نواز شریف، مزاحمت کی علامت؟ سیّد عمار یاسر زیدی

0
  • 71
    Shares

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کو پارٹی عہدہ رکھنے کے لیے نا اہل قرار دے دیا۔ اس فیصلے کے قانونی محرکات اور اثرات کیا ہوتے ہیں اس پر بحث قانون دان حضرات زیادہ بہتر کر سکتے ہیں، مگر اس فیصلے کے نتیجے میں کیا میاں صاحب جمہوریت کے چیمپیئن یا اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کی علامت بن گئے ہیں؟ بلاشبہ وزارت عظمیٰ سے نا اہلی کے فیصلے اور اب مسلم لیگ ن کی سربراہی کے یے نا اہلی کے فیصلے سے میاں نواز شریف کی مقبولیت کے گراف میں اضافہ ہوا ہے، مگر گراف میں اضافے کے ساتھ میاں نواز شریف کے حوالے سے جو بیانیہ پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ سراسر حقائق کے منافی ہے اور تاریخی طور پر غلط ہے۔

میاں نواز شریف کو جمہوریت کاچیمپیئن اور مزاحمت کی علامت قرار دینا زیادتی ہوگی کیوں کہ انہوں نے جب جب آواز بلند کی، مقصد جمہوریت نہیں اپنی ذات کی مضبوطی تھا۔ میاں نواز شریف ایک بار صوبائی وزیر خزانہ رہے، تین بار وزیر اعلیٰ (اس میں ایک بار کی نگراں وزارت اعلیٰ 1988بھی شامل ہے ) اور تین بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے۔ 1988میں جب جنرل ضیا الحق نے جونیجو حکومت کو برطرف کیا، اُس وقت میاں نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے، جونیجو کے خلاف ہونے والے اقدام میں نواز شریف نے جنرل ضیا کا ساتھ دیا اور نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب بن گئے، اور پھر عام انتخابات سے قبل جونیجو سے بغاوت کرتے ہوئے مسلم لیگ کا دھڑا قائم کر لیا جس کا سربراہ فدا محمد خان کو بنوا دیا۔ بعد ازاں یہ دھڑا آئی جے آئی کا حصہ بنا اور میاں صاحب کی نگراں وزارت اعلیٰ میں ہی 1988کے انتخابات میں حصہ لیا۔ 88سے 90تک بے نظیر بھٹو کی وفاقی حکومت کے ساتھ بحیثیت وزیر اعلیٰ پنجاب نواز شریف کا رویہ کیسا تھا یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔

کسی بھی پارلیمانی جمہوری نظام میں حکومت وقت کی طرف سے قانون سازی اہم ترین عمل ہوتا ہے۔ میاں صاحب کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ انہیں جب بھی اقتدار ملا، بھرپور اکثریت کے ساتھ ملا، یعنی قانون سازی کے لیے انہیں کسی کی ضرورت نہیں تھی، مگر انہوں نے ان مواقعوں کو اپنی ذات کی مضبوطی اور مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائی کے لیے استعمال کیا۔ بے نظیر بھٹو کو لاہور ہائی کورٹ سے سزا اور نا اہل قرار دلوانا بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا حصہ ہے۔ آئین میں پندرہویں ترمیم سینیٹ میں اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے منظور نہ ہو سکی، پھر جنرل پرویز مشرف نے میاں صاحب کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور امیر المومنین بننے کا خواب، خواب ہی رہ گیا۔

میاں صاحب اور محترمہ جلا وطن ہوئے، دونوں نے ملک میں جمہوریت کے قیام اور مضبوطی کے لیے چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کیے۔ 2008میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو عدلیہ اور ججز نظر بند تھے، یوسف رضا گیلانی نے بحیثیت وزیر اعظم ججز کی رہائی کے احکامات جاری کیے۔ ججز کی بحالی کے حوالے سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی، نواز شریف لانگ مارچ لے کر ججز بحال کروانے نکل پڑے۔ پیپلز پارٹی نے میثاق جمہوریت کی بنیاد پر نواز شریف سے ججز کے تقرر پر بات چیت کرنا چاہی مگر نواز شریف تیار نہ ہوئے۔ ججز بحال ہو گئے، افتخار چوہدری دوبارہ چیف جسٹس بن گئے۔ میثاق جمہوریت کی روح کے مطابق آئین کی بحالی کا کام شروع ہوا، شق 62اور 63کے خاتمے پر مسلم لیگ ن تیار نہ ہوئی، پیپلز پارٹی کے پاس اکثریت نہ تھی اورتر امیم کے لیے تمام جماعتوں کے اتفاق رائے کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا تھا۔ اٹھارہویں ترمیم ہوئی، 62اور 63برقرار رہی۔ ججز تقرر ی کے طریقہ کار پر سپریم کورٹ کو اعتراض ہوا، پارلیمنٹ کی منظور شدہ ترمیم، سپریم کورٹ نے واپس بھیج دی، اس موقع پر میاں صاحب ایک پھر پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے جسٹس افتخار چوہدری کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور ججز تقرر میں پارلیمنٹ کا کردار ختم کر دیا گیا اور انیسویں ترمیم آگئی۔ یہی جسٹس ثاقب نثار تھے جنہیں پیپلز پارٹی کی حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کرنا چاہا اور جسٹس خواجہ شریف کو سپریم کورٹ میں تعینات کرنا چاہا، تو میاں صاحب اور ان کی جماعت اس فیصلے کے سامنے ڈٹ گئے، اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری اور خود میاں نواز شریف اور ان کی جماعت کی یہ خواہش تھی کہ خوا جہ شریف لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پیپلز پارٹی کو فیصلہ تبدیل کرنا پڑا اور جسٹس ثاقب نثار سپریم کورٹ کے جج بن گئے۔

آصف زرداری نے اپنی مدت صدارت کے خاتمے پر میاں صاحب سے کہا تھا کہ آپ چار برس حکومت کریں ہم سہارا دیں گے، مگر پانچویں برس ہم سیاست کریں گے۔

جس آئین کی بالا دستی کی آج میاں صاحب دہائی دے رہے ہیں اسی آئین کے آرٹیکل 248کے تحت صدر پاکستان کو تحفظ حاصل تھا مگر سوئس کیسز کے نام پر میاں صاحب عدالت جا پہنچے، وزیر اعظم گیلانی کو اس بات پر نا اہل قرار دلوایا، کہ وہ آئین کی شق 248 کے خلاف سوئس حکام کو خط لکھنے پر تیار نہیں تھے۔ 2008سے 2013تک میاں صاحب کا کوئی بھی قدم ایسا نہ تھا جو جمہوریت کی مضبوطی کے لیے اٹھایا گیا ہو، بلکہ انہوں نے وہ تمام حربے استعمال کیے جو شاید جمہوریت کے لیے نقصان دہ مگر سیاسی طور پر انہیں فائدہ پہنچا سکتے تھے۔ موجودہ بحران میں پیپلز پارٹی سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنا وزن میاں صاحب کے پلڑے میں ڈالیں تو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ آصف زرداری نے اپنی مدت صدارت کے خاتمے پر میاں صاحب سے کہا تھا کہ آپ چار برس حکومت کریں ہم سہارا دیں گے، مگر پانچویں برس ہم سیاست کریں گے۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کا جیالا پہلے ہی ن لیگ کے ساتھ مفاہمت کی سیاست پرنا راض ہے، 2013کے انتخابات اوربعد میں ہونے والے مختلف ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی کا حشر اسی سیاست کا نتیجہ ہے۔

آج میاں صاحب یقینی طور پر مقبولیت کی عروج پر ہیں، مگر آج بھی ان کی جد و جہد اپنی ذات کے لیے ہے جمہوریت کے لیے نہیں۔ اپنے دور وزارت عظمیٰ میں میاں صاحب نے پارلیمنٹ جانا گوارا نہ کیا، ایوان میں ان کی حاضری انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ اس دوارن کتنی قانون سازی ہوئی، پارلیمنٹ کا ریکارڈ گواہ ہے۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے اس میں میاں نواز شریف کا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا کسی اور کا، اگر میاں صاحب گزشتہ حکومت کے ساتھ جمہوری رویہ اپناتے اور پارلیمان کے ساتھ کھڑے ہوتے تو یقیناًآج اس مشکل کا شکار نہ ہوتے۔ وقت کرتا ہے پرورش برسوں، حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: