میری روح کا سفرنامہ: جبران عباسی

0
  • 17
    Shares

درد کے مارے ہوش جاتا رہا، کرب سے آنکھوں میں بار بار نمی آ جاتی، تکلیف سے مسلسل کراہتے ہوئے بالاآخر نیند نے آ لیا۔

دیکھتا ہوں روح وجود کو ترک کر رہی ہے اور کسی بلیک اینڈ وائٹ عالم میں آوارہ گردیاں کرنے کی تیاریوں میں ہے۔چنانچہ سفر کا آغاز ہوا اور پہلا پڑاؤ ایک جنگل میں کیا، عجب نظارہ تھا۔ برہنہ مرد و زن ادھر اُدھر خوراک کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ کچھ کے ہاتھوں میں نیزے ہیں تو کچھ نے کمان ہاتھ میں لے رکھی ہے اور تیر کندھے سے لٹکائے ہوئے ہیں۔ شکلوں سےمعلوم ہوتا ہے بڑی مشکل سے گزارہ کرتے ہیں۔ آنکھوں میں آنسو آ گے کہ دیکھو قدرت کی تلخ بے رحمیوں کا شکار ہیں مگر پھر بھی انسانیت کا دم بھر رہے ہیں۔ کسی جسم پر مخالف جنس کی نظر بد نہیں، امیر غریب کا تصور ناپید، چونکہ ابھی تہذیب و تمدن کا آغاز نہیں تو ہر ایک کو آزادی اظہار رائے کا حق حاصل ہے، کسی برہنہ مرد کو کسی برہنہ زن کے اخلاقیات کی حفاظت کا ٹھیکہ نہیں۔سب کا عقیدہ ہے سوال جواب کا ایک دن مقرر ہے یہ وقت عمل کا ہے اور یہ اختیار اس بڑے آدمی کو حاصل ہے جس کا مسکن اس پہاڑ کے پیچھے ہے۔ میری روح کو وجدان حاصل تھا کہ ان برہنہ مرد و زن کیلئے کچھ علم تجویز کروں میں نے انھیں تہذیب و تمدن کی افادیت کے درس سے نوازا۔ خیال تھا تہذیب و تمدن ان برہنہ اجسام کیلئے بہترین تحفہ ہیں کیونکہ ان کی واحد خامی شرم و حیا کا فقدان ختم ہو جائے گا۔

کسی جسم پر مخالف جنس کی نظر بد نہیں، امیر غریب کا تصور ناپید، چونکہ ابھی تہذیب و تمدن کا آغاز نہیں تو ہر ایک کو آزادی اظہار رائے کا حق حاصل ہے

میری روح کے سفر کا آغاز پھر شروع ہوتا ہے کچھ دھندلی سی گھاٹیاں آئیں اور چند ایک سیاہ پہاڑ، جیسے ہی خاموش وادیوں کو الوداع کیا سامنے ایک بستی کا بڑا سا دروازہ تھا جس کی پیشانی پر سنہری حروف میں لکھا ہے’’وادی تہذیب و تمدن مملکتِ نظریہ‘‘

پہلے بازار میں ہجوم سے واسطہ پڑا ۔ مگر یہ کیا وادی تہذیب و تمدن کے اس بازار میں عجب واہیات چلن ہے۔جسموں پر تہذیب کا تحفہ لباس تو موجود ہے مگر جنس مخالف پر بری نظروں کے سلسلے کا کوئی اختتام نہیں۔ صنف نازک گھر سے نکلتے ہی پہلے محلے کے شریف زادوں کی نظر کی تسکین بنتی ہے پھر بازار کے ہر عاقل کیلئے۔ جنگل کی طرح زندگی مشکل نہیں مگر انسانیت ناپید ہو چکی ہے البتہ کچھ انسانی حقوق نامی کمپنیاں انسانیت کی پروڈکشن کر رہی ہیں۔ ابھی بازار کے وسط میں کھڑی میری روح پر یہ راز منکشف ہو رہے تھے کہ اچانک بازار کے سرے پر ایک طوفان بدتمیز ی اُمڈا۔کافر کافر کافر کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں پگڑیوں اور ٹوپیوں کی ایک ٹولی نے اپنے چند اثر پذیر اوباش لونڈوں کی مدد سے ایک نہتی عورت کو گھیرے میں لے رکھا ہے، اس کی ہر لفظ کی مخالفت میں کافر کافر، ملحد اور لبرل کے نفرت آمیز نعرے لگ رہے ہیں۔ مختصر سا قد، آنکھوں میں بغاوت کی چنگاریاں اور زبان سے نکلتا ہر لفظ پگڑیوں اور ٹوپیوں والوں کی طاقت کو للکار رہا ہے۔

لونڈے پگڑیوں والوں کے حکم پر اول فول تو بک رہے ہیں مگر جرت نہیں آگے بڑھ سکیں۔ مگر افسوس قدرت کے تلخ بے رحمیاں اسکی مردانہ روح کو عین اسی لمحے اسکے زنانہ وجود سے جدا کر دیا گیا۔ اس کے جنازے پر آخری مرتبہ بکواسیات کا مرثیہ پڑھ کر ساری ٹولی منتشر ہو جاتی ہے اب یہ تب اکٹھی ہو گی جب اگلا شکار ملے گا۔ روح کی روح چھلنی ہے مگر مجبوری یہ کہ آگے کا حکم ہوتا ہے۔ ایک ویران راستے سے گزر ہوا تو کسی عمارت سے معصوم بچی کی چیخ و پکار سنای دیتی ہے۔ روح کا دل بیقرار ہو جاتا ہے اور بالآخر آواز کا سراغ لگا لیتی ہے مگر یہ منظر ناقابل الفاظ ہے ایک ننھی سی بچی کو ایک درندہ کاٹ رہا ہے۔ خون کی ہر ایک بوند سے رحم رحم کی سسکی دم توڑ رہی ہے۔ التجائے باری ہوئی یارب دم گھٹ رہا ہے واپسی کا حکم دے۔ مگر تاسف کے ساتھ جواب ملا کچھ حوصلہ اور جمع کرو۔ آگے رہائشی بستیاں تھیں اونچی اونچی دیواروں سے جی خوش ہو گیا چلو انسان نے اپنی جان مال اور عزت کے تحفظ کا کچھ تو بندوبست کر رکھا ہے مگر یہ جان کر ساری خوشی اکارت گئی یہاں غیرت کے نام پر بنت حوا کو بھی محبوس رکھا جاتا ہے پیدائش سے لے کر موت تک۔

مملکت نظریہ میں کھانے کو ہر غذا میسر تھی مگر آدھی سے زیادہ آبادی غذای قلت کا شکار کیونکہ کچھ عیار گروہوں نے تہذیب و تمدن کے کندھے پر بندوق رکھ کر انسان سے اس کا بنیادی حق وسائل تک برابر رسائی چھین لی ہے اب وہ ان چند گھٹیا سیٹھ لوگوں کے آگے خالی جھولی اور ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہے، وسائل تک رسائی کیلئے اثرو رسوخ چاہیے، کاغذی نوٹوں کے گتھے درکار ہیں۔ سب سے زیادہ قحط تو سوچ و فکر کا پڑا ہے۔ ذہنوں کو خیالات کا ایک دانہ میسر نہیں، فاقہ زدہ شعور کی حکمرانی ہے۔ قیاس ہے کچھ عظیم لوگ آئے جنھوں نے انسان کو سمجھایا وہ پہاڑ کے پیچھے والا بڑا آدمی اب اس تمدن کی بدولت پہاڑ سے اٹھ کر تمھارے سینے میں آ بسا ہے۔ وہ تو چلے گے مگر جلد ہی ان کی جگہ پگڑیوں اور ٹوپیوں والوں نے لے لیں۔

ظالم تہذیبوں کے تصادم میں سارے مرد و زن جل کر خاکستر ہو گے ہیں اور اب تابکاری شعاؤں سے باقی مخلوق کی جان کے لالے پڑے ہیں

انھوں نے عقل کے خزانے کو تالا لگا کر بازار میں سوچ کی مصنوعی قلت پھیلا رکھی ہے اور اپنے تعصبانہ سوچوں کو سینے والے خدا سے منسوب کر کے اچھے برے کے سرٹیفیکیٹ دھڑا دھڑ بانٹے جا رہے ہیں۔ایک طبقہ نئی سوچ کا دعوے دار ہے مگر باخدا ضمیر سے کہتا ہوں وہ بھی سماج کا ٹھیکہ لے ذاتی اور شخصی مفاد سے آگے نہیں سوچتا۔ اور ظلم کی انتہا یہ ہے قانون کی وردی پہن کر دھڑا دھڑ لاشیں گرائی جا رہی ہیں۔ انسان کو سکولوں میں، کتابوں میں اور والدین کے ذریعے نفرت سکھا کر کسی نامعلوم بڑی جنگ کی تیاری کی جا رہی ہے۔ مملکت نظریہ اور وادی تہذیب و تمدن کے یہ برے حالات عنقریب روح کی روح کو نکال دیتے، حکمِ واپسی ہوا اسی جنگل سے دوبارہ گزر ہوا تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں سارا جنگل خاکستر ہے کچھ بن پر جلے چرند و پرند سے استفسار سے کیا تو کاٹنے کو دوڑ پڑے کہ تم ہی تھے جو ان مرد و زن کو تہذیب و تمدن کا واہیات درس پڑھا گے تھے۔ ظالم تہذیبوں کے تصادم میں سارے مرد و زن جل کر خاکستر ہو گئے ہیں اور اب تابکاری شعاؤں سے باقی مخلوق کی جان کے لالے پڑے ہیں۔ یہ سن کر میری روح کی روح بھی کانپ گئی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: