی شہادتیں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کر کے اس سسٹم کو اپنائے۔اس طرح جھوٹے مقدمات اور غلط برآمدگی وغیرہ پر بھی کنٹرول کیا جا سکے گا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ کے تھانے میں بیٹھنے سے ضمانت،سپرداری، بیان حلفی وغیرہ کے حصول میں پائی جانے والی پبلک کی بہت ساری تکالیف، ملزم کی فوری تذلیل اور وقت کے ضیاع کا ازالہ ہوسکے گا۔ایک اور بات جو آج کا موضوع تو نہیں مگراسی سلسلے کی کڑی ہے۔وہ یہ کہ فیصلے کے وقت جن مدعیان اور گواہوں کو عدالت جھوٹا ڈکلئیر کردے اگر انہیں وہیں گرفتار کر کے انکے ٹرائل کی ذمہ داری حکومت لے لے، تو عدالتوں میں مقدمات کا بوجھ بھی تیسراحصہ رہ جائیگا۔ ہم ایک کومپرو مایزد سوسائٹی ہیں لہٰذا پولیس سے لیکر عدالتوں تک لوگ بے اعتمادی اور بے چینی کا شکار ہیں۔ یہ اضطراب مائل بہ فساد کیوں ہوتا جا رہا ہے؟ گواہ مجبور اور گواہیاں کمزور ترکیوں ہوتی جا رہی ہیں؟ طاقتور اور مجرم احاطہ عدالت میں *V* کا نشان بناتے اور معصوم فریادی سہمے کیوں نظر آتے ہیں؟ کیا اس کیفیت کو کوئی معاشرہ زیادہ دیر تک بر داشت کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں ہمیں آج نہیں تو کل اپنے اداروں کی اصلاح کرنی ہو گی۔

انصاف فراہم کرنے والے اداروں کی غفلت و لاپروائی اور قانونی موشگافیوں کے باعث عوام کا نظام سے اعتبار تو اٹھ ہی رہا ہے اس پر مستزاد پولیس کے محکمے میں سیاسی بھرتیوں، رشوت ستانی، ڈنڈا کلچر نے بھی عوام کو متنفر کردیا ہے۔ سسٹم کی اس خرابی کا احساس عدالتوں میں بیٹھے محترم جسٹس صاحبان کو بھی ہے، یہی وجہ ہے کہ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر سے متعلق ایک مقدمے میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیے ہیں کہ اس دور میں انصاف ملنا تو کجا غریب کی رپٹ درج ہونا ہی کمال ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: