کم عمری کی شادیاں اور آج کے مسائل ۔۔۔۔۔ سلمیٰ جیلانی

0
  • 50
    Shares

حالیہ پاکستان وزٹ پر ایک پرانی پڑوسن جو بچپن کی بے تکلف دوست بھی ہے، اپنی بیٹی کے ساتھ مجھ سے ملنے آئی۔ ہم دونوں دنیا جہاں کی باتوں میں اتنی مگن ہو گئیں کہ اس کی بیٹی کی طرف دھیان ہی نہ گیا جو اس دوران کسی بت کی طرح خاموش سر جھکائے بیٹھی تھی جیسے اس کے پاس بولنے کے لئے الفاظ ختم ہو گئے ہوں یا کسی ایسے مسئلہ میں الجھی ہو جو مجھ سے بات کرنے میں مانع ہو۔ چائے اور دوسرے لوازمات میز پر لگاتے ہوئے میری توجہ اس کی طرف مبذول ہوئی تو اس سے پوچھا۔

’’نادیہ کیا بات ہے تم ہمیشہ کی طرح چہک نہیں رہیں، مجھے یاد ہے بچپن میں تم بہت ہی شریر اور چلبلی رہی ہو ، اب اتنی بزرگی کیوں طاری کر رکھی ہے‘‘۔ وہ کچھ اداسی سے بولی ’’خالہ جان، میری سب دوستوں کے رشتے طے ہو رہے ہیں، کچھ کے تو اگلے دو تین ماہ میں نکاح بھی ہو جائیں گے۔ میں اس کی پریشانی پر چونکی، ارے اتنی کم عمری میں، تم تو ابھی صرف سترہ سال کی ہو‘‘، ہے نا شگفتہ ! میں نے اپنی دوست کی طرف اپنی بات کی تائید کی غرض سے دیکھا۔ ’’ابھی تو تم سب کی پڑھنے لکھنے کی عمر ہے، اچھا……. تو تم اس لئے پریشان ہو کہ اکیلی رہ جاؤ گی، دوستوں کا ساتھ چھوٹ جائے گا یا تم بھی یہ چاہتی ہو کہ ابھی سے تمہاری بھی شادی ہو جائے‘‘۔

اس نے جلدی سے جواب دیا ’’نہیں… نہیں خالہ میں تو انجینئر بننا چاہتی ہوں… اعلیٰ تعلیم میرا خواب ہے‘‘۔ ابھی وہ اپنی بات پوری بھی نہیں کر پائی تھی کہ میری دوست نے لقمہ دیا، ’’ہاں کیوں نہیں اگر اچھا رشتہ آ گیا تو اس کی بھی شادی جلدی ہی کریں گے۔ پڑھائی کرتی رہے گی تو عمر نکل جائے گی۔ آج کل لڑکے کم عمر لڑکیاں ہی چاہتے ہیں‘‘۔

میں نے کچھ اچھنبے سے کہا ’’کیوں؟ انجینئرنگ پاس کرنے میں انٹر کے بعد چار سال ہی تو لگتے ہیں، زیادہ سے زیادہ بائیس یا تیئس سال کی ہو گی اس کی عمر جو کوئی زیادہ نہیں۔ میری رائے میں تو لڑکیوں کو اچھی پروفیشنل تعلیم دلانا ان کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا آگے چل کر وہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں گی، اپنے خاندان کے لئے اچھی مثال قائم کریں گی‘‘۔

تقریبات میں جانا تک چھوڑ دیا تھا اسی وجہ سے۔ عورتیں مجھے روک روک کر طنز کے تیر چلاتی تھیں ’’ارے دیکھو تو کتنی پیاری ہے مگر شادی جانے کیوں نہیں ہو رہی وغیرہ وغیرہ، تو میں نہیں چاہتی میری بیٹی کو بھی کل کوئی ایسے ہی طعنے دے۔

شگفتہ نے تنک کر جواب دیا ’’بس رہنے دو یہ کتابی باتیں، تیئس چوبیس سال کی عمر میں تو اسے کوئی پوچھنے والا نہیں، اس کے ساتھ کی لڑکیاں دو تین بچوں کی مائیں بن جائیں گی، تب تک تو لوگ اسے بوڑھا بنا دیں گے‘‘۔ میں شگفتہ کی سوچ پر حیران رہ گئی۔

” ارے یہ تم کہہ رہی ہو؟ جس نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، پھر اچھی جاب بھی کی۔ شادی کے بعد گھر اور بچوں کی زمہ داری بھی بہت سی گھریلو خواتین سے زیادہ بہتر طریقے سے نبھا رہی ہو، کیونکہ تمہیں اپنے وقت کو مناسب طریقے سے استعمال کرنا آتا ہے۔ تم اپنی بچی کی تربیت کے لئے اسے اچھے اسکول میں پڑھا رہی ہو، اسے زندگی کا سلیقہ سکھا رہی ہو۔ تمہاری شادی پچیس سال کی عمر میں ہوئی، بولو! کیا کمی ہے تم میں؟ اب ذرا ہماری اس مشترکہ دوست عطیہ کی مثال لے لو جو اٹھارہ سال کی عمر میں بیاہ دی گئی۔ شوہر اور بھری پری سسرال کی دیکھ بھال کا کوئی شعور بھی نہیں تھا۔ کیسے آئے دن لڑائی جھگڑے ہوتے رہے، بچے بھی اتنے غصے والے، بات بات پر ماں کو ہی تنگ کرتے تھے عجیب سا ماحول ہو گیا تھا اس کے گھر کا۔ میں سمجھتی ہوں اگر اس کی شادی اس وقت ہوتی جب وہ تھوڑی باشعور ہو جاتی تو زیادہ بہتر طریقے سے اپنے خاندان کی نگہداشت کر سکتی تھی۔

یہ تو تم ٹھیک کہہ رہی ہو ’’شگفتہ نے آہستہ سے سر ہلایا اور خود کلامی کے انداز میں بولی‘‘، لیکن، ہماری ماؤں نے تو گھریلو تعلیم ہی حاصل کی تھی اور چھوٹی عمروں میں چھ آٹھ بچے پالے اور سب کو اچھی تعلیم اور تربیت دینے میں بھی کامیاب ہو گئیں وہ سب انہوں نے ایسے کر لیا؟ ، اور ایک بات……. جو تمہیں شائد نہیں معلوم، پچیس سال کی عمر میں شادی ہونے پر مجھے اپنی عمر کے زیادہ ہونے کے کتنا احساس دلایا گیا تم تو شادی کے بعد اکثر ملک سے باہر رہی ہو اس لئے یہ اندازہ نہیں کہ یہاں میں نے کتنی تکلیف اٹھائی، تقریبات میں جانا تک چھوڑ دیا تھا اسی وجہ سے۔ عورتیں مجھے روک روک کر طنز کے تیر چلاتی تھیں’’ارے دیکھو تو کتنی پیاری ہے مگر شادی جانے کیوں نہیں ہو رہی وغیرہ وغیرہ، تو میں نہیں چاہتی میری بیٹی کو بھی کل کوئی ایسے ہی طعنے دے۔ مجھے نہیں پرواہ کہ یہ انجینئرنگ پڑھ کر اپنا خواب پورا کرتی ہے یا نہیں، ویسے بھی اکثر لوگ نہیں چاہتے کہ ان کی بہو شادی کے بعد جاب کرے۔ تو کیا فائدہ اتنا پڑھانے لکھانے کا جب اس کا کوئی نتیجہ ہی نہیں نکلنے والا‘‘۔

شگفتہ اپنے موقف کے حق میں دلائل دیتی رہی اور میں ان تمام باتوں کو سن کر سوچ رہی تھی، ہمارا معاشرہ اس روایتی سوچ سے کب اور کیسے نجات حاصل کر سکے گا جو لڑکیوں کی ترقی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ اس بات سے یہ ہر گز نہ سمجھئے گا کہ میں ترقی نسواں کی علمبردار کوئی ایسی خاتون ہوں جو لڑکیوں کی بروقت شادی کے خلاف اور جاب کر کے ایک آزادانہ زندگی گزارنے کی حامی ہو جیسا کہ اکثر مغربی معاشرے کے باسیوں کے متعلق خیال کیا جاتا ہے۔

یقین کیجئے یہاں مغرب میں بھی خواتین پڑھائی کے ساتھ ساتھ شادی کر کے گھر اور بچوں کی تربیت میں بالکل ہماری مشرقی عورتوں کی طرح مصروف نظر آتی ہیں۔ میرے یہ سب لکھنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ لڑکیوں کی شادی اس وقت کی جائے جب وہ گھر اور بچوں کی زمہ داری سنبھالنے کے لئے ذہنی اور جسمانی طور پر پوری طرح تیار ہوں۔ دوسروں کی دیکھا دیکھی انہیں ایسے رشتے میں باندھنے کے لئے جلد بازی سے کام نہ لیا جائے جس کے لئے پوری توجہ اور دلچسپی مرتکز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ایک عمر بھر کا بندھن ہے۔ لڑکوں کو بھی اپنی ہم عمر لڑکیوں سے شادی کے متعلق سوچنا چاہئے تاکہ آپس میں ذہنی ہم آہنگی ہو سکے۔

آج کل ٹیکنالوجی کا دور ہے اور چھوٹے بچوں کے کچے ذہن وقت سے پہلے ہی بے تحاشا معلومات کی وجہ سے آلودہ ہو رہے ہیں دوسرے معاشرتی اور معاشی مسائل بھی پہلے زمانے سے بہت مختلف ہیں تو ذرا سوچیں کہ ہم اپنے بچوں کو بہتر مستقبل دینے کے لئے اس ضمن میں کیا کر سکتے ہیں؟ ۔ ان تمام مسائل سے بخوبی نمٹنے کے لئے پڑھی لکھی باشعور مائیں تیار کریں یا پھر چھوٹی عمروں میں ان پر زمہ داریوں کا اتنا بوجھ ڈال دیں جو انہیں مختلف نفسیاتی اور جسمانی امراض میں مبتلا کر سکتا ہو۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: